اردوئے معلیٰ

Search

آج معروف شاعر، ادیب، صحافی، مرثیہ نگار، محقق اور براڈکاسٹر صفدر ہمدانی کا یومِ پیدائش ہے ۔

صفدر ہمدانی(پیدائش: 17 نومبر 1950ء )
——
صفدر ہمدانی ایک کثیرالجہت شخصیت از ظفر معین بلے جعفری
——
محترم صفدر ہمدانی ایک زندہ دل ادبی شخصیت ہی نہیں ، ایک جیتی جاگتی محفل اور متحرک ادارہ بھی ہیں۔ ادب ، ثقافت ، صحافت ، براڈ کاسٹنگ ، صداکاری ، تحقیق ، مرثیہ خوانی ، ریڈیو اکیڈمی کے استاد اورسفر نامہ نگاری کی دنیا میں انہوں نے جونام ، مقام اور احترام کمایا ہے ، وہ ہماری تاریخ کا ایک تابناک باب ہے ۔ بلکہ یہ کہنا زیادہ مناسب معلوم ہوتا ہے کہ ادب ،ا بلاغیات اور براڈ کاسٹنگ کے جن جن شعبوں میں محترم صفدر ہمدانی صاحب نے قدم رکھا، وہاں ایسے نقوش ثبت کئے ہیں ، جو ان شعبوں میں نئے آنے والوں کو نئی راہیں سُجھا رہے ہیں ۔ مجھے یہ کہنے کی اجازت دیجئے کہ محترم صفدر ہمدانی کا نام اور کام ایسا ہے ، جس کے ذکر ِ خیر کے بغیر ہماری ابلاغیات ، نشریات اور منقبت نگاری کی تاریخ مکمل ہو ہی نہیں سکتی۔
کہتے ہیں کہ ہر مرد کی کامیابی کے پیچھے ایک عورت کا ہاتھ ہوتا ہےاور ہم محترم صفدر ہمدانی کی کامرانی کو دیکھیں تو اس حقیقت کو تسلیم کئے بغیر کوئی چارہ نہیں کہ ان کی کامیابیوں اور کامرانیوں کے پیچھے محض ان کی جیون ساتھی کا ہاتھ نہیں بلکہ وہ سرتا پا کار فرما نظرآتی ہیں۔ اور ہمارے محترم صفدر ہمدانی صاحب کسی جھجھک کے بغیر بر سر محفل اس حقیقت کے معترف بھی دکھائی دیتے ہیں ۔
——
یہ بھی پڑھیں : صفدر حسین زیدی کا یوم وفات
——
دنیائے ادب و نشریات میں محترم صفدر ہمدانی اور محترمہ مہ پارہ صفدرکی جوڑی مشہور بھی ہے اور معروف و مقبول بھی۔ جیون بندھن میں بندھنے سے پہلے یہ مہ پارہ زیدی تھیں اور پی ٹی وی پر اسی نام سے انہوں نے نیوز کاسٹر کی حیثیت سے شہرت سمیٹی ۔ دونوں نے 1979میں ایک دوسرے کا ہاتھ تھام کر اور شانے سے شانہ ملا کر اکٹھے سفر شروع کیا تو مہ پارہ زیدی مہ پارہ صفدر بن گئیں اور اب انہیں دنیا اسی نام سے جانتی اور پہچانتی ہے ۔یہ ان دونوں کی خوش نصیبی ہے کہ انہیں جیون ساتھی بھی انہی کی دنیا کا ملا۔ اس ادبی جوڑے کی خصوصیات اور پس منظر میں بھی بہت سی باتیں مشترک ہیں ۔ دونوں کا بُرج یعنی عقرب ایک ہی ہے۔ یہ دونوں نومبر کے مہینے میں لاہور میں پیدا ہوئے۔ دونوں کو ادبی ذوق و شوق ورثے میں ملا ۔ صفدر ہمدانی صاحب کا ذکر ہوگا بعد میں ۔ پہلے بات ہوجائے محترمہ مہ پارہ صفدر اور ان کے حسب نسب کی۔ ان کے والد محترم سید حسن عباس زیدی شاعر، ادیب اوراستاد تھے ۔جبکہ ان کی والدہ ماجدہ سیدہ شمس الزھرہ نے سوزخوانی میں نام اور مقام کمایا۔میڈم مہ پارہ صفدر نے انگریزی ادبیات میں ایم اے پنجاب یونیورسٹی لاہور سے کیا۔ اوراسی دوران ریڈیو پاکستان پر یونیورسٹی پروگرامز میں بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ حوصلہ افزائی پر ریڈیو پاکستان لاہور میں متعدد شعبوں میں پروگرام کیئے اور یہیں سے پاکستان ٹی وی لاہور مرکز پر نیوز کاسٹنگ کے لیئے منتخب ہو گئیں اور اس شعبے میں ابصار عبدالعلی اور عزیز الرحمٰن نے ان کی رہنمائی کی ۔بعدازاں لاہور کے بعد وہ پی ٹی وی کی قومی نشریاتی اسکرین پر نیوز کاسٹر کی حیثیت سے جلوہ گرہوئیں ۔یہ ان دنوں کی بات ہے جب پاکستان میں کوئی پرائیویٹ ٹی وی چینل متعارف نہیں ہواتھا ،لہذاملک بھر میں جلد ہی ان کاایک نام اور مقام بن گیا۔ عالمی سطح پر اپنے پیشہ ورانہ جوہر دکھانے کیلئے یہ جوڑا برطانیہ چلا گیا، جہاں یہ دونوں میاں بیوی بی بی سی اردو سروس سے منسلک ہوگئے۔ صفدر ھمدانی ٨٩ میں چار سال کے لیئے ماہر لسان کے طور پر ریڈیو جاپان گئے تو ٩٠ جنوری میں ماہ پارہ بی بی سی لندن کی اردو سروس سے وابستہ ہو گئیں جہاں نشریاتی ادارے سے وابستگی کے ساتھ ساتھ مہ پارہ صفدر نے لندن یونیورسٹی سے وویمن اسٹڈیز میں ماسٹر کی ڈگری بھی لے لی ۔ جاپان سے ٩٢ میں صفدر ھمدانی جاپان سے لندن آکر بی بی سی سے وابستہ ہو گئے اور یہ جوڑا آگاہی کےاجالے پھیلاتا رہا۔ اس نامور جوڑے کا شعبہ ایک ہونے اور ذہنی ہم آہنگی کی وجہ سے مشکلات آسانیوں میں تبدیل ہوتی چلی گئیں ۔
صفدر ھمدانی نے جاپان کی وزارت خارجہ میں افسران کو ارود پڑھانے کا کام کیا اور اسی طرح برطانیہ کے سرکاری حکام کو بھی اردو پڑھاتے رہے
محترم صفدر ہمدانی صاحب ایک قد آور ادبی شخصیت ہیں ۔ ان کےقدو قامت کو دیکھنے کیلئے مجھے دونوں ہاتھوں سے اپنی ٹوپی سنبھالنی پڑتی ہے ۔ میں ان کے کام اور کلام سے فیض یاب تو ہوتا رہا ہوں لیکن اس کا ناقدانہ جائزہ لینا میرا منصب نہیں ۔ انہوں نے جو کام کیا ہے ، وہ کوئی شخصیت تن ِتنہا کرہی نہیں سکتی۔ حیرت ہوتی ہے کہ کوئی ایک شخص بیک وقت کامیابی کےساتھ بہت سے راستوں پر سفر کیسے کرسکتا ہے؟ اور انہوں نے یہ ہمیں کرکے دکھایا ہے۔
——
یہ بھی پڑھیں : صفدر حسین زیدی کا یوم پیدائش
——
