اردوئے معلیٰ

Search

آج اردو کے ممتاز شاعر حضرت منور بدایونی کا یومِ وفات ہے۔

 منور بدایونی
(پیدائش: 2 دسمبر 1908ء – وفات: 6 اپریل 1984ء)
——
اردو کے ممتاز شاعر حضرت منور بدایونی کا اصل نام ثقلین احمد تھا۔ وہ 2 دسمبر1908ء کو بدایوں میں پیدا ہوئے تھے۔
ان کے شعری مجموعوں میں
منور نعتیں، منور غزلیں،
منور نغمات اور منور قطعات
کے نام شامل ہیں۔
اس کے علاوہ ان کے نعتیہ کلام کی کلیات بھی اشاعت پذیر ہوچکی ہے۔
منور بدایونی (Munawar-Badayuni) کے چھوٹے بھائی محشر بدایونی کا بھی اردو کے ممتاز شاعروں میں شمار ہوتا ہے۔
——
یہ بھی پڑھیں : اردو کے ممتاز شاعر محشر بدایونی کی برسی
——
6 اپریل 1984ء کو منور بدایونی کراچی میں وفات پاگئے اور عزیز آباد کے قبرستان میں آسودۂ خاک ہوئے۔
——
اقتباس از منور نعتیں : ابواللیث صدیقی
——
ثقلین احمد منور بدایونی عیشؔ بدایونی کے شاگرد ہیں جو خود حضرت امیر مینائیؔ کے ارشد تلامذہ میں تھے ۔ اس طرح منور بدایونی کا تعلق جس سلسلہ شاعری سے ہے اس میں پاکیزگیٔ خیال اور صفائی بیان کی روایت ایک اساسی حیثیت رکھتی ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ اس مادہ پرستی کے دور میں بھی جب کہ بڑی حد تک لوگوں کا مذاق بدل گیا ہے اور شاعری کا منصب کچھ اور ہو گیا ہے منورؔ صاحب نے عام انداز کو چھوڑ کر نعت اور منقبت کو اختیار کیا ہے ۔ اور اپنی ساری عمر اسی مشغلہ میں صرف کی ۔ بہاریہ کلام بھی نہایت دلکش ہے اور زبان و خیال کی شاعری پسند کرنے والوں کے لیے منورؔ صاحب کا کلام امتیازی حیثیت رکھتا ہے ۔
میں نے محسنؔ کاکوروی کی نعت گوئی کے سلسلہ میں ایک جگہ لکھا ہے کہ نعت گوئی کا فن بڑا مشکل ہے ۔ سوداؔ نے تو مرثیہ نگاری کو مشکل ترین دقائق کہا ہے کہ بقول ان کے کہ اس میں مضمون واحد کو ہزار رنگ سے ربطِ معنی دینا پڑتا ہے ۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ نعت و منقبت کا معاملہ مشکل ہی نہیں نازک ترین بھی ہے ۔
باخدا دیوانہ باش و با محمد ہوشیار
شاعری کے فنی مطالبات کی نگہداری اور پھر نعت سے عہدہ برائی ایک بڑے فنکار ہی کو نصیب ہو سکتی ہے ۔ افسوس ہے کہ محسن کاکوروی کے بعد اردو شاعری میں اعلیٰ درجہ کی نعتیہ شاعری کا کوئی نمونہ نہیں ملتا ۔ جن نعت گو شعراء نے اس طرف توجہ بھی کی تو وہ بہت گمنام ہی رہ گئے ۔ اور جن کو تعارف نصیب ہوا وہ ہمعصر شعراء کے مقابلے میں فروغ نہ پا سکے۔
