اردوئے معلیٰ

جمیلہ ہاشمی کا یومِ پیدائش

آج اردو زبان کی ممتاز ادیبہ ، افسانہ و ناول نگار اور ماہرہ تعلیم جمیلہ ہاشمی کا یومِ پیدائش ہے۔

جمیلہ ہاشمیجمیلہ ہاشمی 17 نومبر 1929ء کو گوجرہ ضلع فیصل آباد میں پیدا ہوئی تھیں۔ ان کے والد کا نام برکت علی تھا۔ وہ کسی وجہ سے مفقود الخبر ہوگئے تو والدہ اور ننہیال نے ان کی کفالت کی۔ انہوں نے کافی عرصہ منٹگمری ( ساہیوال) میں گزارا۔
1954 میں پنجاب یونیورسٹی سے ایم اے انگریزی کی ڈ گری حاصل کی۔ تکمیل تعلیم کے بعد خانہ داری کے ساتھ ساتھ افسانہ نویسی شروع کی اور بہت جلد ادبی حلقوں میں پذ یرائی حاصل کی۔
پہلے ہی ناول ”تلاشِ بہاراں“ پر داؤد ادبی انعام ملا ۔ 1961 میں ناولٹ آتش رفتہ شائع ہوا۔ جو ایک سکھ گاؤں اور گھرانے کی ٹریجیڈی تھی۔ دوسرے ناولٹ”روہی“ میں صحرائے چولستان کے پس منظر میں محبت کی کہانی بیان ہوئی۔ ان کی ہر کہانی مختصر ہو یا طویل محبت پر مرکوز ہوتی ہے۔ محبت کرنے والی عورتیں اور ان کےاحساسات ان کا خاص موضوع تھا ۔اپنی وفات تک اردو کے افسانوی ادب میں انہیں ایک ممتاز مقام حاصل ہو گیا۔
1959 میں خانقاہ شریف ( بہاولپور) کے میاں سردار احمد اویسی سیرانی سے شادی ہوئی۔ معروف کالم نگار اور تجزیہ کار ڈاکٹر عائشہ صدیقہ آپ کی اکلوتی صاحبزادی ہیں ۔
——
یہ بھی پڑھیں :  ممتاز شاعر اور ڈرامہ نگار عدیم ہاشمی کا یوم پیدائش
——
جمیلہ ہاشمی کے ناولوں میں تلاشِ بہاراں، وداعِ بہار،دشتِ سوس، داغِ فراق، آتشِ رفتہ، چہرہ چہرہ، روہی اور افسانوی مجموعوں میں آپ آپ بیتی، جگ بیتی ،اپنا اپنا جہنم شامل ہیں۔
1961 میں پہلے ہی ناول تلاش بہاراں پرآدم جی ادبی انعام ملا۔ منصور حلاج پر ناول ’دشتِ سوس‘ اردو کے اہم ناولوں میں سے ہے۔
جمیلہ ہاشمی نے نئے فکشن رائٹرز کیلئے سردار احمد اویسی ایوارڈ کا اجرا کیا تھا۔ عائشہ صدیقہ صاحبہ اسے جاری رکھتیں تو بہتر ہوتا۔ اسے اب ’جمیلہ ہاشمی سردار اویسی ایوارڈ‘ کا نام دیا جا سکتا ہے۔
جمیلہ ہاشمی نے 10 جنوری 1988ء کو لاہورمیں وفات پائی تاہم آپ کی تدفین خانقاہ شریف ، نزد سمہ سٹہ ضلع بہاولپور میں ہوئی ۔
——۔
جمیلہ ہاشمی حیات و ادبی خدمات : محمد فرید
——
لیکچرار شعبئہ اُردو ، او پی ایف بوائز کالج ایچ ایٹ فور ، اسلام آباد، پاکستان۔
خالقِ کائنات نے انسان نامی مخلوق کے خمیر میں عقل و شعور کا مادہ رکھ کر اسے تخلیق کرنے کی قابلیت سے بہرہ مند فرما دیا۔ مختلف لوگوں نے اس تخلیقی صلاحیت کے اظہار کے مختلف ذرائع اختیار کیے۔ سائنس دانوں نے مختلف ایجادات سے بے جان دھاتوں کو انسانوں کے لیے کارآمد بنایا تومصوروں نے انسانی زندگی کو تصویروں کے قالب میں ڈھال کر امر کر دیا اس طرح ادیبوں اور شاعروں نے لفظوں کے خوب صورت پیکر تراش کر ان میں روح اور جان ڈال دی۔ روایت ہے کہ ادیب بنتا نہیں بلکہ پیدائشی ہوتا ہے ایسی ہی ایک ادیبہ جمیلہ ہاشمی ہے۔
