اردوئے معلیٰ

ہری چند اختر کا یوم وفات

آج معروف شاعر پنڈت ہری چند اختر کا یوم وفات ہے

پنڈت ہری چند اختر(پیدائش: 15 اپریل، 1901ء- وفات: 1 جنوری، 1958ء)
——
پنڈت ہری چند اختر (1901-1958) ایک معروف اردو غزل گو شاعر ہونے کے ساتھ ساتھ جو ایک معروف صحافی بھی تھے۔ وہ 1901ء میں ہوشیارپور، پنجاب میں پیدا ہوئے تھے۔ ان کے اردو کے استعمال میں روانی تھی۔ انہیں فارسی اور انگریزی زبانوں پر بھی عبور تھا۔
انہوں نے میٹرک کے بعد جلد ہی منشی فاضل کا امتحان پاس کیا اور بعد ازاں جامعہ پنجاب سے ایم اے (انگریزی) ڈگری حاصل کی ہے۔ انہوں نے پارس، لاہور کی ایک لمبے وقت تک ادارت کی تھی جس کے مالک لالہ کرم چند تھے۔ وہ بھی پنجاب لیجسلیٹو اسمبلی کے دفتر میں ملازم بھی تھے۔ پاکستان کے قیام کے بعد وہ دہلی منتقل ہوئے تھے۔ 1958ء میں ان کا انتقال ہو گیا تھا۔
پنڈت ہری چند اختر بنیادی طور پر روایتی شکل میں لکھتے تھے۔ ان کی غزلیں ان کی سادگی کے لیے منفرد تھے۔ کفروایمان کے عنوان سے غزلوں کا ایک مجموعہ ان کی زندگی کے دوران شائع کیا گیا تھا۔
——
بشکریہ وکی پیڈیا
——
یہ بھی پڑھیں : معروف افسانہ نگار اور ناول نگار منشی پریم چند کا یومِ پیدائش
——
پنڈت ہری چند اختر کی غزلیہ شاعری کے منفی کردار – ڈاکٹر خالد مبشر
——
ہماری شعری روایت میں عاشق ومعشوق محوری کردار ہیں۔لیکن اس کے علاوہ ایک تیسرا کردار بھی ہے جس کو ہم فلمی اصطلاح میں ولن کہہ سکتے ہیں۔ یہ کردارمنفی اور تخریبی ہوتے ہیں۔غزل کا رقیب، غیر، شیخ، ملا، واعظ، زاہد، ناصح اور محتسب وغیرہ اسی قبیل میں شامل ہیں۔عامیانہ نظر میں شیخ و ملاکو مذہبیت اور روحانیت کا علم بردار تصور کیا جاتاہے۔ لیکن فارسی اور اردو کی شعری وراثت میں ان کرداروں کو غیر مثبت اقدار کے نمائندے کے طور پر مشتہر کیا گیاہے۔تیرہ سو برسوں کو محیط فارسی اور اردو غزلیہ متون میں ان کرداروں کی خصوصیات، لوازم، نفسیات اور قول وعمل کی جو تصویر بنتی ہے، وہ سرتا سر منفی ہے اور اس کو سمجھنے کے لیے لامحالہ شریعت اور تصوف کے مابین کشمکش کی تاریخ پر نظر ڈالنا ضروری ہوجاتاہے۔
ہمارے شعری ورثے میں زاہدو واعظ اور اس زمرے کے دیگر کرداروں کی شبیہ جس طرح ابھرتی ہے، وہ یوں ہے کہ یہ ظاہر پرست ہوتے ہیں، باطنی کیفیات سے انھیں کوئی واسطہ نہیں ہوتا۔ صرف داڑھی اور جبہ، خرقہ، کرتا، ٹوپی اور عمامہ ودستار سے مطلب ہوتا ہے۔ وہ انسان اور خدا کے درمیان قلبی، روحانی اور وجدانی رشتے کا عرفان وادراک نہیں رکھتے۔
وہ مذہب وشرع کی خارجی شکل وصورت اور ہیئت وساخت میں الجھے رہتے ہیں۔
انھیں صرف رسم پرستی سے دل چسپی ہوتی ہے اور وہ محض عقل ودماغ سے سروکار رکھتے ہیں۔
