اردوئے معلیٰ

شوق لکھنوی کا یومِ پیدائش

آج شہرہ آفاق عشقیہ مثنوی "زہر عشق ” کے لیے معروف شاعر مرزا شوق لکھنوی کا یومِ پیدائش ہے

مرزا شوق لکھنوی
(پیدائش: 6 جنوری 1780ء – وفات: یکم جولائی 1871ء)
نوٹ : تاریخِ پیدائش اور تاریخِ وفات رشید حسن خان کی مرتب کردہ کتاب مثنویاتِ شوق سے لی گئی ہیں جو 1998 ء میں شائع ہوئی ۔
——
اردو مثنوی کی تاریخ بہت طویل ہے لیکن اس طویل تاریخ میں صرف چند مثنویاں ایسی ہیں جن کی آب و تاب پر ماہ و سال کا کوئی اثر نہ پڑسکا۔ دکنی مثنویوں سے صرف نظر کرتے ہوئے ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ میر کی مثنویاں ، میرحسن کی سحرالبیاں ، دیا شنکر نسیم کی ’’گلزار نسیم’‘ اور نواب مرزا شوق کی مثنوی ’’زہر عشق’‘ کو آج بھی حیرت انگیز مقبولیت حاصل ہے۔
مرزا شوق لکھنوی ، آتش کے شاگرد تھے ۔ اس زمانے میں پیدا ہوئے جب اودھ کی تہذیب اپنے عروج پر تھی۔ طویل عمر پائی۔ آٹھ والیان اودھ کا زمانہ دیکھا۔ رنگین مزاج تھے۔ والد نے انہیں عرصے تک درباروں سے محفوظ رکھا، واجد علی شاہ کے دربار سے وابستہ ہوئے تو ان کے شاعرانہ مزاج میں نکھار آگیا۔ لکھنؤ کی تہذیب کو آنکھوں دیکھا تھا۔ مزاج میں شوخی اور رنگینی تھی، زبان پر قدرت حاصل تھی۔ اسی سے اپنے کلام کو زیب و زینت عطا کی
——
یہ بھی پڑھیں : سراج اورنگ آبادی کا یومِ پیدائش
——
حکیم حسین خاں نام تھا، نواب مرزا عرفیت اور شوق تخلص تھا۔ حکیم نواب مرزا کے نام سے مشہور تھے۔ شوق کے والد کا نام آغا علی خان تھا۔ شوق کا پورا خاندان حکمت و طبابت میں مشہور تھا لیکن ان کے چچا مرزا علی خان لکھنؤ کے مشہور حکیموں میں سے تھے وہ شاہان اودھ کے دربار میں بڑے عہدے پر فائز تھے۔ بادشاہ کی طرف سے حکیم الملک کا خطاب بھی ملا تھا۔
شوق لکھنوی 1783ء میں لکھنؤ میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم گھر ہی پر مکمل کی۔ اس کے بعد اپنے عہد کے مشہور اساتذہ کے فیض صحبت سے مختلف علوم میں مہارت حاصل کی۔ خاندانی پیشہ طب اور حکمت پر بھی انہیں عبور حاصل تھا، شاہی طبیب تھے۔
جب شوق نے ہوش سنبھالا تو ہر طرف شعر و سخن کا چرچا تھا، شوق بھی اسی معاشرے کے فرد تھے، ماحول سے متاثر ہو کر شعر گوئی کی طرف راغب ہوئے، اپنے دور کے اساتذہ میں خواجہ آتش کا رنگ پسند آیا، انہیں کے شاگرد ہو گئے، ابتداء میں تقریباً ہر شاعر نے غزل ہی کو تختہ مشق بنایا، شوق نے بھی اپنی شاعری کے آغاز میں غزل ہی سے شوق کیا پھر مثنوی کی طرف متوجہ ہو گئے۔