امرتسر کے محلہ اسلام آباد میں جمیلہ ہاشمی ایک پڑھے لکھے گھرانے میں برکت علی ہاشمی کے ہاں پیدا ہوئیں ۔ وہ اپنی پیدائش کے بارے میں حمیرااطہر کو ایک انٹرویو میں بتاتی ہیں :
’’میری پیدائش ۱۷ نومبر۱۹۲۹ء گوجرہ کی ہے۔ ہم امرتسر کے رہنے والے ہیں ۔ سکھوں اور ہندوؤں کے ساتھ ہمارے گھریلو مراسم تھے۔‘‘(۱)
جمیلہ ہاشمی کے والد تاجر پیشہ شخص تھے جو کوئٹہ سے مختلف قسم کا مال لا کر امرتسر کے تاجروں کو فراہم کرتے تھے۔ انھوں نے پوری زندگی ملازمت نہیں کی۔ تقسیم ہند سے پہلے وہ امرتسر میں کپڑے کی کھڈیاں لگا کر اپنے کاروبار کومضبوط کر چکے تھے۔ تقسیم ہند نے ان کے کاروبار کو تباہ کر دیا۔ جمیلہ ہاشمی کی والدہ کانام فضل النساء تھا۔
محمداسلم لکھتے ہیں :
’’والدہ فضل النساء گورنمنٹ ہائی سکول امرتسر میں ہیڈ مسٹریس تھیں ؛ فضل النساء پہلے بچے کی پیدائش کے لیے میکے گھر میں (گوجرہ) گئی ہوئی تھیں ؛ بچی پیدا ہوئی تو اس کا نام جمیلہ رکھا گیا۔ یہ وہی جمیلہ ہیں جو بعد ازاں جمیلہ ہاشمی کے نام سے معروف ہوئیں ۔جمیلہ کی والدہ گوجرہ کی تھیں ،ان کی ایک اور بہن تھی، جمیلہ کے نانا ،نانی اور خالہ نے قادیانی مذہب اختیار کر لیا تھا لیکن فضل النساء اپنے اصل مسلک پر قائم رہیں ۔ وہ صوم وصلوۃ کی پابند راسخ العقیدہ مسلمان تھیں ۔‘‘(۲(
جمیلہ ہاشمی تین بہنوں اور دوبھائیوں میں سب سے بڑی تھیں ۔ وہ پڑھی لکھی خاتون تھیں ۔
بقول محمداسلم:
’’جمیلہ ہاشمی نے امرتسر کے ایک سکول سے میٹرک کیا؛ ایف اے اور بی اے امتحانات سٹینڈ فورڈ کالج (Stand Ford)امرتسر سے پاس کیے۔ بی اے میں ڈبل میتھ پڑھتی رہیں ؛ اس وقت شاعری بھی کرتی تھیں ۔ ۱۹۵۳ء کو ایف سی کالج سے انگریزی ادبیات میں ایم اے کیا۔‘‘(۳)
تقسیم ہند کے بعد برکت علی ہاشمی کا گھر انہ منٹگمری (موجودہ ساہیوال) میں آباد ہو گیا۔ جہاں جمیلہ کی والدہ نے اپنا ایک سکول ’’ممی کا سکول‘‘ کے نام سے بنایا۔ جمیلہ ہاشمی بھی ایم اے کرنے کے بعد درس و تدریس کے شعبے سے وابستہ ہو گئیں اور اسلامیہ ہائی سکول ساہیوال کی ہیڈ مسٹریس ہو گئیں ۔
۔۔۔۔۔۔
یہ بھی پڑھیں : امیر الاسلام ہاشمی کا یومِ پیدائش
۔۔۔۔۔۔
