نصیر الدین نصیر کا یوم ولادت

چراغِ گولڑہ ، نابغہِ روزگار ، محققِ عصر ، صوفی شاعرِ ہفت زباِں ، وارثِ علومِ سیدنا مہرِ علی (رح) حضور نصیرِ ملت پیر سید نصیر الدین نصیر گیلانی رحمتہ اللہ علیہ کا یوم ولادت

پیر سید نصیر الدین نصیر گیلانی رحمتہ اللہ علیہیومِ ولادت : نصیر الدین نصیر گیلانی صاحب
14 نومبر 1949 ، 22 محرم 1369 ہجری ،
یومِ وصال :
13 فروری 2009 ، 18 صفر المظفر 1430 ہجری ،
شجرہِ نسب پیر سید نصیرالدین نصیرگیلانی رحمتہ اللہ علیہ
ابنِ سیدمعین الدین ابنِ سید محی الدین ابنِ
سید مہرعلی شاہ ابنِ سیدنذر دین شاہ ابنِ
سید غلام شاہ ابنِ سید روشن دین شاہ ابنِ
سید عبدالرحمٰن نوری ابنِ سید عنایت اللہ ابنِ
سید غیاث علی ابنِ سید فتح اللہ ابنِ
سید اسد اللہ ابنِ سید فخرالدین ابنِ
سیداحسان ابنِ سید درگاہی ابنِ
سید جمال علی ابنِ سید ابی محمد ابنِ
سید میراں محمد کلاں ابنِ سید میراں شاہ قادر قمیص ساڈھواری ابنِ
سید ابی الحیات ابنِ سید تاج الدین ابنِ
سید بہاؤالدین ابنِ سید جلال الدین ابنِ
سید داؤد سید ابنِ علی ابنِ
سید ابی صالح خصرا ابنِ سید تاج الدین ابوبکر رزاق ابنِ
سیدناغوث الاعظم میراں محی الدین ابی محمد عبدالقادر جیلانی ابنِ
سید ابو صالح ابنِ سید عبداللہ جیلی ابنِ
سید یحیٰی زاہد ابنِ سید شمس الدین زکریا ابنِ
سید ابوبکر داؤد ابنِ سید موسٰی ثانی ابنِ
سید عبداللہ صالح ابنِ سیدموسٰی الجون ابنِ
سید عبد اللہ محض ابنِ سید حسن مثنٰی ابنِ
سید امام حسن المجتبٰی ابن
سید علی کرم اللہ وجہہ الکریم (رضی اللہ عنہم اجمعین)
———-
پیر سید نصیر الدین نصیر گیلانی صاحب پیر غلام معین الدین (المعروف بڑے لالہ جی) کے فرزند ارجمند اور پير مہر علی شاہ کے پڑپوتے تھے۔ آپ کی ولادت 14 نومبر 1949ء میں گولڑه شریف میں ہوئی۔
۔۔۔۔۔۔
یہ بھی پڑھیں : پیر سید نصیر الدین نصیر چشتی
۔۔۔۔۔۔
نصیر الدین نصیر گیلانی صاحب گولڑہ شریف کی درگاہ کے سجادہ نشین تھے۔۔
نصیر الدین نصیر گیلانی صاحب کا انتقال 13 فروری 2009ء کو ہوا، آپ کا مزار گولڑه شریف میں مرجع خلائق ہے
———-
نصیر الدین نصیر گیلانی صاحب نے اپنی کتاب پیمان شب میں تعارف یوں کروایا ہے
———-
