اردوئے معلیٰ

آج پاکستان کے مشہور و معروف شاعر ، صحافی ، سیاست دان اور بلند پایہ خطیب آغا شورش کاشمیری کا یومِ پیدائش ہے۔

 آغا شورش کاشمیری
(پیدائش: 14 اگست 1917ء – وفات: 25 اکتوبر 1975ء)
——
آغا کاشمیری نے ایک متوسط گھرانے میں جنم لیا اور بمشکل میٹرک تک تعلیم حاصل کی زمانہ ’’زمیندار‘‘ پڑھنے کا معمول تھا۔جسکے نتیجے میں ان کا ادبی ذوق پختہ ہوگیا۔ اور مولانا ظفرعلی خان کے گرویدہوگئے۔صحافت اور ادب میں ان کا رنگ اختیار کیا۔انہوں نے امیر شعریت سیّدعطاءاللہ شاہ بخاری اور مولانا ابوالکلام آزاد سے بھی کسب فیض کیا۔
عملی زندگی تعارف وثناء: آغاز شورش کاشمیری نے اپنی عملی زندگی کا آغاز تحریک مسجد شہیدگنج کے عوامی اجتماعات میں خطابت اور صدارت سے کیااورخورد سالی عمر میں حسین آگاہی چوک ملتان میں مجلس احرار اسلام کے پلیٹ فارم سے انگریز کےخلاف ایک ذبردست تقریر کی جس کے نتیجہ میں انہیں پولیس کے بے پناہ تشدد اورپھر قیدو بند کا سامنا کرنا پڑا۔
آغا شورش کاشمیری نے 1949ء میں ہفت روزہ ’’چٹان‘‘ کا اجراء کیا اور اسے بام عروج تک پہنچایا۔
چٹان ایک زمانہ میں مقبول عام پرچہ تھا اور لوگ قطار میں کھڑے ہوکراسکو خریدا کرتے تھے۔
——
یہ بھی پڑھیں : حمید کاشمیری کا یوم وفات
——
حالات حاضرہ پر ایک نظم کتابوں پرتبصرہ مختلف ناموں سے ادبی کالم آغاصاحب خود لکھتے تھے۔ان کے علاوہ بھی کئی مضامین ان کے نام سے نکلتے تھے۔
تحریرو تقریر کے ذریعے غلط کار حکمران ،سیاست دانوں کو ٹوکنا،جعلی علماء اور پیروں کا محاسبہ کرنا قادیانیت کا تعاقب کرنا اور انکی سازشوں کو بے نقاب کرنا ان کادم آخر تک معمول رہا۔اس حق گوئی کے نتیجہ میں انہیں وقتا فوقتا جیل کا سامنا کرنا پڑاصدر ایوب جیسے آمر کو انہوں نے45 دن کی بھوک ہڑتال کرکے ہلا دیا آمر حکومت کو آخرکاران کے سامنے جھکنا پڑا اور انہیں رہا کرنا پڑا۔چٹان کا ڈیکلریشن کئی بار منسوخ کیا گیا لیکن انہوں نے کبھی بھی نفع نقصان کی پرواہ نہیں کی۔
آغاشورش کاشمیری نے عالمی حالات کی تبدیلی میں سامراجی کردار کا بھی خوب تجربہ کیا ہےان کی نظمیں قاری کو سوچنے پر مجبور کر دیتی ہیں۔
آغا شورش کاشمیری کویہ شرف بھی حاصل ہےکہ 1965ء کی جنگ کے دوران انہوں نے اعلی معیار کے بیسیوں جہادی ترانے تحریر کیے جوکہ ریڈیوپاکستان سے نشر ہوکر افواج پاکستان کے حوصلے بلند کرتے رہے۔ان جہادی ترانوں کا مجموعہ بعدمیں ’’الجہاد الجہاد،، کےنام سے شائع ہوا۔
آغاشورش کاشمیری صحافت اور سیاست میں بے ضمیر اور خوشمدی ٹولہ سے بہت بیزار رہتے تھے اس گروہ کو وہ طنزا انجمن ستائش باہمی کے نام سے پکارتے تھے شائدیہی وجہ ہے کہ اس انجمن ستائش باہمی کے ارکان نے آغا شورش کاشمیری سے خوفناک انتقام لیا۔ادب و صحافت کی تاریخ کی کتابیں آغا شورش کے تذکرہ سے اس طرح خالی ہیں جس طرح ضمیر سے خالی ہوتے ہیں۔آغاشورش نےقادیانیت کے خلاف محاذسنبھالا اور قادیانیوں کی سیاسی سازشوں کاوہ تن تنہا 1935ء1974ءتک قلع قمع کرنے میں مصروف ہے۔کبھی وہ حکمران کومتوجہ کرتےتوکبھی عوام الناس کو تحریروتقریرکے ذریعےبیدارکرتےتھے۔
