اردوئے معلیٰ

آج معروف شاعر قیصر الجعفری کا یومِ پیدائش ہے ۔

قیصر الجعفری(پیدائش: 14 ستمبر 1926ء – وفات: 5 اکتوبر 2005ء)
——
قیصر الجعفری کا اصل نام زبیر احمد جعفری تھا جب کہ والد کا نام قاضی صغیر احمد تھا ۔ آپ 14 ستمبر 1926 ء کو نظر گنج ، تحصیل چائل ، ضلع الہٰ آباد میں پیدا ہوئے ۔
بارہ سال کی عمر تک عربی اور فارسی کی تعلیم اپنے دادا مولوی محمد اختر صاحب اور نانا حاجی بدر الدین کی تربیت میں حاصل کرتے رہے ۔
یہ دونوں بزرگ انگریزی تعلیم کے خلاف تھے مگر بعد میں انہیں اپنا نظریہ تبدیل کرنا پڑا تو قیصر الجعفری کو انگریزی اسکول میں داخل کروا دیا گیا ۔
انٹرمیڈیٹ تک کی تعلیم اسلامیہ کالج الہٰ آباد میں حاصل کی اور ہمیشہ امتیاز حاصل کرتے رہے ۔
شاعری اسی زمانے میں ہی شروع کی ۔ اس وقت تک کے طالب علم شعرا میں ابنِ صفی اور مصطفیٰ زیدی کے ساتھ ساتھ آپ کا بھی شمار ہوتا تھا ۔
تین شاعروں کا یہ مثلث 1949 ء کے سیاسی حالات کی سنگ دلی سے ٹوٹا اور بکھر گیا ۔ قیصر الجعفری صاحب بمبئی آ گئے اور آخر وقت تک یہیں قیام کیا ۔
قیصر الجعفری صاحب شروع سے ہی ترقی پسند رحجانات کے حامل رہے ہیں لیکن انہوں نے اپنی شاعری کو ہمیشہ کسی خاص سیاسی نظریہ کی تبلیغ و ترسیل سے بچا کے رکھا ۔ انسان دوستی ، مساوات اور زندگی کی خوبصورت قدروں سے محبت ان کا فکری سرمایہ ہے ۔ ان کے پہلے مجموعۂ کلام ” رنگِ حنا ” سے اس کا اظہار ملتا ہے ۔
——
یہ بھی پڑھیں : ڈاکٹر نذیر قیصر کا یوم وفات
——
رنگِ حنا کے دیباچہ میں سردار جعفری کچھ یوں رقم طراز ہیں :
اردو شاعری کے لیے یہ عہد کچھ بہت سازگار نہیں ہے ۔ فلمی گیتوں کی وجہ سے اردو شاعری کی مقبولیت بہت بڑھ گئی ہے اور اردو تعلیم کی کمی کی وجہ سے اردو شعر کا علم کم ہو گیا ہے ۔ اسی کا نتیجہ ہے کہ آج وہ نظمیں اور غزلیں زیادہ مقبول ہیں جن پر محبوب کا جسم حاوی ہے ، جن میں محبوب کے لیے احترام کی کمی ہے اور واسوخت کا انداز زیادہ ہے ۔
اس سے گریز کر کے سنجیدہ شاعروں کا ایک گروہ جو زیادہ تر نئی نسل سے تعلق رکھتا ہے ، غمِ ذات میں مبتلا ہو گیا ہے ۔ یوں تو غمِ ذات کے بغیر غمِ کائنات کا احساس کسی شاعر کے لیے ممکن نہیں لیکن غمِ کائنات سے فرار کر کے غمِ ذات کے قلعے میں اسیر ہو جانا شاعری کے لیے نیک فال نہیں ۔
مجھے خوشی ہے کہ قیصر الجعفری کی شاعری اس تاریک حلقے کی گرفت سے باہر ہے اور یہی وجہ ہے کہ اس میں زندگی کے مسائل سے دست و گریباں ہونے کی طاقت اور صلاحیت ہے ۔ ان میں غمِ ذات بھی ہے اور غمِ کائنات بھی ، جو دونوں ایک دوسرے کے گلے میں باہیں ڈالے ہوئے ہیں ۔
قیصر نے وہی راہ اختیار کی ہے جس پر اردو شاعری کا کارواں تیس سال سے سفر کر رہا ہے ۔ ان کی لفظی تصویریں اگر ایک طرف کلاسیکی روایات کے مطابق ہیں تو دوسری طرف جدید حقیقت نگاری کے معیار پر بھی پوری اترتی ہیں ۔
یہاں نہ تو جذبات کی وہ افراط ہے کہ لفظوں سے شیرہ ٹپک رہا ہے اور نہ ہی فکر کی وہ زیادتی کہ شعر اور مصرعے خشک چٹانوں میں تبدیل ہو جائیں ۔
ان نظموں اور غزلوں میں فکر اور جذبے کا امتزاج ہے اور یہ امتزاج شاعر کے مستقبل کی ضمانت ہے ۔
( سردار جعفری ، بمبئی ۔ اکتوبر 1964 ء )
——
منتخب کلام
——
