اردوئے معلیٰ

Search

آج فیصل آباد پاکستان سے تعلق رکھنے والے معروف شاعر حکیم محمد رمضان اطہر کا یومِ وفات ہے ۔

حکیم محمد رمضان اطہر(پیدائش: 1936ء – وفات: 13 مارچ 2016ء)
——
حکیم محمّد رمضان اطہر ، حیات و خدمات از ڈاکٹر اظہار احمد گلزار
——
حکیم محمد رمضان اطہر فیصل آباد کے بزرگ اور کہنہ مشق شاعر تھے ۔انہیں نظم، غزل ، نعت ، رباعی اور قطعہ لکھنے پر یدطولیٰ حاصل تھا ۔ کلام پڑھنے کا انداز بڑا دبنگ اور پرجوش تھا ۔حکیم محمد رمضان اطہر فیصل آباد کی ان نامور ہستیوں میں سے ایک تھے جو صنعت و حرفت کے اس شہر میں ادب کی شمع فروزاں کیے ہوئے تھے اور نخل شعر و ادب کو اپنے خون جگر سے سینچ کر شعر و ادب کے ذوق کو پروان چڑھا رہے تھے۔
نئی نئی ردیفوں ، مشکل کافیوں اور سنگلاخ زمینوں میں بڑی سہولت سے شعر کہنے کا انہیں ملکہ حاصل تھا۔نادرہ کاری اور رفعت خیال ان کے کلام کی نمایاں خوبیاں ہیں ۔فیصل آباد کے ہر مشاعرے کی جان سمجھے جاتے تھے اور ہر مشاعرے میں بڑی باقاعدگی سے حاضری دیتے تھے ۔پیری اور ضعیف العمری کے باوجود لہجے کی کھنک اور گھن گرج تا دم مرگ برقرار رہی ۔شعری ذوق و شوق اور بزم آرائی کا جذبہ دم آخر زندہ رہا ۔
——
یہ بھی پڑھیں : دھڑک رہا ہے محمد ہمارے سینے میں
——
حکیم محمد رمضان اطہر 1936ء میں پٹھان کوٹ بھارت میں جناب غلام محمد کے ہاں پیدا ہوۓ ۔قیام پاکستان کے بعد آپ اپنے خاندان کے ساتھ حافظ آباد تشریف لے آئے۔ابتدائی تعلیم حاصل کرنے کے بعد طبابت کا شوق ہوا تو معروف طبیب حکیم محمد شریف مسلم حافظ آبادی کی شاگردی اختیار کی اور طبابت کے اسرار و رموز سیکھ کر اسے بطور پیشہ اپنایا۔بعد ازاں ایک طویل عرصہ اشرف لیبارٹریز پرائیویٹ لمیٹڈ فیصل آباد میں پروڈکشن انچارج کے طور پر اپنے فرائض منصبی سر انجام دیتے رہے۔حکیم محمد رمضان اطہر 1966 سے تا دم مرگ میں بحیثیت دواساز اپنی ذمہ داریاں نہایت ایمانداری،خلوص اور جانفشانی سے سرانجام دیتے رہے ۔حکیم صاحب نے دوا سازی کے بنیادی اصولوں کو ہمیشہ حرز جاں بنائے رکھا۔انہوں نے کسی بھی نسخہ کے مفرد اجزا سے لے کر مرکب دوا کی تیاری کے تمام مراحل پر بھرپور توجہ دی ۔اجزاء کی صفائی کا اہتمام ان کا معیاری ہونا ان کے اوزان کا مکمل ہونا اور ان سے تیار ہونے والی دوا میں طب اسلامی کے بنیادی اصولوں کو ملحوظ خاطر رکھنا، یہ ان کی دوا سازی کی نمایاں خصوصیات تھیں ۔انہوں نے دیانت و امانت کے قابل رشک معیار قائم کیے اور انہی کی بدولت اشرف لیبارٹریز کی ادویات کی کوالٹی کو قومی اور بین الاقوامی سطح پر تسلیم کیا گیا اور اشرف لیبارٹریز کو بین الاقوامی ایوارڈ سے نوازا۔ گیا ۔
