اردوئے معلیٰ

آج اردو ادب کے نامور سیرت نگار، عالم، مؤرخ اور محقق مولانا سید سلیمان ندوی کا یومِ پیدائش ہے ۔

سید سلیمان ندوی(پیدائش: 22 نومبر 1884ء – وفات: 22 نومبر 1953ء)
——
مولانا سید سلیمان ندوی جہاں ایک بلند پایہ عالم دین ، سیرت نگار،مؤرخ، محقق، ادیب،نقاد، مقرر ، دانشور اورمصنف تھے۔ وہاں آپ ایک بہت عمدہ صحافی بھی تھے۔اور سیدصاحب آسمان صحافت پراس وقت طلو ع ہوئے جب ہماری قضائے ادب مخزن ، انسٹی ٹیوٹ گزٹ ، علی گڑھ متھلی، اردوئے معلیٰ، دلگداز، معارف ( علی گڑھ)زمانہ ، نگار، سچ، الناظر ، ہمدرد اورالہلال جیسے روشن اور تابناک ستاروں سےمزین تھی اور شیخ عبدالقادر ، سرسید، حسرت موہانی ، عبدالحلیم شرر، وحیدالدین سلیم ، منشی دیانرائن ، نیاز فتح پوری،عبدالماجد دریاآبادی ، ظفر الملک، محمد علی جوہر اورابوالکلام آزاد جیسے اساطین علم وادب اردو صحافت کی آبروشمارہوتےتھے۔
مولانا سید سلیمان ندوی الندوہ ، لکھنؤ اورالہلال، کلکتہ کےسب ایڈیٹر اورمعارف،اعظم گڑھ کےایڈیٹر رہے
علامہ سید سلیمان ندوی 23 صفر 1302ھ بمطابق 22نومبر 1884ء بروز جمعہ صوبہ بہارکےایک مردم خیز قصبہ وپسندضلع پٹنہ میں پیداہوئے۔برصغیر میں صوبہ بہارایک مردم خیزصوبہ ہے۔ اس صوبہ میں بےشمار اہل علم نےجنم لیا اورایسی بےشمار علمی ودینی خدمات انجام دیں ۔ جوبرصغیر کی تاریج میں ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتی ہیں۔شیخ الکل مولانا سید محمد نذیر حسین محدث دہلوی(م 1320ھ ) اورمولانا شمس الحق عظیم آبادی ( م 1329ھ ) کاتعلق اسی صوبہ بہارسے تھا ۔ ان ہردو علمائے کرام کی علمی ودینی خدمات تاریخ میں سنہری حروف سےرقم ہیں ۔
سیدصاحب نےابتدائی تعلیم اپنے قصبہ کےایک معلم خلیفہ انور علی اور مولوی مقصودعلی سےحاصل کی ۔ان ہردو حضرات سےفارسی کی ابتدائی کتابیں پڑھیں ۔اورعربی میں میزان منشعب اپنےبڑے بھائی سید ابوحبیب سے پڑھی۔مولوی سیدابوحبیب ، مولانا حافظ عبداللہ غازی پوری (م 1337ھ) کےشاگرد تھے۔
سید صاحب 1901ء میں دارالعلوم ندوۃ العلماء لکھنؤ میں داخل ہوئے اورسات سال ندوہ میں رہ کر جملہ علوم اسلامیہ کی تکمیل کی ۔طالب علمی کےزمانہ میں متانت وسنجیدگی، تہذیب ، وشائستگی ، مہرومحبت اورخلق ومروت میں ممتاز تھے۔ندوہ میں ان کے علمی وادبی ذوق کی نشوونما ہوتی رہی ۔
ندوۃ العلماء لکھنؤ میں سید صاحب نےجن اساتذہ کرام سے مختلف علوم وفنون میں استفادہ کیا ۔ ان کےنا یہ ہیں :
——
یہ بھی پڑھیں : سید فخرالدین بلے ، ایک زندہ اور نفیس شخصیت
——
مولانا مفتی عبداللطیف سنبھلی ، مولانا سید علی زنبی ، مولانا شبلی فقیہ جیراج پوری مولانا حفیظ اللہ اعظمی ، مولانا محمدفاروق چڑیاکوٹی ، مولانا حکیم عبدالحی الحسنی ، اور مولانا شبلی نعمانی ۔
