اردوئے معلیٰ

آج ممتاز کالم نگار اور ڈرامہ نگار منو بھائی کا یوم وفات ہے

منو بھائی(پیدائش: 6 فروری، 1933ء- وفات: 19 جنوری، 2018ء)
——
منو بھائی(اصل نام: منیر احمد قریشی) پاکستان کے مشہور کالم نویس، مصنف اور ڈراما نگار تھے۔ انہوں نے پاکستان ٹیلی وژن کے لیے بہت سے ڈرامے لکھے۔ ان کا سب سے مشہور ڈراما سونا چاندی ہے۔ 2007ء میں انہیں صدارتی تمغا برائے حسن کارکردگی سے نوازا گیا۔منو بھائی کا اصل نام منیر احمد قریشی تھا۔ ان کے دادا میاں غلام حیدر قریشی امام مسجد تھے، کتابوں کی جلد سازی اور کتابت ان کا ذریعہ معاش تھا۔ وہ شاعری بھی کرتے تھے۔ ان کے والد محمد عظیم قریشی ریلوے میں ملازم تھے، جو بعد میں اسٹیشن ماسٹر بنے۔ پنجابی کے معروف شاعر شریف کنجاہی ان کے ماموں تھے۔ 1947ء میں میٹرک کرنے کے بعد وہ گورنمنٹ کالج کیمبل پور (اٹک) آ گئے، وہاں غلام جیلانی برق، پروفیسر عثمان اور مختار صدیقی جیسے اساتذہ سے انہیں پڑھنے کا موقع ملا۔ یہیں سے پنجابی شاعری شروع کی۔
طالب علم سیاست میں سرگرم ہونے کی وجہ سے کالج سے نکال دیا گیا۔۔ یوں بی اے مکمل نہ کرسکے۔ والد نے افسروں سے کہہ کر ریلوے میں بھرتی کرالیا ۔ ایک اچھی نوکری کا تقرر نامہ بھی آگیا۔ لیکن انہیں یہ پسند نہیں آیا۔ گھر سے نکل کر راولپنڈی آگئے جہاں ان کے کالج کے زمانے کے دوست شفقت تنویر مرزا پہلے سے موجود تھے۔
——
یہ بھی پڑھیں : معروف ادیب اور براڈکاسٹر اخلاق احمد دہلوی کا یوم پیدائش
——
تعلیم کے بعد 1950ء کی دہائی کے اخیر میں راولپنڈی کے اخبار تعمیر میں پچاس روپے ماہوار پر نوکری کی۔ اور اسی اخبار سے اوٹ پٹانگ کے عنوان سے کالم نگاری کا آغاز کیا۔ امروز اخبار میں نظم بھیجی تو اس وقت کے مدیر احمد ندیم قاسمی نے قلمی نام منو بھائی عطا کیا۔ جو ان کے اصل نام کی جگہ معروف ہے، اسی نام سے کالم اور ڈراما نگاری کی۔ ’’تعمیر‘‘ سے قاسمی صاحب انہیں ’’امروز‘‘ میں لے آئے۔ یہاں انہوں نے دوسری صحافتی ذمہ داریوں کے ساتھ ’’گریبان‘‘ کے عنوان سے کالم لکھنے شروع کیے۔ حکومت سے صحافیوں کے معاوضے کے جھگڑے پر ان کا تبادلہ سزا کے طور پر ملتان ’’امروز‘‘ میں کر دیا گیا، جہاں سے ذوالفقار علی بھٹو انہیں مساوات میں لے آئے۔ 7 جولائی 1970ء کو مساوات میں ان کا پہلا کالم چھپا۔ مساوات سے روزنامہ جنگ لاہور میں آ گئے۔ کچھ عرصہ دوسرے اخبارات میں بھی کام کیا۔
