اردوئے معلیٰ

محمد الدین فوق کا یوم وفات

آج معروف شاعر اور نقاد محمد الدین فوق کا یوم وفات ہے

(پیدائش: 25 فروری 1877ء وفات: 14 ستمبر 1945ء )
——
محمد الدین فوق اردو زبان کے مشہور شاعر، نقاد، اِنشاء پرداز، اخبار نویس اور مؤرخ تھے۔ فوق تاریخ کی وجہ سے شہرت رکھتے ہیں۔ اُن کی متعدد کتب ہائے تاریخ اُن کی وجہ شہرت ہے، علاوہ ازیں وہ بطور صحافی لاہور کی مشہور شخصیات میں سے تھے۔ فوق کو کشمیر کا پہلا نوجوان صحافی ہونے کا اعزاز بھی حاصل ہے۔
محمد الدین فوق 25 فروری 1877ء کو کوٹلی ہرنرائن میں پیدا ہوئے، جو سیالکوٹ سے جنوب کی جانب دو تین کوس کے فاصلے پر واقع ہے۔ پیدائشی نام محمد دیندار تھا مگر بعد ازاں محمد دین فوق کی نسبت سے مشہور ہوئے۔ فوق کے پردادا حسن ڈار کشمیر سے ہجرت کر کے مہاراجا رنجیت سنگھ کے عہدِ حکومت میں پنجاب آئے اور سیالکوٹ کے موضع گھڑتل میں آباد ہو گئے تھے۔
محمد الدین فوق نے ابتدائی تعلیم موضع گھڑتل، جامکے، گوجرانوالہ اور لاہور میں حاصل کی مگر وہ مڈل کی تعلیم سے مزید آگے نہ بڑھ پائے۔ 1894ء میں فوق اپنے والد کی نگرانی میں پٹوار خانہ کا کام سیکھنے لگے اور چند مہینوں بعد وہ جموں چونگی میں اور چند مہینے فیصل آباد میں گزارے۔ بروز جمعہ 15 شعبان 1313ھ/ 31 جنوری 1896ء کو فوق قریباً 19 سال کی عمر میں لاہور کے مشہور پیسہ اخبار میں بطور ملازم بھرتی ہوئے۔ تقریباً چار سال تک لاہور میں مقیم رہتے ہوئے اخبار نویسی میں اچھی خاصی مشق حاصل کر لی۔
1896ء میں محمد الدین فوق لاہور کے پیسہ اخبار سے وابستہ ہوئے اور تقریباً چار پانچ سالوں میں وہ اخبار نویسی میں مہارت حاصل کر چکے تھے۔ 1901ء میں فوق نے لاہور سے اپنی نگرانی میں ایک ہفت روزہ اخبار پنجہ فولاد جاری کیا جو 1906ء تک مسلسل شائع ہوتا رہا۔ فوق نے کشمیر کے مشہور مبلغ اسلام خواجہ کمال الدین کے ساتھ مل کر کشمیری برادری کی تنظیم اور اِصلاح کے واسطے ماہنامہ مخزن جاری کیا جو 1905ء تک شائع ہوتا رہا۔ فوق نے 1906ء میں ماہنامہ کشمیری میگزین جاری کیا جو پندرہ سال بعد ماہِ جمادی الاول 1339ھ/ جنوری 1921ء میں ہفت روزہ ہو گیا۔ ماہنامہ کشمیری میگزین 1934ء تک کشمیر اور کشمیریوں کی علمی، سیاسی اور سماجی اصلاحات کرتا رہا۔
محمد الدین فوق کشمیری صحافیوں میں خشتِ اول کی حیثیت رکھتے ہیں۔ اُنہوں نے کشمیر کے ہر پسماندہ علاقہ کے لوگوں کو تعلیم کے میدان میں ترقی کرنے کے راز و گر بتلائے۔ جو خاندان غربت و افلاس اور جہالت کی وجہ سے احساسِ کمتری کا شکار ہوتے تھے، اُنہیں بزرگانِ سلف کی روایات یاد دلا کر جرات مندانہ اور باحوصلہ بنادیا۔ برٹش راج کے زمانہ میں کشمیری عام طور پر فوج میں بھرتی کرنے کے قابل نہیں سمجھے جاتے تھے، فوق نے کشمیریوں کو اِس قابل بنادیا کہ چند ہی سالوں میں کشمیریوں کو برٹش راج کی فوج میں خدمات کے واسطے اہل سمجھا جانے لگا۔ کشمیریوں کے بنیادی انسانی حقوق کے لیے بھی فوق سرگرمِ عمل رہے، بیگار جیسے مظالم کے خلاف اُنہوں نے صدائے احتجاج بلند کی۔ برٹش راج کے زمانہ میں کشمیریوں کے حقوق کے واسطے سب سے پہلے صدائے احتحاج بلند کرنے والے فوق ہی تھے۔
——
یہ بھی پڑھیں :
——
1912ء سے قبل ریاست جموں و کشمیر میں کوئی بھی شکص محکمہ امداد باہمی اور قانونِ انتقالِ اراضی کے نام تک سے واقف نہ تھا، محمد الدین فوق نے پنجاب کی طرح زمیندارہ سوسائٹی کا اجرا اور قانونِ انتقالِ اراضی کے نفاذ کے لیے آواز بلند کی۔ اِس کے نتیجے میں ریاست جموں و کشمیر کے باسیوں کو یہ دونوں سہولتیں بہت جلد میسر ہوگئیں۔ فوق علامہ محمد اقبال سے حد درجہ تک متاثر تھے، علامہ محمد اقبال کی تحریک سے متاثر ہو کر فوق نے رسالہ طریقت اور ماہنامہ نظام جاری کیا، تاکہ تصوف کی خدمت کی جا سکے۔ سجادہ نشینوں کی اصلاح کے لیے فوق نے قلمی جہاد کو اپنایا۔ گویا فوق کشمیر میں حقوق کے واسطے صدائے احتجاج بلند کرنے والے اور حقوق کی پاسداری پر عمل کروانے والے پہلے باقاعدہ صحافی تھے۔
محمد الدین فوق کشمیر کے مؤرخین میں شمار کیے جاتے ہیں، اِس صنف خاص میں بھی اُن کا اندازِ تحریر نمایاں اور منفرد رہا۔ بحیثیت مؤرخ فوق نے تاریخ کا کوئی ایسا گوشہ یا پہلو نہیں چھوڑا جس پر اُن کے قلم سے کچھ تحریر نہ ہوا ہو۔ عہدِ شباب سے ضعیفی تک مسلسل اُن کا قلم رواں رہا اور مختلف موضوعات پر اُن کی تصانیف کی تعداد 95 ہے جبکہ ڈاکٹر رتن لعل ہنگلو کی تحقیق کے مطابق فوق کی تصانیف کی تعداد 112 ہے۔
محمد الدین فوق کی کئی کتب ہائے تاریخ اُن کی زندگی میں ہی منظر عام پر آئیں جن میں مندرجہ ذیل قابل ذکر ہیں:
——
تصانیف
——
تاریخ کشمیر مکمل، 3 جلد۔
راہنمائے کشمیر ۔
تاریخ اقوام کشمیر، 3 جلد۔
مشاہیر کشمیر۔
خواتین کشمیر۔
کشمیر کی رانیاں۔
شبابِ کشمیر۔
حکایاتِ کشمیر۔
کشمیری زمیندار۔
تاریخ بڈشاہی۔ سلطان زین العابدین کی سوانح اور حالات پر مبنی ہے۔
تاریخ اقوام پونچھ، 2 جلد۔