سید صاحب نےمولانا حفیظ اللہ سے حدیث اوربلاغت کی تحصیل کی ۔
فقہ مولانا مفتی عبداللطیف سےپڑھی ،منطق ، فلسفہ اورادب عربی میں مولانامحمدفاروق چڑیاکوٹی سےاستفادہ کیا اور علم کلام کی تحصیل مولانا شبلی نعمانی سے کی ۔
الندوہ دارالعلوم ندو ۃ العلماء لکھنؤ کامشہور علمی رسالہ اور اس کانقیب تھا۔جو1902ءمیں علامہ شبلی نعمانی اورمولانا حبیب الرحمان خان شیروانی کی ادارت میں جاری ہوا ۔مولانا سیدسلیمان ندوی 1907ء میں ندوہ سےفارغ ہوئے تومولانا شبلی نے ان کوالندوہ کاسب ایڈیٹر مقرر کیا۔ سیدصاحب نے الندوہ میں متعدد علمی وتحقیقی مضامین لکھے۔ ان مضامین کےشائع ہونے پرسید صاحب کےعلمی تبحر کا اعتراف علمی حلقوں کی طرف سےشروع ہوا ۔ اسی سال سیدصاحب نےالندوہ میں علم ہئیت اور معانی ، عربی زبان کی وسعت ، طبقات الارض ، برنابا کی انجیل ، مسئلہ ارتقاء ، ایمان بالغیب اور مکرراتُ القرآن جیسے علمی وتحقیقی مضامین لکھے۔ سید صاحب کےمضامین ایمان بالغیب اورمکرراتُ القرآن کی علامہ شبلی نے بہت تعریف وتوصیف کی ۔
1908 ء میں ہی مولانا شبلی نعمانی نےآپ کاندوۃ العلماء لکھنؤ میں بحیثیت استاد عربی ادب تقرر کردیا اوراسی دور میں آپ نےدرس وتدریس کےساتھ ساتھ ” دروس الادب ،، کےنام سےدوریڈریں مرتب کیں ۔ جوآج تک رائج ومقبول ہیں ۔
1909ئ کےالندوہ میں ایک طویل مضمون ” خواتین اسلام کی بہادری ،، کےنام سےلکھا۔جوالندوہ کےکئی نمبروں میں شائع ہوا اور بعد میں اس مضمون کوکتابی صورت میں علیحدہ شائع کیا گیا۔
1910 ء کےندوہ کےسالانہ اجلاس دہلی میں طے ہواکہ عربی کےجدید الفاظ کی لغت مرتب کی جائے ۔اور اس کام کےلیے سید سلیمان ندوی کانام تجویز ہوا۔ چنانچہ آپ نے2سال کی مدت میں لغاتِ جدیدہ کےنام سے کتاب مرتب فرمائی ۔اور 1912ء کےاجلاس ندوہ لکھنؤ کی صدارت علامہ رشید رضا مصری (م 1354ھ) نےکی تھی،پیش کی ۔ اس لغات سےعربی مدارس کےطلباء بہت استفادہ کرتےہیں ۔
1910ء میں علامہ شبلی نعمانی نے سیرت النبی کی تدوین وترتیب کاایک شعبہ قائم کیا توسید صاحب اس کےلٹریری اسٹنٹ مقرر ہوئے اور اس کام میں انہوں نےمولانا شبلی کی پوری مدد کی ۔ اوراس کےساتھ الندوہ میں مضمون بھی لکھتے رہے اورمئی 1912ء تک الندوہ کےسب ایڈیٹر بھی رہے۔ اس کےبعد الندوہ بند ہوگیا۔اس دور میں سید صاحب نےجومضامین الندوہ میں لکھے ، ان میں اشتراکیت اوراسلام اوراسماء القرآن کی خاصی مقبولیت حاصل ہوئی ۔