لوگ کہتے ہیں کہ اگر کسی شعبے میں کسی نےاہم کارنامے انجام دئیے ہوں اور دنیااُسے برگدکاپیڑ قرار دینے پر مجبور ہو تو ایسی شخصیت کے زیر سایہ پودے پروان نہیں چڑھتے لیکن یہ بات محترم صفدر ہمدانی نے غلط ثابت کردی ہے ۔ وہ ایک ایسے بڑے باپ کے فرزند ِ ارجمند ہیں، جنہوں نے براڈ کاسٹنگ کی دنیا میں بھی صف ِ اول کی شخصیات کی امامت کااعزاز اپنے نام کیا ۔ قیام ِ پاکستان کے بعد ہواکے دوش پر جو پہلی آواز دور دور تک لوگوں تک پہنچی ، وہ ہمارے صفدر ہمدانی صاحب کے والد بزرگوار محترم مصطفیٰ ہمدانی ہی کی تھی ۔ 13اور14 اگست 1947کی درمیانی رات 12بجے انہوں نے ریڈیو پاکستان لاہور سے پاکستان کے قیام اورغلامی سےآزادی کااعلان کیا تھا۔ اسی کی بنیاد پر اپنے والد بزرگوار مصطفیٰ ہمدانی کو محترم صفدر ہمدانی نے بڑے خوبصورت انداز میں سلامی دی ہے ۔
——
ہم مناتے ہیں جو یہ روز سعید
سچ تو یہ آزاد لوگوں کی ہے عید
قبر میں تا حشر صفدر اس کی نور
صبح ِ آزادی کی دی جس نے نوید
——
اس حقیقت سے انکار نہیں کہ محترم مصطفی ہمدانی براڈ کاسٹنگ کے دنیا میں برگد کا ایک گھنا اور سایہ دار پیڑ تھے اور ایک ایسا پیڑ تھے ، جس کے نیچے بہت سے تنآور پیڑ پروان چڑھے اور ان میں ایک نام محترم صفدر ہمدانی کا بھی ہے۔ وہ اپنے والد بزرگوار کے نقش ِ قدم پر چلے اور براڈکاسٹنگ کی دنیا میں متعدد شاگرد پیدا کیئے۔ انہوں نے پانچ برس تک ریڈیو پاکستان کی اکیڈمی میں نشریات کے طلبا کی تربیت کی اور اس دور میں ملک بھر میں ریڈیو پاکستان کے مراکز کے سربراہ انکے شاگرد رہے جن میں سے بڑی تعداد اب ریٹائرڈ ہو چکے ہیں
صفدر ھمدانی نے نشریات و صحافت ہی میں نہیں، گلشن ِ ادب میں بھی رنگ جماتے ، خوشبو لٹاتے اور فکروخیال کی روشنی سے اذہان و قلوب کو جھلملاتے نظرآر ہے ہیں ۔وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ان کی توانائیوں میں کمی نہیں آئی بلکہ ان ک اسفر تیز تر ہوگیا ہے ۔ بات ہورہی ہے محترم صفدر ہمدانی کی لیکن ان کا مرتبہ جاننے کے لئے محترم مصطفیٰ ہمدانی کا مقام جانے بغیر بات ادھوری رہے گی۔ مجھے یاد ہے کہ ادبی تنظیم قافلے کے پڑاو میں معروف ٹی وی کمپئیرطارق عزیز کو میرے والد گرامی سید فخرالدین بلے نے ٹی وی کا مصطفیٰ ہمدانی قراردیا تھا اور ان ریمارکس پر طارق عزیز نے کہا تھا کہ آپ کا یہ کہنا میرے لئے اعزاز کی بات ہے۔ جیسے ریڈیو پاکستان کی نشریات کےآغاز کا سہرا محترم مصطفیٰ ہمدانی کے سر ہے، بعینہ طارق عزیز نے پاکستان کی ٹی وی نشریات شروع کرنے کا اعزاز اپنے نام کیا تھا ۔ بلاشبہ محترم صفدر ہمدانی برگد کے چھتنار پیڑ کے زیر سایہ پروان ضرور چڑھے ہیں لیکن اب خود ایک برگد کا چھتنار اور تناور پیڑ بنے ہوئے ہیں ۔ ان کے سائے میں ان گنت پودے پلے اور پروان چڑھے ہیں ۔ وہ اپنے سائے میں بیٹھنے والوں کے قد بڑھتے دیکھ کر خوش ہوتے ہیں ۔ باصلاحیت نوجوانوں کی ہمت بندھاتے ہیں۔ ان کی فکری رہنمائی کرتے ہیں ۔ انہیں ساتھ لے کر چلتے ہیں اور اپنے عالمی اخبار کے صفحات کو انہوں نے ان مقاصد کیلئے بھی وقف کر رکھا ہے ۔ یہ پھل دار پیڑ اور اعلیٰ طرف انسان کی نشانی ہوتی ہے کہ وہ ہمیشہ جھکے ہوئے ہوتے ہیں۔ محترم صفدر ہمدانی صاحب کی عاجزی اورانکساری دیکھ کر مجھے اپنے والد بزرگوار سید فخرالدین بلے کا یہ شعر یاد آرہا ہے۔
——
پیڑ نعمت بدست و سر خم ہے
ہے تفاخر بھی انکسار کے ساتھ
——
کبھی کبھی مجھے لگتاہے بہت کچھ ہوتے ہوئے اپنے آپ کو کچھ نہ سمجھنا اورادب کا جہان ہوکر بھی خود کوایک معمولی انسان اور طالب علم سمجھنا بھی ایک ایسا وصف ہے ، جس نےمحترم صفدر ہمدانی صاحب کی عظمت کو چار چاند لگا رکھے ہیں۔
——
یہ بھی پڑھیں : مصطفیٰ علی ہمدانی کا یومِ وفات
——
محترم صفدر ہمدانی ایک منجھے ہوئے ادیب، دلوں کے تار ہلا دینے والے شاعر، مایہ ء ناز اسکالر،حُب ِ اہل ِ بیت ِ اطہار سے سرشار مرثیہ نگار ، باریک بیں محقق ، سحرطراز براڈ کاسٹر ، دیدہ ور کالم نویس ، آواز کی دنیا کے بے تاج بادشاہ، دل کے دروازوں پر دستک دینے والے صداکار ، کئی دہائیوں سے سمندر پار مقیم رہنے کے باوجود پاکستانیت کےعلم بردار،سیرو سیاحت کے شوقین ، انجمن آرائیوں کے رسیا ،اسلامی اقدار و روایات کے پاسدار ، نشریات اور ابلاغیات کے ماہر اور برطانیہ میں مملکت ِ خدادادِ پاکستان کے غیر سرکاری اور غیراعلانیہ سفیر ہونے کے ساتھ ساتھ اپنی ذات میں اتنی دنیاوں کو سمیٹے ہوئے ہیں کہ کسی ایک مختصر سے مضمون میں ان کے شخصی اوصاف ، پیشہ ورانہ مہارت ، فنکارانہ جہتوں اورگراں مایہ خدمات کا احاطہ آسان نہیں ہے۔
محترم صفدر ہمدانی نے براڈکاسٹنگ ، صداکاری ، ابلاغیات ، ادب ، تصنیف و تالیف ، مرثیہ نگاری، کالم نویسی اور سفرنامہ نگاری کی دنیا میں انمٹ نقوش چھوڑے ہیں اور انہی کارناموں نے انہیں عالمی سطح پر شہرت و مقبولیت کی نئی رفعتوں سے ہم کنار کیا ہے ۔
