اردوئے معلیٰ

آج ماہر غالبیات, محقق اور مصنف مولانا امتیاز علی خان عرشی کا یوم وفات ہے

مولانا امتیاز علی خان عرشی
(پیدائش: 8 دسمبر 1904ء — وفات: 25 فروری 1981ء)
——
اردو تحقیق کے چند اہم ستونوں میں سے ایک امتیاز علی خاں عرشی ہیں۔ ان کی ساری زندگی تحقیق اور تصنیف و تالیف میں بسر ہوئی۔ اس میدان میں ان کے کارنامے نہایت اہم ہیں۔ انہیں ماہر غالبیات کی حیثیت سے بھی جانا جاتا ہے۔
امتیاز علی خان عرشی ( Imtiyaz Ali Khan Arshi ) کا وطن رام پور ہے۔ سال ولادت ہے 1904ء زندگی بھر وہ رام پور کے ایک عظیم علمی ادارے رضا لائبریری سے وابستہ رہے جہاں نادر نایاب کتابوں کا ایک بیش قیمت ذخیرہ موجود ہے۔ اس ذخیرے سے وہ خود فیض یاب ہوئے اور علمی دنیا کو اس سے فیض پہنچایا۔ ان کا اصل میدان عربی ادب تھا لیکن اردو میں بھی ان کے کارنامے نہایت اہم ہیں۔ غالب ان کا خاص موضوع ہے۔ انہوں نے دیوان غالب کو زمانی اعتبار سے مرتب کیا جس سے یہ معلوم ہوجاتا ہے کہ ان کا کون سا کلام کس زمانے کا ہے۔ اس سے غالبؔ کے ذہنی ارتقا کو سمجھنے میں مدد ملتی ہے۔ یہ تدوین کا اچھا نمونہ ہے۔ یہ دیوان غالبؔ (نسخۂ عرشی) کے نام سے مشہور ہے۔ احد علی خاں یکتا کا تذکرہ (دستورالفصاحت) بھی انہوں نے بہت محنت سے ترتیب دیا۔ بہت سے تحقیقی مضامین بھی ان سے یادگار ہیں۔
امتیاز علی خان عرشی صاحب کی وفات 1981ء میں ہوئی۔
——
یہ بھی پڑھیں : نامور شاعر، داغ دہلوی کے داماد سائل دہلوی کا یوم وفات
——
تصانیف
——
اردو میں پشتو کا حصہ
انتخابِ غالب
جاحظ کی کتاب الاخبار
فارسی کا ہندوستانی لہجہ
آصفی رام پوری
قاطعِ بُرہان کا پہلا مسودہ
مقالاتِ عرشی
——
امتیاز علی عرشی کی ترتیب کردہ کتابیں
——
دستور الفصاحت
دیوانِ غالب
سبد باغ دودر
سلک گوہر
فرہنگِ غالب
مکاتیب غالب
نادرات شاہی
کہانی رانی کیتکی اور کنور اودے
فہرست مخطوطات اردو ، رضالا
——
اردو تحقیق و تدوین کی روایت :امتیاز علی خان عرشی اور قاضی عبد الودودکی خدمات کی روشنی میں
——
قدیم مخطوطات کی بازیافت جن کی علمی، ادبی اور تاریخی اہمیت ہو انھیں منشائے مصنف کے مطابق ترتیب دینا تدوین کہلاتا ہے ۔ منشائے مصنف کے مطابق متن کو ترتیب دینے کے کچھ اصول و آداب ہیں اور بہت سے مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ان سے عہدہ بر آ ہونے کے بعد ہی کوئی مرتب کسی متن کو اچھی طرح ترتیب دے سکتا ہے۔ کسی بھی متن کو مرتب کرنے کے لئے سب سے پہلے مواد کا فراہم کرنا ضروری ہوتا ہے۔اس کی دو صورتیں ہیں پہلا یہ کہ وہ ایک جگہ موجود ہو دوسرا یہ کہ بکھری ہوئی حالت میں ہو۔ مثلاً کسی کا دیوان ہے یا تذکرہ یا پھر لغت ہے تو بس اس کا طریقہ یہ ہے کہ اصل مخطوطے سے اس متن کو نقل کر لیا جائے۔مخطوطے کی بھی مختلف صورتیں ہویتی ہیں ۔ خود مصنف کے ہاتھ کا لکھا ہوا یا اس کا اصلاح کیا ہوا یا کم از کم اس کی نظر سے گذرا ہوا۔اس سے مختلف صورت یہ ہے کہ کسی متعلق یا غیر متعلق شخص نے مخطوطے کی کتاب کی ہو اور یہ مصنف کی نظر سے نہ گذرا ہو۔پہلی صورت میں مصنف متن سے متفق ہوگا لیکن دوسری صورت میں نہیں۔
لہذا مرتب متن کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ قلمی نسخوں کو تلاش کرنے کی کوشش کریں لیکن قلمی نسخیں اور قابل اعتماد ایڈیشن آسانی سے دستیاب نہیں ہوتے بلکہ ملک اور بیرون ملک کے کتاب خانوں سے بکھرے ہوئے صورت میں ملتے ہیں۔ زیر ترتیب متن کے تمام ممکن الحصول نسخوں اور ان کے ذیلی متعلقات کی دستیابی تدوین متن کا بنیادی لازمہ ہے۔اردو تدوین کی روایت میں علی خاں عرشی کے کارنامے قابل ذکر ہیں۔
تحقیق و تدوین کا کام جس دیدہ ریزی اور جگر کاوی کا مطالبہ کرتا ہے امتیاز علی خاں عرشی اس پر پورے اترتے ہیں۔ اس تیز رفتاری اور سہل پسندی کے دور میں ان کے معیار کے بلند پایہ عالم اور محقق نایاب ہیں۔ ان کی ساری زندگی تحقیق و تصنیف کے کام میں بسر ہوئی، عرشی صاحب نے تصنیف و تالیف کی ابتدااپنی تعلیم کے زمانے سے ہی پنجاب یونی ورسٹی میں کی۔ کچھ دنو ں کے بعد رام پور ریاست کی عظیم الشان رضا لائبریری سے وابستہ ہو گئے، عربی فارسی انگریزی زبانوں سے گہری واقفیت کے ساتھ ساتھ شاعری بھی کرتے تھے۔لیکن ان کا اصل میدان تحقیق و تدوین ہے۔عرشی صاحب نے تحقیق کے میدان میں کار ہائے نمایاں انجام دئے۔خاص طور سے غالبیات میں انھوں نے بہت اضافے کئے۔ مثلاً یوسف علی خان ناظم اور نواب کلب علی خاں کے نام غالب نے جو خطوط لکھے تھے وہ رام پور کے دار الانشاء میں محفوظ تھے۔عرشی صاحب نے ان خطوط کو ’’مکاتیب غالب ‘‘ کے نام سے مرتب کیا اور 183صفحات پر مشتمل طویل مقدمہ کے ساتھ 1937میں شائع کیا۔اس کے علاوہ فارسی اور اردو پر مشتمل ایک کتاب’’ انتخاب غالب‘‘ کے نام سے شائع کی۔اس کتاب کا دیباچہ عرشی صاحب کی محققانہ علمیت کا مظہر ہے۔
غالب نے اپنے کلام میں بعض ایسے الفاظ استعمال کئے ہیں جو انھیں سے مخصوص تھے یا فارسی و اردو کے مشکل الفاظ کا استعمال کیا ہے جسے عام قاری سمجھنے سے قاصر رہتا ہے۔لہذا عرشی صاحب نے ایک اہم کام یہ کیا کہ غالب کی ارود ئے معلیٰ، عود ہندی، ابر گہر، انتخاب غالب، پنچ آہنگ، تیغ تیز، دستنبو، قاطع برہان اور غالب کی دوسری تخلیقات کی مدد سے انھوں نے فرہنگ تیار کی۔جو 1947میں ’’فرہنگ غالب ‘‘کے نام سے شائع ہوئی۔