جمیلہ ہاشمی کی شادی ۱۸ اگست۱۹۵۹ء کو سمہ سٹہ سے تین کلومیٹر دور ،ضلع بہاولپور کے ایک گاؤں خانقاہ شریف کے سجادہ نشین ۶۰ مربعوں کے مالک اور صوبائی اسمبلی کے رکن اور کھرل قبیلے کے فرد سردار اویس احمد اویسی سے ہوئی۔۱۹۶۰ء میں ان کی پہلی اولاد ایک بیٹا ہوا جو ایک دن کے بعد ہی اللہ کو پیارا ہو گیا جس کا افسوس جمیلہ ہاشمی کو پوری زندگی رہا۔۷ اپریل ۱۹۶۶ء کو لیڈی ایچی سن ہسپتال لاہور میں ان کے ہاں ایک بچی نے جنم لیا جس کا نام عائشہ صدیقہ رکھا گیا جو ان کی اکلوتی اولاد ثابت ہوئی۔
جمیلہ ہاشمی نے ادبی سطح پر زندہ رہنے کے لیے لاہور کو اپنا مسکن بنا لیا اور ۳۱ سینٹ جان پارک لاہور کینٹ میں مستقل رہائش اختیار کر لی۔
ذوالقرنین عسکری ان کی پہلی تحریر کے بارے میں لکھتے ہیں :
’’ میرا پہلا افسانہ لیل و نہار میں ۱۹۵۷ء میں چھپا تھا۔ بقول سائرہ ہاشمی ان کا پہلا افسانہ ’’لال آندھی‘‘ تھا۔‘‘(۴)
جمیلہ ہاشمی کے ادبی سفر کو دیکھا جائے تو اس میں بہت رنگارنگی اور وسعت نظر آتی ہے۔ ان کا ناول’’ تلاش بہاراں ‘‘ (۱۹۶۱ئ)ہے۔ جس میں ہندوستانی سماج میں عورت پر صدیوں پر مبنی جبر و استحصال اور مظلومیت کو موضوع بنایا گیا ہے۔ ناولٹ ’’آتش رفتہ‘‘‘(۱۹۶۴ئ) مشرقی پنجاب کی سکھ معاشرت کے پس منظر میں لکھا گیا ہے۔ افسانوی مجموعہ ’’آپ بیتی جگ بیتی‘‘(۱۹۶۹ئ) چولستان کے پس منظر میں لکھا گیا۔ ناولٹ روہی(یہ ۶۰ صفحات پر مشتمل ایک عشقیہ کہانی ہے جو صوبہ خیبر پختونخواہ کے پٹھانوں کے ایک گاؤں کے فطری پس منظر کو بیان کرتی ہے)۔(۱۹۷۰ئ) قدیم ایرانی کی مستند ادیبہ اور متنازعہ شخصیت پر ناول’’چہرہ بہ چہرہ روبہ رو‘‘(اس میں مصنفہ نے ایران میں شاہ قاچار کے زمانے میں پیدا ہونے والے ایک مذہبی فرقے کی سرگرمیوں کے توسط سے ایک روحانی اور تاریخی کردار قرۃ العین طاہرہ کی زندگی کو موضوع بنایا ہے)۔(۱۹۸۳ئ)،حسین بن منصور حلاج پر مشہور ِ زمانہ ناول دشتِ سُوس (۱۹۸۳)،افسانوی مجموعہ رنگ بھوم(۱۹۸۷ئ) ،تین ناولٹوں پر مشتمل اپنا اپنا جہنم، افسانوی مجموعہ’’ نسبت رُت میں رو‘‘،ناول’’ جوگ کی رات‘‘ اور دیگر کئی متفرقات شامل ہیں ۔
’’تلاش بہاراں ‘‘ کو سال کا بہترین ناول قرار دیا گیا اور کرزن ہال ڈھاکا میں صدر ایوب خان نے جمیلہ ہاشمی کو آدم جی ادبی انعام سے نوازا۔ اس مقابلے میں کئی بڑے ادیبوں کے ناول بھی نامزد ہوئے(ممتاز مفتی کا’’علی پور کاایلی ‘‘ بھی)۔پہلے ہی ناول پر اتنا بڑا ادبی اعزاز حاصل کر لینے کے بعد جمیلہ ہاشمی کا ادبی قد کاٹھ بہت بڑھ گیا اور وہ ادبی حلقوں میں سراہی جانے لگی۔
جمیلہ ہاشمی بیک وقت کئی ادبی حلقوں کی رکن تھیں ۔ مثلاً جن میں حلقہ ارباب ذوق لاہور ،مری لٹریری سرکل اور سہ ماہی جریدے ’’نیادور‘‘ کے ادارتی بورڈ کی ممبر وغیرہ شامل ہیں ۔ وہ ہر سال باقاعدگی سے ’’شب ِ افسانہ‘‘ کا بھی اہتمام کرتی تھیں ۔