اس کتاب کے شروع میں پیر صاحب نے اپنا تعارف یوں کروایا ہے : “ مجھے ذوقِ علم و ادب ورثے میں ملا ۔ پردادا حضرت پیر مہر علی شاہ قدس سرہء ، جد امجد حضرت سید محی الدین المعروف ( بابوجی) اور والد ماجد قبلہ پیر سید غلام معین الدین صاحب ، المتخلص مشتاق علیہم الرحمہ کا شعر و سخن سے لگاو، باخبر احباب کو اچھی طرح معلوم ہے۔ اس موروثی فیض کے علاوہ بھی یہ سمجھتا ہوں کہ اکا بر ِ امت اور اساتذہ ء سخن مولانا رومی رح، مولانا جامی رح، خواجہ حافظ شیرازی رح، شیخ سعدی شیرازی رح، طوطی ء ہند امیر خسرو رح اور میرزا عبدالقادر بیدل رح ایسے نابغہ روزگار نفوس کے کلام نے میرے توسنِ فکر کے لیے مہمیز کا کام کیا“
اس کتاب کے شروع میں احمد ندیم قاسمی مرحوم نے اپنے مضمون میں یہ لکھا کہ “ سید نصیرالدین نصیر اردو اور فارسی کے ایک نوجوان شاعر ہیں اور دونوں زبانوں میں انکی سخن وری نے پورے ملک میں دھوم مچا رکھی ہے “
اس مضمون کے علاوہ سید رئیس امروہوی مرحوم نے اپنی تقریظ میں یہ لکھا کہ:
“ سید نصیرالدین نصیر ایک ممتاز ترین روحانی خانوادے کے چشم وچراغ ہیں ۔ انکی قلندری اور درویشی میں کسے شبہ ہوسکتا ہے۔ صاحبزادہ صاحب کی فارسی رباعیات کا مطالعہ کریں تو عالم ہی دوسرا نظر آتا ہے ۔ ایسامحسوس ہوتا ہے کہ انکے قلب میں مرزا عبدالقادر بیدل کی آواز گونج رہی ہے اوران کے لہجے میں بیدل ہی بول رہے ہیں“
رئیس امروہوی نے صاحبزادہ صاحب کی اردو شاعری پر کافی معلومات افزا تبصرہ لکھا اور مثال کے طور پر صاحبزادہ صاحب کے یہ اشعار پیش کیے :
آغوشِ جنو ں میں جارہا ہوں
ہر غم سے نجات پارہا ہوں
وہ ناو مجھی کو لے کے ڈوبی
جس ناو کا ناخدا رہا ہوں
———-
جان پیاری تھی ، مگر جان سے پیارے تم تھے
جو کہا تم نے وہ مانا گیا ، ٹالا نہ گیا
صرف اک بار نظر بھر کے انھیں دیکھا تھا
زندگی بھر مری آنکھوں کا اجالا نہ گیا
———-
دل تمہاری طرف سے صاف کیا
جاو ہم نے تمہیں معاف کیا
جان کر ان سے بے رخی برتی
ہم نے اپنا حساب صاف کیا
۔۔۔۔۔۔
یہ بھی پڑھیں : عشق کو حسن کے انداز سکھا لوں تو چلوں
۔۔۔۔۔۔
راہوں سے تری گزر رہا ہوں
انگاروں پہ پاوں دھر رہا ہوں
ہے مدِّ نظر ترا تصوّر
آئینے سے بات کررہا ہوں
———-
ان سے ہر وقت مری آنکھ لڑی رہتی ہے
کیا لڑاکا ہے کہ لڑنے پہ اڑی رہتی ہے
جو کبھی خونِ شہیداں سے حنا بند رہے
اب انہیں پھول سے ہاتھوں میں چھڑی رہتی ہے
———-
لاکھ ڈھونڈا مگر نہیں ملتا
کوئی بھی ہم سفر نہیں ملتا
ہ بھی اس سے کبھی نہیں ملتے
کوئی ہم سے اگر نہیں ملتا
———-
اس کو چل پھر کے ڈھونڈنے والو
وہ سرِ رہگذر نہیں ملتا
———-
جگمگانے لگی بام و در چاندنی
ہر طرف آرہی ہے نظر چاندنی