منورؔ صاحب خاندانی شاعر ہیں ۔ ان کے والد حکیم حسنین احمد صاحب مورخؔ بدایونی بڑے ذہین اور طباع شاعر تھے ۔ اس لیے یہ روایت بھی منورؔ صاحب کے لیے نئی نہیں ۔ پھر شاعری کو انہوں نے ذریعۂ معاش نہیں بنایا اس لیے جو کچھ کہا ہے اپنے شوق سے اور محض جذبے اور ذوق سے ، اسی لیے اس میں صداقت بھی ہے اور خلوص بھی ۔
——
یہ بھی پڑھیں : ممتاز شاعر شوکت علی خاں فانی بدایونی کا یوم پیدائش
——
اس میں پیشہ ور شاعروں کی سحرکاری نہ سہی لیکن وہ ساری خوبیاں موجود ہیں جو اچھی شاعری میں ہوتی ہیں ۔
——
منتخب اشعار
——
دعا ہو اثر کچھ نہ ہو، یہ نہیں ممکن
اثر دعا کیلئے ہے دعا اثر کے لئے
——
منور میں نے جب دل پر نظر کی
منور اک چراغِ طور دیکھا
——
نظر آتی ہیں سوئے آسماں کبھی بجلیاں کبھی آندھیاں
کہیں جل نہ جائے یہ آشیاں کہیں اڑ نہ جائیں یہ چار پر
——
اب کنج لحد میں ہوں میسر نہیں آنسو
آیا ہے شب ہجر کا رونا مرے آگے
——
جو دل کو دے گئی اک درد عمر بھر کے لیئے
تڑپ رہا ہوں ابھی تک میں اس نظر کے لیئے
علاج کی نہیں حاجت دل و جگر کے لیئے
بس اک نظر تیری کافی ہے عمر بھر کے لیئے
——
دل میں لہو کی بوندیں کچھ جان بن گئی ہیں
آنکھوں سے جو بہی ہیں طوفان بن گئی ہیں
کافر تری نگاہیں تیری ہیں یا میری ہیں
جو مری زندگی کا سامان بن گئی ہیں
مخلوط ہو کے جلوے شکلوں میں آ گئے ہیں
رنگینیاں سمٹ کر انسان بن گئی ہیں
——
یہ بھی پڑھیں : معروف شاعر سید فیاض علی زیدی کا یوم وفات
——
تیرا وعدہ نہیں تو تو کیا ہے
آدمی کیا وہ جسکی بات نہیں
——
نعوت شریف
——
نہ کہیں سے دور ہیں منزلیں، نہ کوئی قریب کی بات ہے
جسے چاہے اس کو نواز دے، یہ درِ حبیب کی بات ہے
جسے چاہا در پہ بلا لیا ،جسے چاہا اپنا بنا لیا
یہ بڑے کرم کے ہیں فیصلے یہ بڑے نصیب کی بات ہے
وہ بھٹک کے رَاہ میں رِہ گئی، یہ مچل کے در سے لپٹ گئی
وہ کسی امیر کی شان تھی، یہ کسی غریب کی بات ہے
وہ خدا نہیں ، بخدا نہیں وہ مگر خدا سے جدا نہیں
وہ ہیں کیا مگر وہ ہیں کیا نہیں ، یہ محب حبیب کی بات ہے
ترے حسن سے تری شان تک ہے نگاہ و عقل کا فاصلہ
یہ ذرا بعید کا ذکر ہے وہ ذرا قریب کی بات ہے
میں بُروں سے لاکھ براسہی مگر اُن سے ہے مِرا واسطہ
مِری لاج رکھ لے مِرے خدا ،یہ تِرے حبیب کی بات ہے
تجھے اۓ مؔنوّر بے نوا درشہ سے چاہیے اور کیا
جو نصیب ہو کبھی سامنا تو بڑے نصیب کی بات ہے
——
رُخِ احمد کو آئینہ بنانے کا خیال آیا
چراغِ بزمِ امکاں کو جلانے کا خیال آیا
حریمِ ناز کے پردے اُٹھانے کا خیال آیا
خدا کو نور جب اپنا دکھانے کا خیال آیا
رُخِ احمد کو آئینہ بنانے کا خیال آیا
 