جمیلہ ہاشمی کے بارے میں محمد خالد اختر لکھتے ہیں :
’’وہ ان کمیاب لوگوں میں سے تھیں جو کمرے میں داخل ہوتے ہیں ت وگویا ایک اور شمع جل جاتی ہے ۔اپنی ذات میں ایک انجمن، ڈل نیس ،اکتاہٹ اور بیزاری ان کے آتے ہی اپنی راہ پکڑ لیتی تھی ۔ان کی گفتگو میں ایک ایسی رونق اور ہنگامہ خیزی کی کیفیت ہوتی تھی جو میں نے بہت کم لوگوں میں دیکھی ہے۔‘‘(۵)
جمیلہ ہاشمی کا رنگ گورا ،نقش قدرے موٹے اور ماتھا کھلا تھا کہیں جاتیں تو زیورات کا استعمال زیادہ کرتیں ۔وہ چہرے مہرے ،لباس اور وضع قطع سے بارعب نظر آتی تھیں ۔ نماز کی پابندی کرتیں ، امور خانہ داری بالخصوص مختلف پکوانوں کی تیاری میں خوب مہارت رکھتی تھیں ۔وہ مہمان نواز اور روایت پسند خاتون تھیں ۔ وہ غم خوار اور ایک سلجھی ہوئی ماں بھی تھیں ۔
اُم عمارہ ان کے اندر چھپی مشرقی عورت کو سامنے لاتے ہوئے لکھتی ہیں :
’’ہم کبھی کبھی سوچتے ،انھوں نے ’بن باس‘ لکھاہے یہ’روہی‘ اور’آتش رفتہ‘ کی خالق ہیں اور کس آرام سے گجریلا پکا رہی ہیں ۔’یہ کھا لو ہم نے تمھارے لیے پکایا ہے۔‘جنوری ۱۹۸۷ء کا آخری ہفتہ ہم نے ان کے ساتھ سمہ سٹہ میں صاحب سیر کی خانقاہ شریف میں گزارا تھا۔ سرسبز باغ، خوب صورت روشن، گلاب کی خوشبوؤں سے مہکی ہوئی فضا آم کے درختوں میں چھپا ہوا دیہاتی طرز کا بنگلہ اور اس میں رچی بسی جمیلہ ہاشمی اور عائشہ احمد۔ ایک نیا انداز ایک نیا روپ۔ یہ صاحب سیر کی خانقاہ ہے۔ ہم نے سوچا یہ جمیلہ ہاشمی کا گھر ہے ان کی خوشحالی کا منبع اور عائشہ احمد کی جڑیں یہاں ہیں ۔’ہم یہاں چادر اوڑھتے ہیں ‘۔جمیلہ نے بڑی سی چادر سر سے اتارلی۔‘‘(۶)
جمیلہ ہاشمی نے ہندوستانی معاشرہ میں عورتوں کی بدحالی خواتین کی حالت زار کی اصلاح کی ضرورت اور اصلاح کے طریقے، صنفِ نازک کی فطرت اور اس کی نفسیات ،مردوں کا سماجی تسلط اور عورتوں کی آزادی جیسے موضوعات کو اپنی تحریروں میں جگہ دے کر صنفِ مخالف کی حیثیت کو بڑھا دیا ہے۔
بقول شبنم آرا:
’’ جمیلہ ہاشمی نے مردوں کے تسلط والے سماج (Male Dominated Society)میں عورتوں کے ساتھ ہونیوالی ناانصافیوں اور امتیازات کو بھی موضوع بنایا ہے۔ہمارے معاشرے میں مرد کو آزاد حیثیت حاصل ہے مگر عورت کو نہیں ۔ مردوں نے عورتوں کوہمیشہ سے ماتحت بنا کر رکھا ہے۔ کبھی ماں ، بہن اور بیٹی کے روپ میں تو کبھی بیوی کے روپ میں اور اس ماتحتی نے اس کی شخصیت کی فکری نشوونما کو بالکل ہی پژمردہ کر دیا۔‘‘(۷)
۔۔۔۔۔۔
