صادق نسیم کا یومِ پیدائش

آج اردو اور پنجابی زبان کے معروف شاعر صادق نسیم کا یومِ پیدائش ہے ۔

صادق نسیم (پیدائش: 23 ستمبر، 1923ء – وفات: 6 جون، 2008ء)
——
صادق نسیم پاکستان سے تعلق رکھنے والے اردو اور پنجابی زبان کے معروف شاعر تھے۔
سردار غلام صادق خان، قلمی نام صادق نسیم 24 ستمبر 1924ء کو موضع خرم، ٹیکسلا، ضلع راولپنڈی، برطانوی ہندوستان (موجودہ پاکستان) میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے تحریک پاکستان میں فعال حصہ لیا۔ والد سے فارسی پڑھی۔ بی اے تک تعلیم حاصل کی۔ تقسیم ہند کے بعد انہوں نے خاندانی روایت کے مطابق پاک فوج میں شمولیت اختیار کی اور میجر کے عہدے سے ریٹائر ہوئے۔
——
تصانیف
——
ریگِ رواں (غزلیات )
حرفِ صادق(غزلیات )
روشنی چراغوں کی‘ (شخصی خاکے)،
’انتخاب صادق‘(شعری مجموعہ)،
’خاک مدینہ ونجف‘، ’نعت ومنقبت‘ (غیر مطبوعہ)۔
——
وفات
——
صادق نسیم 6 جون، 2008ء کو لاہور، پاکستان میں وفات پا گئے۔ وہ راولپنڈی کے فوجی قبرستان میں آسودۂ خاک ہیں۔
——
یہ بھی پڑھیں : یاقوت لب کو آنکھ کو تارہ نہ کہہ سکیں
——
صادق نسیم کی غزل از احمد ندیم قاسمی
——
صادق نسیم نے بیدلؔ اور غالبؔ کے کلام کو گھول کر پی جانے اور اسے اپنے لہو میں گردش میں شامل کر لینے کا معرکہ ہی سر نہیں کیا بلکہ ان عظیم کلاسیکل شعرا سے تہذیبِ اظہار کی تربیت حاصل کرنے کے ساتھ ہی اس نے اپنے دور کو بھی فراموش نہیں کیا جو اس کے نزدیک دورِ شور و شر ہے اور :
——
تھا میر جی کا دور غنیمت کہ اُن دنوں
دستار ہی کا ڈر تھا مگر اب تو سر کا ہے
——
کلاسیکیت اور جدیدیت کا جو سلیقہ مندانہ امتزاج صادق نسیم کی غزل میں متشکل ہوا ہے اس کی کوئی نظیر پیش کرنا شاید دشوار ہو ۔
بلاشبہہ اس دور میں ایسے غزل گو موجود ہیں جن کی بعض خصوصیات انہیں میرؔ و غالبؔ اور فراقؔ و یگانہؔ کا سچا وارث ثابت کرتی ہیں لیکن صادق نسیم اس لحاظ سے ان سے منفرد ہے کہ اس نے لفظیات کا خزانہ تو بیدلؔ اور غالب کے دواوین سے حاصل کیا ہے مگر الفاظ کو اپنے فن پہ مسلط نہیں ہونے دیا ۔
اس نے کئی الفاظ کے مفاہیم کی ایسی ایسی نئی پرتیں ڈھونڈ نکالی ہیں کہ الفاظ ، تخلیق کے دست بستہ خدا معلوم ہونے لگتے ہیں ۔
اپنے ممدوحین کی طرح صادق نسیم کے ہاں صورتِ مژگاں سایہ فگن رہنے کو کیفیتیں بھی ہیں ، برقِ تپاں کو چاکِ گریبان کہنے کے تیور بھی ہیں ، سرِ طاقِ آرزو ، ضیا فروشوں کے منظر بھی ہیں ۔ انہوں نے دل کو غنچۂ بدستار بھی کہا ہے ، اشکوں کے قدموں کی لڑکھڑاہٹ بھی دیکھی ہے اور ان سے طاقِ چشم پر چراغ بھی جلائے ہیں ۔