شاعری کا شوق مزید بڑھا تو معروف شاعر جناب طالب حجازی حافظ آبادی کے سامنے زانوئے تلمذ تہ کیا اور شعری اسرار و رموز سیکھے۔ شعر و شاعری میں ارتقا کی منزلیں طے کرتے ہوئے بلند مقام تک پہنچے ۔آپ کے کلام میں استادانہ شکوہ، فارسی الفاظ و تراکیب کا استعمال ،مرصع و مسجع قافیوں اور منفرد ردائف کا استعمال عام ملتا ہے ۔وہ خوبصورت بندشوں کے ماہر تھے ۔انہیں سن کر دہلی اور لکھنؤ کے اساتذہ کی یاد تازہ ہو جاتی تھی ۔اچھوتے خیالات اور ارفع تخیلات کا استعمال آپ کا خاصہ تھا ۔
حکیم محمد رمضان اطہر کا شاعری میں نام ایک خاص اہمیت کا حامل تھا۔ ان کے کلام میں پختگی، شائستگی اور شیفتگی پائی جاتی ہے ۔عروض پر دسترس رکھتے تھے ۔انتہائی شریف، شفیق ، مخلص ، سادہ صاف گو، حلیم طبع ،انسان دوست فطرت کے مالک ہونے کی وجہ سے خواص و عام میں پسندیدگی کی نظر سے دیکھے جاتے تھے ۔
——
یہ بھی پڑھیں : ہماری بخششوں ہی کیلئے رمضان بخشا ہے
——
حکیم محمد رمضان اطہر اپنی زندگی آپ بنانے والے انسان تھی یعنی آپ ایک سیلف میڈ انسان تھے ۔ان کی ساری زندگی جہد مسلسل سے عبارت ہے ۔زندگی نے انہیں بہت چھوٹی عمر میں وہ سب کچھ سکھا دیا جو انسان بہت بعد میں عملی زندگی میں قدم رکھنے کے بعد میں سیکھتا ہے ۔زندگی کا بہت سرد و گرم انہوں نے جھیلا ہے اور برے بھلے کا مشاہدہ کیا ہے ۔زندگی کا بڑا المیہ اس وقت رونما ہوا جب تک تقسیم کے وقت گھر بار ،عزیز رشتہ دار ، دوست حوادث کے سامنے سوکھے پتوں کی طرح بکھر گئے ،کسی کو کچھ خبر نہ ہوئی کہ یہ سزا کس جرم کی پاداش میں ملی ہے ۔کچھ عزیز دوست تو ظلم کی چکی میں پس کر وہاں چلے گئے جہاں سے لوٹنے کا کچھ امکان نہ تھا اور کچھ ہاتھ پاؤں مارتے جانے کس پار جا اُترے ۔یہاں جہاں سچ آنے کو جگہ ملی وہیں سکونت پذیر ہو گئے ۔فلک کی کج ادائی نے گھر بار ، دوست یار چلا دیے ۔جنم بھومی اور دوستوں کو چھوڑنا پھر ان حسین یادوں کو فراموش کر دینا مشکل ہوا کرتا ہے ۔پھر وہ تلخ یادیں بھی تھی جو ہجرت کے دوران نا پختہ اور نو خیز ذہن کا حصہ بن کے رہ گئیں ۔تقسیم کے بعد جو درندگی اور بربریت سکھوں نے برپا کی، اسے متعدد بار حکیم محمد رمضان اطہر کو بہ چشم خود دیکھنے کا موقع ملا ۔اس دوران میں انہوں نے بار ہا موت کا بھیانک چہرہ اپنے انتہائی قریب دیکھا اور قدرت کی مہربانی سے ہر بار محفوظ رہے ۔ماضی کی حسین یادیں اور ان کے مقابلے میں ظلم اور قتل و غارت جب ایک حساس آنکھ دیکھتی ہے تو گداز دل پر جو کیفیت گزرتی ہے وہ شاید لفظوں سے بیان نہیں ہوتی ۔اگر کچھ ترجمانی ہوتی ہے تو میر تقی میر اور ناصر کاظمی کے پر درد لہجے کو اس پس منظر میں دیکھنے سے بات بڑی حد تک سمجھ میں آ جاتی ہے۔