یہ بھی پڑھیں : رسولِ ہاشمی کا جو بھی شیدا ہو نہیں سکتا
۔۔۔۔۔۔
جمیلہ ہاشمی نے مختصر کہانیوں سے بھی اپنی علیحدہ شناخت قائم کی ۔بقول جمیل جالبی:
’’ ۱۹۵۷ء کی بات ہے کہ ہفت روزہ ’لیل ونہار‘ لاہور میں ایک مختصر سی کہانی چھپی۔ کہانی کا نام تھا ’دوخط‘ پڑھی تو اچھی لگی۔ اس کے بعد اور کئی کہانیاں اس افسانہ نگار کی پڑھیں اور وہ بھی اچھی لگیں ۔ معلوم ہوتا تھا کہ اردوافسانے میں نیا اور تازہ خون شامل ہو رہا ہے۔ جب بھی جمیلہ ہاشمی کی کوئی کہانی چھپتی میں شوق سے پڑھتا۔‘‘(۸)
جمیلہ ہاشمی کی تحریروں میں زمین اور روح ہم معنی اور ہم وزن نظر آتے ہیں ۔ اس نے کمال قدرت کے ساتھ وہ سب کچھ ہمارے تجربہ کاحصہ بنا دیا ہے جس کا ادراک ہمیں نہیں ہو سکتا تھا یا وہ ہمارے تجربہ کا حصہ بن بھی جاتا تو شاید اس کی نوعیت اس طرح نہ ہوتی جس طرح جمیلہ ہاشمی کے قلم نے اسے ہماری یادوں کاحصہ بنا دیا ہے۔ شاید یہ وہ منزل ہے کہ جسے ادب کے Canvasپر یادوں ، الفاظ، ریاضت اور کامیاب صورت گری کے ذریعے ممکن بنایا جا سکتا ہے۔ جمیلہ ہاشمی کے متخیلہ کی پرواز کافی اونچی ہے۔
محمدعلی صدیقی لکھتے ہیں :
’’ جمیلہ ہاشمی کا متخیلہ رومانوی ہے ۔بعض اوقات رومانوی متخیلہ حقیقت کی اپنے طور پر تعبیر کرتی ہے۔ ہم کہہ سکتے ہیں کہ جمیلہ ہاشمی نے ’فصل کے بجائے وصل‘ کے جذبات کو اہمیت دی اور ہر مصنف کو یہ حق حاصل ہونا چاہیے کہ وہ اپنے کرداروں کے لیے ایک ایسی’تاریخ‘ کو تخلیق کرے جو ان کرداروں کے لیے ضروری اور مفید بھی ہو۔‘‘(۹)
جمیلہ ہاشمی کو انگریزی ادب سے بہت لگاؤ تھا ۔وہ اسے ادب کوسمجھنے اور اچھا ادب تخلیق کرنے کے لیے خشت اوّل سمجھتی تھیں نیز انھیں اپنی ایم اے انگریزی کی سند پر بھی ناز تھا۔
حمیرا اطہر کو اپنے انٹرویو میں بتاتی ہیں :
’’جو انگریزی کا ایم اے نہیں ہے وہ اچھا رائٹر نہیں ہو سکتا۔ یہاں بات محض ڈگری حاصل کرنے کی نہیں ۔ بلکہ انگریزی ادب کا مطالعہ کرنے کی ہے۔ انگریزی پڑھ کر لکھنے کا شعور آتا ہے۔ کیونکہ بھرپور اور جان دار ادب انگریزی ہی میں ملتا ہے۔‘‘(۱۰)
جمیلہ ہاشمی آخری عمر میں اسپین کے عروج و زوال پر ناول لکھنا چاہتی تھی انھوں نے اس سلسلے میں اندلس کی تاریخ سے متعلق کئی کتب خرید کر ان کا مطالعہ بھی شروع کر دیا تھا۔ ستار طاہر لکھتے ہیں :
’’جمیلہ ہاشمی کی عمر انسٹھ برس تھی اور دشتِ سُوس جیسے بڑے تخلیقی ناول کے بعدوہ اندلس پر ایک بڑے تخلیقی کام کا آغاز کر چکی تھیں کہ انھیں موت نے آ لیا۔‘‘(۱۱)
