ڈاکٹر نذیر قیصر کا یوم وفات

آج ماہر اقبالیات ڈاکٹر نذیر قیصر کا یوم وفات ہے

ڈاکٹر نذیر قیصر(پیدائش: 30 اکتوبر، 1922ء- وفات: 24 فروری، 2013ء)
——
ڈاکٹر نذیر قیصر کی علمی و ادبی خدمات
——
ڈاکٹر نذیر قیصر کی شخصیت کئی پہلوؤں سے اُجاگر ہے۔ آپ بیک وقت ماہر فلسفہ‘ ماہر تعلیم اور ماہر نفسیات تھے جن کی فکر کا ہر پہلو فکرِ اقبال سے مزین تھا۔ اقبال شناسوں میں آپ ایک خاص مقام رکھتے ہیں۔ جنہوں نے نہ صرف فلسفہ‘ تعلیم اور نفسیات کو فکرِ اقبال کی کسوٹی پر پَرکھا بلکہ آپ خود بھی اس کا عملی مظہر تھے۔کم عمری میں ہی سخت کوشی کو نہ صرف اپنا شعار بنایا بلکہ تا حیات جہدِ مسلسل کو جاری و ساری رکھا۔ جہاں علامہ اقبال کی فکر نے اپنے کے لیے نئی راہیں متعین کیں وہیں آپ نے بھی اقبالیات میں نئے زاویے تخلیق کیے جن کی بدولت نہ صرف افکارِ اقبال کے گمشدہ پہلو عیاں ہوئے بلکہ تحقیق کے نئے انداز بھی متعارف ہوئے۔
ڈاکٹر نذیر قیصر ۳۰ اکتوبر ۱۹۲۲ء کو ایمن آباد ‘ ضلع گوجرانوالہ میں پیدا ہوئے۔ آپ کے والدِ گرامی کا نام ملک فضل دین اور والدۂ ماجدہ کا نام حسین بی بی تھا۔
آپ نے میٹرک تک تعلیم اسلامیہ ہائی سکول‘ ایمن آباد میں ہی حاصل کی۔ اُس کے بعد آپ لاہور تشریف لے آئے اور پھر تاحیات اسی شہر کو آپ نے اپنا مسکن بنائے رکھا۔ایف۔اے سے ایم۔ اے تک تعلیم اسی شہر میں حاصل کی ۔حصولِ تعلیم کے لیے آپ نے دیارِ غیر کابھی سفر کیا اور۵۸۔۱۹۵۷ء میں لندن یونیورسٹی کے شعبہ تعلیم سے Post Graduate Certificate in Education مکمل کیا اسی دوران آپ نے مانٹیسوری نظامِ تعلیم میں بھی ڈپلومہ حاصل کیااور بعد ازاں آپ نے پنجاب یونیورسٹی ‘ لاہور سے ۱۹۷۷ء میں تحقیقی مقالہ بعنوان ’’اقبال کے مذہبی فکر پر رومی کا اثر‘‘ (انگریزی) پرڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی۔
آپ نے مختلف کانفرنسوں اور اجلاسوں میں شرکت کی جن میں تعلیم ‘ فلسفہ ‘اقبالیات اور نفسیات کے موضوعات پر بات کی۔ اس حوالے سے علامہ اقبال کے صد سالہ جشن پیدائش پر ۲تا ۸ دسمبر ۱۹۷۷ء تک پنجاب یونیورسٹی ‘ لاہور میں ہونے والی بین الاقوامی کانفرنس اہم ہے‘ جس میں آپ نے علامہ اقبال کی شخصیت اور اُن کے افکار پر اُنہیں ایک ماہر نفسیات(نفسیاتی معالج) کے طور پر پیش کیا۔
اسلامیہ ہائی سکول‘ ایمن آباد میں آپ کو صوفی نذر محمد کی صحبت میسر آئی ۔ صوفی نذر محمد کو خود بھی شاعری سے لگاؤ تھا جس کا اثر یہ ہوا کہ بچپن میں آپ نے کئی شعرائے کرام کا کلام نہ صرف سنا بلکہ یاد بھی کیا۔ اس صحبت کا آپ پر اتنا گہرا اثر رہا کہ آپ نے خود بھی جوانی میں اشعار کہے لیکن بعد ازاں شاعری ترک کر دی۔ پہلے پہل آپ نے اپنی شاعری کے لیے تخلص ’حسرت صحرائی‘ رکھا لیکن بعد کی غزلوں میں تخلص’قیصر‘ ہو گیا۔ ایف ۔سی کالج‘ لاہور میں آپ کی دو غزلیں کالج میگزین’فولیو‘ میں مارچ ۱۹۵۵ء اور مارچ ۱۹۵۶ء میں شائع ہوئیں۔
