اردوئے معلیٰ

آج میانوالی سے تعلق رکھنے والے معروف شاعر اور صحافی سید نصیر شاہ کا یوم وفات ہے

سید نصیر شاہ(پیدائش: 10 جون 1932ء – وفات: 20 دسمبر 2012ء)
——
میانوالی سے تعلق رکھنے والے معروف شاعر، استاذ، محقق، اعلی پائے کے نثر نگار اور گراں مایہ کتب کے خالق جناب سید نصیر شاہ 10 جون 1932 کو پیدا ہوئے
سید نصیر شاہ نے اسلام اور جنسیات، چند شامیں فکر اقبال کے ساتھ اور اس جیسی اعلی سطحی تحقیقی کتابیں تخلیق کیں۔ کئی شعرا کے استاذ تھے۔ فارسی، عربی اور اردو زبانوں پر غیر معمولی دسترس حاصل تھی۔کونین فروش کے قلمی نام سے مزاحیہ کالم لکھے… ان کے کالم کا مستقل نام”کڑوے گھونٹ“ تھا…..
”سید نصیر شاہ بیک وقت ایک کامیاب استاد, باشعور سیاسی کارکن,حق گو وہ بے باک صحافی,منفرد تاریخ نگار و تنقید نگار, اعلیٰ پائے کے شاعر اور نثر نگار, بہترین افسانہ نگار‘ سچے اور کھرے محقق اور انسان دوست رویوں کے حامل شخص تھے.
آپ کا انتقال 20 دسمبر 2012 کو میانوالی میں ہوا ۔ انہیں ان کے آبائی شہر میانوالی میں سپرد خاک کیا گیا۔
——
آسمانِ ادب کا شہابِ ثاقب ، سید نصیر شاہ از انوار حسین حقی
——
سید نصیر شاہ18 دسمبر کی شام اپنے خالقِ حقیقی سے جا ملے۔اردو ادب کا ایک عہد تمام ہوگیا۔سید نصیر شاہ اردو ادب و صحافت کے ایک معتبر حوالے کے طور پر ہمیشہ تاریخ میں زندہ رہیں گے۔ مرحوم کی علمی ادبی صلاحیتوں کا ایک زمانہ معترف رہاہے۔اُن کی شخصیت کے کئی رنگ اوراُنکی کتابِ زیست کے کئی پرت تھے۔ ایک دینی سکالر، مورخ ، افسانہ نگار، کہانی کار، شاعر ادیب سبھی کچھ ایک مکمل رنگ اور آہنگ کے ساتھ اُنکی ذات کا حصہ تھا جو اب تاریخ میں ان کے دبستان کا خاصہ بن کر اُن کی لازوال خدمات پر ہمیشہ گواہی دے گا۔اردو ادب نے بڑے بڑے نام پیدا کئے جیسے غالب پر تبصرے کے ذیل میں اسکولوں ، کالجوں اور یونیورسٹی کے طلبہ تک رشید احمد صدیقی کے حوالے سے امتحانی کاپیوں میں لکھتے چلے آ رہے ہیں کہ ’’مجھ سے اگر پوچھا جائے کہ ہندوستان کو مغلیہ سلطنت نے کیا دیا تو میں بے تکلف یہ تین نام لوں گا ’’ غالب اردو اور تاج محل‘‘
——
یہ بھی پڑھیں : نصیر الدین نصیر کا یوم ولادت
——
