اردوئے معلیٰ

آج نامور شاعر سراج الدین ظفر کا یوم پیدائش ہے۔

(پیدائش: 25 مارچ 1912ء – وفات: 6 مئی 1972ء)
——
سراج الدین ظفر 25 مارچ، 1912ء کو جہلم، برطانوی ہندوستان (موجودہ پاکستان) میں پیدا ہوئے ۔ ان کی والدہ بیگم زینب عبد القادر خود بھی اردو کی ایک مشہور مصنفہ تھیں اور ان کے نانا فقیر محمد جہلمی سراج الاخبار کے مدیر اور حدائق الحنیفہ جیسی بلند پایہ کتاب کے مصنف تھے۔ 1928ء میں میٹرک اور 1930ء میں ایف سی کالج لاہور سے ایف اے کیا۔ پھر کالج کی تعلیم چھوڑ کرہوابازی کی تعلیم شروع کی اور دہلی فلائنگ کلب سے ہوابازی کا اے کلاس لائسنس حاصل کیا۔ والد کے ناگہانی انتقال کے وجہ سے یہ سلسلہ منقطع کرنا پڑا۔ 1933ء میں ایف سی کالج سے بی اے کیا۔ 1935ء میں ایل ایل بی کیا۔ ابتدا میں انھوں نے وکالت شروع کی، لیکن جلد ہی اس پیشہ سے ان کی طبیعت اکتا گئی۔ دوسری جنگ عظیم میں افسر کی حیثیت سے ہوائی فوج میں بھرتی ہوگئے اور دس برس تک متعدد عہدوں پر فائز رہے۔ 1950ء میں اس ملازمت کو خیرباد کہا اور تجارت کی طرف متوجہ ہو گئے،
سراج الدین ظفر نے افسانے بھی لکھے اور شاعری بھی کی۔ وہ لب و لہجے کے حوالے سے بے حد منفرد شاعر تھے۔ شباب اور شراب ان کا خاص موضوع تھا۔ نئی نئی زمینیں تلاش کرنا اور ادق قافیوں میں رواں دواں شاعری کرنا انہی کا اسلوب تھا۔
1950 ء سے 1958 ء تک سراج الدین ظفر صاحب نے انگریزی ، اردو اور تاریخ کی کم و بیش چالیس درسی کتب تصنیف یا مرتب کیں ۔
1952ء میں سراج الدین ظفر انجمنِ ناشران و تاجرانِ کتب کراچی کے صدر منتخب ہوئے ۔
1956 ء میں سراج الدین ظفر کراچی بک سیلرز ایسوسی ایشن کے صدر منتخب ہوئے ۔
1957 ء میں سراج الدین ظفر جسٹس آف پِیس مقرر ہوئے ۔
1960 ء میں کراچی فلم سنسر بورڈ کے رکن نامزد ہوئے ۔
1961 ء میں سراج الدین ظفر نے تمغۂ خدمت پایا ۔
1964 ء میں پاکستان بُک سیلرز ایسوسی ایشن کراچی زون کے صدر منتخب ہوئے ۔
سراج الدین ظفر صاحب انگریزی میں بھی شعر کہتے ہیں ۔ آپ کا انگریزی کلام نیو ورلڈ رائٹنگ نیویارک میں شائع ہو کر ریویو آف ریویوز لنڈن جیسے مقتدر رسائل سے خراجِ تحسین وصول کر چکا ہے ۔
شاعری کے علاوہ آپ کو تاریخِ فلسفہ ، علم النفس ، علمِ نجوم اور روحانیت بھی شغف تھا ۔
آپ متعدد ایشیائی اور یورپی ممالک کی سیاحت کر چکے تھے ۔
سراج الدین ظفر 6 مئی، 1972ء کو کراچی، پاکستان میں وفات پا گئے۔ وہ کراچی میں فوجی قبرستان میں سپردِ خاک ہوئے ۔
——
حرفِ شوق از سراج الدین ظفر ، کتاب : غزال و غزل
——