——
یہ بھی پڑھیں :
——
یورپ سے واپسی پر آپ کی بارہ غزلیں ہفت روزہ ’لیل و نہار‘ میں شائع ہوئیں۔ آپ کی ایک غزل پیش ہے:
——
سکوتِ شام میں جب کائنات ڈھلتی ہے
کسی کی یاد خیالوں کے رُخ بدلتی ہے
مری نگاہ نے وہ محفلیں بھی دیکھی ہیں
جہاں چراغ کی لَو تیرگی اُگلتی ہے
بڑھا ہے جب سے بہاروں کی سمت دامنِ شوق
خزاں بھی سرحدِ گلشن سے بچ کے چلتی ہے
ابھی سے راھزنوں کے سلوک پر تنقید
ابھی تو مشعلِ رھبر لہُو سے جلتی ہے
اب اور کون سنے گا صدائے زخم بہار
صبا بھی پیکرِ گلشن پہ خاک ملتی ہے
نہ جانے کس لیے گُھٹنے لگا ہے دم قیصرؔ
سماں بھی مہکا ہوا ہے ‘ ہوا بھی چلتی ہے
——
ڈاکٹر صاحب نے اکثر مقامات پر علامہ اقبال کی شاعری کا انگریزی ترجمہ بھی کیا ہے۔ جو آپ کی شاعری سے دلچسپی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ مثلاً علامہ اقبال کامندرجہ ذیل شعردیکھیں اور نیچے انگریزی زبان میں ڈاکٹر صاحب کا ترجمہ بھی ملاحظہ فرمائیے:
——
جس کا عمل ہے بے غرض اس کی جزا کچھ اور ہے
حور و خیام سے گذر‘ بادہ و جام سے گذر!
"The reward of one who does sincere action is something different; thus you should go beyond Houris, wine and
glass.”
——
بطور ماہر تعلیم آپ کی کاوشوں کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ آپ نے لاہور میں سرسید کیمبرج سکول کی بنیاد رکھی۔ آپ کے مطابق مسلمان جب تک جدید سائنسی تعلیم حاصل نہیں کرتے وہ اقوامِ عالم کی صف میں کھڑے نہیں ہو سکتے۔ آپ کے نزدیک وہ تعلیم نہایت ضروری تھی جس میں عملی طور پر بھی بچوں کو تیار کیا جائے اس ضمن میں آپ نے مانٹیسوری نظامِ تعلیم کو اپنے سکول میں متعارف کروایا۔ سکول کی ترقی کے لیے آپ نے دن رات محنت کی۔بعد ازاں سکول کی دوسری شاخ ۱۹۶۶ء میں گلبرگ ‘ لاہور میں قائم کی۔ بچوں کی تعلیم و تربیت پر آپ کی نگاہ بہت گہری تھی آپ کا بیان ہے کہ
’’ شروع سے ہی بچوں کی شخصیت نفسیاتی طور پر تعمیر کرنی چاہیے۔ جس قسم کی قوم ہم چاہتے ہیں اسی مقام سے شروع ہوگی۔ میرا یہ پختہ یقین ہے کہ قیامِ پاکستان کے بعد اگر ہم Child Education ہی کو سنبھالا دے دیتے اور بچوں کی ذہنی نشوونما کرتے تو ہماری نئی نسل مثالی ہوتی‘‘۔
ڈاکٹر نذیر قیصر نے فکرِ اقبال کے فروغ کے لیے ’’اقبال فورم انٹرنیشنل‘‘ کی بنیاد ۱۹۸۳ء میں رکھی۔ اس تنظیم کے اجلاس ہر عیسوی ماہ کے آخری بدھ کو اُن کی رہائش گاہ گلبرگ‘ نزد حسین چوک‘ لبرٹی مارکیٹ‘ لاہور میں منعقد ہوتے ۔جس میں معروف دانشوروں‘ ماہرین فلسفہ و اقبالیات اور علمی و ادبی شخصیات نے اپنے تحقیقی مقالات و مضامین پڑھے۔