ان کے جلووں کی تشریح ممکن نہیں
سر بہ سر نور ہیں سر بہ سر چاندنی
———-
بلا کی نامہ ء اعمال پر ہے گل کاری
کسی کی ہوگی عبارت ، مرا قلم تو نہیں
———-
یہ بزمِ بتا ں ہے نظارو ں کی دنیا
اداوں کی بستی اشاروں کی دنیا
ہمیں ہے فقیری میں شاہی میسّر
کہاں ہم ، کہا ں تاجداروں کی دنیا
———-
تصانیف و تالیفات
———-
آپ ؒ کی 36 (چھتیس) سے زائد تصانیف ہیں جن میں چند ایک کے نام درج ذیل ہیں:
آغوشِ حیرت(رباعیات فارسی)
پیمانِ شب (غزلیات اردو)
دیں ہمہ اوست (عربی، فارسی، اردو، پنجابی نعوت )
امام ابوحنیفہ اور ان کا طرزِ استدلال (اردو مقالہ)
نام و نسب(در باره سیادت پیران پیر )
فیضِ نسبت (عربی، فارسی، اردو، پنجابی مناقب)
رنگِ نظام ( رباعیات اردو )
عرشِ ناز (کلام در زبانهائ فارسی و اردو و پوربی و پنجابی و سرائیکی )
دستِ نظر ( غزلیات اردو)
راہ و رسمِ منزل ہا (تصوف و مسائل عصری)
تضمینات بر کلام حضرت رضا بریلوی
قرآنِ مجید کے آدابِ تلاوت
لفظ اللہ کی تحقیق
اسلام میں شاعری کی حیثیت
مسلمانوں کے عروج و زوال کے اسباب
پاکستان میں زلزلے کی تباہ کاریاں، اسباب اور تجاویز
فتوی نویسی کے آداب
موازنہ علم و کرامت
کیا ابلیس عالم تھا؟
———-
نعتیہ کلام
———-
تھی جس کے مقدر میں گدائی ترے در کی
قدرت نے اسے راہ دکھائی ترے در کی
ہر وقت ہے اب جلوہ نمائی ترے در کی
تصویر ہی دل میں اتر آئی ترے در کی
ہیں عرض و سماوات تری ذات کا صدقہ
محتاج ہے یہ ساری خدائی ترے در کی
انوار ہی انوار کا عالم نظر آیا
چلمن جو ذرا میں نے اٹھائی ترے در کی
مشرب ہے مرا تیری طلب تیرا تصور
مسلک ہے مرا صرف گدائی ترے در کی
در سے ترے الله کا در ہم کو ملا
اس اوج کا باعث ہے رسائی ترے در کی
اک نعمت عظمیٰ سے وہ محروم رہ گیا
جس شخص نے خیرات نہ پائی ترے در کی
میں بھول گیا نقش و نگار رخ دنیا
صورت جو مرے سامنے آئی ترے در کی
تازیست ترے در سے مرا سر نہ اٹھے گا
مر جاؤں تو ممکن ہے جدائی ترے در کی
صد شکر کہ میں بھی ہوں ترے در کا
صد فخر کہ حاصل ہے گدائی ترے در کی
پھر اس نے کوئی اور تصور نہیں باندھا
ہم نے جسے تصویر دکھائی ترے در کی
ہے میرے لیے تو یہی معراج عبادت
حاصل ہے مجھے ناصیہ سائی ترے در کی
آیا ہے نصیؔر آج تمنا یہی لے کر
پلکوں سے کیے جائے صفائی ترے در کی
۔۔۔۔۔
یہ بھی پڑھیں : تری ذات سب سے عظیم ہے تری شان جل جلالہٗ
۔۔۔۔۔۔
جس طرف سے وہ گل گلشن عدنان گیا
ساتھ ہی قافلہ سنبل و ریحان گیا