میری شاعری میرے مزاج اور میری فلسفۂ حیات کے مطابق ہے ۔ میرے نزدیک زندگی ایک طوفانی ندی کی طرح ہے جو سراپا شوق ہو کر چیختی گاتی چلی جا رہی ہے ۔ وقت کے ناکے پر اس کے شوق کو ٹھہراؤ نہیں ہے ۔ حوادث کی قد آور چٹانوں سے ٹکرا کر وہ چیختی ہے لیکن راستہ بدل کر آگے نکل جاتی ہے ۔
آسودگی کے سر سبز و شاداب میدانوں سر گزر کر وہ گاتی ہے لیکن یہاں بھی اسے قیام نہیں ۔
اُس کا یہ سفرِ شوق کہیں ختم نہیں ہوتا جب تک وہ اس بحرِ بیکراں تک نہ پہنچ جائے جس کا ایک کنارہ ازل ہے تو دوسرا ابد ۔
اور یہاں پہنچ کر وہ اُس نورِ حقیقی سے مل جاتی ہے جو اُس کا منبع بھی ہے اور مرجع بھی ۔ اس طوفانی سفر میں وہ اپنی آلودگی حوادث کی قد آور چٹانوں کی پیشانی پر چھوڑ جاتی ہے اور جب بحرِ نور تک پہنچتی ہے تو خود بھی بقعۂ نور ہوتی ہے ۔
زندگی کا یہ سفرِ شوق تاریخِ انسانیت ہے اور منزلِ شوق معراجِ انسانیت ۔ میری شاعری زندگی کی اسی طوفانی ندی کا زمزمہ ہے ۔ اُسی طرح کھولتا ، کف اُڑاتا اور طرارے بھرتا ہوا ۔ اُسی طرح ازلی ابدی اور لامتناہی ۔ میری شاعری کی منزل اِسی ندی کی منزل ہے اور میری شاعری کا مقصد اسی ندی کا مقصد یعنی
شوق ، شوق ، شوق
میرے نغمۂ شوق کو شِنیدگی یا ناشِنیدگی کی پرواہ نہیں ۔ ندی دوسروں کے لیے نہیں گاتی ۔ اس کا گانا تو صرف اس کے اشتیاق کا تقاضا ہے ۔ لیکن اگر گوشِ دل وا ہو تو اِسی بے مقصدیت میں ایک مقصد ہے ۔ ندی کی سراپا اشتیاق آوازوں میں ہزاروں اسرار پوشیدہ ہیں ۔ اِس گپھا کے اسرار سے لے کر جہاں سے وہ چلی ہے ، اس بحر کے اسرار تک جہاں وہ جا رہی ہے ۔
میرے خیالات کو کوئی صحیح سمجھے یا غلط مجھے اس سے سروکار نہیں ہے ۔ اپنے اعتقاد کو دوسروں پر ٹھونسنے کا جذبہ مجھ میں ہے ہی نہیں ۔ نہ میں کوئی رہنما ہوں نہ مجھے اصلاح کا دعویٰ ہے ۔
——
رموزِ مملکتِ خویش خسرواں دانند
فقیرِ گوشہ نشینی تو حافظاؔ مخروش
——
جس طرح میرے خیالات بیشتر لوگوں سے جدا ہیں ، میرا اسلوبِ شاعری بھی جدا ہے ۔ میں نے غزل کے روایتی قالب کی حدود میں رہ کر غزل کی دوسری سب روایتوں کے تانے بانے کو توڑ کر رکھ دیا ہے ۔
ندی اپنے کناروں کی حدود میں ضرور رہتی ہے لیکن اُس کا اشتیاق کسی حد کا پابند نہیں ہے ۔ میرا اسلوب غزل کا اسلوب نہیں ہے ، میرے فرطِ شوق کا اسلوب ہے ۔
میرا شوق الفاظ کے لُغتی معانی کا اسیر نہیں ۔ یہ انہیں اپنے وضع کردہ معانی دیتا ہے ۔ الفاظ میرے شوق کے روبرو نئے معانی کی پازیب پہن کر رقص کرتے ہیں اور لغتی معانی کو روندتے چلے جاتے ہیں ۔
دیر و حرم ، شاہد و گل ، مے و میخانہ ، غزال و غزل ، زلف و گیسو ، سب میرے شوق کے استعارے ہیں ، وہ استعارے جو شوق کی مختلف کیفیات کی طرف اشارہ کرتے ہیں ۔