اسی طرح اگر کوئی مجھ سے پوچھے کہ ضلع میانوالی کی ایک سوبارہ سالہ ز ندگی نے ہمیں کیا دیا ہے تو میں بلا کسی توقف کے تین شعبوں کے حوالے سے تین نام لوں گا ’’سیاست میں مولانا عبد الستار خان نیازیؒ ، سماجی خدمت میں عمران خان اور اردو ادب میں سید نصیر شاہ۔سید نصیر شاہ مرحوم دس جون 1934 ء کو پیدا ہوئے۔اُنہوں نے شاعری، افسانہ نگاری کے ساتھ صحافت میں بھی بھر پور خدمات سر انجام دیں۔وہ مختلف قومی اخبارات کے لئے کالم نگاری بھی کرتے رہے۔میانوالی سے شائع ہونے والے المجاہدمیں لکھتے رہے انہوں نے 1958 ء میں ماہانہ ادبی میگزین’’ سوز ساز‘‘ کا اجراء بھی کیا تھا۔ اور ہفت روزہ شعاعِ مہر کے ایڈیٹر بھی رہے۔روزنامہ امروز، میانوالی گزٹ ، نوائے فاران , صدائے میانوالی اور دیگر قومی اور مقامی اخبارات میں ’’ کونین فروش‘‘ کے قلمی نام سے کالم نگاری کے جوہر دکھائے۔ ماہنامہ ’’ نیا زمانہ ‘‘ میں یادیں اور یادگاریں‘‘ کے نام سے تاریخ اور مشاہدات کو قرطاس پر محفوظ کرنے کا کٹھن کام بھی سر انجام دیا۔ان کی تصا نیف میں مجموعہ تفاسیہ ابو مسلم اصفہانی،سلطان غزنوی،عورت کی سر براہی، عورت کا مقام اسلام کی نظر میں،موسیقی کی شرعی حیثیت، کیکر دے پھل شامل ہیں۔2005 ء میں ایسوسی ایشن فار دی ویلفےئر آف دی برٹش پاکستانیز لندن کی دعوت پر انہوں نے’’ اسلام اور دہشت گردی ‘‘ کے موضوع پر ایک تحقیقی کتاب لکھی۔ جس کا انگریزی ترجمہ پروفیسر منور علی ملک نے کیا۔اسی ایسوسی ایشن کی دعوت پر آپ نے ’’ اسلام اور انسان کے جنسی مسائل‘‘ کے موضوع پر بھی کتاب لکھی ۔ہمیں سن لو ( شاعری)،میں میرا دل اور شام( شاعری)۔چند شامیں فکرِ اقبال کے ساتھ( نثر)گھر سے نکلے تو (شاعری) مہتاب رتوں میں آوارگی( خود نوشت)برادرم تنویر خالد(ڈپٹی ڈائریکٹر انفارمیشن )کی کاوشوں سے شائع ہوئیں۔سید نصیر شاہ مرحوم کا مطالعہ بہت وسیع تھا انہوں نے بشری حوالے سے دنیا کی عمرانی اور تمدنی تاریخ کا مطالعہ کیا۔علاوہ ازیں دنیا کے معاشی نظام ہائے فکر بھی ان کے مطالعے کے خاص موضوعات میں شامل تھے۔سید نصیر شاہ کی ایک پہچان عربی کے معروف ادیب کے طور پر بھی ہے۔جہاں انکی نگارشات اردو کے معروف علمی ماہناموں’’ طلوع اسلام‘‘ فکرو نظر،اور ثقافت کی زینت بنتی رہی ہیں وہاں عربی کے ممتاز جرائد’’ الاسلام‘‘، ’’ الدین‘‘( مصر)۔ الخطاب( دمشق) او ر البعث الاسلامی ( دہلی) میں بھی ان کے فکر انگیز مقالات شائع ہوتے رہے ۔انہوں نے علامہ شبلی نعمانی کی تحریر کردہ سیرت النبی کی جلد اول کا عربی ترجمہ بھی کیا۔
——
یہ بھی پڑھیں : پیر سید نصیر الدین نصیر چشتی
——