انھیں دل اور معاملات دل سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ ان کا خمیر محبت، خلوص، ہمدردی، خیرخواہی، درد وغم اور دل سوزی سے خالی ہوتاہے۔
اس کے قول وعمل میں تضاد پایا جاتاہے۔وہ منافقت، دورنگی، دہرے پن اور دوغلے رویوں کا مجسمہ ہوتاہے۔
اس کی شخصیت میں تصنع اور دکھاوا بہت زیادہ ہوتاہے۔
وہ ڈھونگ، مکاری،دغا، عیاری اور چال بازی میں مہارت رکھتاہے۔
یہاں ایک سوال یہ قائم ہوتاہے کہ آخر مشرقی شاعری میں اس کردار کے خدو خال کس طرح متصور اور متشکل ہوئے؟
اس بحث کے ڈانڈے دراصل اسلامی تاریخ کے اس عہد سے جا ملتے ہیں جب خلافت کا خاتمہ ہوا اور ملوکیت ظہور پذیر ہوئی۔ اسلامی قرن اول میں معاشرہ واقتدارمیں خداترسی اور جذبۂ ایثار کے نتیجے میں اعلیٰ اقداری نظام مستحکم تھا۔ لیکن رفتہ رفتہ ملوکانہ ذہنیت فروغ پذیر ہونے لگی اور اسی کے زیر اثردنیا داری، ہوس جاہ وحب مال ودولت اور حرص وہواکے مہیب سائے چار دانگ عالم میں پھیلتے چلے گئے۔
اس صورت حال سے بیزار اور متنفر ہوکراہل دل اور اہل خلوص کی جماعت نے گوشہ نشینی اختیار کرلی۔
انھوں نے دنیا ومافیہا سے علاحدہ ہوکرخود کو خدا اور بندگانِ خدا کی محبت وخدمت میں مست ومستغرق کرلیا۔
یہی وہ تاریخی موڑ ہے جہاں دو متصادم ومتضاد کردار ظہور پذیر ہوئے۔
ایک اہلِ دل اور ایک اہلِ خرد۔ غزلیہ شاعری کے اس منفی کردار کی وابستگی اہلِ خرد سے ہے۔
یہاں ٹھہر کر ایک اور اہم سوال پر غورکرلینا چاہیے کہ کیایہ روایتی شعری منفی کرداراپنے لفظی اور لغوی معنی میں مستعمل ہوئے ہیں؟
اس سوال کا جواب شاعری کا مبتدی طالب علم بھی بہت سہولت سے دے سکتاہے کہ ہماری شاعری کا اپنا ایک تصوراتی اور استعاراتی نظام ہے اور یہ تمام کردار اسی شعریاتی ڈھانچے کا حصہ ہیں۔
——
یہ بھی پڑھیں : بن گئی بات ان کا کرم ہو گیا شاخ نخل تمنا ہری ہو گئی
——
چنانچہ جب ہم اپنے شعری سرمایے پر نظر ڈالتے ہیں توہمیں یہ نتیجہ اخذ کرنے میں کوئی تکلف و تردد نہیں ہوتاکہ شیخ، واعظ، زاہد، ملا اور ناصح وغیرہ دراصل ہمارے معاشرے کے تمام شعبوں میں الگ الگ رنگ اور ڈھنگ سے موجود ہیں۔
کہیں مذہبی پیشوا، کہیں سیاسی رہنما، کہیں سماجی ٹھیکیدار، کہیں عدالتی عہدے دار اور کہیں افسر شاہ کے بھیس میں درحقیقت یہی کردار متمکن ہیں۔
شیخ وزاہد کا جوتصورہمارے شعری ورثے میں قائم ہوتاہے،اس کا ایک واضح پیکر تراشنے کے لیے یہاں چند اشعار پیش کیے جاتے ہیں:
——
شیخ جو ہے مسجد میں ننگا رات کو تھا میخانے میں
جبہ، خرقہ، کرتا، ٹوپی مستی میں انعام کیا
——
دل بے رحم گیا شیخ لیے زیرِ زمیں
مرگیا پر یہ کہن گبر مسلماں نہ ہوا
(میر)
——
ذوق جو مدرسے کے بگڑے ہوئے ہیں ملا
ان کو مے خانے میں لے آو سنور جائیں گے
(ذوق)
——