حکیم محمد رمضان اطہر داد کے مستحق ہیں کہ انہوں نے زندگی کے بھیانک اور منفی رخ کو دیکھنے کے باوجود امید اور ہمت کو کبھی ہاتھ سے جانے نہیں دیا اور نہ ہی انتقام اور تشدد کے جذبات کو خود پر غالب ہونے دیا۔ 1947ء کے بعد حکیم محمد رمضان اطہر کو پاکستان کی ہجرت کے موقع پر جو کرب برداشت کرنا پڑا اس کی ان کی زندگی میں بڑی اہمیت ہے ۔اس قیامت صغری میں انہیں رشتوں کی اہمیت کا احساس بھی ہوا اور احساس کی دوری میں بندھے انسانی رشتوں ناتوں کی پختگی و نا پختگی کو جانچنے کا بھی اچھی طرح موقع ملا۔ ان واقعات نے ان کی آئندہ کی زندگی پر بے پناہ اثرات مرتب کیے ہیں۔ زندگی کی بے ثباتی اور ناپائیداری کا انہیں بخوبی اندازہ ہو گیا۔ظلم و ستم کے دل دہلا دینے والے مناظر اور جان بچانے کی خود غرضیت نے انہیں انسانی رویوں کو سمجھنے میں بڑی مدد دی۔انسانی معصومیت اور معصیت کے ہزار پردے چاک ہونے کے بعد انسانیت کا اصل رخ دیکھنے کا اتفاق ہوا ۔انسانی رویوں میں اتار چڑھاؤ بعض دفعہ انتہا کو پہنچ جاتا ہے ۔کبھی تو انسان مسجود ملائک اور خدا کا نائب ہوتا ہے تو کبھی اسفل السالفین نیچوں سے نیچ ہو جاتا ہے اور اس کے مہذب و متمدن ہونے کے سبھی دعوے باطل ہو جاتے ہیں ۔کچھ ایسے ہی واقعات تقسیم ہندوستان کے وقت وقوع پذیر ہوئے ۔ان سب عوامل نے حکیم محمد رمضان اطہر کی داخلی ساخت و پرداخت میں اہم کردار ادا کیا ۔ان حالات و واقعات نے جہاں حالات کا منفی رخ پیش کیا ، وہیں زندگی کی مثبت جہات کی بھی راہنمائی کی اور پیش قدمی کی طرف توجہ بھی دلائی۔حکیم محمد رمضان اطہر نے اقتدار کے چھن جانے پر افسوس ضرور کیا ہے مگر وہ ماضی کے نوحہ خواں کبھی نہیں رہے۔
——
یہ بھی پڑھیں : حکیم ناصر کا یومِ وفات
——
پستی و بلندی کے تفاوت نے انہیں انتہا پسند نہیں بنایا کیونکہ ان حالات کے دو ہی اثرات ان کے رویے پر پڑ سکتے تھے ایک غم اور غصے کا تو دوسرا صبر اور محبت کا ۔ کیوں کہ انہوں نے ظلم کی انتہا کا بھی مشاہدہ کیا تھا اور محبت کی انتہا بھی خونی رشتوں کی صورت میں دیکھی تھی لیکن ان کی نیک فطرت نے خیر کی طرف پیش قدمی کو ہی انسانی فلاح اور بہتری کا راز جانا ۔وحشت و بربریت کے دستیابی کے بعد جب قدم منزل آشنا ہوئے تو بھی حالات غیر موافق ہی رہے اور کھیلنے کی عمر میں فکر معاش میں مارا مارا پھرنے کے تلخ تجربات میں حکیم محمد رمضان اطہر کو تصورات کی عینک اتار کر زندگی کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالنے کا درس دیا۔جس سے حقیقت پسندی ان کے مزاج کا لازمی حصہ بن گئی اور نامساعد حالات کے خلاف تگ و دو کے ثمر کے ذائقے سے تو وہ پہلے ہی آشنا ہو چکے تھے۔