اس شعر کو لیجیے :
——
کُھلتا نہ تھا کہ کیا ہے خمِ زُلفِ دلبراں
کل رات ناگہاں یہ معما بھی حل ہوا
——
شاہدِ ازلی کی زلف کی کوئی چھوٹی سی گرہ کبھی کبھی کسی صاحبِ شوق و نظر کے ناخنِ ادراک سے اتفاقاََ کُھل جاتی ہے اسی طرح :
——
وہ شاخِ سمن صبح کو تھی نقشِ سعادت
جس سے ترے دھوکے میں ہم آغوش رہے ہم
——
اشتیاق کی سعادت آفریں کیفیت صاحبِ شوق کے ماحول پر بھی اثر انداز ہوتی ہے ۔ یا یہ شعر : ؏
——
ہم اُس جہاں میں تھے کل شب کسی کے ساتھ کہ لوگ
صبا کی طرح بھٹکتے ، جو جستجو کرتے
——
استغراق صاحبِ شوق کو وہاں پہنچا دیتا ہے جہاں بے ذوق نہیں پہنچ سکتے ۔ یا یہ شعر :
——
آج اُن سے ہے ملاقات کا قصد
کچھ سرِ تختۂ گُل طے ہو گا
——
شوق کی بے تابی اکثر فیصلہ طلب ہوتی ہے ۔ یا یہ شعر :
——
جام اٹھا کر کیجیے رقص ابرِ نیساں کی طرح
جو صدف آئے نظر اُس میں گُہر رکھ دیجیے
——
والہانہ شوق میں فیض رسانی کا جذبہ بھی موجود ہے ۔ یا پھر :
——
اپنا سبُو بھی آئینۂ جم سے کم نہیں
رکھیں جو روبرو ، خبر شش جہات دے
——
سرُورِ شوق بے خبری نہیں سراپا خبر ہے ۔ یا پھر :
——
کھول کر بندِ قبائے گُل رُخاں
حمدِ ربِ لایزالی کیجیے
——
شوق کے ہر پیچیدہ مسئلے کے حل کے بعد شکر گزار ہونا اقبالِ عبودیت ہے ۔ یا پھر :
——
یوں زندگی پہ میری نظر ہے کہ جس طرح
اک جسمِ مرمریں کے نشیب و فراز پر
——
شوق حوادث کے چہرے میں بھی حسن کے نقوش دیکھتا ہے ۔ اسی طرح :
——
پھر پریشاں ہو کوئی زلفِ سمن بو اور ہم
رات بھر تحقیقِ اسبابِ پریشانی کریں
——
جذبۂ تحقیق و جستجو کے بغیر شوق کا مقصد پورا نہیں ہوتا ۔ لیکن شوق کے میدان میں تحقیق و جستجو کوئی آسان کام نہیں ۔
——
کیا سنواریں گیسوئے تحقیقِ حق
اور کُھل جاتے ہیں جوں جوں باندھیے
——
سب اصنافِ سخن میں استغراق کی ضرورت ہے ۔ لیکن غزل میں یہ ضرورت انتہائی شدید ہو جاتی ہے ۔ غزل وہ واحد صنف ہے جس میں شاعر تحت الشعور کی اتھاہ گہرائیوں تک پہنچ کر گوہرِ مضمون نکالتا ہے ۔ اس امتیاز سے غزل بمنزلۂ الہام ہے جو ایک رِند کو ولی کا رتبہ دے سکتی ہے ۔
لیکن کوئی میرے کلام کو ایک رِند کا کلام سمجھ کر پڑھے یا صوفی کا یہ اس کا اپنا شعور ہے ۔
——
ھر کسے ازظنِ خود شُد یارِ من
وز درونِ من نہ جُست اسرارِ من
——
شاید کسی کو میرے کلام میں تصوف کے نکات کے مقابلے میں رِندی کے نقوش ہمالیہ کی طرح اُبھرے ہوئے نظر آئیں ۔ ایسی صورت میں میری یہی گزارش ہے کہ :
——
ذوقِ گُل و سبو میں قباحت کی کیا ہے بات
ہم اس معاملے میں ذرا تیز ہی سہی