انہیں کے واسطے پیدا کیا سارے زمانے کو
انہیں پر ختم فرمایا زمانے کے فسانے کو
سجی بزمِ جہاں محبوب کی عزت بڑھانے کو
سرِ محشر خدائی کو بلا بھیجا دکھانے کو
اُنہیں جب حشر میں دولہا بنانے کا خیال آیا
 
بلا کی بھیڑ تھی روزِ قیامت بزمِ محشر میں
نظر آتی تھی ہر سو اک مصیبت بزمِ محشر میں
اِدھر نکلا زباں سے نامِ حضرت بزمِ محشر میں
اِدھر پہونچے گناہگارانِ امت بزمِ محشر میں
اُدھر سرکار کو تشریف لانے کا خیال آیا
 
بلا کر عرش پر محبوب سے پوچھا گیا مانگو
تمہارے واسطے ہیں دو جہاں اے مصطفیٰ مانگو
عطا کر دوں اگر کچھ اور بھی اِس کے سوا مانگو
شبِ اسرا کہا خالق نے ہو جو مانگنا ، مانگو
نبی کو اپنی اُمت بخشوانے کا خیال آیا
 
بھکاری نے جب اُن کے اِک نظر اُن کی طرف دیکھا
بر آئیں آرزوئیں دل کی گر اُن کی طرف دیکھا
زباں سے کچھ نہ نکلا تھا مگر اُن کی طرف دیکھا
منورؔ میں نے گھبرا کر اِدھر اُن کی طرف دیکھا
اُدھر اُن کو مری بگڑی بنانے کا خیال آیا
——
لب پہ جب اُن کا نام ہوتا ہے
بات ہوتی ہے کام ہوتا ہے
جو نبی کا غلام ہوتا ہے
قابلِ احترام ہوتا ہے
اُن کا جلوہ تو عام ہوتا ہے
آنکھ والوں کا کام ہوتا ہے
اُس کے حق میں کلام کیا ہوتا
حق سے جو ہمکلام ہوتا ہے
تجھ کو جنت مجھے وہ در واعظ
اپنا اپنا مقام ہوتا ہے
پاس والے یہ راز کیا جانیں
دور سے بھی سلام ہوتا ہے
پانے والے سب اُن سے پاتے ہیں
دینے والوں کا نام ہوتا ہے
جب منورؔ میں نعت لکھتا ہوں
عرش سے اہتمام ہوتا ہے
——
شانِ سرکارِ بطحیٰ بڑی چیز ہے
دونوں عالم کا آقا بڑی چیز ہے
میری لوحِ جبیں کی یہ قسمت کہاں
اُن کی خاکِ کفِ پا بڑی چیز ہے
تاجدارانِ عالم کے کیا مرتبے
اُن کی گلیوں کا منگتا بڑی چیز ہے
راج والوں کی نعمت کوئی شے نہیں
کملی والے کا ٹکڑا بڑی چیز ہے
چاند تاروں میں ایسے اُجالے کہاں
اُن کی جالی کا پردا بڑی چیز ہے
ان کے در کی حضوری کا کیا پوچھنا
ان کے در کی تمنا بڑی چیز ہے
اے منورؔ تجھے اور کیا چاہیے
مصطفیٰ کا سہارا بڑی چیز ہے
——
جنہیں ان کے نظارے ہو گئے ہیں
وہ ذرے چاند تارے ہو گئے ہیں
جسے تیرا سہارا مل گیا ہے
اُسے کتنے سہارے ہو گئے ہیں
تمہارے در کا ٹکڑا اللہ اللہ
غریبوں کے گزارے ہو گئے ہیں
نہیں ہے جن کا کوئی اس جہاں میں
وہ بے کس سب تمہارے ہو گئے ہیں
جدھر کو اُٹھ گئی ہیں وہ نگاہیں
ادھر طوفاں کنارے ہو گئے ہیں
منورؔ ان نگاہوں پر تصدق
منور چاند تارے ہو گئے ہیں
——
شعری انتخاب از منور نعتیں ، متفرق صفحات
یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