ہماری پیاس تھی جس نے ہمیں زندہ رکھا قیصرؔ
اگر دریا ملا ہوتا تو ہم ساحل پہ مر جاتے
——
اسلاف کے کچھ نام تو چہرے پہ لکھے ہیں
ویرانے میں ٹوٹی ہوئی دیوار سہی ہم
——
قیصرؔ ضمیرِ وقت کو دیکھا کرید کے
صدیاں رکھی تھیں دوش پہ ، مٹھی میں پل نہ تھا
——
گھر بسا کر بھی مسافر کے مسافر ٹھہرے
لوگ دروازوں سے نکلے کہ مہاجر ٹھہرے
——
برسوں کے رتجگوں کی تھکن کھا گئی مجھے
سورج نکل رہا تھا کہ نیند آ گئی مجھے
——
نہ کہیں کتاب میں ہوں نہ کسی کے دل میں قیصرؔ
میں خیالِ رائیگاں ہوں مجھے کون سوچتا ہے
——
ڈوبنے والو ! ہواؤں کا ہُنر کیسا لگا
یہ کنارا ، یہ سمندر ، یہ بھنور کیسا لگا
——
ہار بیدرد ہواؤں سے نہ مانی قیصرؔ
بادباں پھینک کے قدموں سے بھنور باندھ لیا
——
کھلا ہے درد کے صحرا کا راستہ ، چلئے
عصا سنبھالئے ، اٹھئے ، برہنہ پا چلئے
——
ہوا کو ترسا کریں گے قیصرؔ قفس میں یہ اونگھتے پرندے
وہ آسمانوں پہ کیا اُڑیں گے جنہیں غمِ بال و پر نہیں ہے
——
واہمہ تھا کہ عقیدہ تھا کہ ورثہ قیصرؔ
زندگی ایک ہی بوسیدہ قبا میں گزری
——
قیصرؔ دل کا حال سنا کر جب یاروں کا منہ دیکھا
سب کے چہرے سوکھے سوکھے سب کی آنکھیں خالی تھیں
——
عہد جنوں میں بیٹھے بیٹھے جو غزلیں لکھ ڈالی تھیں
ہم کو رسوا دنیا بھر کو پاگل کرنے والی تھیں
آنکھوں میں وہ شام کا ٹکڑا اکثر چبھتا رہتا ہے
گھر میں آندھی جب آئی تھی شمعیں جلنے والی تھیں
چاند ستارے ٹوٹ رہے تھے خوابوں کی انگنائی میں
آنکھ کھلی تو دیکھا گھر کی سب دیواریں کالی تھیں
چٹکی بھر امید نہیں تھی کاسہ لے کر کیا پھرتے
شہر وفا کی ساری گلیاں اپنی دیکھی بھالی تھیں
پیار کا موسم بیت چکا تھا بستی میں جب پہنچے ہم
لوگوں نے پھولوں کے بدلے تلواریں منگوا لی تھیں
قیصرؔ دل کا حال سنا کر جب یاروں کا منہ دیکھا
سب کے چہرے سوکھے سوکھے سب کی آنکھیں خالی تھیں
——
کاغذ کاغذ دھول اڑے گی فن بنجر ہو جائے گا
جس دن سوکھے دل کے آنسو سب پتھر ہو جائے گا
ٹوٹیں گی جب نیند سے پلکیں سو جاؤں گا چپکے سے
جس جنگل میں رات پڑے گی میرا گھر ہو جائے گا
خوابوں کے یہ پنچھی کب تک شور کریں گے پلکوں پر
شام ڈھلے گی اور سناٹا شاخوں پر ہو جائے گا
رات قلم لے کر آئے گی اتنی سیاہی چھڑکے گی
دن کا سارا منظر نامہ بے منظر ہو جائے گا
ناخن سے بھی اینٹ کریدیں مل جل کر ہمسائے تو
آنگن کی دیوار نہ ٹوٹے لیکن در ہو جائے گا
قیصرؔ رو لو غزلیں کہہ لو باقی ہے کچھ درد ابھی
اگلی رتوں میں یوں لگتا ہے سب پتھر ہو جائے گا
——
دل کی آگ کہاں لے جاتے جلتی بجھتی چھوڑ چلے
بنجاروں سے ڈرنے والو لو ہم اپنی بستی چھوڑ چلے
آگے آگے چیخ رہا ہے صحرا کا اک زرد سفر
دریا جانے ساحل جانے ہم تو کشتی چھوڑ چلے
مٹی کے انبار کے نیچے ڈوب گیا مستقبل بھی
دیواروں نے دیکھا ہوگا بچے تختی چھوڑ چلے
دنیا رکھے چاہے پھینکے یہ ہے پڑی زنبیل سخن
ہم نے جتنی پونجی جوڑی رتی رتی چھوڑ چلے
ساری عمر گنوا دی قیصرؔ دو گز مٹی ہاتھ لگی
کتنی مہنگی چیز تھی دنیا کتنی سستی چھوڑ چلے
——
حوالہ جات
——
ترتیب و شعری انتخاب از اگر دریا ملا ہوتا 2005 ء ، سنگ آشنا  1977 ء
مصنف : قیصر الجعفری ، متفرق صفحات
یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے۔۔۔

حالیہ اشاعتیں

اشتہارات

اشتہارات