اردوئے معلیٰ

Search

آج اردو طنز و مزاح کی دنیا کے مشہور مصنف نامور ہندوستانی مزاح نگار یوسف ناظم کا یوم پیدائش ہے۔

یوسف ناظم
(پیدائش: 18 نومبر 1918ء – وفات: 23 جولائی 2009ء)
——
یوسف ناظم 18 نومبر 1918ء کو مہاراشٹر کے چھوٹے سے شہر جالنہ میں پیدا ہوئے تھے۔
جالنہ میں ابتدائی تعلیم کے مکمل ہونے کے بعد یوسف نے اورنگ آباد (مہاراشٹر) کے عثمانیہ کالج سے انٹر مکمل کیا۔ انہوں نے 1942ء میں جامعہ عثمانیہ سے اردو میں بی اے کیا۔ 1944ء میں یہیں سے ایم اے اردو کی تکمیل ہوئی۔
یوسف حیدر آباد میں لیبر آفیسر کے طور پر مقرر ہوئے۔ 1960ء میں ان کو اسسٹنٹ لیبر کمشنر کے طور ترقی دی گئی۔ 1976ء میں وہ ڈپٹی لیبر کمشنر کے طور پر وظیفہ یاب ہوئے۔
یوسف نے اپنی ادبی زندگی اسکول کے دنوں میں غزلوں اور نظموں سے شروع کی۔ تاہم 1944ء سے طنز و مزاح کا رخ کیا۔ میزان اور پیام جیسے رسالوں میں ان کی تحریروں کی اشاعت کے بعد وہ اس میدان میں مشہور ہو گئے تھے۔
اپنے دور میں انہوں نے سینکڑوں طنزیہ انشائیے، مختر انشائیے اور افسانے لکھے جو تیس سے زائد کتابوں میں یکجا کیے گئے۔ ان میں کیف و کم، فُٹ نوٹ، البتہ، فقط، ورنہ اور منجملہ کافی مقبول ہوئے۔
——
یہ بھی پڑھیں : مزاح نگار کرنل شفیق الرحمن کا یوم وفات
——
یوسف اپنے تبصروں اور مزاحیہ کالموں کو سیاست، انقلاب، اردو ٹائمز، اور کئی اردو روزناموں اور ہفتہ وار بلٹز میں لکھتے تھے۔
یوسف مہاراشٹر ریاستی اردو اکیڈمی کے لمبے عرصے تک معتمد رکن رہے تھے۔ وہ مہاراشٹر انجمن ترقی ہند کے صدر رہے تھے۔ وہ اپنے انتقال تک زندہ دلان بمبئی کے صدر تھے۔
یوسف ناظم کو 1984ء میں غالب ایوارڈ دیا گیا۔ 1992ء میں انہیں ہریانہ اردو اکیڈمی کی جانب سے مہندر سنگھ ایوارڈ حاصل ہوا۔ 1989ء میں مہاراشٹر حکومت کی جانب سے ایک انعام دیا گیا تھا۔
23 جولائی 2009ء کو یوسف ناظم کا ممبئی میں انتقال ہو گیا۔
——
نمونۂ کلام
——
اقتباس از ہم بھی شوہر ہیں ، دامنِ یوسف صفحہ نمبر 217
——
آدمی کو بگڑتے دیر نہیں لگتی۔ اچھا بھلا آدمی دیکھتے دیکھتے شوہر بن جاتا ہے۔ یہ سب قسمت کے کھیل ہوتے ہیں اور اس معاملے میں سب کی قسمت تقریباً یکساں ہوتی ہے۔ شوہر کی لکیر سب کے ہاتھ میں ہوتی ہے اور ہاتھ کی لکیروں میں یہی ایک لکیر ہوتی ہے جس سے سب فقیر ہوتے ہیں۔ شوہر بننا کوئی معیوب فعل نہیں ہے اور اگر ہے بھی تو اس خرابی میں بھی تعمیر کی صورت پیدا ہوسکتی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ ان شوہروں کی زندگی بہت اچھی گزرتی ہے جنھیں کبھی یہ یاد نہ آئے کہ وہ شوہر ہیں۔