1911 ء میں اٹلی نےطرابلس پرحملہ کیا ۔ تواس سےہندوستان کےمسلمانوں میں ایک شوربرپا ہوا۔اوران کی سیاست میں اُبال آگیا ۔ علامہ سید سلیمان ندوی بھی اس سےمتاثر ہوئے اورخالص علمی مشاغل چھوڑ کرمیدان سیاست میں آگئے ۔جولائی 1912ء میں مولانا ابوالکلام آزاد (م 1958ء ) نےکلکتہ میں ہفت روزہ الہلال جاری کیاجس نےملکی سیاست میں قابل قدر کردار ادا کیا۔ سید صاحب الہلال کےعملہ ادارت مں شامل ہوگئے ۔الہلال میں سیدصاحب صرف 6ماہ رہے۔ان کےبعد الہلال کی ادارت سےمستعفی ہوگئے ۔
1913ء کےآخر میں سید صاحب مولانا شبلی نعمانی کی تحریر پردکن کالج پونا میں فارسی کےاسٹنٹ پروفیسر مقرر ہوکرچلےگئے ۔اور اس وقت سید صاحب عملی حلقوں میں کافی معروف ہوچکےتھے۔اوردکن کالج کےقیام کےدوران سید صاحب نےاپنی کتاب تاریخ ارض القرآن مرتب کی ۔
——
یہ بھی پڑھیں : سلیمان اریب کا یومِ وفات
——
جس میں قدیم عرب کی جغرافیہ ، اقوام عرب کےپرانی مذہبی اورتمدنی تاریخ پرمحققانہ بحث کی گئی ہے اوراسی زمانہ میں ایک مضمون ”علوم القرآن ،، کےنام سےلکھا۔جوالہلال ککلتہ میں شائع عوا ۔
پونا گئے ابھی ڈیڑھ سال بھی نہیں ہوا تھاکہ 18 نومبر 1914ء کوعلامہ شبلی نعمانی نےاعظم گڑھ میں انتقال کیا۔ علامہ شبلی نعمانی اپنی آخری عمر میں سیرۃ النبی کی تدوین وتالیف میں مصروف تھےجسے اس آرزو اورتمنا کےساتھ شروع کیاتھا۔؏
——
عجم کی مدح کی ، عباسیوں کی داستان لکھی
مجھے چندے مقیم آستانِ غیرہونا تھا
مگر اب لکھ رہاہوں سیرتِ پیغمبر خاتم
خدا کاشکر ہےیوں خاتمہ بالخیر ہونا تھا
——
مولانا شبلی جب مرض الموت میں مبتلا ہوئے ۔توسیدصاحب کوتاردےکرپونا سےبلوایا گیا۔
” اورجب سید صاحب اعظم گڑھ پنچے تواس وقت مولانا شبلی قریب المرگ تھے۔سیدصاحب کاہاتھ پکڑ کرفرمایا:
” سیرۃ النبی میری تمام عمر کی کمائی ہے۔
سب کام چھوڑ کرسیرۃ تیا رکرو۔،،
سعادت مندشاگرد نےجواب دیا : ضرور ضرور
مولانا شبلی کےانتقال کےبعد سید سلیمان ندوی نےدکن کالج پونا سےاستعفی دےدیا اوراعظم گڑھ تشریف لےآئےاورمولانا مسعود علی ندوی کےانتظامی تعاون اورمولانا عبدالسلام ندوی کےعلمی اشتراک سے 1915ء میں دارالمصنفین کی بنیاد ڈالی۔اور اپنی کتاب تاریخ ارض القرآن کی پہلی جلد کی اشاعت سےدارالمصنفین کےتصنیفی کام کاآعاز کیا ۔
مولانا سید سلیمان ندوی دارالمصنفین قائم کرنےکےبعدعلمی کاموں میں مشغول ہوگئے اور سب سےپہلے اپنے استاد علامہ شبلی کی وصیت پرعمل کیا۔
جولائی 1916ء (رمضا المبارک) میں دارالمصنفین کاماہوار علمی رسالہ معارف جاری کیا۔جس کی ضیاء پاشیوں سےدینائے علم آج تک مستفید ہورہی ہے۔معارف کےپہلے شمارے میں آپ کا مقالہ ” روزہ،، کےنام سے شائع ہوا۔
1917ء میں سید صاحب نےمعارف میں ”اہل سنت والجماعت ،، کےنام سےایک مضمون لکھا جومعارف کےکئی نمبروں میں شائع ہوااور عملی حلقوں میں بہت پسند کیاگیا۔بعد میں اس کوکتابی شکل میں شائع کیا گیا ۔اس کےبعد ان کی کتاب حیاتِ امام مالک ﷫ شائع ہوئی۔امام مالک ﷫ پرآپ کاطویل مقالہ 1917ء میں الندوہ کےکئی نمبروں میں شائع ہو ا تھا۔