اس لیے محنت اور جدوجہد کو اپنی زندگی کا نصب العین بنا لیا۔ تقسیم کے خونی واقعات نے حکیم محمد رمضان اطہر کی شخصیت و کردار کی تشکیل میں بڑا اہم کردار ادا کیا ۔ان کی نیک فطرت نے تخریب کے بجائے تعمیر کے اثرات قبول کیے۔انسانی دکھ اور کرب کی حقیقی کیفیات حکیم محمد رمضان اطہر کے شعور اور لاشعور کا حصہ بن کر ذہن کے نہاں خانوں میں بیٹھ گئی تھیں ۔انہوں نے انسانی دکھ درد کے مداوے کی تراکیب سوچنا شروع کر دیں۔آخر کار انہیں محبت و رواداری کی اقدار ہی نفرت کی قاتل نظر آئیں ۔انہوں نے ان نیک اقدار کا فروغ اپنی زندگی کا مقصد بنا لیا اور ان ہی اقدار کی بنیاد پر ان کی شخصیت کی تعمیر ہوئی ۔انہوں نے اپنی سیرت اور زندگی کو ان نیک اقدار کے مطابق ڈالنا پسند کیا ۔ان کی زندگی پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تعلیمات کا عکس نمایاں رہا۔اسلام کے رنگ میں اپنے آپ کو رنگ کر انہوں نے اپنی دنیا و آخرت کی بہتری کا سامان کرنے کی کوشش کی ہے ۔
حکیم محمد رمضان اطہر حد درجہ انکسار پسند تھے ان کی حد سے بڑھی ہوئی عاجزی کے نفسیاتی محرکات پر غور کیا جائے تو اس میں ان کی اعلی ظرفی ہی نظر آتی تھی۔کیونکہ عام طور پر ایسی چیزوں کو کسی نفسیاتی کمزوری سے تعبیر کرنے کا رواج ہمارے ہاں کافی زیادہ ہے ۔ حکیم محمد رمضان اطہر کو اپنی علمی کمی کا شدت سے احساس تھا۔اور وہ اس کا برملا اظہار بھی کرتے تھے ۔اپنی کتابوں کے دیباچوں میں اپنی کوتاہ علمی کا بطور خاص ذکر کرتے تھے مگر یہ تو ان کی شخصیت کا بڑا پن تھا کہ وہ دوسروں کو اپنی ذات پر فوقیت دے کر عزت بخشتے تھے ۔درویش اور مٹے ہوۓ انسان تھے۔اپنے منہ میاں مٹھو بننے کے عمل سے وہ بہت آگے جا چکے تھے۔اس لیے اپنی تعریف اپنے منہ سے کرنے کی عادی نہیں تھے ۔دوسروں کو اپنے علمی رعب اور شاعرانہ برتری سے مرعوب نہیں کرتے تھے۔بلکہ ہمیشہ منکسرانہ رویہ اختیار کرتے تھے۔غرور و تکبر کو پاس بھی پھکتے نہیں دیتے تھے ۔ حکیم محمد رمضان اطہر ہر حال میں خوش رہنے والے انسان تھے ۔تمہیں کبھی حالات کا گلہ کرتے ہوئے نہیں سنا ۔اپنے حصے کا کام بلا تھکان کیے جاتے تھے اور خدا پر کامل بھروسہ رکھتے تھے ۔انہوں نے حالات کا رونا رونے کے بجائے ہمت و محنت کو اپنا شعار بنایا اور اپنی محنت اور لگن کی بدولت مقام بنایا تھا ۔ورنہ انسان تو کروڑوں کی تعداد میں دنیا میں پیدا ہوتے اور مرتے ہیں، کوئی کسی کو جانتا تک نہیں ۔یہ ان کی سعی پیہم ہی ہے کہ آج وہ ادب کے میدان میں اور حکمت و طباعت کے میدان میں بھی ناموری حاصل کر چکے ہیں ۔
——
یہ بھی پڑھیں : مولانا احمد علی لاہوری کا یوم پیدائش
——
ان کے شعری مجموعوں میں "ضرب احساس” ، "عکس شعور” ، "حرف طیّب ” ،اور "طیّب مطیب” شامل ہیں ۔