ظاہر ہے اگر یہ الفاظ نہیں تو یہ انداز انہی اساتذہ کی دین ہیں ۔
مگر اس کا یہ مطلب نہیں کہ وہ محض اپنے ماضی کا اسیر ہے ۔ اسے اپنے حال کا شعور بھی حاصل ہے اور وہ اپنے مستقبل سے بھی باخبر ہے ۔ چنانچہ بیدلؔ و غالبؔ کا پرستار یوں بھی کہتا ہے :
——
جن ستاروں کو خدا مان کے پوجا تھا کبھی
اب انہی پر مرے قدموں کے نشاں بھی ہوں گے
——
اک ایسے دور کی مجھ کو تلاش ہے ، جس میں
جو آںکھ دیکھ رہی ہو ، وہی زباں بھی کہے
——
میں صادق نسیم کی غزلیں برسوں سے پڑھ رہا ہوں ۔ اس کے بارے میں میرا جو تاثر ماضی میں قائم ہوا تھا وہی اب ان غزلوں کی یک جائی کی صورت میں برقرار ہے ۔
اور وہ تاثر یہ ہے کہ غالبؔ نے اردو غزل میں احساس و ادراک کی آمیخت کے جس اسلوب کا آغاز کیا تھا ، صادق نسیم کی غزل اسی اسلوب کی جدید ترجمان ہے ۔
ظاہر ہے میرا یہ تاثر صادق نسیم کی پوری شاعری کے بارے میں ہے ۔ مگر کہیں کہیں خود صادق نسیم بھی بعض اشعار اور مصرعوں میں غیر مبہم طور پر میرے اس تاثر کی تائید کا اعلان کرتا ہے ۔ وہ کہتا ہے :
——
ہر چند حقیقت ہوں مگر خواب نما ہوں
——
چنانچہ جب وہ اس طرح کے اشعار کہتا ہے
——
میرے لیے اک آئینہ خانہ ہے زمانہ
ہر سمت سے خود اپنے ہی پرتو میں گھرا ہوں
——
تو یہ ذات کا حبس نہیں ، اس کا کائنات گیر پھیلاؤ ہے جس میں شاعر کو ہر انسان اپنا ہی انعکاس محسوس ہوتا ہے ۔
ایک اور غزل میں کہا ہے :
——
خود اپنے آپ میں جھانکوں تو میں بھی میں نہ رہوں
نگاہ خود سے ہٹاؤں تو چار سُو بھی میں
——
یہ نرگسیت نہیں عمومیت ہے ۔ اور اگر یار لوگوں کو شاعری کے حوالے سے اور خاص طور پر غزل کی شاعری کے حوالے سے عمومیت کا لفظ بے تعلق اور اجنبی محسوس ہو تو وہ صادق نسیم کے اس نوع کے اشعار کا مطالعہ کریں :
——
کس منہ سے زندگی کو وہ رخشندہ کہہ سکیں
جو مہر و ماہ کو بھی نہ تابندہ کہہ سکیں
ہر شئے بدل رہی ہے عجب عجلتوں سے رنگ
کوئی تو نقش ہو جسے پائندہ کہہ سکیں
وہ دن بھی ہو ، غبار چھٹے ، آندھیاں تھمیں
پھولوں کو رنگ و بو کا نمائندہ کہہ سکیں
——
صادق نسیم نے ” کہنے ” پر بڑا زور دیا ہے ۔ یہ لفظ اس کی دیانت اور شدتِ احساس کا مظہر ہے ۔
——
جو آنکھ دیکھ رہی ہو ، وہی زبان بھی کہے
جو اب نہ کہہ سکے ، کبھی آئندہ کہہ سکیں
——
اور یہ بیدلؔ و غالبؔ کے سے غزل گو اساتذہ کا روحانی طور پہ تربیت یافتہ شاعر کوئی لگی لپٹی اٹھا رکھے بغیر ، مگر غزل کے کلاسیکی لہجے کو برقرار رکھتے ہوئے وہ بات کھل کر کہتا ہے جو کھل کر کہے جانے کے قابل ہو :