روایاتِ اسلام۔
تاریخ حریت اسلام۔
تاریخ سیالکوٹ و سونحات علامہ عبد الحکیم سیالکوٹی۔
‘تذکرۃ الصالحین۔
سوانح حضرت علی بن عثمان الہجویری المعروف بہ سوانح حضرت داتا گنج بخش ہجویری۔
مآثر لاہور۔
یادرِ رفتگان، یعنی تذکرہ صوفیائے لاہور۔
اخبار نویسوں کے حالات۔
تذکرہ علما والمشائخ۔
لاہور عہد مغلیہ میں: فوق کی یہ تصنیف فی زمانہ بھی مشہور ہے۔ اِس کا تعلیقہ شالامار باغ بھی شامل ہے جو 1924ء میں 97 صفحات پر شائع ہوا تھا۔
تاریخ کا روشن پہلو۔
بتانِ حرم۔
کلامِ فوق۔
نغمہ و گلزار: یہ شعری مجموعہ ہے۔
——
وفات
——
موسمِ گرماء 1945ء میں فوق کشمیر گئے ہوئے تھے کہ وہاں بیمار ہو گئے۔ علاج معالجہ سے صحت یابی نہ ہوئی تو واپس لاہور چلے آئے۔ علالت بڑھتی گئی اور بروز جمعہ 6 شوال 1364ھ/ 14 ستمبر 1945ء/ 6 شوال 1364ھ بروز جمعہ 68 سال 7 ماہ شمسی کی عمر میں لاہور میں وفات پائی۔ کی تدفین قبرستان میانی لاہور میں کی گئی۔
——
منشی محمد الدین فوق (شخصیت اور کردار) از محمد عبد اللہ قریشی
——
1857ء کی جنگ آزادی کے بعد دلی کے آسمان ادب کے چند ٹوٹے ہوئے ستارے گردش روزگار کے ہاتھوں لاہور پہنچے۔ ان میں مولانا الطاف حسین حالی، مولانا محمد حسین آزاد، مولانا فیض الحسن سہارنپوری اور مرزا ارشد گورگانی خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔ ان بزرگوں نے دلی مرحوم کی یاد میں یہاں بھی شعر و سخن کی محفلیں جمائیں اور اس طرح سر زمین پنجاب کے لوگ ان ادبی روایات اور تہذیبی و ثقافتی قدروں سے پہلی مرتبہ واقف ہوئے جو اس سے پیشتر دہلی سے نکل کر اودھ، مرشد آباد، عظیم آباد (پٹنہ) اور حیدر آباد (دکن) میں اپنا گھر بنا چکی تھیں۔ یوں سمجھنا چاہیے کہ پنجاب میں پہلی نسل کے لوگوں نے تو حالی، آزاد، فیض اور ارشد وغیرہ کو اردو بولتے ہوئے سنا اور دوسری پشت میں ہمارے ہاں جو لوگ پیدا ہوئے ان میں سر عبدالقادر، علامہ اقبال، خان احمد حسین خاں، مولوی ظفر علی خاں، چودھری خوشی محمد ناظر، میر غلام بھیک نیرنگ، میاں شاہ دین ہمایوں، مولوی محبوب عالم، مولوی انشاء اللہ خاں، مولوی محرم علی چشتی، پنڈت شیو نرائن شمیم اور منشی محمد الدین فوق وغیرہ کا نام سر فہرست ہے۔ یہ بزرگ اس وقت بھی کمال فن کے اعتبار سے خداوندان سخن تھے اور آج بھی اس میدان میں ان کا کوئی مد مقابل نظر نہیں آتا۔ مولانا ظفر الملک علوی مدیر ’’ الناظر‘‘ لکھنو، جو مئی یا جون1935ء میں لاہور آئے، پنجاب میں اردو کی حالت پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
’’ اب سے پچیس تیس سال قبل منشی محمد الدین فوق اور میر غلام بھیک نیرنگ کے سوا شاید کوئی تیسرا پنجابی شاعر ایسا نہ تھا جس کا کلام زبان کی معمولی غلطیوں سے پاک اور جس کی انشاء صحیح اردو میں شمار ہونے کے لائق ہو۔ مولوی ظفر علی خاں صاحب اس وقت اہل پنجاب میں شمار نہیں کیے جا سکتے تھے۔ مگر نئی نسل نے بہت سے ایسے اہل قلم پیدا کر دیے ہیں جن کی نظم و نثر اہل زبان کے معیار پر اگر نہیں تو زباں دانوں کے معیار پر ضرور پوری اترتی ہے اور آثار ظاہر بتاتے ہیں کہ ایسے اصحاب کی تعداد میں روز بروز اضافہ ہوتا رہے گا۔‘‘
(نیرنگ خیال، لاہور، بابت اگست1935ئ)
منشی محمد الدین فوق فروری 1877ء میں موضع کوٹلی پر نارائن (ضلع سیالکوٹ) میں پیدا ہوئے اور 14ستمبرسنہ 1945ء کو لاہور میں وفات پا گئے۔ انہوں نے ایک صحافی، ایک ادیب، ایک مورخ اور ایک شاعر کی حیثیت سے اردو زبان کی قابل قدر خدمات انجام دیں۔ وہ اپنے پیچھے اپنے اتنے کارنامے چھوڑ گئے ہیں کہ دنیا انہیں مدتوں نہیں بھلا سکتی۔ ان کی تصانیف کے انمٹ نقوش کو اگر نکھارنے اور اجالنے کا موقع ملتا رہا تو وہ ہمارے ادب کا نہایت قیمتی سرمایہ ثابت ہوں گے اور منشی صاحب کے نام کو ہمیشہ زندہ رکھیں گے۔
منشی محمد الدین فوق سے میرا خون کا کوئی رشتہ نہ تھا۔ محض دوستی تھی جس میں خود غرضی کا کوئی شائبہ نہ تھا۔ ان سے میری پہلی ملاقات کو بھی ایک اتفاق ہی سمجھنا چاہیے۔ علامہ تاجور نجیب آبادی نے میسرز عطر چند کپور اینڈ سنز کے سرمائے کی مدد سے اردو مرکز کی بنیاد رکھ کر برصغیر کی مقتدر ادبی شخصیتوں اصغر گونڈوی، یاس عظیم آبادی، جگر مراد آبادی اور سیماب اکبر آبادی وغیرہ کو لاہور بلایا۔ اپریل 1926ء میں علامہ سیماب کے نامور شاگرد ساغر نظامی نے مجھے یہ مژدہ سنایا کہ دفتر پیمانہ آگرہ سے مستقلاً لاہور منتقل کر دیا گیا ہے۔ چونکہ علامہ سیماب اور ساغر نظامی سے میرے نیاز مندانہ تعلقات تھے اس لیے ان کے لاہور آنے کی خبر میرے لیے مسرت انگیز تھی۔ ایک دن میں ان سے ملنے کے لیے گیا۔ وہ یکی دروازے کے اندر ایک مکان میں اقامت گزیں تھے۔ یہ مکان اس حویلی کے بالکل قریب تھا جہاں سے کسی زمانے میں منشی پر سکھ رائے پنجاب کا سب سے پہلا ہفتہ وار اردو اخبار ’’ کوہ نور‘‘ شائع کیا کرتے تھے۔ وہاں سیماب، ساغر اور منظر صدیقی کے علاوہ ایک اور بزرگ تشریف فرما تھے۔ دہراجسم، میانہ قد، کھلتا ہوا رنگ، بھرا ہو اصحت مند اور با وقار چہرہ، موزوں ترشی ہوئی ڈاڑھی جس کے کالے بال کچھ کچھ بھیگ رہے تھے۔ سادہ لباس، سر پر ترکی ٹوپی، یہ ایسی شخصیت تھی جس نے مجھے غیر ارادی طور پر اپنی طرف متوجہ کر لیا۔ تعارف کا مرحلہ آیا تو علامہ سیماب نے ان الفاظ میں ان کی جان پہچان کرائی۔ ’’ کیا آپ انہیں نہیں جانتے؟ یہ آپ کے لاہور کے مشہور اخبار نویس اور مورخ منشی محمد الدین فوق ہیں۔‘‘ یہ میری اور منشی صاحب کی پہلی ملاقات تھی۔
