اردوئے معلیٰ

احمد عقیل روبی کا یوم وفات

آج معروف شاعر، ادیب ،ناول ،خاکہ نگار اور اُردو ادبیات کے اُستاد احمد عقیل روبی کا یوم وفات ہے۔

 

احمد عقیل روبی(پیدائش: 06 اکتوبر 1940ء – وفات: 24 نومبر 2014ء)
——
ممتاز ادیب و شاعرپروفیسر احمد عقیل روبی 6 اکتوبر 1940ء کو لدھیانہ میں پیدا ہوئے اور23نومبر2014ء کو اس دنیا سے رخصت ہوئے۔پروفیسراحمد عقیل روبی بحیثیت قلم کار کئی حیثیتوں سے جانے اور مانے جاتے ہیں۔ شاعری‘ ناول نگاری‘ ترجمہ‘ سوانح نگاری‘ تنقید‘ ڈرامہ نویسی… ان تمام حوالوں سے وہ منفرد شناخت کے حامل انسان ہیں۔
ان کی 30 کے لگ بھگ تصانیف شائع ہو چکی ہیں جن میں سوکھے پتے‘ بکھرے پھول‘ ملی جلی آوازیں‘ا ٓخری شام‘ سورج قید سے چھوٹ گیا‘ کہانی ایک شہر کی‘ بلائی ٹس‘ دوسرا جنم‘ آدھی صدی کا خواب‘ چوتھی دنیا‘ بنجر دریا‘ جنگل کتھا‘ فاہیان‘ ساڑھے تین دن کی زندگی‘ کھرے کھوٹے‘ جناور کتھا‘ نصرت فتح علی خان‘ کرنیں تارے پھول‘ علم ودانش کے معمار‘ ایڈی پس ریکس‘ میڈیا‘ دوسرا جنم‘ تیسواں پارہ‘ نماز‘ یونان کا ادبی ورثہ‘ دو یونانی کلاسک ڈرامے‘ باقر صاحب‘ مجھے تو حیران کر گیا وہ‘ بولڈ اینڈ بیوٹی فل‘ قتیل کہانی‘ علی پور کا مفتی اور معزز فاحشہ شامل ہیں۔
——
یہ بھی پڑھیں : عقیل عباس جعفری کا یوم پیدائش
——
آپ 2001ء میں صدر شعبہ اردو ایف سی کالج کی حیثیت سے ریٹائر ہوئے۔ حکومت پاکستان کی جانب سے ادب ، ڈرامہ نگاری اور شاعری کے میدان میں آپ کی وسیع تر خدمات پر 14 اگست2012 کو "تمغہ امتیاز”نوازا گیا۔ احمد عقیل روبی وسیع المطالعہ شخص تھے ، یونانی ادب ان کا مرغوب موضوع تھا۔
اس کے علاوہ روسی‘ فرانسیسی‘ امریکی‘ انگریزی ادب پر ان کی گہری نظر ہے جس کا ثبوت ان کی کتاب ’’علم ودانش کے معمار‘‘ ہے جو نیشنل بک فاؤنڈیشن کے زیر اہتمام شائع کی گئی۔ یہ ان تمام زبانوں کے تفصیلی جائزہ پر مشتمل ہے اور 2011ء میں اس کے دو ایڈیشن چھپ چکے ۔
پنجاب یونیورسٹی‘ گورنمنٹ کالج لاہور‘ ایجوکیشن یونیورسٹی اور ایم اے او کالج لاہور کی جانب سے آپ کی شخصیت اور فن پر ایم فل اور ایم اے کے تھیسزلکھے جاچکے ہیں۔ آپ ایک جگہ فرماتے ہیں کہ میٹرک‘ ایف اے تک الٹے سیدھے شعر کہے‘ جن باتوں کا تجربہ نہیں تھا ان باتوں کو شاعری کا حصہ بنایا۔
قتیل شفائی سے ملاقات ہوئی تو سب کچھ پھاڑ کر پھینک دیا۔ جب میں پانچویں جماعت میں تھا تو جنرل اعظم خان کے مارشل لاء کے خلاف ایک فلمی گانے کی دھن پر نظم لکھی۔
پولیس پکڑ کر لے گئی۔ ایک رات جیل میں رہا۔ تھوڑا تھوڑا یقین آ گیا کہ میں نے جو کچھ لکھا تھا اس میں کوئی ایسی بات ضرور تھی جو حکومت اور پولیس کو بری لگی۔ اس کے بعد پوری ترقی پسند تحریک پڑھ ڈالی۔ اس میں بیدی‘ کرشن چندر‘ عصمت چغتائی‘ احمد ندیم قاسمی‘ فیض‘ منٹو شامل ہیں۔ ایم اے کرنے لاہور آیا تو سجاد باقر رضوی‘ ناصر کاظمی جیسی عظیم شخصیات کی قربت نصیب ہوئی۔ انتظار حسین کو دور سے دیکھا۔ بعد میں قربت بھی حاصل ہوئی۔
بس یہ سب لوگ میری تربیت گاہ کا درجہ رکھتے تھے۔