"ضرب احساس” حکیم صاحب کا پہلا شعری مجموعہ ہے ۔اس میں ان کی شاعری کے ابتدائی دور 1955سے لے کر 1990 تک کی نظمیں شامل ہیں ۔اس مجموعہ میں شامل نظمیں متنوع موضوعات پر ہونے کے باوجود اپنے اندر ایک فکری کلیت کی حامل ہیں۔ان کا پہلا شعری مجموعہ ان کی فکری بلندی اور منفرد سوچ کا عکاس ہے ۔ہر اچھے شاعر کی طرح ان کے ہاں ارتقاء تو نظر آتا ہے مگر نظریاتی تردید بالکل بھی سامنے نہیں آتی۔جو اس بات کا ثبوت ہے کہ انھوں نے صحیح اور بڑے مقصد کا انتخاب کیا جو نہیں کبھی بھی پچھتانے اور نادم ہونے کا موقع نہیں دیتا اور یہی مقصد انسانیت کی پہچان ہے ۔
"عکس شعور ” حکیم محمد رمضان اطہر کا دوسرا شعری مجموعہ ہے ۔پہلے مجموعہ کے برعکس اس میں زیادہ تر غزلیں شامل ہیں تاہم آخر میں کچھ نظمیں بھی شامل کی گئی ہیں جو اس وقت کے اہم موضوعات پر لکھی گئی ہیں ۔یہ مجموعہ 1993 میں شائع ہوا ۔اس کی ناشر بھی حکیم محمد رمضان اطہر خود ہی ہیں۔
یہ مجموعہ 176 صفحات پر مشتمل ہے ۔اس میں 127 غزلیں ،26 قطعات اور چھ نظمیں شامل ہیں ۔نظموں کے عنوانات درج ذیل ہیں ۔
1)۔ خلیج ۔2) ساکنان بوسنیا ۔3)بابری مسجد ۔4)یہ فیصل آباد ہمارا ۔5) فیصل آباد کے شعرا کرام ۔
کتاب کے فلیپ پر محمّد افسر ساجد ، ڈاکٹر ریاض مجید کی آراء اور ڈاکٹر شاہد اشرف کا منظوم ہدیہ تحسین شامل ہے۔پہلے مجموعہ میں شامل کردہ "اعتراف” بعینہ اس مجموعہ میں بھی شامل کیا گیا ہے ۔تقریر ڈاکٹر احسن زیدی نے” رجائی لہجے کا شاعر” ، اور ڈاکٹر شبیر احمد قادری نے "ایک جوئے نغمہ خواں ایک سیل تندرو "کے عنوان سے لکھی ہیں ۔سکندر ایاز سید ،ریاض احمد پرواز ، احمد شہباز خاور نے منظوم خراج تحسین پیش کیا ہے۔ اس مجموعہ کلام میں ابتدا سے لے کر 1993 تک کا غزلیہ کلام شامل ہے۔
” حرف طیب” حکیم محمد رمضان اطہر کا تیسرا شعری مجموعہ ہے۔
اگرچہ حکیم محمد رمضان اطہر نے اپنی شاعری کا آغاز باعث تخلیق کائنات، وجہ تخلیق کائنات حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سیرت پاک کے اوصاف کو منظوم کرنے سے کیا ہے تاہم اپنی احتیاط پسندی کی وجہ سے ایک عرصہ تک نعت کہنے سے گریزاں رہے آخر کار نعت کی طرف مائل ہو گئے ۔ "حرف طیب” حکیم محمد رمضان اطہر کا پہلا نعتیہ مجموعہ ہے۔” حرف طیّب ” 1997ء میں اشاعت پذیر ہوئی ۔اس کا انتساب حکیم محمّد رمضان اطہر نے ” رب ارحمھما کما ربیانی صغیرہ” کے بابرکت دعائیہ کلمات کے ساتھ اپنے والدین مرحومین کے نام کیا ہے ۔آغاز اپنے اس خوبصورت شعر سے کرتے ہیں ۔
——
ہر چیز بے ثبات ہے ہر نقش خام ہے
حاصل مرے نبی کو بقائے دوام ہے
——