اس کے بعد میں نے علامہ سیماب، ساغر نظامی اور منظر صدیقی کے اعزاز میں دعوت کی، جس میں چودھری خوشی محمد ناظر، پروفیسر تاثیر، پروفیسر محمد علم الدین سالک، حکیم یوسف حسن اور دیگر دوستوں کے علاوہ منشی محمد الدین فوق بھی شریک تھے۔ اس محفل میں مختلف موضوعات پر جی بھر کر باتیں ہوئیں۔ سب نے اپنا اپنا کلام سنایا اور پہلی ملاقات میں منشی محمد الدین فوق کے متعلق میرے دل میں جو تاثیر پیدا ہوا تھا وہ اور گہرا ہو گیا۔ اور یہی تعلق خاطر مجھے آہستہ آہستہ ان کے قریب لے گیا۔
منشی صاحب شیرانوالہ دروازہ کے باہر رہتے تھے۔ جب تک ’’ اخبار کشمیری‘‘ جاری رہا، نیچے دفتر میں بیٹھتے تھے۔ اس کے بعد مکان کی پہلی منزل میں اپنی نشست کے لیے ایک کمرہ مخصوص کر لیا تھا جس کی بڑی بڑی الماریوں میں ہر قسم کی کتابیں بھری رہتی تھیں۔ ان میں ان کی اپنی مطبوعات بھی تھیں اور دوسری کتابیں بھی۔ منشی صاحب کو کتابیں جمع کرنے کا اتنا شوق تھا کہ لاہور کے تمام اخبار نویسوں میں مولوی محبوب عالم مدیر ’’ پیسہ اخبار‘‘ اور مولوی انشاء اللہ خاں مدیر’’ وطن‘‘ کے بعد آپ ہی کی ذاتی لائبریری قابل ذکر تھی جس میں ہر سال مزید کتابوں کا اضافہ ہوتا رہتا تھا۔
میرا معمول تھا کہ ہفتے میں ایک بار ضرور ان کی خدمت میں حاضر ہوتا۔ پریشان و ملول جاتا تو ان کی صحبت سے ہشاش بشاش اٹھتا۔ جی گھبراتا تو وہاں جاتا اور ان کی پر لطف باتوں سے غم غلط ہو جاتا۔ خالی الذہن جاتا تو معلومات کے ایسے نادر و لطیف نکتوں سے پہرہ مند واپس آتا جو شاید مدتوں کے مطالعے یا مشاہدے سے حاصل نہ ہو سکتے۔ خوش ہوتا تو وہاں ضرور جاتا اور جب کہیں اور نہ جاتا ہوتا تب بھی وہاں جاتا۔ جب واپس آنے کی اجازت چاہتا تو اٹھنے نہ دیتے۔ چائے، شربت، ستو جو کچھ ہوتا اس سے تواضع کرتے اور اگر کسی وجہ سے میرے جانے میں ناغہ ہو جاتا تو دوسرے دن خود میرے ہاں تشریف لاتے اور نہ آنے کا سبب دریافت کرتے۔ ان کے اس معمول میں مرتے دم تک فرق نہ آیا۔
محمد الدین فوق صاحب کے پاس اٹھنے بیٹھنے سے کشمیر کی محبت میری رگ رگ میں سما گئی اور میں دن رات کشمیر کے خواب دیکھنے لگا۔ میں ہر سال کشمیر جاتا۔ پروفیسر محمد علم الدین سالک اکثر میرے ساتھ ہوتے۔ کبھی وہ نہ جاتے اور میں اکیلا ہوتا تو فوق صاحب مجھے ہوٹل کا کھانا نہ کھانے دیتے اور گھرمیں جو کچھ پکتا وہ باصرار کھلاتے۔ کسی عزیز یا دوست کے ہاں دعوت ہوتی تو گھر کے فرد کی طرح مجھے شریک کرتے۔ گاؤں جاتے تو اپنے ہمراہ لے کر جاتے، انڈا، مرغی، سیب، ناشپاتی، بگو گوشہ، انار، بادام، اخروٹ وغیرہ جی بھر کے کھلاتے۔ پھلوں کے لیے تو ان کے چچا منشی غلام محمد خادم کا وسیع باغ موجود تھا۔ انڈے مرغی کا انتظام وہ یوں کرتے کہ لاہور سے اپنی روانگی کے تین ماہ قبل کسی عزیز کو لکھ دیتے کہ میرے نام کی ایک دو مرغیاں خرید کر انڈوں پر بٹھائیں اور بچے نکلوائیں۔ اس طرح جب وہ وہاں پہنچتے تو دس بیس مرغیاں تیار ملتیں اور گوشت کی حاجت نہ رہتی۔ یہ ان کی دور اندیشی اور کفایت شعاری کی ایک ادنیٰ مثال تھی۔
فوق صاحب اپنے گھر میں نہایت سادہ زندگی بسر کرتے تھے۔ ان کے زہن سہن کے طریقوں میں کوئی خاص بات نہ تھی۔ اس کے باوجود ان کی زندگی باقاعدہ اور باوقار نظر آتی تھی۔ عام طور پر علی الصبح بیدار ہو جاتے تھے۔ صبح کی سیر کو جانا ان کی پختہ عادت تھی جسے انہوں نے مجبوری کے سوا کبھی ترک نہ کیا۔
لکھنے پڑھنے کے سلسلے میں بھی وہ کوئی خاص اہتمام نہ برتتے تھے۔ کبھی میز کرسی پر بیٹھ کر، کبھی چھوٹی سی پلنگڑی پر نیم دراز ہو کر اور کبھی تخت پوش یا زمین پر دری بچھا کر تصنیف و تالیف کا شغل جاری رکھتے تھے۔ البتہ ان کی ایک عادت قابل ذکر ہے کہ جب کوئی کتاب یا رسالہ پڑھتے تو یونہی سرسری طور پر پڑھ کر ایک طرف نہ رکھ دیتے بلکہ اس میں سے قابل استعمال مواد پر نشان کرتے جاتے تھے۔ کس موضوع پر کون سی چیز کہاں استعمال ہو سکتی ہے؟ اس بارے میں ان کی نظر بہت گہری تھی۔ انہوں نے الگ الگ لفافے بنا رکھے تھے جن میں الگ الگ مضامین کے تراشے جمع کرتے رہتے تھے۔ پھر جب کوئی کتاب لکھتے تو ان تراشوں اور یادداشتوں کی وجہ سے حوالے تلاش کرنے میں انہیں کوئی دشواری نہ ہوتی۔ مہینوں کا کام دنوں میں ختم ہو جاتا۔