——
منتخب کلام
——
سبوئے جاں میں چھلکتا ہے کیمیا کی طرح
کوئی شراب نہیں عشقِ مصطفیٰ کی طرح
——
اٹھا ساغر کہ مذہب ہے تو دینِ مے گُساراں ہے
یہاں مسجودِ شب بھر دولتِ سجدہ گُزاراں ہے
یہاں تا صبح ہے تسبیحِ گیسو دستِ رنداں میں
یہ مے خانہ نہیں صحبتِ شب زندہ داراں ہے
——
ہم جستجوئے حق میں جدھر سے گزر گئے
برپا وہیں قیامتِ دار و رسن ہوئی
——
اِدھر سے ہو کے گزرتی تو ہم بہار کے ساتھ
غزال بن کے غزالوں کی جستجو کرتے
——
ہر شہر کو نہ قالبِ جنت میں ڈھال دے
آدم کو اس جہاں سے بھی یارب نکال دے
میں جا رہا ہوں رقص کُناں بزمِ سوئے دوست
کونین کو کوئی مرے قدموں میں ڈال دے
——
کیوں چھوڑ کے درگاہِ مغاں جاتے ہو
ٹھکرا کے سب اسرارِ جہاں جاتے ہو
وہ رِند ہوں میخانے سے اٹھوں جو کبھی
روتی ہے صُراحی کہ کہاں جاتے ہو
——
آیا جو تذکرے میں جہنم کے میرا نام
حُوروں کو آرزوئے ملاقات ہو گئی
——
اے زُہد فروشوں کے لیے مصدرِ انعام
کچھ رِند کے بارے میں بھی ارشاد کیا جائے
یارو کوئی ایسا غلط اقدام کہ جس سے
آئندہ زمانوں میں ہمیں یاد کیا جائے
——
کچھ لوگ ہیں ہماری کرامت سے منحرف
لاؤ شراب اِن کو کرامت دکھائیں ہم
——
اربابِ نظر دیکھے ، پیرانِ حرم دیکھے
رِندوں کی طرح لیکن پہنچے ہوئے کم دیکھے
خلوت میں نہیں جن سے اُمیدِ کرم کوئی
جلوت میں کوئی اُن کا اندازِ کرم دیکھے
——
پردۂ روئے دوست اٹھا ، شوق کو بے پناہ کر
زُہد بھی جھوم جھوم اٹھے ، ایسا کوئی گُناہ کر
دی ہے سروش نے جو آج آمدِ دوست کی نوید
عرش سے کہکشاں اتار اور اسے فرشِ راہ کر
——
پیدا ہر ایک پیچ میں اک بات ہو گئی
کل شب وہ زلف حرف و حکایات ہو گئی
وقفِ امورِ خیر رہی سرزمینِ دل
بت خانہ اٹھ گیا تو خرابات ہو گئی
پہنچے جو بے خودی کے مراتب کو حسن و عشق
دونوں میں رات بھر کو مساوات ہو گئی
اپنے محیطِ ذات میں گُم ہو گئے جو ہم
اک ذاتِ بے کراں سے ملاقات ہو گئی
کیا کیا نہ شب کسی کی نظر میں تھا جزر و مد
دنیا ابھی تھی نفی کہ اثبات ہو گئی
میخانے سے چلی تھی کوئی بے خودی کی بات
آ کر حرم میں کشف و کرامات ہو گئی
اُتری نہ تھی سبُو میں تو کچھ بھی نہ تھی شراب
اُتری سبُو میں معرفتِ ذات ہو گئی
آئی نہ عاشقی میں فراست بروئے کار
بے کار دولتِ نظریات ہو گئی
دن بھر تو تھی قضا کے حوالے عنانِ وقت
شب کو سپردِ رندِ خوش اوقات ہو گئی
کنجِ گل و سمن سے نہ اٹھے قدح گُسار
جب تک کسی سے طے نہ کوئی بات ہو گئی
آیا جو تذکرے میں جہنم کے میرا نام
حُوروں کو آرزوئے ملاقات ہو گئی
خورشید کا ہیولیٰ ءِ منفی تھا میرا جام
جب طاق سے طلوع ہوا رات ہو گئی