” حرف طیّب ” پر ڈاکٹر محمد اسحاق قریشی ، حافظ لدھیانوی ،نادر جاجوی ، پروفیسر عارف رضا ،پروفیسر اسلم سجاد قادری ،پروفیسر ارشاد اعجاز رانا ،ڈاکٹر شبیر احمد قادری ،محمد عبد اللہ ظفر چشتی ،محمد افسر ساجد نے منظوم و منشور اظہار خیال کیا ہے ۔
” طیّب مطیّب ” حکیم محمد رمضان اطہر کا آخری مجموعہ کلام ہے جو 23/ اگست 2009 کو شائع ہوا ۔ یہ ان کا دوسرا نعتیہ مجموعہ ہے اور ان کا سب سے زیادہ ضخیم مجموعہ کلام ہے۔اس کے صفحات کی تعداد دو سو آٹھ ہے ۔اس مجموعہ کلام کو احسن پبلی کیشنز فیصل آباد نے بڑی عمدگی سے شائع کیا ہے۔اس مجموعہ کلام میں پروفیسر ریاض احمد قادری، محمود احمد مفتی اور بشیر احمد مسعود کے منظوم تبصرے شامل ہیں۔
——
یہ بھی پڑھیں : الوداع اے ماہ رمضاں ماہ رحمت الوداع
——
آپ نے 13 مارچ 2016ء کو انتقال فرمایا اور کمال آباد ، فیصل آباد والے قبرستان میں مدفون ہوۓ ۔
——
منتخب کلام
——
تلاشِ منزل میں آدمیت بھٹک رہی تھی
نبیٔ رحمت سے ہے ملایا مرے خدا نے
——
جو سخت سینوں میں پتھروں کے شگاف کر کے
جو ٹھنڈے چشمے اُبالتا ہے ” وہی خدا ہے ”
——
کرم ہے ترا یہ عنایت ہے تیری
کہ اطہرؔ ترا محوِ حمد و ثنا ہے
——
سرِ صبح آ رہا ہے ، سرِ شام آ رہا ہے
مرے کام مشکلوں میں ترا نام آ رہا ہے
مجھے کیا غرض پڑی ہے سرِ طُور جا کے دیکھوں
کہ کرن کرن نظر تُو سرِ عام آ رہا ہے
——
نعت ہو جب نعت ہو تب نعت ہو
یہ صدی ہے نعت کی اب نعت ہو
——
خلاقِ کائنات کی خلقت جہاں جہاں
لاریب ہے حضور کی رحمت وہاں وہاں
——
رات دن ہے آپ کا صبح شام آپ کا
چار سو جہان میں لطفِ عام آپ کا
——
چمن زارِ بدن مہکا ہوا ہے ذکرِ احمد سے
اثر یہ کتنا دل کش ہے گلِ مدحت کی نکہت کا
——
درودِ پاک پڑھتا ہوں ، طبیعت جب مچلتی ہے
مجھے آرام ملتا ہے ، مجھے تسکین ہوتی ہے
——
ہو مشکل کوئی میرے روبرو میں نعت کہتا ہوں
کہ جب مایوسیاں ہوں چار سو میں نعت کہتا ہوں
——
آپ نے دیکھی کہیں ان سی مثالی آنکھیں
رحم فرماتی ہوئی چاہنے والی آنکھیں
آرزو دید کی رکھتا ہوں مگر رکھتا نہیں
بوذریؓ ، حیدریؓ ، عثمانیؓ ، بلالیؓ آنکھیں
——
نعت کیسے ہو کہ ہے خام بصیرت میری
منتشر سوچ ہے بے رنگ عقیدت میری
نعت کے کیسے خدو خال نکھاروں آقا
دل گرفتہ ہوں نظر "آئینہ حیرت” میری
لگ گئی کس کی نظر آپ کے ہوتے ساتے
زندگی ! آہ بنی حرف ملامت میری
آج اس نعت میں ایک سوزدروں شامل ہے
آج پر کیف نہیں نعت کی لذت میری
ملتجی ہوں کہ عطا ہو مجھے خیرات ثنا
آپ کے ساتھ ہمیشہ رہے نسبت میری
اک زمانہ تھا غزل بار تخیل تھا مرا
اب نہیں آتی ہے اس سمت طبیعت میری
نعت کے رنگ میں کرتا ہوں ترا ذکر بلند
نعت کہتا ہوں تو ٹلتی ہے مصیبت میری
میں تونگر ہوں کہ شامل ہوں ثنا خوانوں میں