گھر والوں سے ان کا سلوک بہت مشفقانہ تھا۔ انہوں نے تین شادیاں کیں۔ پہلی کے مرنے کے بعد دوسری اور دوسری کے بعد تیسری۔ پہلی دونوں بیویاں صاحب اولاد تھیں۔ تیسری سے کوئی اولاد نہیں ہوئی۔ سوتیلی اولاد ایک ایسا معاملہ تھا جسے گھریلو جھگڑوں کے لیے معقول وجہ قرار دیا جا سکتا ہے۔ فوق صاحب کی زندگی میں یہ جھگڑے نہایت زور شور سے سر اٹھاتے تھے، لیکن ان کا ذہنی توازن ایسے حالات میں برقرار رہتا تھا اور وہ ہر ایک کے ساتھ منصفانہ برتاؤ کرتے تھے۔
محمد الدین فوق ہنگامہ خیزیوں سے الگ اپنے گوشہ عافیت میں رہ کر خاموش کام کرنے کے علاوہ خلوص و محبت، استقلال و ہمت، ظرافت و شوخی اور جذبہ ایثار و ذوق خدمت کی دولت سے مالا مال تھے:
——
بہت لگتا تھا جی صحبت میں ان کی
وہ اپنی ذات میں اک انجمن تھے
——
ان کی بذلہ سنجی، حاضر جوابی، خوش اخلاقی، خوش مذاقی اور خواش مزاجی کی وجہ سے ان کے پاس اٹھنے بیٹھنے میں ایک خاص لطف حاصل ہوتا تھا۔
یہ باتیں کچھ میرے ساتھ ہی خاص نہیں تھیں۔ ان کے تمام دوست اور ملنے والے ان کی شگفتہ مزاجی سے متمتع ہوتے تھے۔ وہ بچپن ہی سے ہنس مکھ تھے۔ ایسی بات بناتے اور اس قسم کے برجستہ فقرے چست کرتے تھے کہ بس مزا آ جاتا تھا ۔ اور خود سنایا کرتے تھے کہ جب وہ گھڑتل کا پرائمری سکول پاس کرنے کے بعد انگریزی تعلیم حاصل کرنے کے لیے قصبہ جامکے کے مڈل سکول میں داخل ہوئے تو بورڈنگ ہاؤس میں رہتے تھے۔ بورڈروں کی زندگی عام طور پر شرارتوں سے بھری ہوتی ہے۔ دن رات دل لگی، تفریح اور ہنسی مذاق کے سینکڑوں پہلو نکلتے رہتے ہیں۔ لڑکے عجیب عجیب حرکتیں کرتے ہیں۔ یہاں تک کہ استادوں سے دو دو ہاتھ کرنے سے بھی نہیں چوکتے۔
ایک رات بورڈنگ ہاؤس میں رہنے والے لڑکوں کو شرارت جو سوجھی تو انہوں نے ایک تماشا کیا۔ کوئی استاد بنا اور کوئی شاگرد۔ ایک لڑکے نے سبق سنانا شروع کیا اور غلط پڑھا۔ ماسٹر نے ٹوکا، اس نے پھر غلط پڑھا، استار نے بنچ پر کھڑا کر دیا۔ اس کے بعد ایک طالب علم نے دوسرے طالب علم کو چھیڑا۔ اس نے ماسٹر سے شکایت کی۔ ماسٹر نے ایک کو جرمانہ کیا اور دوسرے کو رجسٹر سے نام خارج کرنے کی دھمکی دی۔ پھر ایک لڑکے نے بتایا کہ گھروں میں جا کر کس طرح جھوٹے بہانے بنائے جاتے ہیں۔ جیب خرچ کے لیے کس طرح پیسے طلب کیے جاتے ہیں۔ کسی نے سیدھے سادے درویش صفت ہیڈ ماسٹر بابو گنڈا مل کی نقل اتار کر میز پر ٹانگیں پھیلائیں۔ کسی نے بورڈنگ کا نگران بن کر بورڈنگ کا معائنہ کیا اور لنگر کی روٹیاں دیکھیں۔ غرض کسی نے کوئی حرکت کی اور کسی نے کوئی۔ سب اپنے اپنے جوہر دکھاتے، ہنستے اور شور مچاتے رہے اور یہ بھول گئے کہ ان کا کوئی نگران ابھی ہے۔ ابھی یہ کھیل تماشا ہو ہی رہا تھا کہ کسی نے چغلی کھا کر بورڈنگ ہاؤس کے سپرنٹنڈنٹ حافظ اللہ بخش کو اطلاع دی۔ وہ فارسی کے استاد مولوی غلام محی الدین کو ہمراہ لے کر وہاں آ گئے۔ اب جس طرح ہوا کے آتے ہی مچھر غائب ہو جاتے ہیں، اسی طرح استادوں کی شکلیں دیکھتے ہی لڑکے تتر بتر ہو گئے۔
محمد الدین فوق صاحب سکول کی چھت پر جا بیٹھے۔ جو لڑکے قابو آ گئے ان کو پٹتے ہوئے دیکھتے رہے اور بغیر پٹے ہی کانپتے رہے۔ صبح ان کی بھی حاضری ہوئی۔ مولوی غلام محی الدین چھڑی لے کر اٹھے۔ فوق صاحب نے ہاتھ جوڑ کر کہا ’’ گو رات کو مار نہیں پڑی، لیکن خدا کی قسم مار کھانے والوں سے زیادہ نادم ہوں اور ان سے زیادہ درد محسوس کر کے روتا رہا ہوں‘‘ مولوی صاحب نے پھر پوچھا ’’جب مار نہیں پڑی تو رونا کس طرح آیا؟‘‘ کہا ’’ آپ ہی نے تو گلستان میں پڑھایا ہے:‘‘
——
بنی آدم اعضائے یک دیگر اند
کہ در آفرینش ز یک جوہر اند
چو عضوے بدرد آورد روزگار
دگر عضوہا را نماند قرار
——
مولوی صاحب اس جواب سے ہنس پڑے اور آپ کو سزا سے نجات مل گئی۔ سچ کہا مولانا حالی نے:
——
بڑھاپے کی دانائی لے کر کوئی
بدل دے وہ بچپن کی نادانیاں
——
1897ء کا ذکر ہے، فوق صاحب پیسہ اخبار کے دفتر میں ملازم تھے۔ تنخواہ اس وقت نو روپیہ ماہوار تھی۔ بعد میں تو انہوں نے اس سے کئی گناہ زیادہ مشاہرے پر خود ملازم رکھے اور لاہور اور کشمیر میں بہت سی جائیداد بھی پیدا کر لی۔ بہرحال جیسا کہ عام پرائیویٹ فرموں کا دستور ہے، آٹھویں دسویں دن پر ملازم کو دو روپے بطور خرچ مال کرتے تھے جو مہینے کے آخر میں تنخواہوں سے وضع ہو جاتے تھے۔ ایک دفعہ اکاؤنٹنٹ نے تمام ملازمین کے خرچ کی فہرست بنائی۔ اس میں فوق صاحب نے پانچ روپے اپنے نام لکھوائے حالانکہ جانتے تھے کہ زیادہ سے زیادہ دو روپے ملیں گے۔ اکاؤنٹنٹ نے اعتراض کیا۔ فوق صاحب نے کہا آپ لکھ دیجئے۔ مینجر صاحب منظور نہ کریں گے تو نہ سہی۔ مولوی محبوب عالم کے چھوٹے بھائی عبدالعزیز مینجر تھے۔ ان کے پاس فہرست پیش ہوئی۔ وہ فوق صاحب کے نام پانچ روپے دیکھ کر چونک اٹھے۔ انہیں بلایا اور کہا’’ آپ اس سے پہلے تین روپے لے چکے ہیں اب یک مشت پانچ کس طرح مل سکتے ہیں؟ کیا کسی اور نے بھی پانچ روپے لکھوائے ہیں؟ اس وقت ایک روپے سے سے زیادہ نہیں ملے گا۔‘‘ فوق صاحب نے کہا، ’’ ایک روپیہ کیا، میں تو آٹھ آنے قبول کرنے کو بھی تیار ہوں۔ لیکن خواہش صرف یہ ہے کہ ایک مرتبہ زندگی میں پانچ روپے اکٹھا دیکھ لوں۔‘‘ منشی عبدالعزیز صاحب ہنس پڑے اور ایک کی بجائے دو روپے دے دیے۔ اس واقعے سے بھی یہ پتہ چل سکتا ہے کہ ابتدا میں فوق صاحب کی مالی حالت کیا تھی اور کس طرح انہوں نے ترقی کی۔