کہاں مے خانے کا دروازہ غالب اور کہاں واعظ
پر اتنا جانتے ہیں کل وہ جاتا تھا کہ ہم نکلے
(غالب)
——
خلافِ شرع کبھی شیخ تھوکتا بھی نہیں
مگر اندھیرے اجالے میں چوکتا بھی نہیں
——
جیسے دوزخ کی ہوا کھاکر ابھی آئے ہیں
کس قدر واعظِ مکار ڈراتا ہے مجھے
——
شیخ اپنی رگ کو کیا کریں ریشے کو کیا کرے
مذہب کے جھگڑے چھوڑے تو پیشے کو کیا کرے
(اکبر آلہ آبادی)
——
میں بھی حاضر تھاوہاں ضبط سخن کرنہ سکا
حق سے جب حضرتِ مُلّا کو مِلا حکم بہشت
عرض کی میں نے الٰہی مری تقصیر معاف
خوش نہ آئیں گے انھیں حورو وشراب ولبِ کشت
نہیں فردوس مقام جدل وقال واقوال
بحث وتکرار اس اللہ کے بندے کی سرشت
ہے بد آموزی اقوام و ملل کام اس کا
اور جنت میں نہ مسجد، نہ کلیسا، نہ کنشت
(ملا اور بہشت: اقبال)
——
پی شوق سے واعظ ارے کیا بات ہے ڈر کی
دوزخ ترے قبضے میں ہے، جنت ترے گھر کی
(شکیل بدایونی)
——
یہ بھی پڑھیں : معروف کلاسیکل شاعر شیخ ابراہیم ذوق کا یوم پیدائش
——
پنڈت ہری چند اختر(1901-1958) بنیادی طورپر شاعراور صحافی ہیں۔ شاعری میں وہ روایتی اور کلاسکی طرز کے نمائندہ ہیں۔ ان کو حفیظ جالندھری سے باقاعدہ شرفِ تلمذ حاصل تھا۔ان کا اکلوتا شعری مجموعہ کفروایمان 1960 میں عرش ملسیانی نے ترتیب دے کر ستپال کوچۂ خان خاناں اردو بازار دہلی سے شائع کیا۔ پنڈت ہری چند اختر کی شاعری سرتاسر قدیم رنگ وآہنگ میں رچی بسی ہے۔چنانچہ ان کے یہاں وہی حسن وعشق،وہی شیخ وملا، وہی قدوگیسو، وہی لب ورخسار، وہی شمع و پروانہ،وہی جام و پیمانہ اور وہی گل وبلبل کی داستان سرائی ملتی ہے۔لیکن محسوس ہوتا ہے کہ انھوں نے اپنے جذبہ وخیال کے اظہار میں شیخ وملا سے بہت کام لیا ہے،بلکہ ایک غزل ایسی بھی ہے، جس کے ہر شعر میں ان کرداروں کی خوب تضحیک وتحقیر کی گئی ہے۔ وہ غزل ملاحظہ فرمائیں:
——
ملے گی شیخ کو جنت، ہمیں دوزخ عطا ہوگا
بس اتنی بات ہے جس کے لیے محشر بپا ہوگا
رہے دو دو فرشتے ساتھ اب انصاف کیا ہوگا
کسی نے کچھ لکھا ہوگا،کسی نے کچھ لکھا ہوگا
بروزِ حشر حاکم قادرِ مطلق خدا ہوگا
فرشتوں کے لکھے اور شیخ کی باتوں سے کیا ہوگا
سکون مستقل،دل بے تمنا،شیخ کی صحبت
یہ جنت ہے تو اس جنت سے دوزخ کیا برا ہوگا
مرے اشعار پر خاموش ہے جز بزنہیں ہوتا
یہ واعظ واعظوں میں کچھ حقیقت آشنا ہوگا
بھروسہ کس قدر ہے تجھ کو اختر اس کی رحمت پر
اگر وہ شیخ صاحب کا خدا نکلا تو کیا ہوگا
——
