اردوئے معلیٰ

Search

آزاد نظم کے بانیوں میں شامل ممتاز شاعر اور نامور قانون دان تصدق حسین خالد کا یومِ وفات ہے۔

 تصدق حسین خالد(پیدائش: 12 جنوری، 1901ء- وفات: 13 مارچ، 1971ء)
——
اردو زبان میں آزاد نظم کے بانیوں میں شامل ممتاز شاعر اور نامور قانون دان تصدق حسین خالد 12 جنوری 1901ء کو پشاور میں پیدا ہوئے۔
انہیں قانون کی پریکٹس کے ساتھ ساتھ سیاست سے بھی دلچسپی تھی اور وہ 1935ء سے 1937ء تک پنجاب مسلم لیگ کے پبلسٹی سیکریٹری بھی رہے تھے۔
ڈاکٹر تصدق حسین خالد کے شعری مجموعے سروونو اور لامکاں نا لامکاں کے نام سے شائع ہوئے۔
سب سے پہلے تصدق حسین خالد نے آزاد نظم لکھی۔ اس ضمن میں ڈاکٹر عنوان چشتی عبدالوحید کراچی کے حوالے سے لکھتے ہیں کہ
خالد نے1952ءسے نظم آزاد لکھنا شروع کی۔۔۔ان کا شمار اردو کے چند باغی شعرا میں ہوتا ہے جنہوں نے اردو نظم میں نئے تجرباتی دور کاآغاز کیا۔اور مروجہ اصناف سخن اور اسالیب سے ہٹ کر نئی نئی راہیں نکالیں۔
13 مارچ 1971ء کو تصدق حسین خالد لاہور میں وفات پاگئے۔ وہ لاہور میں دارالعلوم اسلامیہ، شادمان لنک روڈ میں آسودۂ خاک ہیں۔
——
یہ بھی پڑھیں : نوجوان شاعر خالد محبوب کا یوم پیدائش
——
منتخب کلام
——
یہ بغاوت ہے
——
روندتے جاؤ گزر گاہوں کو
سر اٹھائے ہوئے
سینہ تانے
کانپ جائیں در و دیوار
قدم یوں اٹھیں
دھڑکنیں دل کی بنیں بانگ رحیل
یہ بغاوت ہے
بغاوت ہی سہی
ہم نے انجام وفا دیکھ لیا
خس و خاشاک بہاتا ہوا اپنا سیلاب
اب جو اٹھا ہے تو بڑھتا ہی چلا جائے گا
یہ زر و سیم کے تودوں سے نہیں رک سکتا
گولیاں
کس کو ڈراتے ہو
یہ ڈس سکتی ہیں
ڈس جانے دو
بے نوا سست قدم واماندہ
سال آتے تھے چلے جاتے تھے
وقت کے دامن خوش رنگ پہ کالے دھبے
خشک لب ہانپتے بے بس ایام
راہ کے بیچ میں الجھے ہوئے رہ جاتے تھے سستانے کو
گھبرائے ہوئے
اب تو ہر سانس دہکتا ہوا انگارہ ہے
دل کہ برفاب تھے اب آتش سیال کا فوارہ ہیں
برق رفتار ہے وقت
اور ہم وقف سے دو چار قدم آگے ہیں
چیخ اٹھیں قرنائیں
جھانجھ بجیں
دھوم ہو نقاروں کی
مسکراتے ہوئے گاتے ہوئے بڑھتے جاؤ
پھینکتے ہیں ہمیں تاروں پہ کمند
خیمہ زن ہونا ہے مریخ کے میدانوں میں
——
یہ تماشا گہ عالم کیا ہے
——
تم چمن زاد ہو فطرت کے قریں رہتے ہو
دل یہ کہتا ہے کہ تم محرم اسرار بھی ہو
تمہیں فطرت کی بہاروں کی قسم
یہ تماشا گہ عالم کیا ہے
نور خورشید کا جاں سوز جہاں تاب جمال