ڈراما نگاری بھی منو بھائی کی شخصیت کا ایک معتبر حوالہ ہے۔ انہوں نے پی ٹی وی کے لیے سونا چاندی، جھوک سیال، دشت اور عجائب گھر جیسے ڈرامے تحریر کیے۔ کالم نویسی کی طرح اپنے ڈراموں میں بھی انہوں نے ورکنگ کلاس کے لوگوں کی زندگی اور مسائل پیش کیے۔ ٹی وی کے لیے ڈراما نویسی کی طرف انہیں اسلم اظہر لائے، جن کے کہنے پر انہوں نے 65ء کی جنگ کے موضوع پر ’’پل شیر خان‘‘ ڈراما لکھا۔
منو بھائی نے پنجابی میں شاعری کی، ان کی پنجابی زبان میں کئی نظموں کو شہرت و مقبولیت ملی۔
2014ء میں منو بھائی نے اپنا ذاتی کتب خانہ گورنمنٹ کالج یونیورسٹی لاہور کو عطیہ کر دیا تھا۔ یہ کتب خانہ 145,464 کتب پر مشتمل تھا۔
منو بھائی طویل علالت کے بعد 19 جنوری 2018ء کو 85سال کی عمر میں لاہور میں انتقال کر گئے۔ نماز جنازہ اِسی روز ریواز گارڈن میں بوقت عصر اداء کی گئی۔
——
یہ بھی پڑھیں : معروف نعت گو شاعر اور دانشور عبدالعزیز خالد کا یوم پیدائش
——
’منو بھائی‘ ایسا کہاں سے لاؤں، تجھ سا کہیں جسے! از فاروق احمد انصاری
——
بچپن میں پاکستان ٹیلی ویژن پر جب ’’سونا چاندی‘‘ ڈرامہ چلتا تھا تو تحریر کے ساتھ ’’منو بھائی ‘‘ لکھا نظر آتا تھا، تب سے اس نام سے ایک انسیت سی ہوگئی تھی اور جب منو بھائی کی مزید تماثیل و تحاریر سے آگاہی ہوئی تو کشف ہوا کہ چھوٹے قد کا یہ انسان درحقیقت ایک قدآور شخصیت کا مالک ہے اور ہمارا ملک خوش قسمت ہے کہ اسے منو بھائی جیسا گوہر نایاب ملا۔منو بھائی کو ہم اپنے معاشرے کا ضمیر بھی کہتے تھے کیونکہ وہ نہ صرف اپنے کالموں کے ذریعے سماج میں پائی جانے والی برائیوں پر لعنت ملامت کرتے تھے بلکہ اپنے ڈراموں سے معاشرے کی زبوں حالی کو بھی سامنے لاتے تھے ۔ ایک بار پی ٹی وی کے پروڈیوسر عارف وقار نے منو بھائی سے ایک سلسلہ وار کھیل لکھنے کی فرمائش تو وہ فوراً مان گئے لیکن ساتھ ہی کچھ شرائط بھی رکھ دیں کہ اس ڈرامے میں کوئی گلیمر نہیں ہوگا، نہ ہی محل نما گھریا بنگلہ، نہ لمبی لمبی کاریں اور نہ منہ ٹیڑھا کرکے انگریزی بولنے والے الٹراماڈرن کردار بلکہ یہ کہانی گلی محلے کے حقیقی کرداروں کی زبانی پیش کی جائے گی۔ اس کےبعد ناظرین منو بھائی کے لکھے پنجابی کھیل ’’کی جاناں میں کون‘‘ کو دیکھ کر اش اش کر اُٹھے۔
——
یہ بھی پڑھیں : عشق کو حسن کے انداز سکھا لوں تو چلوں
——
منو بھائی اپنی صحافتی زندگی کے آغاز میں کافی عرصہ رپورٹنگ کے شعبے سے منسلک رہے، اسی لیے سماج کا کوئی بھی پہلو ان سے دامن نہ بچا سکا۔ منو بھائی نے تمثیل نگاری کا فن کسی سے نہیں بلکہ اپنے اردگرد چلتے پھرتے کرداروں سے سیکھا۔ اسی لئے ان کے ڈراموں کے کردار آج بھی دیکھنے والوں کے ذہن کے دریچوں میں موجود ہیں۔ ڈرامہ سیریل سونا چاند ی کے علاوہ طویل دورانئے کے کھیل ’’خوبصورت‘‘ اور ’’گمشدہ ‘‘ آج بھی لوگوں کو یاد ہیں۔