مذکورہ اشعار میں مضمون گرچہ پامال ہے، لیکن طرز ادا کی نشتریت اور برجستہ طنزیہ لے لطف دے جاتی ہے۔ظاہر پرست شیخ کو بزعمِ خود اپنے جنتی ہونے اور اس کے مزعومہ ہدایت نامے کی خلاف ورزی کرنے والے کے دوزخی ہونے کا دعوی ہوتاہے۔جب کہ شاعر کی دلیل یہ ہے کہ اس کے فیصلے کا حتمی حق صرف خدائے مطلق کو حاصل ہے۔شاعر کا تصورِ جنت شیخ کے نظریے سے بالکل مختلف ہے۔ شاعرجنت کو اپنے جذبات اور تمناؤں کا گہوارہ سمجھتاہے۔جب کہ اس کے بالمقابل شیخ کی جنت میں بے تمنا دل اور مستقل جمود ہے۔ایک شاعر کی واعظ سے بھی نہیں بنتی ہے۔کیوں کہ واعظ کے اقوال اور نصیحتیں بے حسی، ناتجربہ کاری اور قلبی واردات سے عاری رویوں کا نتیجہ ہوتی ہیں۔جب کہ شاعر انسان کے داخلی وجود کے کرب وآلام کو اپنی تخلیق میں جذب کرلیتا ہے۔ ( یہ بھی پڑھیں میراجی کی غزل کی کیفیات -شبانہ پروین)
——
یہ بھی پڑھیں : کرم کے بادل برس رہے ہیں
——
غزل کا مقطع بطور خاص قابل غور ہے:
——
بھروسہ کس قدر ہے تجھ کو اختر اس کی رحمت پر
اگر وہ شیخ صاحب کا خدا نکلا تو کیا ہوگا
——
حقیقت یہی ہے کہ شاعر کا تصورِ خدا بھی شیخ کے تصورِ خدا سے متصادم ہوتاہے۔شیخ کا خدابے حس، بے رحم، ظالم وجابر اورمتعصب ہوتاہے۔ جب کہ شاعر کا خداسراپا رحمت، کرم، عفوو درگزر اور بے کراں بخششوں کا سر چشمہ ہوتاہے۔
معاشرے میں منافق کرداروں کی کمی نہیں۔ ہمارا شعری علامتی نظام اس دوغلے پن کو شیخ وواعظ کے کردار میں کس
سے پیش کرتاہے۔پنڈت ہری چند اختر کایہ شعراس کا عمدہ نمونہ ہے:
——
دیں دار ہے زاہد کی زباں بھی، مرا دل بھی
پھر مفت کی تکرار ہے معلوم نہیں کیوں
——
مذکورہ شعر میں زاہد اور شاعر کی افتادِ طبع کا تضاد کھل کر سامنے آجاتاہے۔زاہد کا سارا زہد وتقویٰ، اس کی ساری دین داری اور للّٰہیت صرف اس کی زبان پر ہے۔جب کہ یہ اعلٰی خصوصیات شاعر کی رگ وپے میں خون کی طرح رواں ہوتی ہیں۔
شیخ بنیادی طورپر شعبدہ گر ہوتاہے۔وہ اپنی ہوس اقتدار وشہرت وجاہ کے لیے رنگ بدلتارہتاہے۔ اوروہ یہ تمام پینترے صرف حصولِ غلبہ وتسلط کے لیے کرتاہے بقول پنڈت ہری چند اختر:
——
دمادم شعبدے ہم کو دکھاتا ہے کوئی جلوہ
کہیں شیخِ حرم ہوکر، کہیں پیر مغاں ہوکر
——
زاہد کا مسئلہ یہ ہے کہ اس کی ظاہری وضع کچھ اور ہوتی ہے لیکن اس کی باطنی خباثت کچھ اور ہوتی ہے۔ چنانچہ وہ اپنے گفتاروکردار اور رویہ وعمل کی آویزش کو چھپانے میں ناکام ہوجاتاہے اور شاعر اس کا اصلی چہرہ دیکھ لیتاہے۔پنڈت ہری چند اختر کے دو اشعار ملاحظہ فرمائیں:
——
انھیں دیکھاتو زاہد نے کہا ایمان کی یہ ہے
کہ اب انسان کو سجدہ روا ہونے کا وقت آیا
——
ذرا اک چھیڑ دو زاہد سے قصے حورو غلماں کے
پھر اس کمبخت کی رنگیں بیانی دیکھتے جاؤ
——
پنڈت ہری چند اخترکے اندر کا شاعر زاہد کے قول وعمل کی ناہمواریوں اور بے ڈھب رویوں کو جس شاعرانہ چھیڑ چھاڑ اور طنز وتعریض کا نشانہ بناتا ہے،وہ ہماری پرانی شاعری کی ایک امتیازی شناخت ہے۔ ( یہ بھی پڑھیں غالب کی خیال بندی – مہرفاطمہ )
——