غالب شناسی میں امتیاز علی خان عرشی صاحب کا ایک نمایاں کارنامہ ’’دیوان غالب نسخہ عرشی‘‘کے نام سے بھی ہے۔اس نسخہ میں غالب کے اردو کلام کو تاریخی ترتیب سے پیش کیا ہے۔اس کے تین حصے ہیں پہلے حصے کا عنوان ’’گنجینہ معنی ‘‘ہے۔اس میں غالب کے ابتدائی زمانے کا کلام ہے۔دوسرے حصے کا نام ’’نوائے سروش‘‘ہے۔اس حصے میں وہ اشعار ہیں جو غالب کی زندگی میں کئی بار چھپ چکے تھے۔تیسرے حصے کا نام ’’یادگار نالہ ‘‘ہے اس حصے میں غالب کے وہ اشعار ہیں جو متداول دیوان میں شامل نہیں ہیں ۔ یہ وہ اشعار ہیں جو غالب کے دیوان کے کسی نسخے کے حاشیہ یا خاتمے یا کسی بیاض یا کسی خط میں موجود تھے۔اس نسخے کے تینوں حصوں کے نام غالب کے اشعار سے ہی ماخوذ ہیں۔ ایک بار اس نسخے کے شائع ہونے کے بعد عرشی صاحب نے دوسری بار کی طباعت میں مزید چھان بین اور تلاش و جستجو کر کے نئے مآخذ کا استعمال کرکے اختلاف نسخ کو نہایت جامع انداز میں پیش کیا ہے۔
اس لحاظ سے نسخہ امتیاز علی خان عرشی دوسرے تمام نسخوں کے مقابلے صحت متن اور اپنے مقدمہ کے اعتبار سے قابل قدر ہے۔اس کا مقدمہ بہتر 72 صفحات پر مشتمل ہے۔اس بسیط مقدمے سے بہت سی نئی باتیں معلوم ہوتی ہیں ۔ اس نسخہ کی ایک خصوصیت یہ ہے کہ اس میں منشائے مصنف کا حتی الامکان لحاظ رکھا گیا ہے۔ مثلاً غالب پاؤں کو پانو لکھتے تھے، خورشید کو خرشید، اور ذال والے لفظ کو ز سے لکھتے تھے چنانچہ عرشی صاحب نے غالب کے اس مخصوص طرز کو مد نظر رکھا ہے۔
امتیاز علی خان عرشی صاحب کو یہ امتیاز حاصل ہے کہ انھوں نے پہلی بار غالب کے تمام اردو کلام کو تاریخی ترتیب اور صحت متن کے ساتھ اور دوسرے تمام تحقیقی اصولوں کو مد نظر رکھ کر ترتیب دیا۔جب کہ اس سے پہلے ڈاکٹر عبد اللطیف نے غالب کے اردو اشعار کو تاریخی ترتیب سے پیش کرنے کا ارادہ کیا تھا۔مگر ان کی کوشش پوری نہ ہو سکی اور اس عظیم کارنامہ کی خواہش تشنہ رہ گئی۔اس کے بعد شیخ محمد اکرام نے بھی ’’غالب نامہ ‘‘اور ’’ارمغان غالب ‘‘ میں کلام غالب کی نئی ترتیب پیش کرنا چاہی مگر وہ بھی ناکام رہے۔اس قدر محنت و ریاضت سے دیوان غالب کو مرتب کرنے کے باوجود اس پر محمد سعید کا اعتراض ہے کہ:
’’نسخہ عرشی میں اختلاف نسخ کے اندراج میں کوئی خاص قاعدہ یا طریقہ کار اختیار نہیں کیا گیا۔اس میں چار طرح کے اختلاف آئے ہیں پہلی قسم کا تبوں کے املا اور رسم الخط وغیرہ کی اختلاف کی ہے۔دوسری کاتبوں کے سہو پر مبنی ہے۔تیسری متن کے اختلاف اور چوتھی غزلوں کے اندر اشعار کی ترتیب کے فرق کی ہے۔مختلف نسخوں پر غالب کی اصلاحوں کو بھی اختلاف نسخ ہی کے ذیل میں رکھا گیا ہے۔‘‘1 ؏