محترم صفدر ہمدانی کی زندگی کی کہانی داتا کی نگری سے شروع ہوتی ہے۔ ان کی زندگی کا آفتاب لاہور ہی کے ایک معروف ادبی خانوادے میں 17نومبر1950کو طلوع ہوا ۔شعور نے آنکھ کھولی تو فضاوں میں درودو سلام کی گونج سنائی دی۔ پنجتن پاک کی محبت و عقیدت ورثے میں ملی تھی ۔گھر کے ماحول کی پاکیزگی نے اسے مزید جلابخشی ۔ یہ ایک ایسا بیج تھا جوان کی زمین ِ دل میں ان کے ساتھ ساتھ پروان چڑھتا رہا اور ان کے ساتھ ساتھ یہ بھی بڑھ کر ان کی طرح توانا ہوتا چلا گیا ۔ تعلیم و تربیت کے تمام مراحل لاہور ہی میں طے کئے۔ ان کے ہاں جو والہانہ پن نظر آتا ہے ،یہ لاہور کی فضاوں کی دین ہے۔ وہ کل بھی لاہوری تھے اور برسوں لاہور سے دور رہنے کے باوجود آج بھی لاہوری ہیں ۔
——
صفدر مری لاہور سے نسبت ہے عجب سی
میرے لیئے یہ شہر مدینے کی طرح ہے
——
ایف سی کالج ، لاہور سے گریجویشن کرنے کے بعد انہوں نے پنجاب یونیورسٹی سے ابلاغیات میں ماسٹر کی ڈگری حاصل کی۔ اپنے والد بزرگوار مصطفیٰ ہمدانی ، خالو فارغ بخاری اور ماموں رضا ھمدانی سے ادب و صحافت کا ذوق ورثے میں ملا تھا ۔ اسی لئے اسی سلسلے کو روزگار کا وسیلہ بنانے کی ٹھان لی ۔ والد بزرگوار نے ریڈیو پاکستان لاہور سے نشریات کا آغاز کیا تھا اور محترم صفدر ہمدانی نے بھی اپنے رجحان اور میلان کے باعث 1974 میں ریڈیو پاکستان ، لاہور ہی سے پروڈیوسر کی حیثیت سے وابستگی اختیار کرلی اور پنڈی ، تراڑکھل اسلام آباد اور ریڈیو اکیڈمی میں خدمات سر انجام دیں ۔ یہ اُس وقت کی بات ہے ،جب ریڈیو ایک نشریاتی ادارہ ہی نہیں تربیتی ادارہ بھی ہوا کرتا تھا ۔ بڑی بڑی ادبی شخصیات کی ادبی و علمی سرگرمیوں کا مرکز یہی ریڈیو اسٹیشن لاہور تھا۔ نامور شخصیات سے ملاقاتوں کا ایک بہانہ بھی ان کے ہاتھ آ گیا۔ رفتہ رفتہ یہ پروفیشن بن گیا ان کا پیشن (PASSION)
نشریات کی دنیا میں محترم صفدر ہمدانی نے اپنی آواز کا خوب جادو جگایا ۔اسکرپٹ رائیٹنگ کی بنیاد پر ارباب ِ علم و ادب سے خوب داد سمیٹی ۔لاہور میں رہتے ہوئے بھی ہوا کے دوش پر ان کی آواز دیس دیس میں پہنچی اور یہ علم و عرفان کے دیپ جلاتے اور آگہی کی روشنی گھر گھر پہنچاتے رہے ۔ یہ وہ ہستی ہیں، جنہیں کئی ممالک کے نشریاتی اداروں سے وابستگی کا اعزاز حاصل ہے۔ ان کے جنوں نے زندگی کے کسی بھی موڑ پر انہیں فارغ بیٹھنے کی اجازت نہیں دی۔ سمندر پار بھی ابلاغیات اور نشریات کی دنیا ہی میں اپنے کمالات اور پیشہ ورانہ جوہر دکھاتے رہے۔ ریڈیو پالینڈ سے بھی وابستہ رہے ۔