شہرِ بطحا کی یاد آتی ہے

شہرِ بطحا کی یاد آتی ہے

مجھ کو ہر پل بڑا رُلاتی ہے

 

کاش! مِل جائے اِذن طیبہ کا

آرزُو ہے کہ بڑھتی جاتی ہے

 

اِس طرف بھی کرم کی ایک نظر

غَم کی دُنیا مجھے ستاتی ہے

 

عیب کاری میں مُبتلا ہے جاں

ہائے! راحت کہیں نہ پاتی ہے

 

قبر وحشت کی جا ہے کیا ہو گا

فکر جاں لیوا ہے، ڈراتی ہے

 

دُور بیٹھا ہوں جو مدینے سے

ہائے! ہائے! یہ عیب ذاتی ہے

 

لاج رکھیں گے حشر میں آقا

یہی اُمید ڈر مِٹاتی ہے

 

اب تو آ جائیں دِل کی دھڑکن بھی

آپ کو ہر گھڑی بُلاتی ہے

 

اِس لیے مانگتا ہوں رحمت ہی

اُن کی رحمت سدا نِبھاتی ہے

 

نعت کہنا رضاؔ عقیدت سے

یہ مِری ماں مجھے سکھاتی ہے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

سوال : حُسن کی دنیا میں دیجیے تو مثال؟
محمدؐ کا حُسن و جمال اللہ اللہ
حُسن کی تشبیہ کے سب استعارے مسترد
جاری ہے فیض شہر شریعت کے بابؑ سے
آئے بیمار جو دَر پر تو شِفا دیتے ہیں
بے خُود کِیے دیتے ہیں اَندازِ حِجَابَانَہ​
مرحبا! رحمت دوامی پر سلام
تاجدار جہاں یا نبی محترم (درود و سلام)
دوستو! نور کے خزینے کا
جو ان کے ہونٹوں پہ آ گیا ہے ، وہ لفظ قرآن ہوگیا ہے