شعرِ مدحت کی مجھے کاش یہ قیمت دی جائے

شعرِ مدحت کی مجھے کاش یہ قیمت دی جائے

یعنی خوشنودیٔ آقا کی بشارت دی جائے

 

اک نگاہِ کرمِ خاص کی پاؤں میں خبر

محفلِ شاہ کو دیکھوں وہ بصارت دی جائے

 

شعر لفظوں میں ڈھلیں اور اجالے ہوں رقم

بے عمل فکر کو تعبیر میں حَرَکت دی جائے

 

دور رہ کر جو کرے مدح و ثنائے سرور

عرضِ طیبہ کی اُسے مُزْد میں، قربت دی جائے

 

سامعیں پائیں دل و جاں میں عجب سا طوفان

میرے افکار کو کچھ ایسی حرارت دی جائے

 

بابِ جبریلؑ پہ پہنچوں تو پکاروں آقا

بوسۂ پا ئے مبارک کی اجازت دی جائے

 

شعرِ مدحت سے ہر اک سمت اُجالے ہوں اگر

فکرِ روشن کو پنپنے کی سعادت دی جائے

 

غلغلہ سیرتِ سرور کا ہر اک جانب ہو

یوں عزیزؔ اُن کی غلامی کی شہادت دی جائے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

کیا ذکر محمد نے تسکین دلائی ہے!
کارِ دشوار
اک عالمگیر نظام
منہ میں زباں ، زبان میں نعتِ رسول ہے​
وہ آ گئے ہیں نبیؐ ہمارے یہ کہہ رہی ہے ہوا کی خوشبو
رنگ بکھرے ہیں مدینہ میں وہ سرکار کہ بس !
سر سے پا تک ہر اَدا ہے لاجواب
کیا کریں محفل دلدار کو کیوں کر دیکھیں
مقامِ مصطفیٰؐ، اللہ ہی اللہ
محبت کا وہ بحرِ بیکراں ہیں

اشتہارات