جمیلہ ہاشمی نے بنگال، انگلینڈ، اسپین، فرانس، ایران، عراق، سعودی عرب اور امریکہ جیسے ملکوں کے سفر بھی کیے اور دنیا کو انتہائی قریب سے دیکھا۔ وہ مشکلات کا مقابلہ کرنے والی بہادر خاتون تھیں ۔آخری عمر میں انھیں شوگر ،آنکھوں ،بلڈ پریشر اور دل کے بڑھنے جیسے عوارض لاحق ہو گئے تھے جن کی وجہ سے ان کی طبیعت اکثر خراب رہنے لگی تھی۔ ان کی زندگی کے آخری لمحات کے بارے میں محمد اسلم لکھتے ہیں :
’’۹ جنوری ۱۹۸۸ء کو رات ساڑھے دس بجے کے قریب اچانک جمیلہ ہاشمی کی طبیعت خراب ہو گئی۔ خون میں شکر کی مقدار
۳۹۶ ہو گئی تھی جس کے باعث دل و دماغ اعتدال میں نہیں رہے تھے۔ گھریلو علاج سے افاقہ نہ ہونے کے بعد محمد یعقوب
خان، سائرہ ہاشمی ،ہمایوں یعقوب خان اور عائشہ صدیقہ انھیں میو ہسپتال لاہور میں لے گئے؛ تمام رات پریشانی میں گزری۔
ای ۔سی۔جی مشین کی رپورٹ مایوس کن تھی؛ صبح سائرہ ہاشمی نے سیاہ بکرے کا صدقہ اتارا؛ جمیلہ ہاشمی بدستور سکتے میں تھیں ؛
ڈاکٹروں کی سرتوڑ کوششیں مریضہ کو جانبر نہ کر سکیں :۱۰ جنوری ۱۹۸۸ء کو دن کے ایک بج کر تین منٹ پر جمیلہ ہاشمی کی روح
عنصر خاکی سے پرواز کر گئی۔ انا للہ و انا الیہ راجعون ۔‘‘(۱۲)
۔۔۔۔۔۔
یہ بھی پڑھیں : مشہور فلمی شاعر فیاض ہاشمی کا یوم پیدائش
۔۔۔۔۔۔
جمیلہ ہاشمی کی و فات سے اردو ادب کے ایک عہد کا خاتمہ ہو گیا لیکن وہ آج بھی اپنی ُپر اثر تحریروں کی بدولت اردو ادب کے قارئین کے دلوں میں زندہ ہیں ۔
——۔۔۔۔۔۔۔
حواشی
۱۔ حمیرا اطہر:جمیلہ ہاشمی سے ملاقات؛ کراچی؛ اخبارخواتین( ہفت روزہ)؛۷ تا۱۳ اکتوبر۱۹۸۷ئ؛ ص۲۰
۲۔ محمداسلم:جمیلہ ہاشمی کاافسانوی ادب؛ اسلام آباد؛علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی؛مقالہ برائے ایم فل اردو؛ ۱۹۹۶ئ؛ ص۲۴۷
۳۔ ایضاً:ص۲۴۸
۴۔ ذوالقرنین عسکری،سید: جمیلہ ہاشمی بحیثیت ناول نگار؛ بہاول پور؛ اسلامیہ یونیورسٹی؛مقالہ برائے ایم اے اردو واقبالیات؛ ۱۹۸۸ئ؛ص۳۰
۵۔ محمدخالد اختر: آتش رفتہ؛ لاہور؛ماہ نو(مجلہ)؛اکتوبر۱۹۸۸ئ؛ص۱۸
۶۔ ام عمارہ: یادوں کاسفر؛ کراچی؛قومی زبان(مجلہ)؛فروری ۱۹۸۸ئ؛ص۳۲
۷۔ شبنم آرا: تانیثیت کے مباحث اور اردو ناول؛ دہلی؛ ایجوکیشنل پبلشنگ ہاؤس؛ ۲۰۰۸ئ؛ص۲۳۲۔۲۳۴
۸۔ جمیل جالبی،ڈاکٹر: یادرفتگاں : جمیلہ ہاشمی ؛کراچی؛ قومی زبان(مجلہ)؛مارچ ۱۹۸۸ئ؛ ص۷
۹۔ محمدعلی صدیقی: جمیلہ ہاشمی فن کے آئینے میں ؛ لاہور؛ نقوش (مجلہ)؛شمارہ ۱۴۰؛ص۶۰۵
۱۰۔ حمیرااطہر:جمیلہ ہاشمی سے ملاقات؛ ص۲۰
۱۱۔ ستار طاہر: جمیلہ ہاشمی چندیادیں ،چندتاثرات؛لاہور؛اردو ڈائجسٹ(مجلہ)؛فروری۱۹۸۸ئ؛ص۲۱۹
۱۲۔ محمداسلم:جمیلہ ہاشمی کاافسانوی ادب؛ ص۲۵۶۔۲۵۷
یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