اندھیرے میں سیہ شب ہوں کسی شب مجھ میں بس بھی

اندھیرے میں سیہ شب ہوں کسی شب مجھ میں بس بھی

اگر تو ابر ہے تو ٹوٹ کر مجھ پر برس بھی

 

تجھے تصویر کرنے کی اجازت چاہتا ہوں

ہے میرے پاس ایزل بھی ، برش بھی ، کینوس بھی

 

میں تیرے دھیان سے کیسے نکل پاتا کہ جب تھے

ترے پابند میرے دائیں بائیں ، پیش و پش بھی

 

فقط اس کے ہی بالوں سے گلاب اُترے نہیں ہیں

ہوئی عاری گلوں سے میرے دل کی کارنس بھی

 

سلگتی ریت پر رَم کا بڑا تھا شوق مجھ کو

ذرا اے ریگِ صحرا ! اب مِرے پائوں جھلس بھی

 

ہوائے شہر کے تیور بدلتے جا رہے ہیں

محبت کے لبادوں میں جنم لے گی ہوس بھی

 

سفر کی چاہ ہے تو نوچ مت اپنے پروں کو

نہ دیں گے ساتھ تیرا بے پری میں ہم قفس بھی

 

سپیرے نے پٹاری کھول دی یہ کہہ کے اشعرؔ

مجھے نیلا فلک ہونا ہے کالے ناگ ڈس بھی

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

اتنے مُختلف کیوں ھیں فیصلوں کے پیمانے ؟
کیسی شدت سے تجھے ہم نے سراہا ، آہا
کوئی دیکھتا ہے تو دیکھ لے، مجھے عید مِل
تم نے تو یوں بھی مجھے چھوڑ کے جانا تھا ناں؟
ڈھونڈ کر لائے تھے کل دشتِ جنوں کا راستہ
تمام اَن کہی باتوں کا ترجمہ کر کے
اس لیے بھی دُعا سلام نہیں
اِک ذرہِ حقیر سے کمتر ہے میری ذات
پا یا گیا ہے اور نہ کھویا گیا مجھے
اب اُس کی آرزو میں نہ رہیئے تمام عمر