مست و بے خود ہوائیں طیبہ کی

مست و بے خود ہوائیں طیبہ کی

عِطر اَفشاں فضائیں طیبہ کی

 

کھینچ لیتی ہیں اپنی ہی جانب

مرحبا! سب ادائیں طیبہ کی

 

چھائی ہیں ہر طرف کرم بن کر

آسماں پر گھٹائیں طیبہ کی

 

خود کو پائیں نہ ہم ہمیں ساقی!

مَے کچھ ایسی پلائیں طیبہ کی

 

اب تو آقا جی پوری ہو جائیں

اِلتجائیں، دُعائیں طیبہ کی

 

کاش! طیبہ میں ہی رضاؔ مِل کر

ہم صدائیں، لگائیں طیبہ کی

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

آپﷺ آئے تو مہک اٹھا بصیرت کا گلاب
تیرا نادان آقا کوئی اور ہے
جب ان کے روضۂ اقدس کو بند آنکھوں سے تکتے ہیں
کرم کا خاص وسیلہ ہے ذکرِ شاہِ انام
نہ قیدِہست نہ صدیوں کی حد ضروری ہے
تصور میں مدینے کی فضا ہے اور میں ہوں
حسن اتم ہو پیکر لطف تمام ہو
پڑا ہے اسمِ نبی سے رواج حرفوں کا
اے کریم! نادم ہوں، شرم ہے نگاہوں میں
معجزاتِ کن فکاں کا ایک ہی مفہوم ہے