اردوئے معلیٰ

آج پاکستان سے تعلق رکھنے والے اردو کے ممتاز محقق، مورخ، سوانح نگار، مترجم اور ماہرِ تعلیم ڈاکٹر محمد ایوب قادری کا یوم وفات ہے۔

 

 ڈاکٹر محمد ایوب قادری
(پیدائش: 28 جولائی 1926ء – وفات: 25 نومبر 1983ء)
——
محمد ایوب قادری 28 جولائی 1926ء کو اونالا، اتر پردیش، برطانوی ہندوستان میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے فارسی کی تعلیم اپنے والد مولوی مشیت اللہ قادری اور عربی کی تعلیم حکیم عبدالغفور جو ان کے آبائی علاقے کے مشہور عالم اور بزرگ تھے، سے حاصل کی۔ انہوں نے انٹرمیڈیٹ کا امتحان پاکستان ہجرت سے پہلے 1950ء میں اپنے ننھیال بدایوں سے پاس کیا اور پاکستان آ گئے۔
پاکستان میں ابتداً سندھ کے ضلع دادو اور پھر کراچی میں مستقل سکونت اختیار کی۔ 1956ء میں وفاقی اردو کالج سے بی اے کیا اور پاکستان ہسٹاریکل سوسائٹی میں بطور ریسرچ آفیسر منسلک ہو گئے۔
——
یہ بھی پڑھیں : معروف مترجم اور سوانح نگار عنایت اللہ دہلوی کا یوم وفات
——
1962ء میں انہوں نے کراچی یونیورسٹی سے ایم اے (اردو) کی ڈگری حاصل کی اور وفاقی اردو کالج میں لیکچرار مقرر ہوئے۔
محمد ایوب قادری کی تصانیف میں ارباب فضل و کمال بریلی، مولانا فیض احمد بدایونی، مخدوم جہانیاں جہاں گشت، مولانا محمد احسن نانوتوی، جنگ آزادی 1857ء اور کاروان رفتہ کے نام سرِ فہرست ہیں۔
انہوں نے فارسی کی کئی اہم کتابوں کو بھی اردو کے قالب میں ڈھالا۔ ان میں تذکرہ علمائے ہند، مآثر الامراء، مجموعہ وصایا اربعہ، فرحت الناظرین اور طبقات اکبری شامل ہیں۔
اس کے علاوہ انہوں نے کئی اہم اور نادر کتابوں کے حواشی بھی تحریر کیے۔ انہوں نے اردو نثر کے ارتقا میں علما کا حصہ شمالی ہند میں 1857ء تک کے موضوع پر مقالہ تحریر کر کے پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی۔
ڈاکٹر محمد ایوب قادری 25 نومبر 1983ء کو کراچی، پاکستان میں ٹریفک حادثے میں اپنے خالقِ حقیقی سے جا ملے اور کراچی میں سخی حسن کے قبرستان میں سپردِ خاک ہوئے۔
——
تصانیف
——
لولوئے از غیب (شیو لال) (ترتیب)
علم و عمل جلد اول ( عبد القادر خانی، مولوی معین الدین افضل گڑھی) (ترجمہ)
مقالات یوم عالمگیر
عہد بنگش کی سیاسی، ثقافتی اور علمی تاریخ
مجموعہ وصایا اربعہ (ترجمہ)
جنگ آزادی 1857ء
خط و خطاطی
سیرالعارفین (حامد بن فضل اللہ جمالی) (ترجمہ)
ماثر الامرا- جلد اول، دوم، سوم (از صمصام الدولہ شاہنواز خان) (ترجمہ)
طبقات اکبری (از خواجہ نظام الدین احمد) (ترجمہ)
مولانا محمد احسن نانوتوی
تبلیغی جماعت کا تاریخی جائزہ
مرقع شہابی
——
یہ بھی پڑھیں : معروف شاعر اور براڈکاسٹر ایوب رومانی کا یوم وفات
——
مخدوم جہانیاں جہاں گشت
مولانا فیض احمد بدایونی
تذکرہ علمائے ہند ( ترجمہ)
اردو نثر کے ارتقا میں علما کا حصہ شمالی ہند میں 1857ء تک ( پی ایچ ڈی مقالہ)
سید الطاف علی بریلوی:حیات و خدمات
ارباب ِ فضل و کمال بریلی
کاروان ِ رفتہ
غالب اور عصر غالب
——
مشفق خواجہ کی رائے از کاروانِ رفتہ
——
قادری صاحب کے ادبی و علمی کاموں کو اگر چند الفاظ میں بیان کیا جائے تو بات کچھ اس طرح ہو گی کہ انہوں نے اردو میں حوالہ جاتی ادب پر بے حد اہم کام کیا ہے ۔ حقیقت یہ ہے کہ ہماری زبان میں سب سے زیادہ کمی اسی نوعیت کے کام کی ہے ۔ حالانکہ یہی کام ہر طرح کی تحقیق کے لیے بنیادی حیثیت رکھتا ہے ۔
ہمارے محقق جب کسی موضوع پر تحقیق کرتے ہیں تو ان کا زیادہ تر وقت اس تلاش میں صرف ہوتا ہے کہ ان کے موضوع سے متعلق مواد کہاں ملے گا ۔ قادری صاحب نے اہلِ تحقیق کی اسی مشکل کو آسان کیا ہے ۔
میرے قادری صاحب سے تقریباََ 26 برسوں سے مراسم ہیں اور میں نے انہیں اس دوران علمی و ادبی موضوعات کے علاوہ بات کرتے نہیں سنا ۔ وہ جب بھی ملے کسی نہ کسی علمی کام کی لگن میں سرشار ملے ۔ کبھی کسی قدیم مطبوعہ کتاب کا ذکر ہے تو کبھی کسی مخطوطے کا ۔
کبھی کسی گمنام مصنف کے حالات کی تلاش ہے تو کبھی کسی معروف مصنف کے کم پہلو پہ روشنی ڈالی جا رہی ہے ۔
قادری صاحب نے اپنی دو درجن تصنیفات و تالیفات اور مرتبات کے ذریعے تحقیق کا اعلیٰ معیار قائم کیا ہے جس کی مثالیں موجودہ زمانے میں بہت کم ملتی ہیں ۔
( بحوالہ کاروانِ رفتہ ، 1983 ء ، صفحہ نمبر 7 )
یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے۔۔۔

حالیہ اشاعتیں

اشتہارات

اشتہارات