1918ء میں سید صاحب نےمولانا شبلی نعمانی کی سیرۃ النبی کی جلد اول شائع کی ۔اورمولانا شبلی کی روح کوتسکین پہنچائی ۔
سید صاحب نےسیرۃ النبی کی اشاعت پربجاطورپرلکھا تھا:
——
شام از زندگی خویش کہ کارے کردم
——
اور اس کےساتھ اپنی محققانہ تصنیف ، تاریخ ارض القرآن کی جلد دوم شائع کی ۔جس میں اقوام عرب کی لسانی ،مذہبی ،تجارتی ، تمدنی حالات پربحث ہے۔اس سے سیدصاحب کی علمی شہرت میں مزید اضافہ ہوا۔
فروری 1920 ء میں مولانا محمد علی جوہر کی قیادت میں ترکی کےمعاملات میں انصاف طلبی اور مسلمانان ہند کےجذبات کےلیے ایک وفد انگلستان گیا۔جس کےارکان حسب ذیل تھے :
مولانا محمد علی جوہر ، صدر
سید سلیمان ندوی ، رکن
سید حسین ، رکن
سید حسین ، رکن
حسن محمد حیات ، سیکرٹری
——
یہ بھی پڑھیں : محمد حنیف ندوی کا یومِ وفات
——
اس وفد میں سید صاحب کی حیثیت محض ایک معزز رکن ہی کی نہیں تھی بلکہ ایک محقق،مفکر اورفاضل کی تھی ۔انہوں نے اس سفر میں نہ صرف برطانوی وزیراعظم لارڈ جار ج اور دوسرے ممتاز لیڈروں سےسیاسی مذاکرات کئے۔ بلکہ انڈیا آفس ، برٹش میوزیم ، آکسفورڈ اورکیمرج کےقیمتی کتب خانوں سے اپنے علمی ذوق کوبھی شاد کام کیا۔سید صاحب نےاپنے مجموعہ ” برید فرنگ ،، میں اس وفد کاکارگزاری اورسفر کےمشاہدات وتاثرات کابہت شرح وبسط کےساتھ ذکر کیا ہے۔
انگلستان روانہ ہونے سےپہلے سید صاحب نےسیرۃ النبی جلد دوم چھپنے کےلیے پریس کےحوالہ کردی تھی ۔اور اس کےساتھ سیرۃ عائشہ ؓ کامسودہ بھی پریس کوچھپنے کودے دیا تھا۔ سید صاحب ابھی لندن ہی میں تھے کہ یہ دونوں کتابیں شائع ہوگئیں۔
1920 ء کےآخرمیں سیدصاحب انگلستان کےسفرسےواپس آئے توترکِ موالات کی تحریک ہندوستا ن میں شروع ہوگئی ۔مجلس خلافت اورکانگریس کےپلیٹ فارم مشترک ہوگئے ۔ مولانا سید سلیمان ندوی نےاس تحریک میں سرگرم حصہ لیا ۔اخبارات میں مضامین لکھے اورتحریک ترکِ موالات کےسلسلہ میں ملک کادورہ کیا ۔ اوربڑےبڑے شہروں میں تقریریں بھی کیں ۔
1921ء میں مجلس خلافت کاجواجلاس میرٹھ میں منعقد ہوا۔ اس کی صدارت بھی کی اوراس کےساتھ معارف میں دو طویل مضامین ”خلافت عثمانی اور دنیائے اسلام،،اور”خلافت اورہندوستان ،، کےعنوان سےلکھے ۔یہ دونوں مضامین کتابی صورت میں بھی شائع ہوئے ۔اور ان رسالوں سےتحریک خلافت کوبڑی مدد ملی۔
دینی تعلیم گاہوں کواس وقت حکومت کی طرف سےسرکاری مدد ملتی تھی۔جس میں ندوۃ العلماء لکھنؤ بھی شامل تھا۔ سید سلیمان ندوی ندوۃ العلماء کےروح رواں تھے۔آپ نےجب تحریک ترک موالات میں بڑھ چڑھ کرحصہ لینا شروع کیا توندوۃ کی مجلس انتظامیہ نےفیصلہ کیاکہ ہمیں تحریک ترک موالات میں شامل نہیں ہونا چاہیے۔ سید صاحب نےبڑی بحث وتمحیص کےبعد ارکان ندوہ کو راضی کیااور سرکاری امداد کی واپسی کا فیصلہ کیا۔
