اردوئے معلیٰ

Search

آج معروف پاکستانی صحافی ، مصنف اور پروفیسر شریف المجاہد کا یومِ وفات ہے ۔

شریف المجاہد
(پیدائش: یکم جولائی 1926ء – وفات: 27 جنوری 2020ء)
——
پروفیسر شریف المجاہد یکم جولائی 1926 کو مدراس (جسے اب چنئی کہا جاتا ہے) ہندوستان میں پیدا ہوا۔ انہوں نے 1949 میں بی اے مکمل کیا اور 1951 میں مدراس یونیورسٹی سے ایم اے اسلامی تاریخ میں ماسٹرز کیا۔ 1952 میں، انہوں نے سٹینفورڈ یونیورسٹی، امریکہ سے صحافت میں ماسٹر کی ڈگری حاصل کی۔ انہوں نے کینیڈا کی میک گل یونیورسٹی سے ایم اے اسلامک اسٹڈیز کی ڈگری بھی حاصل کی ہے۔
پروفیسر شریف المجاہد تحریک پاکستان کے لیے بہت زیادہ آواز رکھتے تھے اور 1945 میں برصغیر کے مسلمانوں کے لیے ایک ملک بنانے کے لیے اخبارات و رسائل میں مضامین لکھ کر اپنے صحافتی کیریئر کا آغاز کیا۔
شریف المجاہد مختلف روزناموں اور ہفتہ وار مطبوعات و رسائل سے وابستہ رہے۔ وہ سول اور ملٹری گزٹ کے رکن بھی تھے اور مونٹریال اسٹار اور دیگر غیر ملکی اشاعتوں کے لیے بھی کام کرتے تھے۔
——
یہ بھی پڑھیں : ابو المجاہد زاہد کا یومِ پیدائش
——
16 اگست 1955 کو انہوں نے کے یو میں بطور لیکچرار شمولیت اختیار کی اور 29 ستمبر 1970 کو وہ ایسوسی ایٹ پروفیسر بن گئے۔ وہ 3 جولائی 1972 کو پروفیسر بنے۔ وفاقی حکومت نے انہیں 1976 میں قائداعظم اکیڈمی کا بانی ڈائریکٹر مقرر کیا۔ انہوں نے 1989 تک اکیڈمی کی خدمات انجام دیں۔
1981 میں انہیں بابائے قوم قائد اعظم محمد علی جناح پر ان کی کتاب پر صدارتی ایوارڈ سے نوازا گیا۔
انہوں نے چند کتابیں اور 20 سے زیادہ تحقیقی مقالے لکھے۔ ان کی کتاب ’انڈین سیکولرزم‘ کا عربی میں ترجمہ کیا گیا، جب کہ ان کی دیگر مطبوعات کا فرانسیسی، ہسپانوی اور دیگر زبانوں میں بھی ترجمہ ہوا۔ ان کی تحریروں نے انہیں عالمی سطح پر ایک مشہور سکالر بنا دیا۔
شریف المجاہد 27 جنوری 2020 ءکو وفات پا گئے۔ ان کے جمع کردہ دستاویزات سندھ آرکائیوز کے پاس ہیں۔
شعبہ ابلاغ عامہ کی چیئرپرسن اور فیکلٹی ممبران نے پروفیسر شریف المجاہد کے انتقال پر گہرے دکھ کا اظہار کیا اور ان کے لیے صبر جمیل کی دعا کی۔
——
پروفیسر شریف المجاہد ۔ تاریخ کا روشن باب
——
نامور ماہر تعلیم، مورخ اور تحریک پاکستان پر متعددکتابوں کے مصنف پروفیسرشریف المجاہد، علم وادب کا ایسا بہتا دریا، جس نے تمام زمانے کو سیراب کیا، آج ہم میں نہیں۔ تین نسلوں کی فکری تربیت اور ان میں علم وآگہی کی شمع روشن کرنے والے پروفیسر شریف المجاہد کی خدمات ہماری تاریخ کا روشن ترین باب ہیں۔ ان کے علمی وفنی کمالات اور محاسن اتنے زیادہ ہیں کہ انھیں اپنی ذات کے اندر ایک ادارہ اور دبستان بلاشبہ کہا جاسکتا ہے۔
ہندوستان اور پاکستان کے مختلف روزناموں اور ہفت روزہ جرائد کے عملہ ادارت میں شامل رہے۔ کراچی میں سول اینڈ ملٹری گزٹ کے نمایندے رہے۔ بعد ازاں مانٹریال اسٹار اور دیگر کئی پاکستانی وغیرہ ملکی اخبارات و جرائد کے نمایندے کی حیثیت سے کام کرتے رہے۔ 16اگست 1955 میں بحیثیت لیکچرار جامعہ کراچی سے وابستہ ہوئے اور اس کے شعبہ صحافت کو از ابتدا منظم کیا اور بانی شعبہ ابلاغ عامہ جامعہ کراچی کہلوائے۔
——
یہ بھی پڑھیں : لطف اللہ خان کا یومِ وفات
——
1949 میں مدراس یونیورسٹی سے بی آنرزکیا ،1951میں ایم اے اسلامک ہسٹری اور 1952میں اسٹینڈ فورڈ یونیورسٹی امریکا سے ایم اے جرنلزم جب کہ 1954میں میک گِل یونیورسٹی کینیڈا سے ایم اے اسلامک اسٹڈیزکی ڈگری حاصل کی۔
عملی صحافت کا آغاز 1945 میں تحریک پاکستان اور مسلمانوں کی سیاسی بیداری کے موضوع پر مضامین لکھنے سے کیا۔ براڈر سے یونیورسٹی اور بفلیوکی اسٹیٹ یونیورسٹی آف نیو یارک میں بحیثیت ’’وزیٹنگ ایشین پروفیسر‘‘ جنوبی ایشیا کے موضوع پر لیکچر دیے۔ 1976میں وفاقی وزارت تعلیم نے ’’قائداعظم اکیڈمی‘‘ کا بانی ڈائریکٹر مقرر کیا۔
ان کی تصانیف میں ’’قائداعظم، ایک موضوعاتی مطالعہ‘‘ کو 1981میں قائداعظم پر شایع ہونے والی کتب میں بہترین قرار دیتے ہوئے صدارتی ایوارڈ سے نوازا گیا ۔ ایک کتاب’’انڈین سیکولرازم‘‘ کا عربی ترجمہ شایع ہوا۔ آپ کے بعض مقالات عربی، فرانسیسی، ملادکی، پرتگیزی اور ہسپانوی زبانوں میں ترجمہ ہوئے، بین الاقوامی کانفرنسوں اور علاقائی سیمیناروںمیں ان گنت مقالات پیش کیے۔ ان کا اس دار فانی سے کوچ کرجانا اہل علم وادب کے لیے نقصان عظیم ہے۔
یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