——
ہوا ہی ایسی چلی ہے ، ہر ایک سوچتا ہے
تمام شہر جلے ، ایک میرا گھر نہ جلے
——
تھے دست و بازوئے اعداء تو آزمائے ہوئے
خود اپنے آپ سے ہی ہم نے مات کھائی نہ ہو
——
جس شخص کو بھی دیکھیے طالب ثمر کا ہے
ایسا بھی کوئی ہے جسے غم شجر کا ہے
چھائی رہیں بلند صدائیں دلیل پر
صادقؔ ہمارا دور عجب شور و شر کا ہے
——
صادق نسیم کے ہاں اس کا پورا دور سانس لیتا ہوا محسوس ہوتا ہے ۔ اس نے خصوصیت کے ساتھ پاکستان کی تاریخ کی بعض ابتلاؤں کو اپنا موضوع بنایا ہے ۔
اور اس سچی بات کے اظہار سے کہیں گریز نہیں کیا جسے اہلِ سیاست نے دبائے رکھنے اور چھپائے رکھنے میں اپنی عافیت دیکھی ہے ، مگر جسے برملا کہنے سے پاکستان کے دیانتدار اہلِ فن نے کبھی گریز نہیں کیا ۔
یاد رکھیے کہ صادق نسیم مورچوں میں شاعری کرنے والا غزل گو ہے ۔
وہ ایک فوجی ہے اور وہ الفاظ کی بجائے اسلحہ کا استعمال بھی جانتا ہے ۔
اس طرح اس کی دیانتِ اظہار کی اہمیت بڑھ جاتی ہے ۔ اور اس کے الفاظ کے آفاق دور دور تک پھیل جاتے ہیں ۔
اُس نے ایک غزل میں بڑے دکھ سے کہا ہے :
——
شکستِ آبلۂ دل میں نغمگی ہے بہت
سنے گا کون کہ دنیا بدل گئی ہے بہت
——
میں کہتا ہوں کہ شکستِ آبلۂ دل کی نغمگی سننے والے اس بدلی ہوئی دنیا میں بھی کمیاب نہیں ہیں ۔
صادق نسیم کو اپنے مجموعۂ غزلیات کی ہر دلعزیزی اور مقبولیت سے خود ہی اندازہ ہو جائے گا ۔
——
منتخب کلام
——
ہمراہِ وقت صورتِ ریگِ رواں چلوں
خود اپنی ذات شیشۂ ساعت لگے مجھے
——
سازگار آ گئے ہر طرح کے ماحول کو ہم
زیبِ محفل بھی رہے ، زینتِ زنداں بھی رہے
——
زنداں میں کوئی روزنِ زنداں تو ہو کہ لوگ
جس حال میں بھی دیکھیں ہمیں زندہ کہہ سکیں
——
کیسے رہ سکتی ہیں جنت کی فضائیں شفاف
خاک اڑانے کو ہمیں لوگ وہاں بھی ہوں گے
——
سنا ہر ایک نے دیکھا نہیں کسی نے ہمیں
گزر گئے ترے کوچے سے اک خبر کی طرح
——
اس لَو میں کوئی اور تو منزل کی سمت جائے
خود کو لگاؤ آگ کہ رستا دکھائی دے
——
تمہارا نام کسی اجنبی کے لب پر تھا
ذرا سی بات تھی دل کو مگر لگی ہے بہت
——
جب بھی تری قربت کے کچھ امکاں نظر آئے
ہم خوش ہوئے اتنے کہ پریشاں نظر آئے
دیکھوں تو ہر اک حسن میں جھلکیں ترے انداز
سوچوں تو فقط گردش دوراں نظر آئے
ٹوٹا جو فسون نگہ شوق تو دیکھا
صحرا تھے جو نشے میں گلستاں نظر آئے
کانٹوں کے دلوں میں بھی وہی زخم تھے لیکن
پھولوں نے سجائے تو نمایاں نظر آئے
اک اشک بھی نظر غم جاناں کو نہیں پاس