اسی سال سید صاحب جمعیت العلماء ہند کی مجلس عاملہ کےرکن بھی منتخب ہوئے۔
مولانا سیدسلیمان ندوی کی کوششوں سے 7 سال یعنی 1915ءدارالمصنفین کاآفتاب شہرت نصف النہار تک پہنچ چکا تھا ۔علامہ شبلی کی سیرۃ النبی کی 3 جلدیں سیدصاحب کی تاریخ ارض القرآن 2 جلدیں اورسیرۃ عائشہ ؓ ، مولانا عبدالسلام ندوی کی اسوہ صحابہ اورسیرت عمربن عبدالعزیر ، مولوی محمد یونس فرنگی کی روح الاجتماع ، مولانا عبدالباری ندوی کےبرکلے اورمبادی علم انسانی ، مولانا عبدالماجد دریا آبادی کی مبادی فلسفہ اورمکالمات برکلے ۔ پروفیسر سجاد مرزا کی استدلال ، تسہیل البلاغت وغیرہ کتابیں دارالمصنفین نےشائع کیں ۔اور ان کتابوں نےارباب علم ونظر کواپنی طرف متوجہ کیااور رسالہ معارف کےعلمی تحقیقی ، مذہبی وتاریخی اورادبی وتنقیدی مقالات اندرون ہند سےنکل کر بیرون ہند تک پھیل گئے اورمستشرقین یورپ نے”معارف،، کےمقالات کی تحقیق وتوصیف کی ۔
علامہ اقبال نےسید صاحب کےنام اپنے ایک خط میں معارف کےبارےمیں لکھا:
” یہی ایک رسالہ ہےجس کےپڑھنے سےحرارت ایمانی میں ترقی ہوتی ہے،،
مولانا محمد علی جوہر کوبھی ” معارف ،، سے بہت اُنس تھا۔انہوں نے اپنے ایک خط میں سید صاحب کولکھا :
” میرے پاس متعدد انگریزی رسالوں کی جلدیں نہیں بندھی ہیں ۔یہ شرف خاص معارف کوحاصل ہوا کہ مجلدات تیا رکرالی جائیں ،،
——
یہ بھی پڑھیں : سلیمان اریب کا یومِ پیدائش
——
مولانا ابوالکلام آزاد اپنے ایک خط میں سید صاحب کولکھتےہیں :
” معارف کےمتعلق آپ کیا کہتےہیں ، صرف یہی ایک پرچہ ہےاورہرطرف سناٹا ہے۔
بحمداللہ مولانا شبلی مرحوم کی تمنائیں رائیگاں نہیں گئیں اورصرف آپ کی بدولت ایک ایسی جگہ بن گئی جوخدمت علم وتصنیف کےلیے وقف ہے،،
1925 ء میں سید صاحب نےمدراس میں سیرۃالنبی کےموضوع پر8خطبات ارشاد فرمائے۔یہ خطبات اپنے موضوع کےاعتبار سےسیرت نبوی کانچوڑہیں اورسیدصاحب کےوسعتِ معلومات کےآئینہ دار ہیں ۔ ان خطبات میں نبی اکرم کی تاریخی حیثیت ، جامعیت ، کاملیت اورآپ کی زندگی کےعلمی پہلو پراس طرح روشنی ڈالی گئی ہےجس سےظاہرہوتاہےکہ تمام انبیاء کرام علیہم السلا م میں ساری دنیا کےلیے دائمی نمونہ علمی فقط آپ ہی کی ذات مقدس ہوسکتی ہے۔
مارچ 1929ء میں ہندوستانی اکیڈیمی الہ آباد کی دعوت پرعرب وہند کےتعلقات پرپانچ خطبات ارشاد فرمائے۔یہ خطبات سید صاحب کےوسعتِ معلومات،ذوق مطالعہ وتحقیق اورعلمی تبحر کامنہ بولتا ثبوت ہیں ۔ سید صاحب کےبہ خطبات تلاش وتحقیق ، محنت وکاوش اورحجت ِ استدلال کےاعتبار سےبےمثل سمجھےجاتےہیں ۔