سید نصیر شاہ مرحوم اپنی شخصیت کے حوالے سے ایک تحریک کا نام بھی تھے۔میانوالی کے ادبی ماحول پر انکی شخصیت واضح طور پرہمیشہ چھائی رہی اور رہے گی۔ممتاز مفتی کہیں لکھتے ہیں کہ ’’ کسی کو تخلیق کار بنانے کے لئے قدرت کو بڑے جتن کرنے پڑتے ہیں‘‘۔ اس حقیقت سے بھی انکار نہیں کیا جا سکتا کہ ’’ وہ لوگ جو آسودہ خاطر ہوں، تنگی ، کمی، کجی،حرماں نصیبی،تہی دامانی،مفلوک الحالی ایسے دیگر مترادفات کی ’’نعماء ‘‘ ان کی ہم سفر نہ ہوں تو یہ طے ہے کہ فنونِ لطیفہ کی اپسرائیں ان کے من آنگن میں رَقصاں نہیں ہو سکتیں،یہی سبب ہے کہ صاحب ثروت ارباب بالعموم اعلیٰ تخلیقی اوصاف سے متصف دکھائی نہیں دیتے۔سچ پوچھےئے مجھے تو محرومی سے بڑھ کر تخلیقیت کا خزانہ اور کہیں نظر نہیں آسکا۔کیونکہ اضطراب، بے کلی، بے چینی،گھٹن ایسے اثمار نارسائی کے شجر کی شاخوں پر ہی جھومتے ملیں گے۔پُر شکم کی تقدیر میں بجز اضغاث الاحلام کے اور کیا ہو سکتا ہے۔جمیل احمد عدیل کیا خوبصورت بات کہتے ہیں کہ ’’اگر پریم چند نے اپنے عہدِ طفولیت میں بھوک کی اذیت نہ سہی ہوتی تو ’’کفن ‘‘ ایسا شاہکار اردو کے افسانوی ادب کو بھلا کب ارمغان کر سکتے تھے۔‘‘ سید نصیر شاہ مرحوم کی ساری زندگی اس پر گواہی دیتی نظر آتی ہے کہ ’’فن کی دیوی عشرت پر نہیں عسرت پرسو جان سے فدا ہوتی ہے ‘‘ وہ ایکایسے درویش صفت ادیبِ بے بدل تھے۔جو کبھی بھی شخصیات کے سحر میں مبتلا نہیں ہوئے۔ایسی ہی شخصیات حق اور سچ کی راہ کی راہی ہوتی ہیں۔اور ایسے لوگ ان تمام چیزوں کو کھو دیتے ہیں جنہیں دنیا کے دوسرے لوگ عزیز رکھتے ہیں۔یہی وہ راستہ ہے جو کسی طرف سے ’’ پھانسی گھاٹ‘‘ کو جاتا ہے تو کسی جانب سے ’’کربلا ‘‘ تک یا زہر کے پیالے تک۔۔۔۔ایسے ہی قلمکار اپنی تحریروں اور تخلیق سے مطمئن ہوتے ہیں۔انہوں نے جس چیز کو حق و صدق سمجھا برملا اظہار کر دیا۔اور کبھی اپنی تحریر کو دروغ باف کا حصہ نہیں بنایا۔شاہ صاحب علم و ادب کے حوالے سے میا
نوالی کا دامن بھر کر اس دنیا سے چلے گئے ہیں ۔تاریخ جب ایسے کرداروں کی کہانی لکھے گی جو اس مادہ پرست دنیا میں کسی اور سیارے کی مخلوق نظر آتے ہیں۔ تو اس کہانی میں سید نصیر شاہ کا حوالہ ضرور آئے گا۔۔۔ اس بے مثال کردار کی گواہی آنے والے ہر زمانے میں اس کی علمی ، ادبی اور صحافتی خدمات پیش کرتی رہیں گی۔
——
یہ بھی پڑھیں : نصیر الدین نصیر کا یوم وصال
——
منتخب کلام
——
قسمت کے بازار سے بس اک چیز ہی تو لے سکتے تھے
تم نے تاج اٹھایا میں نے غالبؔ کا دیوان لیا
——
خدا نے دان گیروں کے پروں پر بھی نفاست سے
کسی مرموز خط میں کچھ لکھا میں پڑھ نہیں سکتا