یہ بھی پڑھیں : معروف ناول نگار منشی پریم چند کا یومِ وفات
——
پنڈت ہری چند اختر کی شاعری کے منفی کرداروں کا مطالعہ کرتے ہوئے اردو کی شعری تہذیب اور اس کی روح کو پیش نظر رکھنا بھی ضروری ہے۔چنانچہ جب ہم پنڈت ہری چنداختر کے اس قسم کا شعر پڑھتے ہیں:
——
صداقت ہو تو دب جاتا ہے ایماں کفرِ مطلق سے
مرا منہ تک رہے ہیں شیخ جی سے کچھ نہیں ہوتا
——
تو ہمارا شعری شعور لازماً اس امر کی طرف منتقل ہوجاتاہے کہ اردو شاعری دراصل وحدت الوجود، وحدت الادیان، وحدتِ آدم اور گنگا جمنی تہذیبی اقدار کی پروردہ ہے۔جب کہ شیخ وملا ان وحدتوں کے بدترین دشمن ہیں۔ انھوں نے مذہب اور خدا کو اپنی ذاتی جاگیر بنا رکھی ہے۔وہ چند رسوم اور خارجی اعمال کو خداپرستی باور کراتے ہیں۔وہ عبادت کو مسجد ومندر میں تقسیم کرتے ہیں۔ وہ بندگانِ خدا میں نفرت، فرقہ بندی، جھگڑا، قتل وخون اور فتنہ وفساد کو ہوا دیتے ہیں۔جب کہ مذہب کی ا صل روح حق، حسن اور خیر ہے۔محبت اور وفا ایمان کی بنیادہے۔پنڈت ہری چند اختر کا مذکورہ شعر ہمارے اسی تہذیبی مزاج کا ترجمان ہے۔بقول غالب:
——
وفا داری بشرطِ استواری اصل ایماں ہے
مَرے بت خانے میں تو کعبے میں گاڑو برہمن کو
——
اور یہ شعر:
——
ہم موحد ہیں، ہمارا کیش ہے ترک رسوم
ملتیں جب مٹ گئیں، اجزائے ایماں ہوگئیں
——
اردو کی شعری داستان میں صوفی، عاشق، رنداور شاعرکا قبیلہ شیخ وملا سے برسرِ پیکار نظر آتاہے۔شیخ وملا کی ساری نیکیاں محض حرص وہوا، لالچ اور جنت کی ہوس کی ژائیدہ ہوتی ہیں۔ جب کہ صوفی اور شاعر کا جذبہء خیر ان ہوس کاریوں سے منزہ ومبرہ ہوتاہے۔وہ جو کچھ کرتاہے وہ بے پناہ خلوص،دل سوزی اور اضطراب کے عالم میں کرتاہے۔ اس میں عشق وجنون ہوتاہے۔ذرایہ داستان پنڈت جی کی زبانی سنیے:
——
عبادت از پئے انعام زاہد
ہوس کاری ہے مشتاقی نہیں ہے
کہ تیرا مرکز سعی وتمنا
شراب وجام ہے ساقی نہیں ہے
——
دیا جنت کا لالچ شیخ ہم سے یہ کہا ہوتا
چلو کعبہ کے رستے میں صنم خانے بھی آتے ہیں
——
پنڈت ہری چند اختر کی شاعرانہ نظر جذبہ وخلوص سے عاری لیکن جنت کے دعوے دار حضرتِ زاہد کی عاقبت بھی دیکھ لیتی ہے۔چنانچہ وہ کہتے ہیں:
——
نہ پوچھو سرِحشر زاہد کا حال
سمجھتے تھے کیا اور کیا ہوگیا
——
پنڈت ہری چند اختر کی شاعری کے منفی کرداروں کا یہ مطالعہ اس امر پر منتج ہوتاہے کہ شیخ وملا پر ان کے باندھے گئے مضامین میں کوئی جدت یا عصری حسیت کا کوئی امکان نظر نہیں آتا۔ وہ بالکل روایتی نوعیت کے ہیں،بلکہ ان کرداروں میں کسی قسم کی سیاسی اور سماجی معنویت کی جستجو بھی بہت کارآمد نہیں ہے۔لیکن ان مضامین کے پیشِ نظر یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ پنڈت جی کو اردو کی شعری روایت کا گہرا شعور وادراک حاصل تھا۔ انھوں نے ان منفی کرداروں سے وابستہ تصوراتی نظام کو بخوبی سمجھا اور برتابھی ہے۔