آپ کی خاک کف پا ہے فقط دولت میری
عصر حاضر نہ کرے مجھ سے محبت نہ کرے
نعت کہنا مری فطرت ہے جبلت میری
آگیا ہوں میں پنہ گاہ ثنا میں اطہر
اک عبادت ہے غزل زار سے ہجرت میری
——
مرا شعور ، فہم ، علم ، سوچ ، آگہی غلط
نہیں رسولِ محترم کی ایک بھی کہی غلط
توہمات میں بھٹک گئی خرد کی رہبری
کسی بھی حال میں نہیں جو دے خبر وحی غلط
سخن کی آبرو ثنائے مصطفیٰ سخنورو
غزل کی دل کشی بجا ، غزل سے دل لگی غلط
مجھے قسم خدائے ذوالجلال کی ہے بالیقیں
ہنود سے یہود سے غلط ہے دوستی غلط
گمان ہے ہو تو ہو غلط زمین آسماں
کسی بھی طور آپ کی نہیں ثنا گری غلط
ثمر ہے منزلِ مراد نگہِ التفات کا
تلاشِ صدق میں بھٹک رہا ہے آدمی غلط
خودی کی تابشوں سے ہو مُستنیر زندگی
محیط زندگی پہ ہو رہی ہے تیرگی غلط
سخن کی دل کشی اگر دلوں کو بھا گئی تو کیا
جو روح کو سکوں نہ دے وہ شعر شاعری غلط
غرورِ سطوتِ شہی ترے گدا کے زیر پا
ترے گدا کے سامنے جلالِ خسروی غلط
ترے غلام سربلند سرفراز دہر میں
فقیرِ مصطفیٰ پہ ہو عدو کو برتری غلط
جھکی رہے مری جبیں ترے حضور ہی سدا
ترے سوا ہے اور کی جہاں میں بندگی غلط
تری گدائی پر نثار کائنات کی شہی
بھلی گدائی آپ کی جہان کی شہی غلط
عجیب سے تخیلات آ گئے ہیں نعت میں
مگر نبی کے عشق میں نہیں یہ بات بھی غلط
——
ذکرِ خدا غذائے دل ، ذکرِ نبی ضیائے دل
دونوں خدا کی رحمتیں ان کا کرم برائے دل
صلِ علیٰ کا ورد ہے وجہِ سکونِ مضطراں
صلِ علیٰ دوائے دل ، صلِ علیٰ شفائے دل
کفر و ریا کی تیرگی چھٹتی ہے ان کے ذکر سے
وجہِ فروغِ روشنی تابانیٔ حرائے دل
عشقِ نبیٔ محترم جس کے ہو دل میں موجزن
بزمِ جہاں میں کس لیے پھر وہ کہیں لگائے دل
زوّارِ روضۂ نبی کہنا درِ حضور پر
اے میرے دردِ آشنا تسکیں کہیں نہ پائے دل
تیرا وجود باعثِ وجہِ وجودِ کائنات
ربِ کریم کی قسم تیری نظر زدائے دل
فَاغْفِرْ لَنَا ذُنُوبَنَا وَارْحَمْنَا أَنتَ مَوْلَانَا
دامن دراز دم بدم ہے ملتجی گدائے دل
ساری خطائیں بخش دے سارے گنہ معاف کر
تیرے حضور جھک گیا دستِ دعا اُٹھائے دل
——
ہر مصیبت کا حل ہے نعتِ نبی
ردِّ رنج و مَلَل ہے نعتِ نبی
اک سعادت ہے اک عبادت ہے
اک درودی عمل ہے نعتِ نبی
ہر بھلائی نبی کی سنت ہے
خیر کا ہر عمل ہے نعتِ نبی
گو کہ اصنافِ شعر اور بھی ہیں
چھا رہی آج کل ہے نعتِ نبی
نعت سحرِ حلال کہلائے
اور صلِ وجل ہے نعتِ نبی
نعت اجرِ عظیم کی ہے نوید
رحمتِ بے بدل ہے نعتِ نبی
سبز گنبد پہ ہے نظر اطہرؔ
اور لب پہ سجل ہے نعتِ نبی
——
شعری انتخاب از طیب مطیب ، مصنف : حکیم محمد رمضان اطہر
شائع شدہ : 2019 ء ، متفرق صفحات
یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