سلسلے وا ر کھیل ’’ آشیانہ ‘‘ میں وہ خاندانی اقدار سے جڑے مسائل کو سامنے لائے تو مشہور ڈرامہ ’’دشت ‘‘ کے ذریعے انھوں نے بلوچستان کی صحرائی ثقافت کو اپنے قلم کی زینت بنایا۔ اس کے علاوہ منو بھائی نے مشہور ڈارمہ ’’جھوک سیال‘‘ کی ڈرامائی تشکیل بھی دی، یہ ڈرامہ دیہاتی منظر نگاری اور کردار نگاری کے حوالے سے ایک سنگ میل گردانا جاتا ہے۔
——
مختصر سوانح
——
6فروری 1933ء کو پنجاب کے شہر وزیر آباد میں پیدا ہونے والے منو بھائی کا اصل نام منیر احمد قریشی تھا۔ ان کے دادا میاں غلام حیدر قریشی مسجد کے امام تھے اور گزر بسر کیلئے کتابت اور کتابوں کی جِلد سازی کیا کیا کرتے تھے۔ منو بھائی کے والد عظیم قریشی پاکستان ریلوے میں ملازم تھے۔
پنجابی کے مشہور شاعر شریف کنجاہی منو بھائی کے ماموں تھے۔ 1947ء میں میٹرک پاس کرکے منو بھائی گورنمنٹ کالج کیمبل پور ( اٹک ) چلے گئے ، وہاں انہیں غلام جیلانی برق، پروفیسر عثمان اور مختار صدیقی جیسے اساتذہ کی سرپرستی حاصل ہوئی۔ یہیں سے انہوں نے پنجابی شاعری میں طبع آزمائی شروع کی ۔
تعلیم مکمل کرنے کے بعد 1950ء کی دہائی کے اواخر میں منو بھائی نے راولپنڈی کے اخبار ’تعمیر‘ میں50روپے ماہوار پر ملازمت اختیار کی اور اسی اخبار میں ’’اوٹ پٹانگ‘‘ کے نام سے کالم لکھنے کی شروعات کی۔ انھوںنے امروز اخبار میں اپنی نظم ارسال کی تو اس کے مدیر معروف شاعرودانشور احمد ندیم قاسمی نے انہیں قلمی نام ’’منو بھائی‘ ‘ عطا کیا، جس سے وہ ساری زندگی معروف رہے۔
قاسمی صاحب نے منو بھائی کو اپنے پاس بلالیا، یہاں صحافتی ذمہ داریوں کے ساتھ ساتھ انہوں نے ’’ گریبان ‘‘ کے نام سے کالم نگاری شروع کی۔ اس دور میں حکومت ِ وقت سے صحافیوں کے معاوضے پر ہونے والے تنازعے پربطور ِ سزا ان کا تبادلہ امروز ملتان کردیا گیا، جہاں سے انہیں مساوات لے آیا گیا۔ مساوات کے بعد منو بھائی جنگ لاہور سے وابستہ ہوگئے اور تادم مرگ جنگ میں ’’گریبان ‘‘ کے نام سے کالم لکھتے رہے۔
انہیں ٹی وی کیلئےڈرامہ نویسی کی جانب لانے والے اسلم اظہر تھے ، جن کیلئے انہوں نے 1965ء میں جنگ کے موضوع پر ڈرا مہ ’’پل شیر خان‘‘ لکھا تھا۔
——
کالم نگاری و شاعری
——
منو بھائی علمی، ادبی اور تخلیقی شخصیت کے ساتھ ساتھ ایک سچے، کھرے اور سادہ انسان تھے۔ وہ یاروں کے یار اور دوسروں سے محبت کرنے والی شخصیت تھے۔ سماج کا درد رکھنے والے منو بھائی نے روزنامہ جنگ میں اپنے فکاہیہ کالم ’’گریبان ‘‘ کے ذریعےمعاشرے کی برائیوں اور لوگوں کے رویّوں پر اپنی روایتی شگفتگی سے طنز کے ڈونگرے برسائے۔ کالموں کے ساتھ ساتھ انہوںنے اپنےاردگرد جو کچھ دیکھا وہ پنجابی شاعری میں سمودیا۔