——
شعبۂ ارد و جامعہ ملیہ اسلامیہ، نئی دہلی
——
یہ بھی پڑھیں :
——
منتخب کلام
——
ملے گی شیخ کو جنت، ہمیں دوزخ عطا ہوگا
بس اتنی بات ہے جس کے لیے محشر بپا ہوگا
رہے دو دو فرشتے ساتھ اب انصاف کیا ہوگا
کسی نے کچھ لکھا ہوگا کسی نے کچھ لکھا ہوگا
بروز حشر حاکم قادر مطلق خدا ہوگا
فرشتوں کے لکھے اور شیخ کی باتوں سے کیا ہوگا
تری دنیا میں صبر و شکر سے ہم نے بسر کر لی
تری دنیا سے بڑھ کر بھی ترے دوزخ میں کیا ہوگا
سکون مستقل دل بے تمنا شیخ کی صحبت
یہ جنت ہے تو اس جنت سے دوزخ کیا برا ہوگا
مرے اشعار پر خاموش ہے جز بز نہیں ہوتا
یہ واعظ واعظوں میں کچھ حقیقت آشنا ہوگا
بھروسہ کس قدر ہے تجھ کو اخترؔ اس کی رحمت پر
اگر وہ شیخ صاحب کا خدا نکلا تو کیا ہوگا
——
جس زمیں پر ترا نقش کف پا ہوتا ہے
ایک اک ذرہ وہاں قبلہ نما ہوتا ہے
کاش وہ دل پہ رکھے ہاتھ اور اتنا پوچھے
کیوں تڑپ اٹھتا ہے کیا بات ہے کیا ہوتا ہے
بزم دشمن ہے خدا کے لیے آرام سے بیٹھ
بار بار اے دل ناداں تجھے کیا ہوتا ہے
میری صورت مری حالت مری رنگت دیکھی
آپ نے دیکھ لیا عشق میں کیا ہوتا ہے
اے صبا خار مغیلاں کو سنا دے مژدہ
عازم دشت کوئی آبلہ پا ہوتا ہے
ہم جو کہتے ہیں ہمیشہ ہی غلط کہتے ہیں
آپ کا حکم درست اور بجا ہوتا ہے
——
سنا کر حال قسمت آزما کر لوٹ آئے ہیں
انہیں کچھ اور بیگانہ بنا کر لوٹ آئے ہیں
پھر اک ٹوٹا ہوا رشتہ پھر اک اجڑی ہوئی دنیا
پھر اک دلچسپ افسانہ سنا کر لوٹ آئے ہیں
فریب آرزو اب تو نہ دے اے مرگ مایوسی
ہم امیدوں کی اک دنیا لٹا کر لوٹ آئے ہیں
خدا شاہد ہے اب تو ان سا بھی کوئی نہیں ملتا
بزعم خویش ان کو آزما کر لوٹ آئے ہیں
بچھے جاتے ہیں یا رب کیوں کسی کافر کے قدموں میں
وہ سجدے جو در کعبہ پہ جا کر لوٹ آئے ہیں
——
غرور ضبط سے آہ و فغاں تک بات آ پہنچی
ہوس نے کیا کیا دل سے زباں تک بات آ پہنچی
سکون دل سے ناقوس و اذاں تک بات آ پہنچی
خدا والوں کی ہمت سے کہاں تک بات آ پہنچی
خلافت سے جبین و آستاں تک بات آ پہنچی
خدا اور ابن آدم میں یہاں تک بات آ پہنچی
ملی تھی آنکھ اور آہ و فغاں تک بات آ پہنچی
ذرا سی بات تھی لیکن یہاں تک بات آ پہنچی
ہماری داستاں میں ذکر قیس و کوہ کن آیا
وہاں سے پھر ہماری داستاں تک بات آ پہنچی
——
کہا ہم چین کو جائیں، کہا تم چین کو جاؤ
کہا جاپان کا ڈر ہے، کہا جاپان تو ہوگا
کہا کابل چلے جائیں، کہا کابل چلے جاؤ
کہا افغان کا ڈر ہے، کہا افغان تو ہوگا
کہا ہم اونٹ پر بیٹھیں، کہا تم اونٹ پر بیٹھو
کہا کوہان کا ڈر ہے، کہا کوہان تو ہوگا
یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