شوق وجیہہ شخص تھے، کہتے ہیں جوانی میں شہر کے خوبصورت لوگوں میں ان کا شمار ہوتا تھا۔ 88سال کی عمر پائی، ٹھاٹ باٹ کی زندگی گزار۔ عیش پسند اور رنگین مزاج تھے اسی لئے ایک عرصہ تک ان کے بزرگوں نے انہیں دبار سے الگ ہی رکھا۔ واجد علی شاہ کے زمانے میں دربار سے وابستہ ہوئے۔ واجد علی شاہ، شوق کو بہت عزیز رکھتے تھے۔ پانچ سو روپئے تنخواہ مقرر کی تھی۔ انعامات و اکرام وہ الگ تھے۔ شوق ذی علم اور طبیب حاذق تھے۔ فنون لطیفہ کا بڑا شوق تھا۔
تذکرہ شوق کے مصنف عطا اللہ پالوی نے لکھا ہے کہ شوق نے 30جون 1871ء کو اٹھاسی سال کی عمر میں انتقال کیا۔ لکھنؤ کے ریلوے لائن کے نیچے قبرستان میں دفن ہیں ، جہاں میر تقی میر، انشاء، مصحفی وغیرہ کے بھی مدفن ہیں ۔
شوق لکھنوی نے اپنی شاعری کا آغاز غزل سے کیا۔ آتش کے شاگرد تھے۔ آتش خود بھی غزل کے شاعر تھے مگر شوق کو غزل سے زیادہ دلچسپی نہیں رہی۔ ان کی لکھی تین مثنویاں ہی ان کا سرمایہ حیات ہیں ۔ مثنویوں کے علاوہ انہوں نے اور کن کن اصناف میں طبع آزمائی کی اس کا صحیح علم نہ ہوسکا۔ تذکرہ شوق سے چند غزلوں ، متفرق اشعار اور ایک واسوخت کا پتہ چلتا ہے۔
——
یہ بھی پڑھیں : فقیر محمد فقیر کی برسی
——
شوق لکھنوی نے زیادہ غزلیں نہیں کہیں ، نہ ان کا کوئی مطبوعہ اور غیر مطبوعہ دیوان ملتا ہے۔ شوق کے ایک محقق عطا اللہ پالوی نے مختلف تذکروں سے اکٹھا کر کے غزلوں کے کچھ اشعار اپنی کتاب ’’تذکرہ شوق’‘ میں شامل کئے ہیں ۔ دبستان آتش کے مصنف شاہ عبدالسلام نے ان کی مثنویوں سے بھی غزل کے اشعار لیکر ان کی تعداد میں اضافہ کیا ہے۔ اس طرح شوق کا سرمایۂ غزل صرف 61 اشعار پر مشتمل ہو جاتا ہے۔ ان اشعار میں زبان و بیان کی خوبصورتی ہے، محاوروں کا استعمال ہے، انداز بیان میں شوخی اور سلاست ہے، ان کی غزلوں کے اکثر اشعار کسی مثنوی کے اشعار معلوم ہوتے ہیں جو غزل کے فارم میں لکھے گئے ہیں مثلاً
——
جلوے نہیں دیکھے جو تمہارے کئی دن سے
اندھیر ہے نزدیک ہمارے کئی دن سے
ہم جان گئے آنکھ ملاؤ نہ ملاؤ
بگڑے ہوئے تیور ہیں تمہارے کئی دن سے
——
شوق لکھنوی کے غزلیہ اشعار اپنے عہد کے مزاج سخن کی ترجمانی کرتے ہیں ۔ وہی معاملہ بندی، عشوہ و ناز، محبوب سے چھیڑ چھاڑ، شرارت و شوخی ان کے دریافت شدہ اشعار کے موضوعات ہیں ۔ کوئی خوبی اگر یہ تو وہ سلاست بیان ہے جیسے
——
خیر سے موسم شباب کٹا
چلو اچھا ہوا عذاب کٹا
——
چمن میں شب کو گھرا ابر نو بہار رہا
حضور آپ کا کیا کیا نہ انتظار رہا
——
حال دل اس لئے تحریر کیا ہے میں نے