قریباً چار سال ریڈیو جاپان میں خدمات انجام دے کر اپنی غیر معمولی صلاحیتوں کا لوہا منوایا۔ محترم صفدر ہمدانی کے کیا کہنے۔ یہ دو دہائیوں تک بی بی سی اردو میں بھی اپنے جوہر دکھاتے رہے ہیں ۔اسی لئے جہاں جہاں اردو بولی، پڑھی ، سنی اور سمجھی جاتی ہے، وہاں کے رہنے والے ان کے نام ، کام اور کلام سے خوب آشنا ہیں اور آشنا ہی نہیں ، بہت سے ملکوں میں ان کے چاہنے والے ان کے گُن گاتے نظرآتے ہیں ۔
——
یہ بھی پڑھیں : آپ محترم شہِ امم
——
انہیں پاکستان سے ترک ِ سکونت کئے 30برس ہوچکے ہیں لیکن آج بھی اپنے وطن ِ عزیز میں گزارا ہوا وقت ان کا گراں قدر اثاثہ ہے ۔ آپ پورے مان کے ساتھ انہیں برطانیہ میں پاکستان کا خوبصورت چہرہ قرار دے سکتے ہیں۔ انہوں نے 1992 میں برطانیہ کو اپنا وطن ِ ثانی بنایا تھا اور اب 2022میں یہ دونوں ملکوں کے شہری ہیں لیکن وہاں رہتے ہوئے بھی ان کا دل پاکستانیوں کے ساتھ دھڑکتا ہے ۔یہ مغرب کی چکا چوند روشنیوں میں بھی پاکستان کو نہیں بھولے اور ایسے راستے اپنا ئے کہ پاکستانیوں کی سرگرمیوں سے خود بھی آگاہ رہیں اور دیس دیس کے لوگوں کو ان کی سرگرمیوں کی خبربھی دیتے رہیں ۔ جی ہاں ، آپ درست سمجھے ہیں ۔انہوں نے عالمی اخبار کا اجراء اسی لئے کیا تاکہ پاکستان اور پاکستانیوں کی خوبصورتیوں کی جھلک دنیا کو عالمی سطح پر دکھا سکیں ۔ 2008سے نیٹ پر یہ عالمی اخبار دستیاب ہے اور مدیراعلیٰ کی حیثیت سے محترم صفدر ہمدانی مستقل مزاجی کے ساتھ اسی ای اخبار کی بنیاد پر ضیافت ِ طبع کا اہتمام کر رہے ہیں ۔ یہ وہ پلیٹ فارم ہے ،جس کے ذریعے ہمارے ادبی ذوق کی تسکین کا سامان بھی بہم پہنچایا جا رہا ہے اور مختلف شعبوں میں جو کارہائے نمایاں ہمارے پاکستانی انجام دے رہے ہیں ، انہیں بھی اجاگر کیا جا رہا ہے ۔ یا یوں کہیے کہ ہمارے معاشرے کی جیتی جاگتی تصویریں دنیا کو دکھائی جارہی ہیں ۔اسی لئے یہ عالمی اخبار مقبولیت کے نئے ریکارڈ بنانے کا سفر جاری رکھے ہوئے ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ یہ اخبار اتنے برسوں سے کسی ایک پیسے کے اشتہار کے بغیر بلا ناغہ شائع ہوتا ہے