لالہ دینا ناتھ حافظ آبادی، جو ہندو اخبار نویسوں میں بڑے کامیاب اخبار نویس اور جرنلسٹ تھے، ’’ پیسہ اخبار‘‘ کے دفتر میں فوق صاحب کے ساتھ کام کرتے تھے۔ انہوں نے 1905ء میں اخبار’’ ہندوستان‘‘ جاری کیا جس سے ان کی بہت شہرت ہوئی۔ اس کے بعد انہوں نے ’’ ہمالہ‘‘ اور ’’ دیش‘‘ وغیرہ اخبار بھی نکالے۔ ایک روز فوق صاحب ان سے ملنے گئے۔ وہ ایک گول میز کے گرد چھ سات آدمیوں کے ساتھ بیٹھے خوش گپیاں کر رہے تھے۔ ان میں دو وکیل بھی تھے۔ گرمیوں کے دن تھے۔ فوق صاحب نے مزاج پرسی کے بعد پانی طلب کیا۔ لالہ دینا ناتھ نے کہا’’ پانی تو ہے مگر کتے کا جوٹھا ہے‘‘ فوق صاحب نے کہا’’ کوئی پرواہ نہیں تمہارا جوٹھا تو نہیں۔‘‘ لالہ دینا ناتھ نے جب فوق کو اس قسم کا جواب دیا تھا تو سب اہل مجلس حیران تھے کہ پانی کی طلب پر اس کو ایسے مذاق کی کیا سوجھی۔ لیکن جب فوق صاحب نے نہلے پر دہلا مارا تو سب کھلکھلا کر ہنس پڑے اور سمجھ گئے کہ ان دونوں میں بے تکلفی کی وجہ سے باہم مذاق ہے۔ لالہ دینا ناتھ بھی جو بڑے حاضر جواب تھے اس جواب پر نادم ہوئے اور انہوں نے فوق صاحب کے برجستہ اور لطیف فقرے کی داد دی۔
فوق صاحب سیر و سیاحت کے بڑے شوقین تھے۔ ان کی زندگی کا بہت بڑا حصہ سفر میں گزرا۔ کشمیر تو ان کا وطن ہی تھا۔ وہاں وہ ہر سال نہایت باقاعدگی سے جاتے اور کئی کئی مہینے وہاں رہتے۔ اس کے گوشے گوشے میں گھومتے، قابل دید مقامات کی سیر کرتے، لوگوں کے حالات دریافت کرتے اور اپنے تجربات و مشاہدات سے اخبار بیں حضرات کو فائدہ پہنچاتے۔
کشمیر کے علاوہ انہوں نے وسط ہند، راجپوتانہ اور کانگڑہ کی ریاستوں مثلاً سمتہرا، ناگور، میہر، ریوال، سکیت، منڈی وغیرہ۔ شملہ، لکھنو، دہلی، بھوپال، بنگال اور صوبہ سرحد کے بھی متعدد سفر کئے جس سے ان کے دوستوں کا حلقہ وسیع ہو گیا اور اخبار کو بھی فائدہ پہنچا۔
فوق صاحب بڑے محنتی تھے۔ شعر و شاعری کا شوق انہیں قدرت کی طرف سے ودیعت ہوا تھا۔ جس کی وجہ سے پڑھائی کی طرف خیال بہت کم رہتا تھا۔ چنانچہ 1895ء میں مڈل کا امتحان دینے کے بعد جو اس وقت یونیورسٹی کا امتحان تھا، سیالکوٹ میں جا کر پٹوار کا کام سیکھنا شروع کر دیا۔ پھر وہاں سے کسی اور ملازمت کی توقع پر جموں کا رخ کیا اور کئی ماہ کی لگاتار کوششوں سے محکمہ پرمٹ و چونگی میں سردار پری سنگھ رئیس و ٹھیکیدار کے پاس ملازمت حاصل کی۔ یہاں قاضی فقیر علی عاقل کی ہم نشینی میسر آ جانے سے جموں میں چند دن خوب شعر و شاعری کے چرچے رہے۔ جب چونگی کا ٹھیکہ ٹوٹ گیا تو بے کاری کے چند ماہ گھڑ تل میں گزار کر 31جنوری1897ء کو اپنے بڑے بھائی کے پاس لاہور چلے آئے۔ یہاں ’’ پیسہ اخبار‘‘ کے دفتر میں ملازمت مل گئی جو چار سال تک رہی۔ اس عرصے میں اخبار نویسی کی مزید مشق کے لیے اخبار’’ بھارت سیوک‘‘ جالندھر کی نامہ نگاری بھی کرتے رہے اور ’’ اخبار عام‘‘ اور’’ خالصہ بہادر‘‘ میں مضامین بھی لکھتے رہے۔ ان کے علاوہ ہر ہفتے مندرجہ ذیل چار اخبار خود مرتب کرتے رہے:
——
1’’ کوہ نور‘‘ جو پنجاب کا سب سے پہلا اردو ہفتہ وار اخبار تھا اور جس کے آخری ایڈیٹر فوق ہی تھے۔
2’’ گلزار ہند‘‘ جو اگست1901ء میں جاری ہوا۔
3’’ آفتاب پنجاب‘‘ جو1905ء یا1906ء میں بند ہوا۔
4’’ بہاول گزٹ‘‘ جو منشی محمد جان قریشی نے عشرہ وار جاری کیا۔
——
اسی زمانے میں آپ نے ’’ شالا مار باغ کی سیر‘‘ ایک چھوٹی سی کتاب لکھی۔ اس سے حوصلہ اتنا بڑھا کہ کتابوں کی تصنیف و تالیف کا خیال دل میں چٹکیاں لینے لگا۔ چونکہ ان دنوں ناولوں کی گرم بازاری تھی، آپ نے بھی انارکلی، غم نصیب، عصمت آراء اور اکبر وغیرہ چند ناول لکھے جن سے شہرت پر لگا کر اڑنے لگی اور ان کی مالی حالت بھی اچھی ہو گئی۔
اکتوبر1901ء میں آپ نے ’’ پیسہ اخبار‘‘ کی ملازمت ترک کر کے نومبر میں اپنا اخبار اور پریس جاری کیا۔ا س اخبار کا نام ’’ پنجہ فولاد‘‘ تھا۔ پہلا پرچہ صرف پچیس تیس کی تعداد میں چھاپا گیا جس کا افتتاحیہ یہ تھا:
’’ خدا کے گھر پر سرکار کا قبضہ‘‘
مضمون اس شاہجہانی مسجد کے متعلق تھا جو دائی انگا کی مسجد کے نام سے مشہور ہے اور لاہور ریلوے اسٹیشن کے قریب ہونے کی وجہ سے اس وقت محکمہ ریل کے قبضے میں تھی۔ ریل والوں نے اس میں ٹریفک سپرنٹنڈنٹ کا دفتر قائم کر رکھا تھا۔ اخبار کے آزادانہ لب و لہجہ پر تمام اخبار نویس دنگ رہ گئے۔ آخر رفتہ رفتہ دیگر اخبارات بھی اس معاملے میں ہم نوا ہوئے اور لارڈ کرزن نے پبلک آواز سے متاثر ہو کر اس مسجد کو واگزار کر دیا۔ آج کل یہ مسجد آباد ہے اور اس پر محکمہ آثار قدیمہ کا بورڈ لگا ہوا ہے۔