کہ مبادا کہیں قاصد سے بیاں ہو کہ نہ ہو
——
میں تو بدنام ہوں ، وہ بھی کہیں بدنام نہ ہوں
قاصد اس واسطے لکھا نہیں ہے سرنامہ
——
وہ بھی ہے کوئی حُسن جسے صورت تصویر
حیراں نہ رہے دیکھ کے دوچار گھڑی آنکھ
——
شوق لکھنوی نے صرف ایک واسوخت کہی ہے۔ یہ واسوخت ’’مجموعہ واسوخت’‘ مرتبہ فدا علی عیش میں شامل یہ۔ اس کے اکتالیس بند ہیں ۔ یہ مسدس کے فارم میں لکھی گئی ہے۔ اس کا موضوع بھی وہی ہے جو واسوخت کا ہوا کرتا ہے۔ یہاں شوق نے پہلے پہلے اپنے محبوب کی تعریف کی ہے کہ وہ تو ابتداء میں بڑا معصوم تھا، بھلے ہی شوخ تھا، مزاج میں گرمی تھی مگر جفا کار، خونخوار، دل آزار اور طرار نہیں تھا۔ بات بات پر شرم آ جاتی تھی۔ آرائش و زیبائش کا اتنا خیال بھی نہ تھا اور اب یہ حال ہے :
——
اب تو ہے اور ہی کچھ چہرہ زیبا کی بہار
دن میں آرائش تن ہونے لگی سو سو بار
جنبش ابرو پہ چل جاتی ہے دم میں تلوار
گرتے ہیں پھول سے رخسار پہ عشاق ہزار
ڈاک کی طرح سے رخسار جو ضو دیتے ہیں
عکس پڑ پڑ کے گہر کان میں لو دیتے ہیں
——
یہ بھی پڑھیں : موہن لال رواں کا یوم پیدائش
——
شوق لکھنوی کی غزلوں میں وہ جولانی خیال نہیں جو اس واسوخت میں ہے۔ یہاں شوق کا رنگ کچھ زیادہ ہی نکھرا ہوا ہے۔ بندش کی چستی اور طبیعت کی روانی نمایاں ہے۔ زبان میں وہی سلامت ہے جو ان کی غزلوں میں ہے۔
نواب مرزا شوق لکھنوی کی مثنویوں کی تعداد کے بارے میں مختلف آرا ملتی ہیں ۔ امداد امام اثر نے کاشف الحقائق میں حالی نے مقدمہ شعر و شاعری میں ، لالہ سری رام نے خم خانہ جاوید میں ، شوق کی چار مثنویاں زہر عشق، فریب عشق، بہار عشق اور لذت عشق کا ذکر کیا ہے۔ دبستان لکھنؤ میں ڈاکٹر ابو اللیث صدیقی نے بھی شوق سے یہی چار مثنویاں منسوب کی ہیں ۔ تذکرہ شوق میں البتہ عطا اللہ پالوی نے شوق کی تین مثنویوں کا ذکر کیا ہے اور ثابت کیا ہے کہ شوق سے منسوب چوتھی مثنوی ’’لذت عشق’‘ شوق کے بھانجے آغا حسن نظم کی مثنوی ہے۔ دور حاضر کی تحقیق سے یہ بات ثابت ہو گئی ہے کہ انہوں نے صرف فریب عشق، بہار عشق اور زہر عشق تین ہی مثنویاں لکھی ہیں ۔
جس زمانے میں شوق لکھنوی نے آنکھ کھولی وہ زمانہ لکھنؤ میں سکون و آشتی کا زمانہ تھا۔ بادشاہ شاعروں کی سرپرستی کرتے تھے۔ انعام و اکرام سے نوازتے تھے۔ 1783 میں شوق آصف الدولہ کے زمانے میں پیدا ہوئے واجد علی شاہ کو لٹ لٹا کر مٹیا برج جاتے دیکھا۔ ان کی طبیعت میں بلا کی جولانی تھی۔ اپنے حُسن مزاج سے ہم عصروں میں بہت مقبول تھے، شاعری کا ذوق تھا مگر دیر میں نام کمایا، آتش کے شاگرد تھے۔ کچھ غزلیں واسوخت اور تین مثنویاں فریب عشق، بہار عشق اور زہر عشق لکھیں ۔ ان تینوں میں زہر عشق کو ادبی اعتبار سے اہم مقام حاصل ہے۔ شوق کی غزلوں کے صرف 61 اشعار ملتے ہیں جن سے ان کے عہد اور مزاج سخن کی عکاسی ہوتی ہے۔ شوق نے صرف ایک واسوخت لکھی۔ شوق نے اپنی غزلوں میں محبوب کے اتنے ناز نہیں اٹھائے جتنی جلی کٹی اپنے واسوخت میں اس کے لئے لکھی ہے۔ واسوخت میں شوق کا رنگ خاصا نکھرا ہوا ہے۔ فریب عشق شوق کی سب سے پہلی مثنوی ہے، جو گلزار نسیم کے ٹھیک آٹھ سال بعد لکھی گئی ہے۔ اس مثنوی میں لکھنؤ کی روز مرہ زندگی کا ایک تاریک پہلو بڑے رنگین انداز میں پیش کیا ہے۔ مقصد اصلاحی ہے۔ ’’بہار عشق’‘ شوق کی دوسری مثنوی ہے۔ 1847ء میں منظر عام پر آئی۔ شوق کے بعض نقادوں نے لکھا ہے کہ زبان محاورے اور روزمرہ کے حساب سے اس مثنوی کی بڑی اہمیت ہے۔ مثنوی زہر عشق شوق کی معرکۃ الآرا مثنوی ہے جسے اردو کی چند اہم مثنویوں کے ساتھ رکھا جاسکتا ہے۔ اس کی تعریف اور تنقیص میں بہت کچھ لکھا جا چکا ہے۔ اس کے باوجود متفقہ رائے ہے کہ یہ اردو کی ایک اہم مثنوی ہے جسے سحرالبیان اور گلزار نسیم کے ساتھ رکھا جاسکتا ہے۔
——
منتخب کلام
——
اے قلم لکھ تو پہلے بسم اللہ
بعدہٗ لا الٰہ الا للہ
——
بعد احمد کی مدح کر تحریر
کہ وہ دنیا میں ہے خدا کا وزیر
پایا آدم نے ہے اُسی سے شرف
تاجِ فرقِ پیمبرانِ سلف
سچ کے محبوبِ کبریا ہے وہ
خلق میں نائبِ خدا ہے وہ
——
مدح احمد زباں پہ کیونکر آئے
بحر کوزے میں کس طرح سے سمائے
ذات احمد کو کوئی کیا جانے
یا علی جانے یا خدا جانے
——
موت سے کس کو رستگاری ہے
آج وہ کل ہماری باری ہے
——
ثابت یہ کر رہا ہوں کہ رحمت شناس ہوں
ہر قسم کا گناہ کیے جا رہا ہوں میں
——
گئے جو عیش کے دن میں شباب کیا کرتا
لگا کے جان کو اپنی عذاب کیا کرتا
——
نظارہ کیا شوقؔ نے اس چشم کا جب سے
نرگس پہ پڑی آنکھ نہ آہو پہ پڑی آنکھ
——
پھر شوقؔ سے کیا اُس بت عیار سے بگڑی
ہوتے نہیں باہم جو اشارے کئی دن سے
——
خیر سے موسمِ شباب کٹا
چلو اچھا ہوا عذاب کٹا
——
چمن میں شب کو گھرا ابرِ نو بہار رہا
حضور ! آپ کا کیا کیا نہ انتظار رہا
——
آپ کی گر مہربانی ہو چکی
تو ہماری زندگانی ہو چکی
بیٹھ کر اُٹھے نہ کوئے یار سے
انتہائے ناتوانی ہو چکی
——
کہنے میں نہیں ہیں وہ ہمارے کئی دن سے
پھرتے ہیں انہیں غیر ابھارے کئی دن سے
جلوے نہیں دیکھے جو تمہارے کئی دن سے
اندھیرے ہیں نزدیک ہمارے کئی دن سے
بے صبح نکلتا نہیں وو رات کو گھر سے
