اردوئے معلیٰ

آج معروف عالم، مصنف، خطیب، سیاست دان، اور مفسر اور حدیث کے ماہر مولانا شبیر احمد عثمانی کا یومِ وفات ہے ۔

(ولادت: 11 اکتوبر 1887ء – وفات: 13 دسمبر 1949ء)
——
شبیر احمد عثمانی ایک عالم دین تھے جنہوں نے 1940ء کی دہائی میں تحریک پاکستان کی حمایت کی۔ وہ ایک مذہبی عالم، مصنف، خطیب، سیاست دان، مفسر اور حدیث کے ماہر تھے۔
علامہ عثمانی کی پیدائش 11 اکتوبر 1887ء کو بھارت کی ریاست اتر پردیش کے بجنور شہر میں ہوئی۔
علامہ عثمانی محمود الحسن کے تلامذہ میں سے تھے۔ 1325ھ بمطابق 1908ء میں دار العلوم دیوبند سے فارغ التحصیل ہوئے۔ دورہ حدیث کے تمام طلبہ میں فرسٹ آئے۔
فراغت کے بعد دارالعلوم دیوبند میں فی سبیل اللہ پڑھاتے رہے۔ متوسط کتابوں سے لے کر مسلم شریف اور بخاری شریف کی تعلیم دی۔ مدرسہ فتح پور دلی تشریف لے گئے اور وہاں صدر مدرس مقرر ہوئے۔
——
یہ بھی پڑھیں : کلیم عثمانی کا یومِ پیدائش
——
1348ھ بمطابق 1930ء میں آپ جامعہ اسلامیہ ڈابھیل تشریف لے گئے اور وہاں تفسیر و حدیث پڑھاتے رہے۔
1354ھ بمطابق 1936ء میں دار العلوم دیوبند میں صدر مہتمم کی حیثیت سے فرائض انجام دیتے رہے۔
آپ کے ممتاز تلامذہ میں
مفتی اعظم پاکستان مفتی شفیع عثمانی،
محمد ادریس کاندھلوی،
عالم دین مولانا بدرعالم میرٹھی،
سید مناظر احسن گیلانی،
حفظ الرحمٰن سیوہاروی،
قاری محمد طیب قاسمی ،
اظہر سلہٹی اور سید یوسف بنوری(بانی جامعہ علوم الاسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن کراچی)،
سید محمد عبد السمیع ندوی (معاون ناظر دار العلوم ندوۃ العلماء، لکھنؤ)
خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔
——
تصانیف
——
تفسیر عثمانی
فتح الملہم (مسلم شریف کی نامکمل شرح)
اعجاز القرآن،
اسلام کے بنیادی عقائد،
العقل و النقل،
فضل الباری شرح صحیح بخاری،
الشباب
مجموعہ رسائل ثلاثہ
آپ کی تمام زندگی خدمت اسلام میں گذری اور آپ کے کردار نے مسلمانوں میں زندگی کی روح دوڑادی۔
سیاسی اور ملکی خدمات میں آپ نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔
تحریک خلافت میں آپ جمیعت علمائے ہند کی مجلس عامہ کے زبردست رکن تھے۔
مسلم لیگ میں شریک ہو کر تحریک پاکستان کو تقویت بخشی اور ایک جماعت “جمیعت علمائے اسلام“ کے نام سے تشکیل دی جس کے پہلے صدر آپ منتخب ہوئے۔
کشمیر کی جدوجہد آزادی میں بھی نمایاں حصہ لیا۔
——
یہ بھی پڑھیں : کلیم عثمانی اور سید فخرالدین بلے , داستانِ رفاقت
——
پاکستان کی قومی اسمبلی کے ارکان ہونے کے باعث آپ نے پاکستان کی دستور ساز اسمبلی میں قانون اسلامی کی تجویز “قرارداد مقاصد“ کے نام سے پاس کرائی۔
غرض یہ کہ تحریک پاکستان میں اگر ایک طرف دنیاوی حیثیت کے لوگوں کی خدمات ہیں تو دوسری طرف اتنی ہی علامہ شبیر احمد عثمانی کی دینی خدمات ہیں۔
13 دسمبر 1949ء بمطابق 22 صفرالمظفر 1369ھ کو گیارہ بج کر چالیس منٹ پر بروز منگل 64 سال کی عمر میں خالق حقیقی سے جاملے۔