محترم صفدر ہمدانی نے تصنیف ، تخلیق اور تالیف کی دنیا میں بھی بڑے انمٹ نقوش چھوڑے ہیں ۔ ان کی غزلوں کا پہلا مجوعہ کفن پہ تحریریں 1974 میں لاہور میں شائع ہوا تھا اور بعد ازاں مختلف تصانیف کی اشاعت کے بعد 2003 میں انکی کتابیں فرات کے آنسو … مرثیوں کا مجموعہ …. نورِ کربلا عزائی شاعری پہ تحقیق … اور معجزہ قلم ، رباعیات ، قطعات و قصائد کا مجموعہ… فروری 2004 میں شائع ہوا جبکہ انکی تالیف اور تدوین کلیات حسین حسن عباس زیدی مرحوم کی شاعری کی کلیات 2005 میں طبع ہوئی۔ اگست 2006 میں انکا پہلا سفر نامہ تہران گرعالمِ مشرق کا جنیوا شائع ہوا. 2007 میں مرثیے کی دو کتابیں شائع ہوئیں جن میں سے ایک زینت ہستی ماں کے موضوع پر لکھا ہوا مرثیہ ہے جبکہ دوسری عطائے رضا کے نام سے امام رضا علیہ السلام کا مرثیہ ہے۔ رو رہا ہے آسماں مرثیوں کا ایک اور مجموعہ اور غزلوں کے مجموعے’ بادل ۔ چاند اور میں اور گونگی آنکھیں زیر ترتیب ہے۔
جہان نعت کے نام سے نعتوں کا ایک انٹرنیٹ مجموعہ اردو ادب کی عالمی ویب سائٹ ریختہ پر بھی موجود ہے
صفدر ہمدانی کی شخصیت و فن پر تحقیقی مقالات بھی لکھے گئے
2012 میں ایجوکیشنل یونیورسٹی لاہور سے ایم اے آر بی ایڈ فائنل کی ایک طالبہ مس مصباح اعظم نے جناب محترم صفدر ہمدانی صاحب کی معیاری اور دل سوز مرثیہ نگاری پر تحقیقی تھیسس لکھ کر کامیابی حاصل کی ہے یہ تھیسس ایک کتاب کی شکل میں چھَپ چکی ہے۔
اس کے بعد سیدہ ثمر جعفری نے سیشن 2016- 2018 میں اپنا ایم فل کا مقالہ بعنوان صفدر ہمدانی کی ادبی خدمات گورنمنٹ کالج یونیورسٹی لاہور سے مکمل کر کے کامیابی حاصل کی ہے۔
——
یہ بھی پڑھیں : مصطفیٰ علی ہمدانی کا یومِ پیدائش
——
اور آخر میں صفدر ھمدانی کا یہ ایک قطعہ بطور خاص کہ یہ دو شعر انکی قلمی ، فکری ، سماجی ، سیاسی اور ادبی زندگی کے غماز ہیں اور ان دونوں اشعار میں انکا مزاج اور فلسفہ صاف صاف نظر آتا ہے
——
حیات ساری میری عشق میں ہوئی ہے بسر
کٹے گا عشق میں باقی جو رہ گیا ہے سفر
گزر گئے ہیں جو بہتر برس مرے صفدر
کسی یزید کے آگے نہیں جھکا ہے سر
——
منتخب کلام
——
صفدرؔ ملا ہے مجھ کو کمالِ سخنوری
گُونگے ہوئے ہیں لفظ مگر احترام میں
——
دولتِ عشقِ محمد پہ ہوں نازاں صفدر
مدحتِ شاہِ مدینہ ہے وظیفہ میرا
——
معجزہ ہو قبر میں کہہ دیں ملائکہ
صفدرؔ سنا دو شعر کوئی ایک نعت سے
——
گلستاں در گلستاں اب باغباں کوئی نہیں
پھول سب تنہا کھڑے ہیں تتلیاں کوئی نہیں
——
حاصل دوام کب ہے بھلا اب دوام کو
ہم کہ ترستے رہتے ہیں ان کے سلام کو
نیلام ہو رہا ہے ادب بھی ادیب بھی
پھیلائیں شہر شہر میں اب اس پیام کو
تلوار کا وجود ہے تلوار زن کے ساتھ
معیار مت بنائیے خالی نیام کو
بے شک یہ بونے غالبؔ دوراں کہیں تمہیں
میں جانتا ہوں خوب تمہارے مقام کو
