اردوئے معلیٰ

خالد محبوب کا یوم پیدائش

آج خوب صورت لب و لہجے کے نوجوان شاعر خالد محبوب کا یوم پیدائش ہے

خالد محبوبخوبصورت لب و لہجے کے شاعر محمد خالد جو کہ ادبی دنیا میں خالد محبوب کے نام سے علیحدہ پہچان رکھتے ہیں، آپ یکم جنوری 1982ءکو بہاولپور میں پیدا ہوئے۔ تجارت کے پیشے سے منسلک ہیں. شاعری کاباقاعدہ آغاز 2012 میں کیا. اور بہت کم وقت میں اپنی الگ پہچان بنانے میں کامیاب ہوئے
خوبصورت لب و لہجے کا یہ شاعر خالد محبوب جتنے خوبصورت اشعار کہتا ہے اس سے کہیں زیادہ ملنسار اور نفیس طبیعت کا حامل ہے ۔
———-
منتخب کلام
———-
لفظ خود نعت کے امکان میں آ جاتے ہیں
جب بھی سرکار مرے دھیان میں آ جاتے ہیں
ذکر ان کا ہو تو ہر سانس مہک جاتی ہے
پھول احساس کے گلدان میں آ جاتے ہیں
ہم تعارف کے بھی محتاج نہیں دنیا میں
انکی نسبت ہی سے پہچان میں آ جاتے ہیں
آنکھ جب چومتی ہے لفظ تو میرے آقا
مسکراتے ہوئے قرآن میں آ جاتے ہیں
خواب میں بھی جو مدینے سے پلٹتا ہوں میں
چند آنسو مرے سامان میں آ جاتے ہیں
بات ناموس رسالت کی اگر آ جائے
ہم کفن باندھ کے میدان میں آ جاتے ہیں
آپ کی پیروی کرنے سے کھلا ہے مجھ پر
ضابطے جینے کے انسان میں آ جاتے ہیں
———-
یہ بھی پڑھیں : نظر کا دھوکہ ہے نام و نمود لا موجود
———-
رقم اتنی اکٹھی ہو گئی تھی
مگر وہ چیز مہنگی ہو گئی تھی
ہم اتنی گرمجوشی سے ملے تھے
ہماری چائے ٹھنڈی ہو گئی تھی
تمھارے بعد جتنا روئے تھے ہم
طبیعت اتنی اچھی ہو گئی تھی
سمجھ کر ہم دوائی پی گئے تھے
تمھاری بات کڑوی ہو گئی تھی
پلٹ آنا ہی بنتا تھا وہاں سے
ہمارے ساتھ جتنی ہو گئی تھی
ہوئی تھی دیر سے ہم کو محبت
ہماری جلد شادی ہو گئی تھی
سبھی محبوب اٹھ کر جا رہے تھے
کہانی اتنی لمبی ہو گئی تھی
———-
تم یہ سمجھ رہے تھے نشانے پہ آ گیا
میں گھوم پھر کے اپنے ٹھکانے پہ آ گیا
دربان سے الجھنے کا یہ فائدہ ہوا
باہر وہ میرے شور مچانے پہ آ گیا
تعریف اس کے کام کی مہنگی پڑی مجھے
وہ شخص اپنے دام بڑھانے پہ آ گیا
تصویر اسکی گھر میں لگانے کی دیر تھی
مالک مکان مجھ کو اٹھانے پہ آ گیا
پھر یوں ہوا کہ پیاس ہی محبوب مر گئی
جس وقت میں کنویں کے دہانے پہ آ گیا
———-
چھوڑ جائیں گے قافلے والے
ہم تو ہیں پیڑ راستے والے
خواب پہلی اذان پر ٹوٹا
ہم تھے دریا میں کودنے والے
دیکھ ! آیا ہوا ہے آنکھوں میں
زہر کانوں میں گھولنے والے
آپ سے اپنا اک تعلق ہے
ہم نہیں لوگ واسطے والے
اک زمانہ تھا عید آنے پر
ہم مناتے تھے روٹھنے والے
مجھ کو تسلیم کیوں نہیں کرتے
میری تصویر چومنے والے
شرم سے آپکی جھکی پلکیں
ورنہ تو ہم تھے ڈوبنے والے
ہر قدم پھونک پھونک رکھنا ہے
دیں نہ دیں ساتھ مشورے والے
ڈھیل دینے سے بچ گئے محبوب
ورنہ رشتے تھے ٹوٹنے والے
———-
خوش ہیں بچے ناشتہ موجود ہے
گھر میں کھانا رات کا موجود ہے
تم چلے جاؤ گے تو دیکھیں گے ہم
کیا نہیں ہے اور کیا موجود ہے
بات میری تم سمجھ سکتے نہیں
گھر میں کیا کوئی بڑا موجود ہے
دل دھڑکتا ہے تمھارے نام پر
آج بھی یہ سلسلہ موجود ہے
واسطہ دوں گا نہ اپنے پیار کا
جانا ہے تو راستہ موجود ہے
مجھ کو طعنہ بے وفائی کا نہ دیں
آخری خط آپ کا موجود ہے
بات جو اس میں نہیں بنتی میاں
دوسرا بھی قافیہ موجود ہے
———-
یہ بھی پڑھیں : جتنا دیا سرکار نے مجھ کو اتنی مری اوقات نہیں
———-
ٹھوکر سے دوسروں کو بچانے کا شکریہ
پتھر کو راستے سے ہٹانے کا شکریہ
اب یہ بتائیں آپ کی میں کیا مدد کروں
فرضی کہانی مجھ کو سنانے کا شکریہ
میرے بہت سے کام ادھورے نہیں رہے
اے دوست اتنے روز نہ آنے کا شکریہ
تنہا نہیں رہا ترے جانے کے بعد میں
کچھ اجنبی غموں سے ملانے کا شکریہ
اتنی خوشی ملی کہ سنبھالی نہیں گئی
دو چار لمحے مجھ پہ لٹانے کا شکریہ
محبوب تیرے ہجر میں کرتا ہوں شاعری
مجھ کو کسی ٹھکانے لگانے کا شکریہ
یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