——
علامہ شبیر احمد عثمانیؒ از ابو عمار زاہد الراشدی
——
علامہ شبیر احمد عثمانی مادر علمی دارالعلوم دیوبند کے وہ مایۂ ناز سپوت ہیں جنہوں نے علمی، دینی و سیاسی محاذ پر ملّت اسلامیہ کی بھرپور راہنمائی کی اور خداداد علمی و فکری صلاحیتوں سے ملّت اسلامیہ کو فیضیاب کیا۔ علامہ شبیر احمد عثمانیؒ ممتاز ماہر تعلیم مولانا فضل الرحمان کے فرزند تھے، آپ نے تعلیم شیخ الہند حضرت مولانا محمود حسنؒ جیسے عالم دین کے زیرسایہ مکمل کی۔ انہوں نے دیوبند میں ہی تدریس و تعلیم کا آغاز کیا حتٰی کہ ایک وقت میں دارالعلوم دیوبند کے صدر مہتمم کی حیثیت سے بھی فرائض سرانجام دیے۔
علامہ عثمانیؒ اپنے وقت کے بہت بڑے عالم دین، محدث، فقیہ، متکلم اور خطیب تھے۔ خطابت کے محاذ پر آپ کو مولانا محمد علی جوہرؒ، مولانا ابوالکلام آزادؒ اور امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ کے ساتھ اس وقت کے چار بڑے خطیبوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ علمی دنیا میں ہزاروں شاگردوں کے علاوہ قرآن کریم کی تفسیر اور صحیح مسلم پر ’’فتح الملہم‘‘ کے نام سے عظیم المرتبت شرح کے ساتھ ساتھ ڈیڑھ درجن سے زائد علمی تصانیف آپ کی یادگار ہیں جن پر آپ کے معاصرین نے آپ کو بجا طور پر متکلم اسلام اور مفسر اعظم کے القاب سے یاد کیا۔
مولانا عثمانیؒ کی علمی عظمت کا اندازہ ان کے سب سے بڑے معاصر اور سیاسی طور پر حریف حضرت مولانا سید حسین احمد مدنیؒ کے ان الفاظ سے کیا جا سکتا ہے جو انہوں نے مولانا عثمانیؒ کی وفات پر دارالعلوم دیوبند کے تعزیتی جلسہ میں کہے:
’’مولانا شبیر احمد عثمانیؒ کی شخصیت بے مثال تھی۔ علم و فضل میں آپ کا پایہ بلند تھا۔ ہندوستان کے چیدہ علماء میں سے تھے اور علمی طور پر ان کی شخصیت ’’مسلّمہ کل‘‘ تھی۔‘‘
اسی طرح مفتی اعظم ہند مولانا مفتی کفایت اللہ دہلویؒ نے اپنے بیان میں کہا:
’’مولانا شبیر احمد عثمانی دیوبندی کی وفات حسرتِ آیات ایک سانحہ عظمٰی اور داہیۂ کبرٰی ہے۔ مولانا مرحوم وقت کے بڑے عالم، پاکباز، محدّث، مفسر اور خوش بیان مقرر تھے۔‘‘
——
یہ بھی پڑھیں : کلیم عثمانی کا یومِ وفات
——
متذکرہ آرا سے جہاں مولانا شبیر احمد عثمانیؒ کی علمی عظمت واضح ہوتی ہے وہاں یہ احساس بھی اجاگر ہوتا ہے کہ سیاست میں ایک دوسرے سے شدید اختلاف رکھنے کے باوجود ان حضرات کو ایک دوسرے کی عظمت کے اعتراف میں کوئی تأمل نہ تھا۔ سیاست میں علامہ عثمانیؒ نے ابتدا میں ’’تحریک خلافت‘‘ اور ’’جمعیۃ علماء ہند‘‘ کے پلیٹ فارم پر تحریک آزادی کے لیے سرگرمی کے ساتھ کردار ادا کیا، لیکن قیام پاکستان کے مطالبہ کے بعد جمعیۃ علماء ہند کی طرف سے ہندوستان کو تقسیم کرنے کی مخالفت کی وجہ سے مولانا عثمانیؒ جمعیۃ علماء ہند سے علیحدہ ہو گئے، اور جب تحریک پاکستان کے حامی علماء نے ۱۹۴۵ء کے ہنگامہ خیز سال میں کلکتہ کے کل ہند اجتماع میں ’’جمعیۃ علماء اسلام‘‘ کے نام سے جماعت تشکیل دی تو اس کا صدر مولانا شبیر احمد عثمانیؒ کو چن لیا گیا۔ علامہ عثمانیؒ نے جمعیۃ علماء اسلام کے صدر کی حیثیت سے تحریک پاکستان میں سرگرم کردار ادا کیا اور ملّت اسلامیہ کو پاکستان کے حق میں ہموار کرنے کے لیے شبانہ روز انتھک محنت کی۔ ان کے اس کردار پر روزنامہ احسان نے یہ تبصرہ کیا تھا:
’’جب کانگریس کے نام پر ہندو امپریلزم کے پھیلتے ہوئے سیلاب کو روکنے کے لیے علامہ عثمانیؒ مسلم لیگ کے ہمنوا بنے تو عوامی اعتماد اور ہر دلعزیزی کی جس راہ کو طے کرنے میں دوسرے لیڈروں کو سالہا سال صحرا نوردی کرنی پڑی اسے آپ نے چند ہفتوں میں طے فرما لیا۔‘‘
ایک اور اخبار نے اس طرح اپنی رائے ظاہر کی:
’’اس حقیقت سے کوئی بھی انکار نہیں کر سکتا کہ قائد اعظم کی سیاسی بصیرت اور قانونی مہارت کے ساتھ ساتھ مولانا شبیر احمد عثمانیؒ کے تبحر علمی اور فیض روحانی نے مسلمانوں کو وہ قوت عمل بخشی کہ انہوں نے صدیوں کا راستہ چند روز میں طے کر لیا۔‘‘
تحریک پاکستان میں حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانویؒ کی حمایت اور علامہ شبیر احمد عثمانیؒ اور ان کے رفقاء مولانا ظفر احمد عثمانیؒ، مولانا اطہر علیؒ اور مولانا مفتی محمد شفیعؒ کی سرگرم جدوجہد تحریک پاکستان کا ایسا روشن باب ہے جس سے کوئی مؤرخ صرف نظر نہیں کر سکتا۔ اور ان حضرات کی خدمات کا سب سے بڑا عملی اعتراف یہ ہے کہ قیام پاکستان کے موقع پر پاکستان کا پرچم لہرانے کا شرف کراچی میں علامہ شبیر احمد عثمانیؒ اور ڈھاکہ میں مولانا ظفر احمد عثمانیؒ کو حاصل ہوا۔
——
یہ بھی پڑھیں :
——
قیام پاکستان کے بعد علامہ شبیر احمد عثمانیؒ نے ملک میں اسلامی نظام کے اس وعدہ کی تکمیل پر توجہ مبذول کر دی جس کی بنیاد پر انہوں نے تحریک پاکستان کی حمایت کو اپنا مشن بنا لیا تھا۔ چنانچہ ’’قراردادِ مقاصد‘‘ کی وہ تاریخی دستاویز آپ ہی کی مساعی سے دستور ساز اسمبلی نے منظور کی، جو رہتی دنیا تک پاکستان کی نظریاتی اساس کی حفاظت کرتی رہے گی۔ انہوں نے ان لوگوں کے عزائم کا ڈٹ کر مقابلہ کیا جو چاہتے تھے کہ پاکستان کو ایک لادینی ریاست بنا دیا جائے۔ چنانچہ علامہ عثمانیؒ نے اپنے عزم کا اظہار یوں کیا:
’’خواہ ارباب اقتدار ہمارے ساتھ کچھ ہی برتاؤ کریں ہم اس کوشش سے کبھی دستبردار نہیں ہو سکتے کہ مملکت پاکستان میں اسلام کا وہ دستور و آئین اور وہ نظام حکومت تشکیل پذیر ہو جس کی رو سے اس بات کا مؤثر انتظام کیا جائے کہ مسلم قوم اپنی زندگی اسلام کے انفرادی و اجتماعی تقاضوں اور اسلامی تعلیمات کے مطابق، جو قرآن و سنت سے ثابت ہوں، مرتب اور منظم کر سکیں۔‘‘ (بحوالہ تجلیاتِ عثمانی)
——
حوالہ جات
——
مجلہ: ہفت روزہ ترجمان اسلام، لاہور
تاریخ اشاعت: ۲۸ فروری ۱۹۸۰ء
یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے۔۔۔

حالیہ اشاعتیں

اشتہارات

اشتہارات