لاہور میں گزشتہ چار دہائیوں سے فروغِ فکرِ اقبال کی یہ کاوش لائقِ تحسین ہے۔آپ کی وفات کے بعد یہ سلسلہ تھما نہیں بلکہ آپ کے فرزند ڈاکٹر شہزاد قیصر اس تنظیم کو بہ احسن طریق سے چلا رہے ہیں۔ ڈاکٹر شہزاد قیصر مارچ ۲۰۱۷ء میں گلبرگ سے ڈیفنس ہاؤسنگ اتھارٹی‘ لاہور منتقل ہوئے‘ جس کے باعث اقبال فورم انٹرنیشنل کے ماہانہ اجلاس اب اُن کی موجودہ رہائش گاہ پر ہی منعقد ہوتے ہیں۔اس تنظیم کے پہلے صدر ڈاکٹر نذیر قیصر خود تھے لیکن بعد ازاں اُنہوں نے ڈاکٹر عبدالخالق کو اس تنظیم کا صدر بنایا‘ جنہوں نے تقریباً بیس برس تک یہ فرائض سر انجام دئیے۔ اس کے بعد محترمہ عطیہ سید اس تنظیم کی صدر بنیں۔ اب حال ہی میں جون ۲۰۱۹ء کے ماہانہ اجلاس میں اقبال فورم انٹرنیشنل کی تنظیمِ نو کی گئی ہے‘ جس کے بعد ڈاکٹر شہزاد قیصر کا انتخاب بحیثیت صدر کے کیا گیا ہے۔
ڈاکٹر نذیر قیصر کی تالیفات پر اگر نظر ڈالی جائے تو بحیثیت ایک اقبال شناس کے اُنہوں نے اقبالیات کے اُن گوشوں کو اُجاگر کیا ہے جن پر دوسرے ماہرین اقبالیات نے کم توجہ دی ہے۔آپ کا یہ طرۂ امتیاز ہے کہ آپ نے مغربی مفکرین کی فکر کا گہرا مطالعہ کیا اور پھر فکرِ اقبال سے اُس کا موازنہ پیش کیا۔آپ نے اپنی تحریروں اور تصانیف میں اس بات پر زور دیا کہ علامہ محمد اقبال کی فکر کا بنیادی مآخذ قرآن ہے اور اُن کے افکار کسی بھی لحاظ سے مغربی دُنیاکے مفکرین سے مستعار نہیں لیے گئے۔آپ یہ بات بھی بآور کرواتے ہیں کہ اگرکوئی تصور اقبال اور مغربی مفکرین کے ہاں کچھ مماثلت رکھتا ہے تو اُس کی وجہ اسلامی دُنیا کے مفکرین ہیں جنھوں نے وہ تصورات مغربی مفکرین سے قبل پیش کیے تھے۔آپ اپنی تحقیق سے یہ ثابت کرتے ہیں کہ مغربی دُنیا نے بھی علمی روشنی اسلامی مفکرین اور اسلامی فکر سے ہی حاصل کی تھی جس کا اظہار کئی مغربی مفکرین اپنی کتب میں کر چکے ہیں۔آپ کے مطابق مغربی فکر میں روحانیت کا فقدان ہے جس کی وجہ سے وہ فکراپنی ایک حد سے آگے بڑھنے سے قاصر ہے۔
ڈاکٹر نذیر قیصر بطور ایک ماہرنفسیات کے ذہنی علاج کے حل کے لیے ایک نیا طریقۂ علاج متعارف کرواتے ہیں جسے وہ قرآنک سائیکوتھراپی اور ایگو تھراپی کا نام دیتے ہیں۔آپ اسی ضمن میں ذہنی علاج کا حل علامہ اقبال کے تصورِ خودی کے ذریعے ہی پیش کرتے ہیں۔ خودی کے جن عوامل پر ڈاکٹر صاحب نے قلم اُٹھایا ہے اُن کا تعلق اُس کے ذریعے ذہنی علاج کا حصول ممکن بنانا ہے۔ علامہ اقبال کے کلام میں خودی کے ضمن میں ’مقصدِ حیات‘ کو اہمیت حاصل ہے۔علامہ اقبال کے نزدیک زندگی کا راز تگ و دو میں پوشیدہ ہے۔ اس کی اصل آرزو میں پنہاں ہے۔ زندگی میں اگر کوئی مقصد نہ ہو تو زندگی بے فائدہ ہو جائے گی۔اس لیے ڈاکٹر نذیر قیصر تحریر کرتے ہیں کہ:
’’یہ مقصد ہی ہے جس کی بدولت خودی خاص قدروں کو چنتی اور رَد کرتی ہے بغیر مقصد کے خودی پختگی ‘
آزادی اور بقائے دوام حاصل نہیں کر سکتی‘‘۔
ڈاکٹر نذیر قیصر کی تمام تصانیف کا اگر بغور جائزہ لیا جائے تو ہمیں ایک انتہائی اہم پہلو دکھائی دیتا ہے اور وہ ہے ’شخصیت کی تعمیر‘۔ ڈاکٹر صاحب نے اس پہلو کو اپنی فکر کا خاص موضوع بنا کر پیش کیا ہے۔ ڈاکٹر نذیر قیصر علامہ اقبال کے تصورِ فقر کو خودی کا عملی مظہر گردانتے تھے۔ فکرِاقبال سے سائیکو تھراپی اور اقبال کے فلسفہ فقر سے ذہنی علاج آپ کو ایک منفرد مقام دلاتا ہے۔ جس کی نظیر آپ سے قبل اقبالیات میں موجود نہیں۔ اقبال کا تصورِ فقر کس قدر کارآمد ہے اور دورِ جدید میں کس طرح انسان کا نفسیاتی اور ذہنی علاج اقبال کے تصورِ فقر سے کیا جا
سکتا ہے‘ آپ اس کا اظہار اپنے ان الفاظ میں کرتے ہیں:
——
یہ بھی پڑھیں : یہ آرزو ہے جب بھی کُھلے اور جہاں کُھلے
——
’’بظاہر اس صورتحا ل کا اقبال کے فلسفہ فقر(جو کہ دوسرے معنوں میں اسلام کا فلسفہ فقر ہے) سے کوئی تعلق نظر نہیں آتا لیکن اگر موجودہ دور کی سائیکوتھراپی کا بغور مطالعہ کریں تو اس کے بعض نہایت مکتبہ ہائے فکر فقر کی قدروں کی تائید کرتے نظر آتے ہیں‘‘۔
بحیثیت ایک ماہر نفسیات جب ڈاکٹر نذیر قیصر فقر کے ذریعے نفسیاتی علاج کی بات کرتے ہیں تو وہ اُن عوامل کو اپنا خاص موضوع بناتے ہیں جن فکرِاقبال میں بھی وضاحت کی گئی۔ علامہ اقبال نے خودی کی تعمیر میں بھی اُن پہلوؤں کو روشناس کروایا جن کی بنیاد پر ڈاکٹر صاحب نفسیاتی علاج کا حل بتاتے ہیں۔ ڈاکٹر صاحب کی تصانیف میں ان پہلوؤں کی موضوع کے اعتبار سے وضاحت ہوتی ہے۔ جیسا کہ خدا پر ایمان‘ تخلیقی مقصدِ حیات‘ جدوجہد اور معاشرہ سے تعلق وغیرہ۔آپ یہ بھی واضح کرتے ہیں کہ ایسی اقدار کو اپنانے والے نفسیاتی
مریض نہیں ہو سکتے۔ سائیکو تھراپی کے ضمن میں آپ تحریر کرتے ہیں کہ:
’’میرے نزدیک ان اقدار کو اپنانے والے بمشکل مریض بن سکتے ہیں۔ مقامِ حیرت ہے کہ ماڈرن سائیکو تھراپی کے کچھ مکتبہ ہائے فکر میں ان اقدار پر عمل کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ یہ اس فلسفہ سے تو آشنا نہیں مگر وہ جن اقدار پر عمل کرنے کی سفارش کرتے ہیں۔ اس سے اس فلسفہ فقر کی صریحاً تائید ہوتی ہے۔ یہاں پر یہ یاد دہانی ضروری ہے کہ فلسفہ فقر زندگی بسر کرنے کے ایک رویہ یا روش کا نام ہے اور اس رویہ کو اپنانے سے انسان میں تبدیلی رونما ہوتی ہے ۔ وجودی سائیکوتھراپی کے اعتبار سے صحت مند رویہ ایک صحت مند ذہن کے لیے اشد ضروری ہے‘‘۔