——
یہ بھی پڑھیں : بہم جو دست و گریباں یہ بھائی بھائی ہے
——
ان کی نظم ’’ اجے قیامت نئیں آئی ‘‘ میں آپ اپنے ارد گرد ہونے والی اَنہونیوں پر منو بھائی کے مخصوص انداز میں طنز اور نشتر برستے محسوس کرسکتے ہیں۔ دراصل منو بھائی اس دشت کی سیاحی میں طویل جدو جہد اور سیاست کے گہرے مشاہدات کو اپنی شاعری، کالم نگاری اور تمثیل نگاری میں شامل کیے بغیر نہ رہ سکے، اسی لئے ان کا لکھا معتبر ٹھہرا۔ انہوںنے غیر ملکی شاعری کے تراجم کو بھی اپنی مہارت سے حسن بخشا۔
ان کی مشہور تصانیف میں ’’اجے قیامت نئیں آئی ( پنجابی شاعری کا مجموعہ)، جنگل اداس ہے ( منتخب کالموں کا مجموعہ)، فلسطین فلسطین، محبت کی ایک سو ایک نظمیں اور انسانی منظر نامہ ( تراجم ) شامل ہیں۔ 2007ء میں انہیں صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی سے نوازا گیا۔ منو بھائی 19 جنوری 2018ء کو ہمیں داغ مفارقت دے گئے۔
——
منتخب کلام
——
سوال جواب
کیہہ ہوئیا اے؟
کجھ نئیں ہوئیا!
کیہہ ہووے گا؟
کجھ نئیں ہونا!
کیہہ ہو سکدا اے؟
کجھ نہ کجھ ہوندا ای رہندا اے
جو تُوں چاہنا ایں اوہ نئیں ہوناں
ہو نئیں سکدا
کرناں پیندا اے
حق دی خاطر لڑنا پیندا اے
جیون دے لئی مرنا پیندااے
——
اجے قیامت نئیں آئی​
​——
وال ودھا لئے رانجھے نیں تے ٹِنڈ کرا لئی ہِیراں نیں​
مِرزے خاں نال دھوکہ کیتا اوہدے اپنیاں تِیراں نیں​
مِیٹر لا کے خوب چلائی صاحباں اوہدیاں وِیراں نیں​
پر اجے قیامت نئیں آئی​
​سُکھ سرہانے بانہہ گوری، دُکھ سُوٹے چرسی چِلماں دے​
بچے ٹیسٹ ٹیوباں دے، لَو لیٹر فِقرے فِلماں دے​
مَت ماری گئی سیانف دی تے بھٹھے بہہ گئے عِلماں دے​
پر اجے قیامت نئیں آئی​
​تاریخ تماشا بُھکھاں دا، تہذیب کھڈونا رَجاں دا​
تنقید جگالی لفظاں دی، تشہیر سیاپا لَجاں دا​
موسیقی راتب کُتیاں دا تے ادب گتاوا مجھاں دا​
پر اجے قیامت نئیں آئی​
​دھیاں تِن بشیراں دے گھر، پُتر چار کمالے دے​
پَوہڑیاں دے وِچ قِصہ مُکا، لوتھ گئی وِچ نالے دے​
لوکی بیٹھے رِشتے جوڑن، پِپل تے پرنالے دے​
پر اجے قیامت نئیں آئی​
​روگ ہزاراں، اِکو نُسخہ، اکو راہ گزارے دی​
مکھن تاندلیانوالے دا تے ماکھی ضلع ہزارے دی​
تِیراں اگے سینہ تانے جُرات جھوٹھ غُبارے دی​
پر اجے قیامت نئیں آئی​
​دھک مکوڑے پڑھن نمازاں ، دعوے کرن خدائیاں دے​
بند کران شراباں نالے پرمٹ لین عیسائیاں دے​
وعدے پیندے آپیں کردے ناں بدنام ڈیسائیاں دے​
پر اجے قیامت نئیں آئی​
