عمل میں حسنِ عمل کی جھلک ضروری ہے

عمل میں حسنِ عمل کی جھلک ضروری ہے

وگرنہ سیرتِ آقا سے محض دوری ہے

 

رہے حضور کا اس طرح دھیان صبح و مسا

میں کہہ سکوں کہ مُیسَّر مجھے حضوری ہے

 

کلامِ رب کی سند سے ہے روشنی جس میں

ہر اک ادائے رسولِ کریم نوری ہے

 

مرا عمل بھی کبھی سیرتِ نبی میں ڈھلے

جہاں پکار اُٹھے اتباع پوری ہے

 

فراقِ طیبہ بہت شاق ہے طبیعت پر

حضور ! قلبِ حزیں، وقفِ ناصبوری ہے

 

کوئی علامتِ طیبہ رسی نظر آئے

تو کہہ سکوں یہ گھڑی ہجر کی عبوری ہے

 

عقیدتوں کی نگارش میں احتیاط احسنؔ

مدیحِ شہ میں بڑا جرم بے شعوری ہے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

نہ قیدِہست نہ صدیوں کی حد ضروری ہے
تصور میں مدینے کی فضا ہے اور میں ہوں
حسن اتم ہو پیکر لطف تمام ہو
پڑا ہے اسمِ نبی سے رواج حرفوں کا
اے کریم! نادم ہوں، شرم ہے نگاہوں میں
معجزاتِ کن فکاں کا ایک ہی مفہوم ہے
مصطفی جان رحمت پہ لاکھوں سلام
کلفتِ جاں میں ترے در کی طرف دیکھتا ہوں
جو فردوس تصور ہیں وہ منظر یاد آتے ہیں
بے چین ہوں مدت سے مجھے چین عطا ہو

اشتہارات