اپنے اسی مضمون میں محمد سعید صاحب نے نسخہ عرشی کے متعلق ایک اور رائے دی ہے جس میں اس نسخہ کے مشکوک ہونے کا اندازہ ہوتا ہے۔
’’غالب چونکہ بعض الفاظ کے املا کے بار ے میں اپنی منفرد رائے رکھتے تھے اور اپنی تحریروں میں اس کی پابندی بھی کرتے تھے۔اس لئے جس طرح اصول تدوین کے مطابق متن کو منشا کے مصنف کے مطابق پیش کرنا ہوتا ہے۔اس طرح املا بھی مصنف (خصوصا غالب)کے منشا کے مطابق درج کرنا چاہئے اس لحاظ سے دیکھیں تو نسخہ عرشی طبع اول یا طبع ثانی دونوں میں غالب کے املا کی مکمل پیروی نہیں کی گئی جو اصول تدوین کے خلاف ہے۔‘‘2ـ ؏
امتیاز علی خان عرشی صاحب کے تحقیق و تدوین کا ایک بہترین نمونہ احمد علی یکتا کی دستور الفصاحت ہے۔اس کتاب کے دیباچے میں انھوں نے بہت سی معلومات یکجا کی ہیں ۔ جو ان کے وسیع مطالعے کے ضامن ہیں ۔ کڑی محنت و ریاضت کا ثبوت بھی۔ شاہ عالم ثانی کے ارود فارسی اور ہندی کلام کو ’’نادرات شاہی ‘‘کے نام سے شائع کیا۔ اس کتاب کا بھی دیباچہ بہت ہی علمی ہے۔عرشی صاحب کے نادر و نایاب کتابوں کے ذخیرہ میں ایک بیش قیمت اضافہ ہے۔اس سے ہمیں شاہ عالم ثانی کے بارے میں بہت سی باتیں معلوم ہوتی ہیں ۔
انشاء اللہ خان انشاء کی مختصر کہانی سلک گہر کو بھی عرشی صاحب اپنے دیباچے کے ساتھ 1948میں اسٹیٹ پریس رام پور سے چھپوایا، محاورات کے نام سے ایک کتاب شائع کی جس میں بیگمات کے محاوروں کو جمع کیا ہے۔خان آرزو کی ’’نوارد الفاظ ‘‘میں کواتین کے محاورے اور الفاظ نقل کئے گئے تھے۔سعادت یار خاں رنگین نے بھی ’’دیوان ریختی‘‘میں بیگمات کے محاوروں کو جمع کیاتھا۔عرشی صاحب نے ’’دیوان ریختی‘‘اور ’’نوادر الفاظ‘‘کو سامنے رکھ کر ’’محاورات بیگمات‘‘ترتیب دی۔ اس کے علاوہ عرشی صاحب نے کئی عربی کتابوں کے اردو میں ترجمے کئے اور مخطوظات کو بھی مرتب کیا۔
عرشی صاحب نے شاعروں اور ادیبوں سے متعلق تحقیقی مقالات بھی لکھے مثلاً۔
——
سودا کا ایک قصیدہ اردو ادب علی گڑھ 1950
خطوط داغ، اردو ادب علی گڑھ ستمبر 1952
آنند رام مخلص کے اردو شعر، معاصر پٹنہ حصہ 1مئی 1951
مومن کا کلام فارسی۔پگڈنڈی، امرتسر جنوری 1960
ناسخ کے دفتر پریشاں کا بیش قیمت سودہ۔ قومی زبان کراچی مئی 1979
امتیاز علی خاں عرشی کی تحریروں پر اگرچہ بعض ناقدین نے اعتراز کیا ہے مگر ان کی وسیع کارنوموں کے پیش نظر انہیں صف اول کے محققین میں شمار کرنے میں کوئی ترددنہیں ۔
——
منتخب کلام
——
ہماری محفلوں میں بے حجاب آنے سے کیا ہوگا
نہیں جب ہوش میں ہم جلوہ فرمانے سے کیا ہوگا
——
بزمِ مے سے اُس کے اُٹھتے ہی نظر آنے لگا
جیسے اس کے ساتھ میخانے کا میخانہ گیا
——
برابر پھنس رہے ہیں جال میں اس کے خرد والے
نہیں جاتا جو دنیا تک تو دیوانا نہیں جاتا