آسمانوں پہ ستاروں کا سبک کام خرام
یہ گرجتے ہوئے بادل
یہ سمندر کا خروش
یہ پرندوں کے سہانے نغمے
کہیں بڑھتی ہوئی عظمت کہیں لٹتا ہوا حسن
بے سبب بخل فراواں بخشی
قحط آلام مصائب کے پہاڑ
عیش کے خسروی و طنطنۂ فغفوری
کہیں پرویز کے حیلے کہیں چنگیز کے ظلم
کہیں شبیری و ابراہیمی
راز ہی راز ہے حیرت کدۂ بزم نمود
تم چمن زاد ہو فطرت کے قریں رہتے ہو
یہ تماشا گہ عالم کیا ہے
نور مہتاب کی چادر لے کر
گھاس سوتی ہی رہی
پھول لب بند رہے
پیڑ رہے محو سکوت
تند رو باد شمالی کا تریڑا آیا
پھول تیورا سے گئے
پیڑ ہوئے سر بہ سجود
گھاس نے چادر مہتاب میں کروٹ بدلی
یہ تماشا گہ عالم کیا ہے
——
چاند آج کی رات نہیں نکلا
——
چاند آج کی رات نہیں نکلا
وہ اپنے لحافوں کے اندر چہرے کو چھپائے بیٹھا ہے
وہ آج کی رات نہ نکلے گا
یہ رات بلا کی کالی رات
تارے اسے جا کے بلائیں گے
صحرا اسے آوازیں دے گا
بحر اور پہاڑ پکاریں گے
لیکن اس نیند کے ماتے پر کچھ ایسا نیند کا جادو ہے
وہ آج کی رات نہ نکلے گا
یہ رات بلا کی کالی رات
مغرب کی ہوائیں چیخیں گی بحر اپنا راگ الاپے گا
سائیں سائیں
تاریکی میں چپکے چپکے سنسان بھیانک ریتے پر
بڑھتا بڑھتا ہی جائے گا
موجوں کی مسلسل یورش میں
وہ گیت برابر گاتے ہوئے
جو کوئی نہیں اب تک سمجھا
سبزے میں ہوئی کچھ جنبش سی
وہ کانپا
آہیں بھرنے لگا
چاند آج کی رات نہیں نکلا
بھیڑیں سر نیچے ڈالے ہوئے
چپ چاپ آنکھوں کو بند کئے
میداں کی اداس خموشی میں فطرت کی کھلی چھت کے نیچے
کیوں سہمی سہمی پھرتی ہیں
اور باہم سمٹی جاتی ہیں
چاند آج کی رات نہیں نکلا
چاند آج کی رات نہ نکلے گا
——
پیام
——
فضاؤں میں کوئی نادیدہ معلوم رستہ ہے
جہاں جذبات مضطر روح کے سیماب پا قاصد
صعوبات سفر سے بے خبر اک دور منزل کو
پروں میں الفتوں کے راز کو لے کر
ہواؤں کی طرح آزاد بے پروا اڑے جائیں
پیام شوق دے آئیں
اگر اس رات اس بے راہ رستے پر
کوئی جذبہ دل بے تاب سے اٹھ کر
عناں برداشتہ نکلے
اشارے گرم جوش آرزو آئیں گے ایثر پر
انہیں پڑھنا
اگر منظور خاطر ہو
جواباً ایک جذبے کو سوار برق کر دینا
——
ایک کتبہ
——
شیر دل خاں
میں نے دیکھے تیس سال
پے بہ پے فاقے
مسلسل ذلتیں
جنگ
روٹی
سامراجی بیڑیوں کو وسعتیں دینے کا فرض
ایک لمبی جانکنی
سو رہا ہوں اس گڑھے کی گود میں
آفتاب مصر کے سائے تلے
میں کنوارا ہی رہا
کاش میرا باپ بھی
یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