پہنچی ہے اب ضمیر فروشی عروج پر
جی چاہتا ہے آگ لگا دوں کلام کو
مفتی ادب کے دین کے مفتی سے کب الگ
کیسے حلال کرنے لگے ہیں حرام کو
عاری جو عدل سے ہو عدالت سے دور ہو
دوزخ رسید کیجئے ایسے امام کو
اعزاز اب ادب کا نہیں چاہیئے مجھے
رکھیے معاف بہر خدا اس غلام کو
اب نام پر ادب کے تجارت ادب کی ہے
صفدرؔ ہوا نہ دیجئے گا انتقام کو
——
اب گرچہ نہیں اُس سے ملاقات مسلسل
برسوں سے تسلسل میں ہے وہ رات مسلسل
حیران ہوں کیوں اتنا مجھے چاہا ہے تم نے
دوہراتی رہی وہ یہی اک بات مسلسل
ہے آج بھی تنہائی مری ذات کا حصہ
اس لمحے تلک ہیں وہی حالات مسلسل
بچھڑے ہوئے اُس شخص کو گزرا ہے زمانہ
اب بھی ہیں مگر اُسکی عنایات مسلسل
وعدہ تھا جُدا ہوتے ہوئے رونا نہیں ہے
رہتی ہے مگر آنکھوں میں برسات مسلسل
کچھ درد ہے کچھ آہیں تو کچھ اشک سُلگتے
ملتی ہے ترے نام پہ سوغات مسلسل
جس ہات کو صفدر کبھی اُس شخص نے چوما
خوشبو سے معطر ہے وہی ہات مسلسل
——
مجھکو اکیلا کر کے بھی تنہا نہیں کہا
اپنا سمجھ لیا مگر اپنا نہیں کہا
بے شک بنایا اِس نے ھدف مجھکو رات دن
جیسا مجھے کہا اُسے ویسا نہیں کہا
راہ حیات میں کئی چہرے حسیں ملے
جو کوئی بھی ملا اُسے تم سا نہیں کہا
شُکر خدا کا درس دیا ماں نے اسطرح
حالات بد پہ بھی کبھی نوحہ نہیں کہا
شطرنج کی بساط پہ کھا کر شکست بھی
بس تھا قصوروار پیادہ نہیں کہا
اک پیاس تھی اُگی ہوئی ساحل کی ریت میں
تشنہ لبی کی حد ہے کہ پیاسا نہیں کہا
صفدر یہ میرا ظرف ہے اپنے غنیم کو
دشنام بھی نہ دی اگر اچھا نہیں کہا
——
گلستاں در گلستاں اب باغباں کوئی نہیں
پھول سب تنہا کھڑے ہیں تتلیاں کوئی نہیں
دھوپ اچھی لگ رہی ہے آج کتنے دن کے بعد
بادلوں کا دور تک نام و نشاں کوئی نہیں
خشک لکڑی کی طرح سے جل گئے سارے مکاں
یہ عجب کہ ساری بستی میں دھواں کوئی نہیں
نام کیا دے گا کوئی ان بے سبب حالات کو
مہرباں سارے ہیں لیکن مہرباں کوئی نہیں
اپنے گھر سے دور رہ کر ہر قدم ہے امتحاں
کون کہتا ہے یہاں پر امتحاں کوئی نہیں
اس نے اپنے شوق سے دست دعا کٹوا دئے
اس کے چہرے پر لکھی اب داستاں کوئی نہیں
رات کی جھیلوں میں اترے گی کہاں سے چاندنی
ہم سیاہ بختوں کو بھی ایسا گماں کوئی نہیں
کیا خبر کیا ہو گیا ہے اس معمر شخص کو
دن ڈھلے جنگل سے چنتا لکڑیاں کوئی نہیں
اک عجب سا حادثہ دیکھا ہے صفدرؔ شہر میں
خشک ہیں سب آشیاں اور بجلیاں کوئی نہیں
یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