ہمارے دوست ابوالفصاحت عالم قدر نے اسی طرح زندگی گزاری۔ ان کی شادی کو بارہ سال تو ہو ہی گئے ہوں گے لیکن کیا مجال جو ان بارہ سالوں میں انھیں ایک لمحے کے لئے بھی یہ گمان گزرا ہو کہ وہ شوہر ہیں۔ ہماری ان سے بہت گہری دوستی ہے۔ یہ ہمارے اسکول کے ساتھی ہیں۔ اسکول کے نام سے کہیں آپ یہ نہ سمجھ لیں کہ انھوں نے اسکول میں کچھ پڑھا بھی ہے۔ یہ تو صرف اخلاقاً اسکول آتے تھے۔ شروع ہی سے بڑے نصیب والے ہیں۔
——
یہ بھی پڑھیں : ناظم علی خان ہجر کا یومِ وفات
——
ان کی سب سے بڑی خوش قسمتی تو یہ ہے کہ ان کے والد نے زیادہ عمر نہیں پائی۔ یہی رہے ہوں گے کوئی ۴۵-۴۶سال کے جب ان کا انتقال ہوگیا اورابوالفصاحت ان کی جائیداد کے تنہا وارث قرار پائے، ان کے والد مرحوم جن کا نام شہنشاہ بیگ تھا، کی دو بیویوں نے ان کی زندگی ہی میں ان سے علیحدگی حاصل کرلی تھیں اور اس طرح شوہر کا داغ مفارقت سہنے سے بچ گئی تھیں۔ جاتے وقت مہر کی ایک موٹی رقم کے علاوہ زیور گہنے چاندی کے برتن اور کچھ الکٹرانک سامان ساتھ لیتی گئیں لیکن شہنشاہ بیگ کی پیشانی پر شکن تک نہیں آئی۔ ان کی پیشانی پر شکن نہ آنے کی دو وجہیں تھیں۔ ایک تو یہ ان کی پیشانی پر یونہی بل پڑے رہتے تھے اور دوسرے یہ کہ اللہ کا دیان ان کے پاس اتنا تھاکہ انھیں پتہ ہی نہیں چلاکہ ان کی دو بیویاں کیا ساتھ لے گئیں۔
ابوالفصاحت عالم، شہنشاہ بیگ کی اولین بیوی کی اولاد تھے جو ان دونوں بیویوں سے پہلے ان کے نکاح میں آئی تھیں۔ نیک خاتون تھیں اس لئے زیادہ دن زندہ نہیں رہیں۔ عالم قدر کی ولادت کے بعد ہی ان کا انتقال ہوگیا تھا اور اسی لئے شہنشاہ بیگ نے یکے بعد دیگرے دو اور شادیاں کی تھیں کہ خود کا اپنا دل بھی بہلا رہے اور عالم قدر کی تھوڑی بہت تربیت بھی ہوتی رہے، ان دونوں بیویوں کو انھوں نے کوئی خاص زحمت بھی نہیں دی اور اپنی مساعیٔ جمیلہ سے انھیں بے اولاد ہی رہنے دیا۔ ان میں سے ایک بیوی کا نام غالباً جمیلہ تھا بھی لیکن یہ سب باتیں میں آپ کو کیوں بتارہا ہوں۔ بات تو صرف یہی کہنی ہے کہ ابوالفصاحت عالم قدر کس قسم کے شوہر ہیں۔ ان کے آبا واجداد کے متعلق کچھ کہنا اس لئے ضروری ہوگیا کہ ان کا پسِ منظر آپ کے پیش نظر آسکے۔ شہنشاہ بیگ بہت زیادہ متین آدمی تھے۔ ہنسنا تو دور رہا مسکراتے بھی نہیں تھے۔ لوگ منتظر رہتے تھے کہ شاید عید بقرعید کے موقعے پر مسکرائیں گے لیکن کئی عیدیں یونہی گزر جائیں۔ ایک بقرعید پر جب وہ مسکرائے تھے تو کہا جاتا ہے کہ کئی سال تک اس کا چرچا رہا اور لوگ حیرت زدہ رہے۔
یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