ڈاکٹر نذیر قیصر کو ایک منفرد اعزاز یہ بھی حاصل ہے کہ اقبالیاتی ادب پر دیا جانے والا صدارتی اقبال ایوارڈ حاصل کرنے والے وہ واحد اقبال شناس ہیں جن کو یہ ایوارڈ دو مرتبہ مل چکاہے۔آپ کی جن کتب پر یہ ایوارڈ دیا گیا اُن میں Iqbal and the Western Philosophers اور Iqbal Today شامل ہیں۔ آپ کا ڈاکٹریٹ کا تحقیقی مقالہ پاکستان کے علاوہ بھارت سے بھی شائع ہو چکا ہے جبکہ اسی تحقیقی مقالہ کا فارسی ترجمہ ایران میں شائع ہوا‘ جسے ایران میں Season Book کے ایوارڈ سے بھی نوازا گیا ۔ اس کے علاوہ آپ کی تین دوسری کتب کے فارسی تراجم ایران میں شائع ہو چکے ہیں ۔ ان چاروں کتب کے فارسی تراجم معروف ایرانی اقبال شناس ڈاکٹر محمد بقائی ماکان نے کیے ہیں۔ ان چاروں کتب کے فارسی تراجم سے بلاشبہ ایران میں جہاں علامہ اقبال کی فلسفیانہ فکر کو بیان کیا گیا ہے وہاں ڈاکٹر نذیر قیصر کی کتب کے حوالہ جات موجود ہیں۔بلاشبہ ایران میں جہاں اقبال شناسی کی روایت کی ایک تاریخ رقم ہوئی ہے وہاں ڈاکٹر نذیر قیصر شناسی نے بھی جنم لیا ہے۔ ڈاکٹر نذیر قیصر کا کام اس پذیرائی کا حق دار تھا کہ پاکستان سے باہر بھی اُن کے کام کو ترجمہ کیا جاتا تاکہ فکرِاقبال کے فروغ میں اُن موضوعات کو بھی غیر ملکی قارئین تک پہنچایا جائے۔ آپ ہی کی تصانیف کے فارسی تراجم کی بدولت علامہ محمد
اقبال اب ایران میں ایک مفکر‘ ایک ماہر نفسیات اور ایک ماہر تعلیم کے طور پر بھی پہچانے جاتے ہیں۔
اب اس پہلو کی ضرورت ہے کہ ڈاکٹر نذیر قیصر کی انگریزی کتب کے اُردو تراجم بھی کیے جائیں تاکہ وہ طبقہ جو اُردو زبان سے آشنا ہے‘ اُس تک بھی ڈاکٹر صاحب کی فکر کی رسائی ہو۔ آپ کی تالیفات میں آپ کا محققانہ انداز ظاہر ہوتا ہے جس کا ثبوت یہ ہے کہ آپ نے علامہ اقبال کی نہ صرف شاعری سے حوالہ جات پیش کیے ہیں بلکہ علامہ اقبال کی نثر سے بھی مستند حوالوں کو پیش کیا ہے۔ آپ نے ایک بچے کی نفسیات کو پرکھنے سے لے کر ایک بڑے آدمی کی شخصیت کے تعمیر کے پہلوؤں کو اپنے نظریات میں اُجاگر کیا ہے اور یہی علامہ اقبال کی فکر کا نچوڑ بھی ہے۔ آپ نے عملی طور پر اقبال کی فکر کو اپنایا۔آپ خودداری‘ عشق‘ فقر‘ جرأت‘ حریت اور قرآن کے تصورِ شکر کی عملی تصویر تھے۔
آپ جم خانہ کلب‘ لاہور کے ممبر بھی تھے اور وہاں کی سرگرمیوں میں بھی بھرپور حصہ لیتے تھے۔ سماجی سرگرمیوں میں بھی خوب حصہ لیتے۔ آپ اقبال اکادمی پاکستان کے تاحیات رکن تھے۔ پنجاب یونیورسٹی‘ لاہور کے alumini ممبر اور پاکستان فلاسیفیکل کانگرس کے ایگزیکٹیو ممبر بھی تھے جبکہ اسلامی فلاسیفیکل ایسوسی ایشن کے بانی ممبران میں سے تھے۔ آپ نے حجاز ہسپتال‘ لاہور میں اپنی زوجہ اصغری خانم کے نام سے آنکھوں کی وارڈ تعمیر کروائی۔ نظریۂ پاکستان‘ علامہ اقبال اور قائداعظم محمد علی جناح سے آپ کو بے حد عقیدت تھی۔آپ نظریۂ پاکستان ٹرسٹ کے بانیوں میں سے تھے۔ آپ نے اس ادارے کی مالی مدد بھی کی اور اپنی خصوصی دلچسپی کے باعث پچیس لاکھ روپیہ کی خطیر