خورشید کے انداز ہیں سارے کئی دن سے
ہم جان گئے آنکھ ملاؤ نہ ملاؤ
بگڑے ہوئے تیور ہیں تمہارے کئی دن سے
کس چاک گریباں کا کیا آپ نے ماتم
کپڑے بھی نہیں تم نے اتارے کئی دن سے
دیوانہ ہے سودائی ہے فرماتے ہیں اکثر
ان ناموں سے جاتے ہیں پکارے کئی دن سے
دل پھنس گیا ہے آپ کی زلفوں میں ہمارا
ہیں بندۂ بے دام تمہارے کئی دن سے
منہ گال پے رکھ دیتے ہیں سوتے میں چمٹ کر
کچھ کچھ تو حیا کم ہوئی بارے کئی دن سے
مہندی بھی ہے مسی بھی ہے لاکھا بھی ہے لب پر
کچھ رنگ ہیں بے رنگ تمہارے کئی دن سے
ڈر سے ترے کاکل کے نہیں چلتے ہیں رستہ
دم بند ہیں اس سانپ کے مارے کئی دن سے
آخر مری آہوں نے اثر اپنا دکھایا
گھبرائے ہوئے پھرتے ہو پیارے کئی دن سے
کس کشتۂ کاکل کا رکھا سوگ مری جاں
گیسو نہیں کیوں تم نے سنوارے کئی دن سے
پامال کرو گے کسی وارفتہ کو اپنے
اٹکھیلیاں ہیں چال میں پیارے کئی دن سے
اک شب مرے گھر آن کے مہمان رہے تھے
آئے نہیں اس شرم کے مارے کئی دن سے
پھر شوقؔ سے کیا اس بت عیار سے بگڑی
ہوتے نہیں باہم جو اشارے کئی دن سے
——
مثنوی ” زہرِ عشق ” کے کچھ اشعار
——
ایک قصہ غریب لکھتا ہوں
داستان عجیب لکھتا ہوں
تازہ اس طرح کی حکایت ہے
سننے والوں کو جس سے حیرت ہے
جس محلے میں تھا ہمارا گھر
وہیں رہتا تھا ایک سوداگر
مرد اشراف صاحب دولت
تاجروں میں کمال ذی عزت
غم نہ تھا کچھ فراغ بالی سے
تھا بہت خاندان عالی سے
ایک دختر تھی اس کی ماہ جبیںؔ
شادی اس کی نہیں ہوئی تھی کہیں
ثانی رکھتی نہ تھی وہ صورت میں
غیرت حور تھی حقیقت میں
سبز نخل گل جوانی تھا
حسن یوسف فقط کہانی تھا
اس سن و سال پر کمال خلیق
چال ڈھال انتہا کی نستعلیق
چشم بد دور وہ حسیں آنکھیں
رشک چشم غزال چیں آنکھیں
تھا جو ماں باپ کو نظر کا ڈر
آنکھ بھر کر نہ دیکھتے تھے ادھر
تھی زمانے میں بے عدیل و نظیر
خوش گلو، خوش جمال خوش تقریر
تھا نہ اس شہر میں جواب اس کا
حسن لاکھوں میں انتخاب اس کا
شعر گوئی سے ذوق رہتا تھا
لکھنے پڑھنے کا شوق رہتا تھا
رخ پہ گیسو کی لہر آفت تھی
جو ادا اس کی تھی قیامت تھی
تھا یہ اس گل کا جامہ زیب بدن
سادی پوشاک میں تھے سو جوبن
سارا گھر اس پہ رہتا تھا قرباں
روح گر ماں کی تھی تو باپ کی جاں
نور آنکھوں کا دل کا چین تھی وہ
راحت جان والدین تھی وہ
——
حوالہ جات
——
تحریر و اقتباسات : مجاور حسین رضوی از مثنوی زہر عشق اس کا جائزہ اور مرزا شوق، حیات و کارنامے
شعری انتخاب از کلیاتِ نواب مرزا شوق لکھنوی ، شائع شدہ 1978
یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