احساں بدوش اک مجھے انجان کر گیا

احساں بدوش اک مجھے انجان کر گیا

آئینۂ نگاہ کو حیران کر گیا

 

میں شہرِ دوستی ہوں مرے دوستو مجھے

آباد کر گیا کوئی ویران کر گیا

 

دل کی جراحتیں جو کبھی مندمل ہوئیں

وہ مبتلائے حسرت و ارمان کر گیا

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