——
خود زندگی بھی کربِ جہنم سے کم نہ تھی
اور اس پہ پھر شعور کا دوہرا عذاب بھی
——
طے کہاں ہوتی مسافت ، تھا بڑا اندھا سفر
زندگی بھر دائرہ در دائرہ چلتے رہے
——
لاکھ شعاعیں بانٹے لیکن سورج کا نقصان نہیں
میرے خواب ثمر ہیں تازہ کوئی جھولی بھرنے آئے
——
تیرا گاؤں میرا قرطاسِ مقدر ہی نہ ہو
تیری گلیاں مرے ہاتھوں کی لکیروں کی طرح
——
آؤ میرے شہر کے لوگو ! اپنی اپنی بات کریں
پیت کی مات کے قصے چھیڑیں پاگل دل کی بات کریں
کالی رات کا جزو بنے تو کتنے جیون بیت گئے
صبحوں کے سندیسے لائیں بھولی بسری بات کریں
دیکھو پھولِ سماعت کوئی لفظوں سے مجروح نہ ہو
دھرتی کے دکھ گھول کے پی لیں ، کوئی پیاری بات کریں
کوئی تو آواز ہو چاہے سرگوشی کا لہجہ ہو
اب توڑیں برفاب خموشی ، کھل کے کوئی بات کریں
جس کی خاطر دار و رسن کے لاکھ حوالے بکھرے ہیں
جو ہونٹوں سے روٹھ گئی وہ ناگفتہ سی بات کریں
میرے دیس کی کوملتا کو کس کی نظریں چاٹ گئیں
کوئی مداوا اس کا سوچیں ، کرنے والی بات کریں
——
میں نہیں جانتا میں کیا مانگوں ؟
لفظ کیسے ہوں ، کس طرح مانگوں ؟
مانگ لوں گُل تو خار رہ جائیں
غیر کا کس لیے بُرا مانگوں
میرا اور اک دور رس بھی نہیں
عین ممکن ہے ناروا مانگوں
کیا کمی ہے ترے اجالوں کی
میں تو بینائیاں سدا مانگوں
——
نگاہِ کشف پراسرار نامعلوم کھلتے ہیں
وہ جب بھی ملتفت ہوں دفعتاََ مقسوم کھلتے ہیں
الوہی سوچ کا معجز نما سا شعر ہو تم بھی
میں جتنی بار پڑھتا ہوں نئے مفہوم کھلتے ہیں
فنا کیا ؟ آںکھ کو جرأت نہیں آنسو گرانے کی
تمہارا حوصلہ پا کر لبِ مظلوم کھلتے ہیں
بڑے محجوب سے شہرِ بکا میں لوگ رہتے ہیں
مگر شہرِ دعا میں آ کے سب مغموم کھلتے ہیں
تمہارے بابِ رحمت پر جو دستک گونج اٹھتی ہے
اچانک عقدہ ہائے امتِ مرحوم کھلتے ہیں
——
مجھے تو خود سے ملنا تھا
——
وہ خائن وقت کی کچھ بے دیانت ساعتیں ہوں گی
مرے اندر کا میں محبوس کر ڈالا گیا پرہول زنداں میں
بڑا ہی لاابالی وقت تھا
جو ہو گیا اک مشتعل بچہ
درِ زنداں مقفل کر کے چابی قلزمِ لولاک میں پھینکی
کہیں بھی وسعتِ افلاک میں پھینکی
وہ چابی اب نہیں ملتی
مقفل در نہیں کھلتا
مجھے تو خود سے ملنا تھا
میں کب تک وسعتِ افلاک چھانوں گا ؟
کہاں تک دھند میں کھوئے ہوئے آفاق چھانوں گا ؟
——
شعری انتخاب از ہمیں سُن لو ، مصنف سید نصیر شاہ
متفرق صفحات
یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے۔۔۔

حالیہ اشاعتیں

اشتہارات

اشتہارات