پنجہ فولاد کا مطبع، کاغذ اور لکھائی چھپائی وغیرہ سب ادھار تھے۔ گویا بغیر کسی سرمائے کے کام شروع کیا تھا۔ تقریباً نصف پرچے اپنے دوستوں اور رشتہ داروں کو وی پی کئے گئے تھے، باقی لاہور میں تقسیم ہوئے تھے جن کی اس قدر دھوم مچی تھی کہ پرچہ دوبارہ چھاپنا پڑا تھا۔ پہلے پرچے کی قیمت وصول ہو جانے پر دوسرا پرچہ پچاس کی تعداد میں چھاپا گیا۔ اسی طرح دسمبر میں اس کی تعداد بڑھا کر سو کر دی گئی۔ ڈیڑھ ماہ تک یہ اخبار پنارہ روزہ رہا۔ جنوری 1902ء میں ہفتہ وار ہو گیا ۔ جولائی 1902ء میں اس کی اشاعت پانچ سو تک پہنچ گئی۔ 1904ء میں سات سو ہو گئی اور رفتہ رفتہ اس کی اشاعت اتنی بڑھی کہ دسمبر1905ء میں بارہ سو سے بھی بڑھ گئی۔ اتنی اشاعت اس زمانے میں بڑی کافی سمجھی جاتی تھی۔ کیونکہ اخبار بینی کا مذاق آج کل کی طرح اتنا عام نہیں ہوا تھا۔ اخبار کی پالیسی صلح کل تھی۔ ہر مذہب و ملت کے لوگ اسے احترام کی نظر سے دیکھتے تھے۔ اکثر والیان ریاست اور پولیٹیکل ایجنٹ اس کی سرپرستی کرتے تھے۔ خریداروں میں مسلمانوں کے علاوہ ہندو، سکھ اور عیسائی بھی موجود تھے۔ حضرت داغ دہلوی، احسان شاہجہان پوری اور علامہ اقبال نے اس کی تعریف میں نظمیں لکھیں ۔ لیکن افسوس کہ وسط ستمبر میں یہ اخبار ایک دوست نما دشمن کی مہربانی سے بند ہو گیا۔ فوق صاحب کا اپنا بیان ہے:
’’ ایک شخص جو بڑا چالاک اور گرگ باراں دیدہ تھا، چند دنوں کی آمد و رفت کے بعد میرا ہمدرد بن گیا۔ وہ ہر سیر و سیاحت اور سفر و حضر میں میرے ساتھ ہوتا تھا اور ایک معمولی سا برائے نام پندرہ روزہ اخبار نکال کر بہت فائدے میں رہتا تھا۔ میں نے اس کی ’’ ریش سفید‘‘ پر اعتبار کیا او ریہ نہ سمجھا کہ یہ محض ’’ ظلمت فریب‘‘ سے بھری ہے۔ میں اس کے چہرے کو ’’ صبح صادق‘سمجھتا رہا حالانکہ وہ محض ’’ مکر چاندنی‘‘ کا مظہر تھا۔ اس اجمال کی تفصیل یہ ہے کہ میں نے اخبار پر ٹکٹیں لگانے کا کام اس کے سپرد کر دیا اور پھر اخبار شماری بھی اسی کے رحم و کرم پر چھوڑ دی۔ حالانکہ چاہیے یہ تھا کہ ٹکٹیں وہ لگاتا اور اخبار کو گننے والا کوئی اور ہوتا جو دیکھتا کہ اس نے جتنی ٹکٹیں لی تھیں اتنی لگائی بھی ہیں یا نہیں۔ اس طریق سے وہ سفید ریش بزرگ سال بھر تک بیس روپے ماہوار کے ٹکٹ ہضم کرتا رہا، جس کا اثر اخبار پر اس قدر پڑا کہ اس کی جان کے لالے پڑ گئے۔ اخبار میں نے مجبور ہو کر مطبع پنجہ فولاد اور اخبار ’’ پنجہ فولاد‘‘ دونوں بند کر دیے۔ اسی زمانے کا ایک شعر ہے:‘ ‘‘
——
اخبار بند ہونے سے کہتے ہیں نازنیں
اے فوق اب وہ پنجہ فولاد کیا ہوا؟
——
1903ء یا 1904ء میں لالہ منشی رام اگروال نے ایک اخبار بنام ’’ اردو اخبار‘‘ جاری کیا۔ جس کی ادارت فوق صاحب کے سپرد تھی۔ چنانچہ وہ پنجہ فولاد کے ساتھ اس اخبار کو بھی چار ماہ تک نہایت قابلیت سے چلاتے رہے۔ مگر بعد میں اپنے کاروباری مشاغل سے مجبور ہو کراس سے الگ ہو گئے۔
1899ء میں میاں جان محمد گنائی نے ’’ کشمیری گذت‘‘ کے نام سے ایک ماہوار رسالہ جاری کیا جسے تین سال تک فوق صاحب مدیر اعزازی کی حیثیت سے مرتب کرتے رہے۔ آخری چودھری جان محمد گنائی کی وفات کے ساتھ اس رسالے کا تو خاتمہ ہو گیا، البتہ اس کی داغ بیل پر ایک اور رسالہ ’’ کشمیری مخزن‘‘ نکل آیا جس کے ایڈیٹر خواجہ کمال الدین بی اے، مسلم مشنری انگلستان اور اسسٹنٹ ایڈیٹر فوق صاحب تھے۔ یہ رسالہ 1905ء تک جاری رہا۔ اس کے بند ہوتے ہی 1906ء میں آپ نے ماہنامہ کشمیری میگزین جاری کیا جو غالباً پنجاب کا سب سے پہلا رسالہ ہے جس نے ہاف ٹون بلاک کی تصاویر چھاپنے کے علاوہ خاص نمبر نکالنے کی جدت شروع کی۔ چنانچہ اس کا ایڈیٹر نمبر جو اردو رسائل و جرائد کے ایڈیٹروں کے حالات زندگی سے متعلق شائع ہوا تھا، اب تک ایک یادگار تاریخی پرچہ تصور کیا جاتا ہے۔
1912ء میں کشمیری میگزین نے ماہوار سے ہفتہ وار اخبار کشمیری کی شکل اختیار کی اور اپنی مفید اور کار آمد تحریروں سے اہل خطہ میں علم و عمل کی روح پھونکی۔ اس اخبار نے کشمیر میں بیگار کے مظالم کے خلاف آواز اٹھائی اور متواتر کئی سال پر زور مخالفت کر کے اس کی منسوخی کے احکام جاری کرائے۔ ریاست جموں و کشمیر میں محکمہ امداد باہمی کا قیام، زمیندارہ سوسائٹیوں کا اجرا اور قانون انتقال اراضی کا نفاذ بھی اسی اخبار کی تحریروں کا ثمرہ ہے۔ 1915ء میں جب سری نگر کی پتھر مسجد کے اندر تھانہ پولیس کے لیے پختہ عمارت بننے لگی تو اسی اخبار نے پبلک آواز پیدا کر کے اسے رکوایا۔ اب چند برس سے یہ مسجد مسلمانوں کو واپس مل چکی ہے۔ اسی اخبار کی کوششوں سے مسلمانوں کو حکومت کی طرف سے میڈیکل وظائف ملنے شروع ہوئے۔ کشمیر میں زبان اردو کی ترویج و اشاعت کے لیے بھی اس اخبار نے کچھ کم کام نہیں کیا۔ جب یہ جاری ہوا تو جتنے خطوط اس کے دفتر میں آتے تھے ان میں فی صدی پچاس خط عربی اور فارسی میں ہوتے تھے۔ اب ہر شخص اردو بولتا، سمجھتا اور لکھتا ہے۔ لاہور کی انجمن کشمیری مسلماناں، مسلم کشمیری کانفرنس اور بیرون جات کی کشمیری انجمنوں کا قیام بھی فوق صاحب ہی کی تحریکوں کا نتیجہ ہے۔ اور جس آنے والے دور کی مدھم اور دھندلی سی تصویر وہ آج سے پچاس ساٹھ سال پیشتر لوگوں کو اپنی نظم و نثر میں دکھایا کرتے تھے وہ اب بڑا صاف اور روشن نظر آ رہا ہے۔