لے کے جنت کی طرف جب مجھے رضوان گیا
تو شور اٹھا وہ گدائے شہ زیشان گیا
آپ سے منہ پھیر کے جو جانب قرآن گیا
سرخرو ہو کا نہ دنیا سے وہ انسان گیا
جب قدم دائرہ عشق نبی سے نکلا
تو بات ایمان کی اتنی ہے کہ ایمان گیا
شامل حال ہوئی جب سے آپ کی رحمت
فتح کی زد سے نہ کوئی میدان گیا
فخر دولت بھی غلط ناز نسب بھی باطل
ہے یہ کافی کہ میں دنیا سے مسلمان گیا
لفظ جاؤک سے قرآن نے کیا استقبال
آپ کی چوکھٹ پے بن کے کوئی مہمان گیا
میرے اعمال تو بخشش کہ نہ تھے نصیر
کی آقا نے شفاعت تو خدا مان گیا
———-
ہو گیا کس سے بھرا خانہ زھرا خالی
چل دیا آپ مگر کر گیا دنیا خالی
خوں سے اپنے دم سجدہ اگا کے گلشن
تو نے رہنے نہ دیا دامن صحرا خالی
الله الله وہ شبیر کا زور بازو
ایک ہی وار میں کر دی صف عادہ خالی
لوٹ کر آئیں گے کب تک کہ سکینہ ہے اداس
پوچھ لیتا کوئی عباس سے اتنا خالی
گونجتی ہیں وہی نانا کی صدائیں پیہم
کہ آقا تیری یادوں سے نہیں گنبد خضرا خالی
کربلا ہو کہ نجف و گو عرب ہو کہ عجم
ہم نے دیکھی نہ تیرے غم سے کوئی جاہ خالی
وہ تو اک سجدہ شبیر نے رکھ لی عزت
ورنہ ہو جاتی خدا والوں سے دنیا خالی
اصغر و اکبر و عباس و سکینہ کے طفیل
بھیک مل جائے کہ کشکول ہے اپنا خالی
آل و اصحاب کا سایہ ہے تیرے سر پہ نصیر
تیرا دامن نہ رہا ہے نہ رہے گا خالی
———-
غزلیات:
———-
دین سے دور ، نہ مذہب سے الگ بیٹھا ہوں
تیری دہلیز پہ ہوں، سب سے الگ بیٹھا ہوں
ڈھنگ کی بات کہے کوئی ، تو بولوں میں بھی
مطلبی ہوں، کسی مطلب سے الگ بیٹھا ہوں
بزمِ احباب میں حاصل نہ ہوا چین مجھے
مطمئن دل ہے بہت ، جب سے الگ بیٹھا ہوں
غیر سے دور، مگر اُس کی نگاہوں کے قریں
محفلِ یار میں اس ڈھب سے الگ بیٹھا ہوں
یہی مسلک ہے مرا، اور یہی میرا مقام
آج تک خواہشِ منصب سے الگ بیٹھا ہوں
عمرکرتا ہوں بسر گوشہ ء تنہائی میں
جب سے وہ روٹھ گئے ، تب سے الگ بیٹھا ہوں
میرا انداز نصیر اہلِ جہاں سے ہے جدا
سب میں شامل ہوں ، مگر سب سے الگ بیٹھا ہوں
۔۔۔۔۔۔
یہ بھی پڑھیں : نامور شاعر جمیل الدین عالی کا یومِ پیدائش
۔۔۔۔۔۔
مری زیست پر مسرت کبھی تھی نہ ہے نہ ہوگی
کوئی بہتری کی صورت کبھی تھی نہ ہے نہ ہوگی
مجھے حسن نے ستایا، مجھے عشق نے مٹایا
کسی اور کی یہ حالت کبھی تھی نہ ہے نہ ہوگی
وہ جو بے رخی کبھی تھی وہی بے رخی ہے اب تک
مرے حال پر عنایت کبھی تھی نہ ہے نہ ہوگی
وہ جو حکم دیں بجا ہے، مرا ہر سخن خطا ہے