آغاشورش کاشمیری وہ نوجوان ہےجولفظوں کی روانی جملوں کی ضوفشانی سےصاحب نظروفکرکےدلوں پرحکمرانی کرتا رہا۔شورش بولتا تھاکہ موتی رولتا تھا۔اس کی تحریروتقریرسن کربوڑھے جوان ہوجاتےتھے۔امیرشریعت سیدعطاءاللہ شاہ بخاری جیسےبلندپایہ عالم بھی شورش کی تقریرسن کر بےاختیارکہہ اٹھے کہ شورش کی تقریرسن کریوں محسوس ہوتاہےکہ بوڑھا عطاءاللہ آج جوان ہوگیاہے۔گویابخاری صاحب کوجناب شورش میں اپنی جوانی کاعکس محسوس ہوتا تھا۔
آغاشورش کاشمیری برصغیرکےمنفردخطیب ومقررتھےجواپنی تقریرسےعوام الناس کےدلوں کوجیت لیتےتھےاور انکی روحوں اورقلبوں کودین اسلام کی محبت میں پختہ کرکےقربانی وایثارجیسے قابل قدراصولوں کواپنالینےپرمجبورکررہےتھے۔
——
یہ بھی پڑھیں :  آغا حشر کاشمیری کا یوم پیدائش
——
آغا شورش کاشمیری ایک بےباک صحافی اورخطیب ہونےکے علاوہ عاشق رسول محب رسول بھی تھے۔آپ کی زندگی کےاس پہلوپرامام صحافت مجیدنظامی رقم طرازہیں۔’’خاتم النبیین کےکروڑوں غلام یہ گواہی دیں گےکہ اپنی ہزارہابشری کمزوری کےباوجودآغاشورش کاشمیری اللہ رب العزت کےحضورسرخروکھڑے ہونگےکیونکہ انہوں نےختم نبوت کاعلم اس وقت بھی سربلندرکھاجب وہ اس میدان میں تنہارہ گئے تھے۔قادیانیوں کے خلاف تحریک میں ان کی خدمات ہمیشہ زندہ وجاوید رہیں گی۔
وفات:
اسلام کامتوالا پاکستان کاشیدائی ،عقیدہ ختم نبوت کا محافظ جود فروشوں اور بے ضمیروں کانقاد25اکتوبر1975ءکواس دارفانی کوچھوڑکر خالق حقیقی سے جاملے۔
اناللہ اناالیہ رجعون۔
رہےگا نام اللہ کا۔باقی ہر شےفنا
——
نمونہ کلام
——
حمدِ باری تعالیٰ
——
کلیدِ حمد و ثنا لا الہ الا اللہ
خلاصہ ہائے دعا لا الہ الا اللہ
پہیلیاں ہیں فقیہوں کے دین کی شرحیں
قلندروں کی صدا لا الہ الا اللہ
حیات و موت کو آسان کر لیا میں نے
بنا کے راہ نما لا الہ الا اللہ
بہ پیشِ دبدبۂ خسروانِ تیغ بدست
زباں پہ آ ہی گیا لا الہ الا اللہ
ہمہ خیال فسانہ ، ہمہ دلیل غلط
بنائے ارض و سما لا الہ الا اللہ
نثار سیدِ کونین پر مرے ماں باپ
سبق دیا بھی تو کیا لا الہ الا اللہ
نظر پڑی جو کہیں بارگاہِ سلطانی
دماغ و دل نے کہا لا الہ الا اللہ
ڈرا رہے ہیں مجھے سرکشوں کے ہنگامے
مگر ہے میری نوا لا الہ الا اللہ
میں اس چمن میں غریب الدیار ہوں شورشؔ
مری دُعائے رسا لا الہ الا اللہ
——
کرم ایسا کیا اے مالکِ کون و مکاں تو نے
کہ ہم پر سہل کر دی گردشِ ہفت آسماں تو نے
اُٹھایا ایک لفظِ کُن سے یہ ہنگامۂ عالم
کیا اُمی لقب کو سرورِ کون و مکاں تو نے
ہمیں کونین میں خیر الامم کا مرتبہ بخشا
بنا کر اُمتِ پیغمبر ہر دو جہاں تو نے
ہم ایسے خاک کے ذروں کو مہر و ماہ کر ڈالا
بہ فیضِ خواجۂ کونین اے ربِ جہاں تو نے
بڑا اعزاز ہے ختم الرُسل کی چاکری بخشی