اخبار کشمیری کے ساتھ ساتھ فوق صاحب نے یکے بعد دیگرے ’’ طریقت‘‘ اور’’ نظام‘‘ دو ماہانہ رسالے جاری کیے جو تین چار سال تصوف کی خدمت کر کے بند ہو گئے۔
محمد الدین فوق صاحب عملی سیاست میں عموماً حصہ نہیں لیتے تھے۔ لیکن قومی معاملات کے سلسلے میں ان کا احساس بہت گہرا تھا۔ وہ ان لوگوں میں تھے جو مسلمانوں کی زبوں حالی سے ہمیشہ پریشان رہتے تھے۔ بالخصوص کشمیری مسلمانوں کی پستی اور ڈوگرہ شاہی کی غلامی ان کے لیے سوہان روح تھی۔ وہ نسلاً کشمیری تھے۔ اس لیے بھی انہیں کشمیر سے والہانہ عشق تھا۔ انہوں نے ساری عمر کشمیرا ور کشمیریوں کی خدمت کی۔ کشمیری تعلیم میں کورے، اخلاق میں پست اور تہذیب و تمدن میں دنیا کے لوگوں سے بہت پیچھے تھے۔ فوق صاحب نے انہیں تعلیم کا شوق دلایا۔ ان کو دنیا کی ترقیوں سے آگاہ کیا۔ا ن کی سوئی ہوئی قوتوں کو جگایا اور ان کو ترقی یافتہ قوموں کے برابر لا کھڑا کرنے میں اپنی زندگی وقف کر دی۔
فوق صاحب اعتدال کو ہاتھ سے نہیں جانے دیتے تھے۔ انہوں نے تخریبی کاموں میں الجھنے کو کبھی پسند نہ کیا۔ اختلاف عقائد کی بنا پر کسی فرقے کو برا بھلا نہ کہا، تمام عمر تعمیری اسکیموں کو چلانے میں مشغول رہ کر اپنے آپ کو ایک ایسا ثالث بالخیر ثابت کیا جو حاکم و محکوم کو بہتر سے بہتر مشورہ دے سکتا تھا۔ ان کا منشا صرف یہ تھا کہ کشمیر میں واقفیت عامہ ترقی کرے۔ اہل خطہ روشن خیال ہو جائیں اور واقعات عالم پر ان کی نظریں وسیع ہوں۔ خدا کا شکر ہے کہ یہ توقعات ان کی زندگی ہی میں پوری ہو گئیں اور کشمیر میں ایک وسیع ذہنی، سیاسی اور مجلسی انقلاب پیدا ہو گیا۔
فوق صاحب نے کشمیر کے متعلق بہت سی کتابیں لکھیں جن میں تاریخ کشمیر، مشاہیر کشمیر، خواتین کشمیر، راہنمائے کشمیر، حکایات کشمیر، شباب کشمیر، تاریخ اقوام کشمیر اور تاریخ بڈشاہی وغیرہ بہت مشہور ہیں۔ ان کتابوں کے ذریعے سے انہوں نے کشمیر کے بھولے ہوئے افسانے نوجوانوں کو سنائے، کشمیریوں کے شاندار کارناموں سے قوم کو روشناس کیا اور کشمیر کا نام ساری دنیا میں روشن کر دیا۔
اس ادبی اور لٹریری کام کے علاوہ فوق صاحب نے کشمیری مزدوروں کو منظم کرنے اور ان کی پریشانیاں دور کرنے کے سلسلے میں بھی قابل قدر خدمات انجام دیں۔ غالباً ان کی انہی بے لوث خدمات کا اثر تھا کہ علامہ اقبال انہیں مجدد کشامرہ کہا کرتے تھے۔
فوق صاحب کی دیانت فکر اور پابندی وضع کا پایہ اتنا بلند تھا کہ اگر وہ کشمیر کے چکر سے نکل کر اپنے محدود دائرۂ عمل کو وسعت دیتے تو ہندوستان کے بہترین اخبار نویسوں اور مصنفوں کی صف میں شمار ہوتے۔ لیکن اس صورت میں وطنی تاریخ کی تدوین کا کام معرض التوا میں پڑ جاتا کیونکہ اس دائرے میں بھی ان کا نعم البدل دستیاب ہونا مشکل تھا۔ پھر بھی جب ہم ان کی تصانیف ’’ لاہور عہد مغلہ میں‘‘ ،’’ تذکرہ علمائے لاہور‘‘ یاد رفتگاں (تذکرہ صوفیائے لاہور) حیات داتا گنج بخشؒ، تاریخ سیالکوٹ، تذکرۃ الصالحین، مہاراجہ رنجیت سنگھ، شالا مار باغ، مآثر لاہور اور فاتح ملتان وغیرہ پر نظر ڈالتے ہیں تو تسلیم کرنا پڑتا ہے کہ لاہور اور پنجاب کی تاریخ کے متعلق بھی ان کی معلومات بی وسیع تھی۔ تاریخ حریت اسلام، وجدانی نشتر اور تاریخ کا روشن پہلو بھی ان کی بڑی مقبول کتابیں ہیں۔
اس میں شک نہیں کہ فوق صاحب انگریزی زبان سے اچھی طرح واقف نہ تھے۔ چنانچہ ایک موقع پر اس کا اعتراف کرتے ہوئے خود ہی کہتے ہیں:
——
انگلش زباں ہی سے جو نا آشنا تھے تم
اے فوق! پھر ایڈیٹر اخبار کیوں ہوئے
——
اور عربی، فارسی بھی بقدر ضرورت ہی جانتے تھے۔ لیکن تجربے اور مشق سے انہیں اخبار نویسی کا ڈھنگ خوب آتا تھا۔ معمولی معمولی واقعات میں انتہائی دلچسپی پیدا کر دینا ان کا ایک ادنیٰ سا کرشمہ تھا۔ تاریخ کے خشک واقعات بھی آپ اس خوبی اور ایسے انداز سے لکھتے تھے کہ پڑھنے والا پہروں مزے لیتا رہتا تھا۔ اس لحاظ سے انہیں تاریخ اور صحافت کا مجمع البحرین کہا جاتا تھا۔ حضرت احسان شاہجہان پوری فرماتے ہیں:
——
فوق کی مضموں نگاری میں کشش ہے حسن کی
خود فدا ہونے کو آتی ہے خبر اخبار پر
——
یہی وجہ ہے کہ آپ کا دفتر ہمیشہ اخبار نویسی سکھانے کا سکول بنا رہا ہے۔ یوں تو آپ کے پرتو فیض سے سینکڑوں ذرے آسمان ادب و صحافت پر آفتاب و مہتاب بن کر چمکے، لیکن مندرجہ ذیل نام خاص طور پر قابل ذکر ہیں:
1چودھری رحمت علی بی اے جو بعد میں انگلستان چکے گئے اور جنہوں نے ’’ پاکستان‘‘ کا لفظ وضع کر کے یورپ میں ا س کی تشہیر کی۔ 2مولانا نازش بدایونی،3ملک مقبول احمد (جو بعد میں رجسٹرار کوآپریٹو سوسائٹیز صوبہ کشمیر ہو گئے)4 سید حبیب مالک اخبار سیاست لاہور 5 ڈاکٹر عاشق حسین بٹالوی جنہوں نے بعد میں اخبار پولیس ریویو جاری کیا اور آج کل انگلستان میں ہیں۔6میر نیاز کاشمیری 7مسٹر محمد حنیف خمار جو نیرنگ خیال، شاہکار لاہور اور اخبار ریاست دہلی کے بھی ایڈیٹر رہے۔ 8 ماسٹر محمد بخش مسلم بی اے 9رشید صحرائی 10بابو محمد الدین بی اے وغیرہ۔