انہیں میری رو رعایت کبھی تھی نہ ہے نہ ہوگی
جو ہے گردشوں نے گھیرا، تو نصیب ہے وہ میرا
مجھے آپ سے شکایت کبھی تھی نہ ہے نہ ہوگی
ترے در سے بھی نباہے، در غیر کو بھی چاہے
مرے سر کو یہ اجازت کبھی تھی نہ ہے نہ ہوگی
ترا نام تک بھلا دوں، تری یاد تک مٹا دوں
مجھے اس طرح کی جرأت کبھی تھی نہ ہے نہ ہوگی
میں یہ جانتے ہوئے بھی، تری انجمن میں آیا
کہ تجھے مری ضرورت کبھی تھی نہ ہے نہ ہوگی
تو اگر نظر ملائے، مرا دم نکل ہی جائے
تجھے دیکھنے کی ہمت کبھی تھی نہ ہے نہ ہوگی
جو گلہ کیا ہے تم سے، تو سمجھ کے تم کو اپنا
مجھے غیر سے شکایت کبھی تھی نہ ہے نہ ہوگی
ترا حسن ہے یگانہ، ترے ساتھ ہے زمانہ
مرے ساتھ میری قسمت کبھی تھی نہ ہے نہ ہوگی
یہ کرم ہے دوستوں کا، وہ جو کہہ رہے ہیں سب سے
کہ نصیرؔ پر عنایت کبھی تھی نہ ہے نہ ہوگی
———-
کیا دل مرا نہیں تھا تمہارا، جواب دو!
برباد کیوں کیا ہے؟ خدارا جواب دو!
کیا تم نہیں ہمارا سہارا، جواب دو!
آنکھیں ملاؤ ہم کو ہمارا جواب دو!
کل سے مراد صبحِ قیامت سہی، مگر
اب تم کہاں ملو گے دوبارہ جواب دو!
چہرہ اداس، اشک رواں، دل ہے بے سکوں
میرا قصور کیا ہے تمہارا جواب دو!
دیکھا جو شرم سار، الٹ دی بساطِ شوق
یوں تم سے کوئی جیت کے ہارا، جواب دو!
میں ہو گیا تباہ تمہارے ہی سامنے
کیونکر کیا یہ تم نے گوارا، جواب دو!
تم نا خدا تھے اور تلاطم سے آشنا
کشتی کو کیوں ملا نہ کنارہ، جواب دو!
شام آئی، شب گزر گئی، آخر سحر ہوئی
تم نے کہاں یہ وقت گزارا، جواب دو!
لو تم کو بلانے لگے ہیں نصیر وہ
بولو ارادہ کیا ہے تمہارا، جواب دو!
———-
کبھی ان کا نام لینا کبھی ان کی بات کرنا
مرا ذوق ان کی چاہت مرا شوق ان پہ مرنا
وہ کسی کی جھیل آنکھیں وہ مری جنوں مزاجی
کبھی ڈوبنا ابھر کر کبھی ڈوب کر ابھرنا
ترے منچلوں کا جگ میں یہ عجب چلن رہا ہے
نہ کسی کی بات سننا، نہ کسی سے بات کرنا
شب غم نہ پوچھ کیسے ترے مبتلا پہ گزری
کبھی آہ بھر کے گرنا کبھی گر کے آہ بھرنا
وہ تری گلی کے تیور، وہ نظر نظر پہ پہرے
وہ مرا کسی بہانے تجھے دیکھتے گزرنا
کہاں میرے دل کی حسرت، کہاں میری نارسائی
کہاں تیرے گیسوؤں کا، ترے دوش پر بکھرنا
چلے لاکھ چال دنیا ہو زمانہ لاکھ دشمن
جو تری پناہ میں ہو اسے کیا کسی سے ڈرنا
وہ کریں گے نا خدائی تو لگے گی پار کشتی
ہے نصیرؔ ورنہ مشکل، ترا پار یوں اترنا
یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