​پارا تھرما میٹر دا، سیاست چوھدری طالب دی​
ہیرا منڈی شاہیے دی تے دِلی مرزا غالب دی​
چادر جنرل رانی دی تے چاردیورای جالب دی​
پر اجے قیامت نئیں آئی​
​زیراں دی پَٹی دے مطلب نِکلن لگ پئے زبراں چوں​
عینک پا کے انھے لبھن حق حقیقت خبراں چوں​
ٹی وی دیاں قوالیاں سُن کے مُردے جاگے قبراں چوں​
پر اجے قیامت نئیں آئی​
​روزگار دی سولی ٹنگے جِیویں کریلے دلاں دے​
لوکی بکرے، لیڈر لوبھی قربانی دیاں کھلاں دے​
پھل کھڑے قبراں دے اُتے سوہنیاں سوہنیاں گَلاں دے​
پر اجے قیامت نئیں آئی​
​حرف شکایت، ہونٹھ تروپے، قافیئے تنگ ردیفاں دے​
سنگھی نونہہ غریباں دی، ہتھ کَٹے گئے غریباں دے​
لوہلے لنگڑے پار اُتارن، پُل صراط تریفاں دے​
پر اجے قیامت نئیں آئی​
​چِٹے ورقے دَین شہادت کالی شاہ جہالت دی​
سچل وعدہ معاف گواہی، نئیں رہی لوڑ وکالت دی​
غصے دے نال تھر تھر کنبے کرسی عرش عدالت دی​
پر اجے قیامت نئیں آئی​
​ویری اُچیاں محلاں دے پئے منگن راہ فصیلاں توں​
منگن رحم قصائیاں کولوں تے خیرات بُخیلاں توں​
خواباں دے وِچ بڑھکاں مارن موت ڈراوے مِیلاں توں​
پر اجے قیامت نئیں آئی​
​عزت گئی اُستاداں دی تے بستہ غیب پڑھاکو دا​
سیر گھیو دے مُل وِچ لبھے ہُن اِک پان تمباکو دا​
ہنیرے دے وِچ پتہ نئیں لگدا تھانیدار تے ڈاکو دا​
پر اجے قیامت نئیں آئی​
​نقلی دنداں ولے بُڈھے پُچھن بھاء اخروٹاں دے​
سب توں بوہتیاں پڑھن کتاباں بوجھے اوور کوٹاں دے​
لیندے پھرن مبارکباداں خالی ڈبے ووٹاں دے​
پر اجے قیامت نئیں آئی​
​بیڑی پھرے آل دوالے ریت وِچ کھبے چَپو دے​
رنڈیاں وانگوں وِکدے فتوے مولوی مال ہڑپو دے​
پھانسی میلے وِچ پٹھورے ویچن قاتل پپو دے​
پر اجے قیامت نئیں آئی​
​لوکی گھراں تے مورچے لا کے کرن حفاظت فوجاں دی​
گُردیاں اُتے بنھ سرہانے ملہم لواندے سوجاں دی​
سینسر لا کے کرن نمائش اپنے سارے کوہجاں دی​
پر اجے قیامت نئیں آئی​
​ماں دا دُدھ سمجھ کے پی گئے نیک کمائی نانی دی​
ملکہ دے دربار وِچ دادے دی تصویر جوانی دی​
پوتریاں نوں نامنظور حکومت کِسے زنانی دی​
پر اجے قیامت نئیں آئی​
​جمعے بزار سیاست وِکدی ودھ گئی قیمت گَڈواں دی​
میئں شریف دے پُتراں نیں وی ڈھیری لا لئی لڈواں دی​
بھٹو دی دھی تولن بیٹھی بھر ترکڑی ڈڈوآں دی​
پر اجے قیامت نئیں آئی​
​اینی ہوئی منصوبہ بندی نوبت آگئی فاقے دی​
ہر اِک چیز کھلوتی لگے ساہنوں ایس علاقے دی​
دھوکہ چلدا اے یا فیر چلدی اے مرضی بابے ساقے دی​
پر اجے قیامت نئیں آئی​
یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے۔۔۔

حالیہ اشاعتیں

اشتہارات

اشتہارات