سوداؔ کی ہو زمیں کہ ولیؔ کی زمیں ظفرؔ
میں نے غزل کہی تو خرابات ہو گئی
——
اصلاحِ اہلِ ہوش کا یارا نہیں ہمیں
اس قوم پر خدا نے اتارا نہیں ہمیں
ہم مے گُسار بھی تھے سراپا سخا و جود
لیکن کبھی کسی نے پکارا نہیں ہمیں
دل کے معاملات میں کیا دوسروں کو دخل
تائیدِ ایزدی بھی گوارا نہیں ہمیں
رندِ قدح گسار بھی ہیں بُت پرست بھی
قدرت نے کس ہُنر سے سنوارا نہیں ہمیں
دردِ فراق مظلمۂ مستقل سہی
عرضِ وصال بھی تو گوارا نہیں ہمیں
اک وہ کہ سو نمود و نمائش کے اہتمام
اک ہم کہ احتیاجِ نظارا نہیں ہمیں
ڈھونڈیں کہاں سحر کو تمہیں اے غزالِ شب
اب نام بھی تو یاد تمہارا نہیں ہمیں
آزادہ رو ہیں مسندِ عرشِ بریں سے ہم
اُترے ہیں خود کسی نے اُتارا نہیں ہمیں
گُم صُم ہے کس خیال میں اے روحِ کائنات
اب تو نے مدتوں سے پکارا نہیں ہمیں
اتنا تو حوصلہ تھا کہ کھینچیں ردائے دوست
اب ہاتھ کھینچتے ہیں تو یارا نہیں ہمیں
اب کیا سنور سکیں گے ہم آوارگانِ عشق
صدیوں کے جبر نے تو سنوارا نہیں ہمیں
ہاتھوں میں ہے ہمارے گریبانِ کائنات
لیکن ابھی جنوں کا اشارہ نہیں ہمیں
اک ورطۂ بلا ہی سہی شورشِ حیات
اس ورطۂ بلا سے کنارا نہیں ہمیں
خُوبانِ شہر آؤ کہ دنیا سے کچھ لگاؤ
بے شاہدانِ انجمن آرا نہیں ہمیں
آغوشِ گُل ہمارے لیے کائنات ہے
ارمانِ اصفہان و بخارا نہیں ہمیں
کھینچی اگر تو ہوش میں کھینچیں گے زلفِ دوست
منظور بے خودی کا سہارا نہیں ہمیں
ڈھونڈو کوئی نئی روشِ شاعری ظفر
اسلُوب دوسروں کا گوارا نہیں ہمیں
——
ہم آہوان شب کا بھرم کھولتے رہے
میزان دلبری پہ انہیں تولتے رہے
عکس جمال یار بھی کیا تھا کہ دیر تک
آئینے قمریوں کی طرح بولتے رہے
کل شب ہمارے ہاتھ میں جب تک سبُو رہا
اسرار کِتم راز میں پَر تولتے رہے
کیا کیا تھا حل مسئلۂ زندگی میں لطف
جیسے کسی کا بند قبا کھولتے رہے
ہر شب شبِ سیاہ تھی لیکن شراب سے
ہم اس میں نورِ صبحِ ازل گھولتے رہے
پوچھو نہ کچھ کہ ہم سے غزالان بزم شب
کس شہر دلبری کی زباں بولتے رہے
ہم متقیٔ شہرِ خرابات رات بھر
تسبیحِ زلفِ ماہ وشاں رولتے رہے
کل رات مُلتفت تھے اِدھر کچھ نئے غزال
ہم بھی نظر نظر میں انہیں تولتے رہے
تا صبح جبرائیل کو اَزبر تھا حرف حرف
راتوں کو جو سرور میں ہم بولتے رہے
اتنی کہانیاں تھیں کسی زُلف میں کہ ہم
ہر رات ایک دفترِ نو کھولتے رہے
کل رات میکشوں نے توازن جو کھو دیا
خطِ سبُو پہ کون و مکاں ڈولتے رہے
پہلے تو خود کو عشق میں حل ہم نے کر دیا
پھر عشق کو شراب میں ہم گھولتے رہے
روکا ہزار بزم نے ہنگامِ مے کشی
ہم تھے کہ رازِ ارض و سما کھولتے رہے
کل شب تھا ذکر حور بھی ذکر بتاں کے ساتھ