فوق صاحب محض تخلص ہی کے گنہگار نہ تھے بلکہ فطری شاعر تھے اور غزل، نظم، قصیدہ، مرثیہ، رباعی وغیرہ تمام اصناف سخن پر حاوی تھے۔ ان کے کلام کے دو مجموعے ’’ کلام فوق‘‘ اور’’ نغمہ و گلزار‘‘ چھپ چکے ہیں۔ کلام فوق کے محاسن پر اکبر الہ آبادی کی اس رائے کے ہوتے ہوئے ایک لفظ کا اضافہ کرنا بھی مشکل ہے:
’’ کلام فوق بلاشبہ قابل داد ہے۔ جب خیالات اچھے ہوں تو کلام کیوں نہ اچھا ہو۔ کلام فوق میں فطری آرزوئیں بھی ہیں شوخی کا اظہار بھی ہے۔ قافیے برجستہ ہیں، بغیر تکلف کے کلام کا اکثر حصہ ہے، اور اثر پیدا کرنا ایسے ہی کلام کا کام ہے۔ بعض اشعار سے دلچسپ رندانہ رنگ قطرہ ہائے مے کی طرح ٹپک رہا ہے۔ کئی اشعار گنجینہ معانی ہیں۔ اخلاقی و ہمت افزا اشعار کی بھی کمی نہیں۔ بعض اشعار پر تو جی چاہتا ہے کہ داد دوں اور لوٹوں۔ بہت سے اشعار میرے حسب حال ہیں۔ نیچرل کیفیتوں کے اظہار اور کشمیر کے نظاروں میں خوب جوش دکھایا ہے۔ اور نظموں کے شان نزول نے تو آپ کی جدت آفرینی کا رتبہ بہت بلند کر دیا ہے۔‘‘
(نقوش، شخصیات نمبر، حصہ دوم )
——
منتخب کلام
——
جس قدر تصویر کے کاغذ کو ممکن ہے بقا
اس قدر ممکن بقا کب صاحبِ تصویر کو
——
ہر طرح کی تکلیفـ ہے احساس پہ موقوفـ
اے عشق مرا ہوشـ میں آنا نہیں اچھا
——
ہوا کے یہ ٹھنڈے ٹھنڈے جھونکے جو کوئے جاناں سے آ رہے ہیں
کسی کی تقدیر سو رہی ہے اُسی کو گویا جگا رہے ہیں
کہاں میسر ہے خواب راحت الم کے کشتوں کو قبر میں بھی
وہ خفتگانِ عدم کو ٹھوکر لگا لگا کر جگا رہے ہیں
——
کسے معلوم تھا الجھے گا دل تو پھر نہ نکلے گا
قیامت کے تری زلفوں میں کافر پیچ و خم نکلے
——
اے صبا خاک جو کرنی تھی ہماری برباد
کوچۂ یار میں لے جا کے اُڑائی ہوتی
——
حشر کے دن بھی رہے گا وہی ظلمت کا حجاب
ساتھ جائے گی وہاں بھی شبِ فرقت میری
——
تنگدستی میں کسی نے بھی نہ پوچھا اے فوقؔ
کام نکلا کبھی اپنے سے نہ بیگانے سے
——
لطف سے پیرِ مغاں دے پھر کوئی ساغر مجھے
مست کر دے تا خیالِ ساقیٔ کوثر مجھے
روضۂ حضرت کا شوقِ دید ہمدم کچھ نہ پوچھ
اُڑ کے میں فوراََ پہنچ جاتا جو ملتے پر مجھے
بے نیازِ فرشِ محمل ہوں ، گدائے شاہ ہوں
خاکِ یثرب کا فقط درکار ہے بستر مجھے
فوقؔ اندیشہ نہیں روزِ قیامت آ تو لے
بخشوا لیں گے خدا سے شافعِ محشر مجھے
——
میہماں آ کے جو وہ رشکِ گلستاں ہو گا
گھر مرا رشک ، وہ روضۂ رضواں ہو گا
طالبِ زخم ہیں میرے جگر و دل دونوں
اے فلک تو ہی بتا کس کا وہ مہماں ہو گا
مل کے دنیا کے پریرو مجھے مٹی دیں گے
آج تابوت مرا تختِ سلیماں ہو گا
ان بُتوں سے جو کرے گا تو محبت اے فوقؔ
پھر نہ تُو ہو گا ، نہ دیں ہو گا ، نہ ایماں ہو گا
——
چوٹ اس کے عشق کی ہے جو دل پر لگی ہوئی
تا مرگ یہ رہے گی برابر لگی ہوئی
شکوے تو ہیں ہزاروں مگر اُن کے روبرو
مہر سکوت ہے مرے لب پر لگی ہوئی
سوزِ الم نے دل کو جگر کو جلا دیا
اے ہم نفس یہ آگ ہے گھر گھر لگی ہوئی
اے فوقؔ دُختِ رند کو کہوں کیا بقولِ ذوقؔ
چُھٹتی نہیں ہے منہ سے یہ کافر لگی ہوئی
——
آںکھیں کھلیں تو مائلِ پندار کیوں ہوئے
غفلت ہی ہم کو خوب تھی ہشیار کیوں ہوئے
پوچھا یہ کیا ؟ ہمارے طلبگار کیوں ہوئے
یہ کہیے آپ اتنے طرحدار کیوں ہوئے
غافل یہ شرحِ عشق کی گر پیروی نہیں
منصور جیسے زیب سرِ دار کیوں ہوئے
حیرت نے کی زباں جو دمِ عرض حال بند
بولے کہ چُپ ترے لبِ اظہار کیوں ہوئے
دیکھا جو پھول دستِ نگارین یار میں
کھاتے ہیں خار ، خار ، کہ ہم خار کیوں ہوئے
نکلے نہ تم مکان سے باہر کبھی مگر
مشہورِ شہر و کوچہ و بازار کیوں ہوئے
وہ پوچھتے ہیں وقتِ عیادت یہ بار بار
تم میری آنکھ دیکھ کے بیمار کیوں ہوئے
دس بیس خم شراب کے خالی کیے نہ کیوں ؟
زاہد ذرا سی پی کے سیہ کار کیوں ہوئے
کیسا ستم لے کے مرا دل یہ پوچھنا
مجبور آپ کیوں ہوئے ناچار کیوں ہوئے
ظالم نے حلق پر سے اٹھا لی یہ کہہ کے تیغ
تم آپ قتل ہونے کو تیار کیوں ہوئے
وعدہ تھا مجھ سے خلوتِ عیش و نشاط کا
تم آج زیبِ محفلِ اغیار کیوں ہوئے
موسیٰ و برقِ طور کا قصہ سُنا نہیں ؟
کیا پوچھتے ہو طالبِ دیدار کیوں ہوئے
جب کچھ نہیں تمیز سیاہ و سفید میں
ہم محو عشق زلف و رُخِ یار کیوں ہوئے
جب تجھ میں شاہدِ ازلی کی نہیں ہے شان
تیرے مطیع کافر و دیندار کیوں ہوئے
ان کو یہ شوق ہے کہ بڑھائیں ستم کی مشق
ہم کو یہ رنج ہے وہ دل آزار کیوں ہوئے
عُشاق کو مزا نہیں ملتا جو عشق میں
دنیا کی لذتوں سے وہ بیزار کیوں ہوئے
انگلش زبان ہی سے جو نا آشنا ہو تم
اے فوقؔ پھر ایڈیٹرِ اخبار کیوں ہوئے
——
انتخابِ شاعری اور ٹائپنگ : اردوئے معلیٰ انتظامیہ
بحوالہ : کلامِ فوق
یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