——
جنوں کے ساتھ تھوڑی سی فضائے لامکاں بھی دے
مری وحشت کا اس دنیا کے ویرانے سے کیا ہوگا
اگر ہمدرد بنتے ہو تو زنجیریں ذرا کھولو
مری پابستگی پر یونہی غم کھانے سے کیا ہوگا
——
اپنی ادا کا آپ پرستار ہو گیا
وہ مستِ ناز اور طرح دار ہو گیا
جس نے جھجک سے کام لیا راہِ عشق میں
ہر ذرہ اس کے پانو کو اک خار ہو گیا
——
ہم کو اے آسماں نہ کر ضائع
جوہر کائنات ہیں ہم لوگ
——
پڑ گئی دل پر میرے افتاد کیا
عشق کافر کر گیا برباد کیا
جس کو پہروں ہوش تک آنا نہ ہو
اس میں ہوگی طاقت فریاد کیا
تجھ میں جرأت ہے تو کچھ خطرہ نہیں
کر سکے گی چرخ کی بیداد کیا
دل ہی جب اپنا ہوا ایذا‌ طلب
چاہیں اس کے ظلم کی ہم داد کیا
خواب میں بھی آپ جب آتے نہیں
رہ سکوں گا پھر بھلا میں شاد کیا
دل کو بہلانا ہی گر منظور ہو
پھول سے جنگل نہیں آباد کیا
آپ بیتی سے ہمیں فرصت نہیں
لے کے بیٹھیں قصۂ فرہاد کیا
دیکھنا ہو تو شکوۂ فقر دیکھ
شان جم کیا شوکت شداد کیا
مہرباں ہے تجھ پہ وہ کیوں ان دنوں
اس کو سمجھا عرشیؔ ناشاد کیا
——
آؤ کچھ گردش تقدیر کا شکوہ کر لیں
جس سے محروم رہے اس کی تمنا کر لیں
جس طرف دیکھیے آئینے ہی آئینے ہیں
اپنی صورت کا بصد رنگ تماشا کر لیں
حسن مجبور ہے خود جلوہ نمائی پہ مگر
مصلحت یہ ہے کہ کچھ ہم بھی تقاضا کر لیں
نونہالان چمن تشنہ نہ ہو جائیں کہیں
آؤ کچھ خون جگر اور مہیا کر لیں
جیب و داماں میں ابھی فاصلہ کچھ باقی ہے
منتیں آپ کی ہم حضرت عیسیٰ کر لیں
گل کی رگ رگ میں نظر آئے گا مالی کا لہو
وا اگر اہل نظر دیدۂ بینا کر لیں
بات عرشیؔ کی نظر آتی ہے گر اتھلی سی
امتحان اس کا نہ کیوں قبلہ و کعبہ کر لیں
——
یہ بھی پڑھیں : ممتاز ڈرامہ نگار امتیاز علی تاج کا یوم وفات
——
پھر آس پاس سے دل ہو چلا ہے میرا اداس
پھر ایک جام کہ برجا ہوں جس سے ہوش حواس
ہزار رنگ سہی پر نہیں ذرا بو باس
ہوائے صحن چمن ہم کو آئے کیسے راس
ستارے اب بھی چمکتے ہیں آسماں پہ مگر
نہیں ہیں شومئ قسمت سے ہم ستارہ شناس
کھلے ہیں پھول ہزاروں چمن کے دامن پر
نوا گران چمن کو مگر نہیں احساس
دل و جگر میں مروت سے پڑ گئے ناسور
ہمیں نہیں ہے مگر اس کے پھل سے پھر بھی یاس
گھرے ہوئے ہیں اگر برق و باد و باراں میں
تو کیا ہوا کہ کنارے کی ہے ابھی تک آس
جنوں کو اپنے چھپائیں تو کس طرح یارو
کہ تار تار ہے اس شغل پاک کا عکاس
جو بے وفائی گل سے شکستہ خاطر ہو
اسے بتاؤ کہ ہے باوفا تر اس سے گھاس
میں اس شراب محبت سے تنگ ہوں عرشیؔ
کہ جتنا پیجیے بڑھتی ہے اور اتنی پیاس
——
حسن خود جلوہ نمائی پہ ہے مجبور میاں
جانئے عشق کو ایک مجرم معذور میاں
قرب گر اور نہ بڑھ جائے تو میرا ذمہ