ہم آج بہت بے سر و ساماں نظر آئے
جو راہ تمنا کے ہر اک موڑ پہ چپ تھے
جب دار پہ پہنچے تو غزل خواں نظر آئے
کیا جانئے کیا ہو گیا ارباب نظر کو
جس شہر کو دیکھیں وہی ویراں نظر آئے
کیا روپ نگاہوں میں رچا بیٹھے کہ ان کو
گلشن نظر آئے نہ بیاباں نظر آئے
اک عمر سے اس موڑ پہ بیٹھے ہیں جہاں پر
اک پل کا گزرنا بھی نہ آساں نظر آئے
صادقؔ کی نگاہوں کو ہی ٹھہراؤ نہ مجرم
آئینے ہر اک دور میں حیراں نظر آئے
——
بیدلؔ کا تخیل ہوں نہ غالب کی نوا ہوں
اس قافلۂ رفتہ کا نقش کف پا ہوں
رقصاں ہے چراغان تمنا مرے ہرسو
وہ روشنیاں ہیں کہ میں سائے سے جدا ہوں
جب دشت الم سے کوئی جھونکا کبھی آیا
میں لالۂ خود رو کی طرح اور کھلا ہوں
ظلمات اماں بھی ہوں اجالوں کا امیں بھی
میں صبح کے تارے کی طرح ڈوب رہا ہوں
افلاک رسی سے بھی تلافی نہیں ہوتی
کس عزم کی ان دیکھی چٹانوں سے گرا ہوں
ہر عکس مقابل سے نمایاں ہے مرا نقش
دنیا میں ہوں یا آئنہ خانے میں کھڑا ہوں
محدود ہے کیوں حد طلب تک مری پرواز
میں موج صبا ہو کے بھی زنجیر بہ پا ہوں
ادراک کے شعلوں کا چمن ہے مرا آہنگ
میں برگ خزاں ہو کے بھی گلزار نما ہوں
احساس کے غنچوں کی چٹک ہے مری آواز
میں سینۂ آفاق میں دھڑکن کی صدا ہوں
ہر چند کہ نس نس میں نہاں برق تپاں ہے
کھل کر بھی برستا ہوں کہ گھنگھور گھٹا ہوں
ایک ایک کرن میں ترے سو رنگ نظر آئے
جب پچھلے پہر چاند کے ہم راہ چلا ہوں
اک نغمۂ رنگیں ہوں لب ساز مژہ پر
صادقؔ جرس غنچہ ہوں تصویر صدا ہوں
——
کس منہ سے زندگی کو وہ رخشندہ کہہ سکیں
جو مہر و ماہ کو بھی نہ تابندہ کہہ سکیں
وہ دن بھی ہوں غبار چھٹیں آندھیاں ہٹیں
اور گل کو رنگ و بو کا نمائندہ کہہ سکیں
تازہ رکھیں سدا خلش زخم کو کہ ہم
جو اب نہ کہہ سکے کبھی آئندہ کہہ سکیں
زنداں میں کوئی روزن زنداں تو ہو کہ لوگ
جس حال میں بھی دیکھیں ہمیں زندہ کہہ سکیں
ہر شے بدل رہی ہے عجب عجلتوں میں رنگ
کوئی تو نقش ہو جسے پائندہ کہہ سکیں
دل کے سوا ہے کون سا ایسا چراغ شام
بے نور ہو کے بھی جسے رخشندہ کہہ سکیں
صدیوں نوا گروں کو میسر نہ آ ملے
وہ گیت جن کو حسرت سازندہ کہہ سکیں
اس دور میں ہر اک کو ہے خود اپنی جستجو
کوئی نہیں جسے ترا جوئندہ کہہ سکیں
ہر سو اداس چہرے ہیں اتنے کہ اب نسیمؔ
کس کو دیار درد کا باشندہ کہہ سکیں
——
حوالہ جات
——
احمد ندیم قاسمی ، 20 دسمبر 1978
کتاب : ریگِ رواں از صادق نسیم ، شائع شدہ : 1979
صفحہ نمبر : 12 تا 15
یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