رقم سے وہاں ایک کتب خانہ بھی تعمیر کروایا۔ اس کتب خانہ کا نام آپ کے نام پر ڈاکٹر نذیرقیصر لائبریری رکھا گیا۔
ڈاکٹر نذیر قیصر کا انتقال ۲۴فروری ۲۰۱۳ء کو لاہور میں ہوا۔ آپ کا نمازِ جنازہ لبرٹی مارکیٹ‘ لاہور کی جامع مسجد حنفیہ میں اداکی گئی ‘ جس میں اقبالیات‘ فلسفہ‘ تعلیم‘ نفسیات‘ ادب‘ قانون کے ماہرین کے علاوہ عوام الناس کی ایک بڑی تعداد موجود تھی۔آپ کی تدفین ایچ بلاک‘ گلبرگ‘ لاہور(نزد فردوس مارکیٹ) کے قبرستان میں کی گئی۔آپ کی وفات کی خبر اگلے روز شہر کے اخبارات میں شائع ہوئی۔آخر
میں مَیں پروفیسر فتح محمد ملک کے اس بیان پر بات کا اختتام کرتا ہوں:
——
یہ بھی پڑھیں :  بلندی پر وہی فائز ہے جس کا بول ہے بالا
——
’’مجھے یقین ہے کہ ڈاکٹر نذیر قیصر کی دکھائی ہوئی اس راہ پر گامزن ہو کر ہم پاکستان‘ دُنیائے اسلام اور دُنیائے انسانیت کا مستقبل سنوار سکتے ہیں۔ آئیے‘ ڈاکٹر نذیر قیصر کی قیادت میں‘ آج ہی‘ اس سفر پر
روانہ ہو جائیں!‘‘۔
ڈاکٹرنذیر قیصر کی کتب کے نام درج ذیل ہیں:
——
1-Rumi’s Impact on Iqbal’s Religious Thought
2-A Critique of Western Psychology and Psycotherapy and Iqbal’s Approach
3-Realization of Iqbal’s Educational Philosophy in Montessori System
4-Iqbal: A Philosophical Psychotherapist and Beyond
5-Creative Dimensions of Iqbal’s Thought
6-Iqbal and the Western Philosophers
7-Iqbal Today
۸۔اقبال اور ذہنی علاج
۹۔فکرِ اقبال کے تحقیقی پہلو
ایران میں شائع ہونے والی کتب کے فارسی تراجم جو ڈاکٹر محمد بقائی ماکان نے کیے:
۱۔اقبال و شش فیلسوف غربی
۲۔معنای زندگی از نگاہِ مولانا و اقبال
۳۔نقدروان شناسی و روان در مانی غرب از نگاہِ اقبال
۴۔بالندگی شخصیت کودک از نگاہ اقبال لاہوری و مونتہ
——
منتخب کلام
——
سکوتِ شام میں جب کائنات ڈھلتی ہے
کسی کی یاد خیالوں کے رُخ بدلتی ہے
مری نگاہ نے وہ محفلیں بھی دیکھی ہیں
جہاں چراغ کی لَو تیرگی اُگلتی ہے
بڑھا ہے جب سے بہاروں کی سمت دامنِ شوق
خزاں بھی سرحدِ گلشن سے بچ کے چلتی ہے
ابھی سے راھزنوں کے سلوک پر تنقید
ابھی تو مشعلِ رھبر لہُو سے جلتی ہے
اب اور کون سنے گا صدائے زخم بہار
صبا بھی پیکرِ گلشن پہ خاک ملتی ہے
نہ جانے کس لیے گُھٹنے لگا ہے دم قیصرؔ
سماں بھی مہکا ہوا ہے ‘ ہوا بھی چلتی ہے
یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