زہد و صفا ادھر سے ادھر ڈولتے رہے
اپنا بھی وزن کر نہ سکے لوگ اور ہم
روح ورائے روح کو بھی تولتے رہے
سرمایۂ ادب تھی ہماری غزل ظفرؔ
اشعار نغز تھے کہ گہر رولتے رہے
——
اُس زلف کا اعجاز کسی کام نہ آیا
میں رندِ بلا نوش تہہِ جام نہ آیا
کل رات معمائے خمِ کاکلِ خوباں
جب تک نہ ہوا حل ، مجھے آرام نہ آیا
اُس بندِ قبا کا جو ہوا مسئلہ درپیش
مے خوار کا کوئی بھی ہنر کام نہ آیا
اُس رات ستاروں میں بھی دیکھا گیا ٹھہراؤ
جس رات کو گردش میں مرا جام نہ آیا
مے خانے کا ہنگام نمونہ تھا ابد کا
گزرا بھی تو تحتِ سحر و شام نہ آیا
اُس زلف کو کھینچا نہ گیا تا بہ حدِ شوق
کچھ ولولۂ دل بھی مرے کام نہ آیا
کل رات مجھے اُس نے کنایت سے کیا یاد
کی بات کچھ اس طرح ، مرا نام نہ آیا
کیا فیصلۂ عشق ہو نقدِ دل و جاں پر
اس کا بھی مزا بے درم و دام نہ آیا
وہ بُخل شکر بخشیٔ لب میں تھا کہ مجھ کو
اس نسخۂ صدری سے بھی آرام نہ آیا
بت خانہ تو تھا ہی مرا گرویدۂ اخلاص
میں حُجلۂ حُوراں سے بھی ناکام نہ آیا
ساغر کی اماں میں تھا مرا کوکبِ اقبال
زیرِ اثرِ گردشِ ایام نہ آیا
خود ٹوٹ گیا بندِ قبا بے خبری میں
صد شکر مرے ہاتھ پہ الزام نہ آیا
لمحہ جو ترے ساتھ گزارا سو ابد تھا
تعریف میں ماضی کی یہ ہنگام نہ آیا
کل رات وہ نقشِ ازلی جام کی تہہ سے
اُبھرا تو سہی تا بہ لبِ جام نہ آیا
عالم ہے یہ اب بے خبری کا کہ کسی نے
پوچھا تو مجھے یاد ترا نام نہ آیا
تھا گوشۂ زنداں کی طرح عالمِ اسباب
تا عمر مری روح کو آرام نہ آیا
چھلکا کے سبو ہم نے خزاں کا بھی دیا ساتھ
لب پہ گلۂ گردشِ ایام نہ آیا
کھولا تھا کبھی پیرہنِ دُختِ کنشتاں
پھر راس مجھے جامۂ احرام نہ آیا
وہ رازِ جنوں جو مرے سینے میں تھا محفوظ
وحشت کے بھی عالم میں سرِ عام نہ آیا
کل شب مجھے جبریل کی آمد کا تھا احساس
دیکھا تو نظر کچھ بھی سرِ جام نہ آیا
ہم جال بچھاتے ہی رہے زہد و وَرع کے
وہ آہوئے اسرار تہہِ دام نہ آیا
آئینہ جو دل کا ہوا عکاسِ بدی بھی
کچھ صیقلِ آئینہ پہ الزام نہ آیا
میں رند تھا مے خانے نے بخشا مجھے اعزاز
شاہوں سے مجھے خلعت و انعام نہ آیا
بہکا بھی جو میں حرفِ گزارش نہ ہوا خبط
کچھ گفتگوئے شوق میں اِبہام نہ آیا
جو میری غزل سے ہوا مسحور پھر اس کو
لطفِ قصصِ دارا و بہرام نہ آیا
تھا صاحبِ اسرار و کرامت تو ظفرؔ بھی
لیکن یہ قدح خوار سرِ عام نہ آیا
——
شعری انتخاب اور ٹائپنگ : اردوئے معلیٰ
بحوالہ : غزال و غزل ، متفرق صفحات
یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے۔۔۔

حالیہ اشاعتیں

اشتہارات

اشتہارات