اپریل 1933 ء میں ” ادارہ معارف اسلامیہ ،، لاہور کےزیراہتمام سید صاحب نےایک علمی و تایخی اورتحقیقی مقالہ ” لاہور کا ایک مہندس خاندان جس نےتاج محل اورلا ل قلعہ بنایا،، کےعنوان پرپیش کیا۔ اس اجلاس کی صدارت علامہ اقبال نےکی تھی۔اس مقالہ میں سید صاحب نےبڑی تلاش وتحقیق اور مستند شہادتوں سےیہ ثابت کیاتھا ۔کہ تاج محل کامعمار درحقیقت نادر العصر استاد احمد معمار ہےجوہندسہ ، ہئیت اور رضیات کابڑا عالم تھا ۔
اکتوبر 1933ء میں سید صاحب نےعلامہ اقبال اورسرراس مسعود وائس چانسلرمسلم یونیورسٹی علی گڑھ کےساتھ نادر شاہ افغانستان کی دعوت پرتعلیمی سفر کیا۔سید صاحب نےواپسی کےبعد اس سفر کی روئیداد ” معارف ،، میں سیرِ افغانستان کےنام سے شائع کی۔ اوربعد میں کتابی صورت میں بھی شائع ہوئی ۔
1934ءتا 1940ء (7سال) میں مولانا سیدسلیمان ندوی نےبےشمار علمی وتحقیقی ،قومی وملی اوراصلاحی وسیاسی امور سرانجام دیئے ۔فروری 1934ء میں ڈاکٹر انصاری کی دعوت پرڈاکٹر بہجت وہبی جامعہ ملیہ دہلی آئے اورانہوں نےجامعہ ملیہ میں چارلیکچردئیے اوران میں دوخطبات کی صدارت سیدسلیمان نےکی ۔1935ءمیں دارالمصنفین سےسیرۃ النبی کی پانچویں جلد شائع کی ۔1936ء نومبر آل انڈیا فلسطین کانفرنس دہلی کی صدارت کی۔ 1937 ء میں جنوری میں لکھنؤ میں ہندوستانی اکیڈیمی کےجلسہ کی صدارت کی اور مارچ 1937ء میں مسلم ایجوکیشنل کانفرنس علی گڑھ کےشعبہ علوم وفنون اسلامیہ کی صدارت کی اوراکتوبر میں حیدرآباد،مدراس تعلیمی سفرکیا۔ 1939ء سیرۃ النبی کی جلد ششم شائع کی ا ور اپنی دوسری کتاب”نقوش سلیمانی ،، بھی شائع کی ۔یہ کتاب ان خطبات ، تحریروں اورمفدمات کامجموعہ ہےجواردو زبان سےمتعلق ان کےقلم سےنکلے۔یہ کتاب چوتھائی صدی کی ادبی تحریکوں کاایک مرقع ہے۔
1940 میں پنجاب کاسفر کیا۔اور اس سلسلہ میں لاہو ر ، بہاولپوراورپشاور سٹی علی گڑھ نےسید صاحب کو” ڈی لٹ ،، کی اعزازی ڈگری دی اور اپنی جوہرشناسی کاثبوت دیا۔
جنوری 1941 ء میں نواب احمد سعید خان چھتاری کی صدارت میں اسلام کےسیاسی اوراقتصادی نظام کی تربیت کےلیے مجلس بنائی گئی۔جس کےارکان حسب ذیل تھے:
مولانا سید سلیمان ندوی
مولانا ابوالاعلی مودودی
مولانا عبدالماجد دریاآبادی
مولانا بشیر احمدعثمان
ڈاکٹر ذاکرحسین
اوراس مجلس کاپہلا اجلاس ندوۃالعلماء لکھنؤ میں ہوا۔اوراس اجلاس میں یہ طےپایاکہ ”مستند علماءاورلائق یافتہ اہل علم کی باہمی معاونت سےپہلے اسلامی ریاست واقتصادی پرایک مستند ومعتبر کتاب لکھائی جائے،، چنانچھ مولانا محمد اسحاق سندہوی استاد تفسیر ندوۃالعلماء لکھنؤ نے ‘اسلام کاسیاسی نظام ،، کےنام سےکتاب مرتب فرمائی۔جودارالمصنفین سےشائع ہوچکی ہے۔