کھینچ کر دیکھیے اپنے کو ذرا دور میاں
مل رہی ہے ہمیں قسمت سے وہ صہبا کہ جسے
پی کے ہوتا نہیں کوئی بھی مخمور میاں
اپنی راتوں کو جو بیدار رکھا کرتے ہیں
ان کی بیداری کو درکار ہے اک صور میاں
عشق وہ نار کہ دیکھے سے دکھائی نہ پڑے
حسن وہ نور کہ رہتا نہیں مستور میاں
احترام گل و لالہ بسر و چشم مگر
بچیں کانٹوں سے یہ اپنا نہیں دستور میاں
تم جب آتے ہو تو کچھ ایسا لگا کرتا ہے
جیسے جنت سے اتر آئی ہو اک حور میاں
ہم نے سو بار بسایا اسے امیدوں سے
دل وہ بستی ہے جو رہتی نہیں معمور میاں
دار پر چڑھنے کی طاقت نہیں عرشیؔ میں ابھی
سر سے پا تک ہے شکستوں سے بدن چور میاں
——
کون گلشن میں رہے نرگس حیراں کی طرح
آؤ چمکا دیں اسے مہر درخشاں کی طرح
عمر بھر راہ نوردی کا رہا ہم کو جنوں
خار زاروں سے بھی گزرے ہیں گلستاں کی طرح
تار باقی ہیں جو دو چار گریباں میں مرے
ٹوٹ جائیں نہ کہیں تار رگ جاں کی طرح
لوگ کہتے ہیں کہ ہو باغ میں لیکن ہم کو
یاں کہ ہر شے نظر آتی ہے بیاباں کی طرح
زندگی نام ہے مر مر کے جئے جانے کا
دور ہی ہم سے رہو چشمۂ حیواں کی طرح
ہم کو بھاتا ہے چمن دل سے مگر کیا کیجے
اس میں آرام نہیں گوشۂ زنداں کی طرح
دال گلتی نہیں بستی میں ہماری عرشیؔ
آؤ ویرانے ہی میں بیٹھ لیں انساں کی طرح
——
یہ بھی پڑھیں : کوئی قسمت والا بن دا اے مہمان مدینے والے دا
——
ہماری محفلوں میں بے حجاب آنے سے کیا ہوگا
نہیں جب ہوش میں ہم جلوہ فرمانے سے کیا ہوگا
جنوں کے ساتھ تھوڑی سی فضائے لا مکاں بھی دے
مری وحشت کو اس دنیا کے ویرانے سے کیا ہوگا
ہے مر جانا کلید فتح سمجھایا تھا رندوں نے
مگر ناصح یہ کہتا ہے کہ مر جانے سے کیا ہوگا
زہے قسمت اگر حضرت خود اپنا جائزہ بھی لیں
ہماری زندگی پر تیر برسانے سے کیا ہوگا
اگر ہمدرد بنتے ہو تو زنجیریں ذرا کھولو
مری پا بستگی پر یوں ہی غم کھانے سے کیا ہوگا
در پیر مغاں چھوڑیں یہ ہم سے ہو نہیں سکتا
کوئی واعظ سے کہہ دو تیرے بہکانے سے کیا ہوگا
جسے دیکھو وہ ہے سرمست صہبائے خرد یکسر
خداوندا! یہاں اک تیرے دیوانے سے کیا ہوگا
نہیں قلب و جگر میں خون کا قطرہ کوئی باقی
عزیزو اب ہمارے ہوش میں آنے سے کیا ہوگا
دکھوں کو کھو نہیں سکتے اگر اہل خرد عرشیؔ
تو خالی سینۂ افلاک برمانے سے کیا ہوگا
——
حوالہ جات
——
تحریر : ڈاکٹر الطاف حسین نقشبندی اسسٹینٹ پروفیسر,شعبۂ ارود، سینٹرل یونی ورسٹی کشمیر
1۔دیوان غالب نسخہ عرشی کا تحقیقی و تنقیدی جائزہ، سعید احمد مشمولہ تحقیق و تدوین :سمت رفتار، مرتب ڈاکٹر محمد موصوف احمد، ص:249
2۔ایضاً۔ص 265
یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے۔۔۔

حالیہ اشاعتیں

اشتہارات

اشتہارات