خلیل اللہ کے گھر کا بنا کر پاسباں تو نے
بڑھا کر ایک مشتِ خاک کو انساں بنا ڈالا
بنائے اس کی خاطر پھر زمین و آسماں تو نے
ہم ایسے ناتوانوں کو گلیمِ بوذری دے کر
بنایا اس جہانِ رنگ و بو کا رازداں تو نے
تیرے بندے شہنشاہوں کو خاطر میں نہیں لاتے
کیا دانشورانِ دیں کو بھی آتش بجاں تو نے
اب اس انعام سے بڑھ کر کوئی انعام کیا ہو گا
کیا شورشؔ کو حمد ونعت میں رطب اللساں تو نے
——
نعتِ رسولِ مقبول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم
——
ہم پہ ہو تیری رحمت جَم جَم صلی اللہ علیک و سلم
تیرے ثنا خوان عالم عالم صلی اللہ علیک و سلم
ہم ہیں تیرے نام کے لیوا اے دھرتی کے پانی دیوا
یہ دھرتی ہے برہم برہم صلی اللہ علیک و سلم
تیری رسالت عالم عالم تیری نبوت خاتم خاتم
تیری جلالت پرچم پرچم صلی اللہ علیک و سلم
دیکھ تری اُمت کی نبضیں ڈوب چکی ہیں ڈوب رہی ہیں
دھیرے دھیرے مدھم مدھم صلی اللہ علیک و سلم
دیکھ صدف سے موتی ٹپکے دیکھ حیا کے ساغر چھلکے
سب کی آنکھیں پُرنم پُرنم صلی اللہ علیک و سلم
قریہ قریہ بستی بستی دیکھ مجھے میں دیکھ رہا ہوں
نوحہ ، نوحہ ، ماتم ماتم صلی اللہ علیک و سلم
اے آقا ! اے سب کے آقا ! ارض و سما ہیں زخمی زخمی
ان زخموں پہ مرہم مرہم صلی اللہ علیک و سلم
——
عزمِ سفر
——
نقد جاں لے کے چلو دیدۂ تر لے کے چلو
گھر سے نکلو تو یہی رختِ سفر لے کے چلو
سامنے سرورِ کونین کا دروازہ ہے
کوئی تو بات بہ عنوانِ دگر لے کے چلو
نعت گوئی کی تمنا ہے تو اس کوچہ میں
رومیؔ و جامیؔ و قدسیؔ کا اثر لے کے چلو
حُسن کہتا ہے وہ رسمِ ادب مانع ہے
شوق کہتا ہے عقیدت کے ثمر لے کے چلو
دن نکل آئے گا دامانِ مہ و انجم سے
رات کٹ جائے گی فرمانِ سحر لے کے چلو
منزلِ دوست تمہیں عز و شرف بخشے گی
دامنوں میں دُرِ مقصودِ سفر لے کے چلو
ہم نوائی کو ملائک کے جنود آئیں گے
پیشوائی کے لیے شمس و قمر لے کے چلو
شورشؔ اُس رحمتِ کونین کے دروازے پر
آ ہی پہنچے ہو تو بخشش کی خبر لے کے چلو
——
ہزار شکر ملی ، رہزنوں سے راہِ نجات
ہزار حیف کوئی میرِ کارواں نہ رہا
——
چہرۂ شب کی سیاہی سے پتہ چلتا ہے
لوگ ہنگامۂ پیکار تک آ پہنچے ہیں
——
وہ دولتِ جنوں کہ زمانے سے اٹھ گئی
اُس دولتِ جنوں کو سنبھالے ہوئے ہیں ہم
——
وائے برحالِ عزیزاں ، ہائے خوئے دوستاں
دربدر خونِ رگِ جاں بیچتا پھرتا ہوں میں
——
ہم نے اس وقت سیاست میں قدم رکھا تھا
جب سیاست کا صلہ آہنی زنجیریں تھیں
سرفروشوں کے لیے دار و رسن قائم تھے
خان زادوں کے لیے مفت کی جاگیریں تھیں
——
زر پرستوں کو ہے انکار ، تو انکار کریں
میرا ایماں ہے غریبوں کا خدا آج بھی ہے
——
پایا ہے رہبروں کی سیاست کو بے نقاب
شورشؔ خدا کا شکر ہے رہبر نہیں ہوں میں
——
شعری انتخاب از چہ قلندرانہ گفتم ، گفتنی و ناگفتنی
مصنف : شورش کاشمیری
یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے۔۔۔

حالیہ اشاعتیں

اشتہارات

اشتہارات