مولانا شبلی نعمانی نےاپنے انتقال کےوقت وصیت کی تھی کہ”جب تم دنیا کےکاموں سےفارغ ہوچکو تومیری سوانح عمری لکھنا ،، چنانجہ سیدصاحب نے1940ء میں حیات شبلی پرکام کاآغاز کیا اور 3سال کی محنت کےبعد فروری 1943ء میں 846صفحات پر”حیات شبلی،، شائع کی ۔ یہ کتاب سید صاحب کی آخری تصنیف ہےاوریہ کتاب صرف ایک شخص کی سوانح حیات پرہی نہیں بلکہ مسلمانان ہند کے50 برس کےعلمی وادبی ،سیاسی ، تعلیمی ، مذہبی اور قومی واقعات کی تاریخ بھی ہے۔
اکتوبر 1949ء میں علامہ سید سلیمان ندوی معہ اپنی اہلیہ اورصاحبزادے سلمان کےساتھ حج بیت اللہ کوتشریف لےگئے۔ اورجس جہاز سےآپ نےسفرکیا،اس کےامیر بنائے گئے اورحجاز پہنچ کرسلطان ابن سعود کےمہمان خصوصی ہوئے۔سلطان ابن سعود نےکئی بارآپ کوکھانےپرمدعو کیا ۔ حج کےبعد مدینہ منورہ میں ایک ماہ قیام فرمایا
دسمبر 1949ء میں اس سفر سےواپس بمبئی پہنچے اورجنوری کےوسط میں بھوپال آئے اوراپریل کےآخر میں بھوپال سےپنا تعلق منقطع کرکے اعظم گڑھ تشریف لےگئے۔
سید صاحب کامستقل طورپر درالمصنفین اعظم گڑھ میں قیام کاارادہ تھا۔ لیکن دارالمصنفین کےبعض شرکاء کےتکلیف دہ رویہ سےانہیں قلبی اذیت پہنچی توآپ دارالمصنفین سےبد دل ہوگئے جس دارالمصنفین کوانہوں نے اپنے خون جگر سےسینچا تھا اوراس کی جدائی انہیں گوارہ نہ تھی لیکن حالات نےمجبول کردیا کہ اب وہ یہاں قیام نہ کریں ۔چنانچہ سید صاحب 14 جون 1950 ء پاکستان منتقل ہوگئے۔اور اہل پاکستان نےا ن کی آمد پرخوشی ومسرت کااظہار کیاکہ:
” رسول اکرم کاسیرت نگار اورمحقق ومؤرخ اورعالم اسلام کاایک متبحر عالم ان کی مملکت کاباشندہ ہوگیا ہے،،
——
یہ بھی پڑھیں : محمد حنیف ندوی کا یومِ وفات
——
حکومت پاکستان نےدستور بنانے کےسلسلہ میں ادارہ تعلیماتِ اسلام کےنام سےعلماءکا ایک بورڈ بنایا تھا۔سید صاحب کواس بورڈ کی صدارت 1500 ماہوار پرپیش کی ۔جس کوکچھ شرائط کےساتھ قبول کرلیا ۔
1953ء میں پاکستان ہسٹاریکل کانفرنس کی صدارت کےلیے ڈھاکہ تشریف لےگئے۔ وہاں سے دارالعلوم ندوۃ العلماء لکھنؤ گئے اوروہاں آپ کےاعزاز میں ایک جلسہ کاا ہتمام کیاگیا ۔ آپ نے ایک بڑی مؤثر تقریراورطلبائے ندوہ کویہ پیغام دیا:؏
——
سبق پھر پڑھ صداقت کاشجاعت کا عدالت کا
لیا جائے گا تجھ سےکام دنیا کی امامت کا
——
اس کےبعد آپ لکھنؤ سےواپس کراچی تشریف لےآئے۔
مولانا سیدسلیمان ندوی نے 22 نومبر 1953ء مطابق 14ربیع الاول 1373ھ کو71سال کی عمر میں انتقا ل کیا ۔ ڈاکٹر عبدالحق خلیفہ مولانا اشرف علی تھانوی نےنماز جنازہ پڑھائی اورمولانا شبیراحمد عثمانی کےپہلو میں دفن کئے گئے ۔
یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے۔۔۔

حالیہ اشاعتیں

اشتہارات

اشتہارات