انہی سے میں نے بات کرنے کا سلیقہ‘ نثر لکھنے کا انداز اور شاعری کے رموز جانے‘ سمجھے اور سیکھے۔ایک سوال کے جواب میں پروفیسر احمد عقیل روبی نے فرمایا کہ میری خاکہ نگاری‘ ناول نگاری‘ بحیثیت سوانح نگار‘ بطور مترجم اوربطور شاعر یونیورسٹی اور کالجوں میں مقالے لکھے جا چکے ہیں۔
ان سب میں ہر مقالہ نگار نے یہ لکھا ہے کہ میں نے ہر صنف میں انصاف کیا ہے۔ مجھے ان کی باتوں پر تھوڑا تھوڑا یقین بھی آیا ہے لیکن میں ابھی تک یہ طے نہیں کر پایا کہ میں کیا کہلانا پسند کروں… اصل بات یہ ہے کہ میں جس صنف میں طبع آزمائی کرتا ہوں اسی کا ہو کے رہ جاتا ہوں۔ سر سے لے کر پاؤں تک اس میں انوالو ہو جاتا ہوں ۔
ہوا یہ کہ میں نے یورپ اور مغربی مصنّفین پر بہت کام کیا۔ ان پر لکھتے ہوئے میں نے محسوس کیا کہ ان کا رشتہ ہر صنف سخن سے جڑا ہوا ہے۔ مثلاً گوئٹے نے شاعری بھی کی‘ ناول بھی لکھے‘ سفر نامہ بھی لکھا‘ سائنس کے تجربے بھی کئے‘ پتھروں کی قسمیں بھی دریافت کیں… فرانس کے وکٹر ہیوگو نے شاعری کی‘ ناول لکھے‘ مصوری کی‘ موسیقی ترتیب دی… بس انہیں پڑھ پڑھ کر میں کچھ گمراہ ہو گیا تھا۔ بہرکیف ان جیسا تو نہ بن سکا مگر ان کی پیروی ضرور کی۔
ادب کے ایک علاقے میں میرا قیام نہیں رہا۔ بلکہ میں نے چل پھر کر یہ سارا علاقہ دیکھنے کی کوشش کی۔
اس لمبی تمہید کے بعد میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ میں ایک ادیب اور مصنف کہلانا پسند کروں گا جس کی جیب میں مختلف اصناف سخن کے سکے موجود ہیں‘ جس سکے کو جب چاہتا ہے چلے نہ چلے‘ مارکیٹ میں چلا لیتا ہے۔ خدا کا شکر ہے کبھی کسی نے یہ نہیں کہا کہ یہ سکہ کھوٹا ہے۔
ہر انسان ادب تخلیق نہیں کر سکتا۔ صرف وہی انسان اس میدان میں اترتا ہے جو اپنی ذات کا اظہار کرنا چاہتا ہے‘ اپنے آپ کو دوسروں سے نمایاں کرنا چاہتا ہے۔ اپنی پہچان بنانا چاہتا ہے ۔ اسے ایسا کرنا چاہئے تاکہ اس کے مشاہدے‘ تجربے اور فکر کی روشنی سے دوسرے انسان راستہ تلاش کر سکیں۔
——
یہ بھی پڑھیں : خادم رزمی کا یوم وفات
——
میر‘ غالب‘ اقبال‘ ٹالسٹائی‘ شیکسپیئر‘ ہومر‘ اگر ادب تخلیق نہ کرتے تو ہمارے لئے زندگی کا سفر کتنا مشکل ہو جاتا۔
بڑے ادیبوں کا تخلیق کردہ ادب، دراصل تاریک اور اندھی راہوں میں جلتے چراغ ہیں،ادب کا مطالعہ شخصیت میں نکھار پیدا کرتا ہے۔
اگر یہ کہاجائے تو غلط نہ ہو گا کہ پروفیسر احمد عقیل روبی کا شمار دورحاضر کے بہترین مصنفین بلکہ آل راؤنڈر شخصیات میں ہوتا جن کے ذکرکے بغیر پاکستانی ادب کی تاریخ مکمل قرار نہیں دی جاسکتی ۔
——
منتخب کلام
——
منتخب اشعار
——
اے وطن، اے وطن، سر زمینِ وطن
تیری حرمت پہ قربان ہیں جان و تن
یوں شہرِِ غم میں خاک اڑاتا نہ تھا کبھی
تم جیسا دیکھتے ہو، مَیں ایسا نہ تھا کبھی
——
یوں تیرے بعد، سو گئے، سر ڈھانپ کر چراغ
جیسے ہمارے گھر میں اجالا نہ تھا کبھی
——
تجھ کو تحلیل کر لیا دل میں
میں تری شکل دیکھتا کب تک
——
چاند بھی اونگھنے لگا روبی
تیری آنکھوں کا دَر کھلا کب تک
——
لوگ پتھر کو خدا مان کے معصوم رہے
ایک انسان کو پوجا، تو گنہگار ہوں مَیں
——
ہو گئے پھول سے ٹکرا کے وہ ریزہ ریزہ
وہ، جو پتھر کا جگر چیر دیا کرتے تھے
——
خوشیوں کے فسانے ہیں تو آہستہ سناؤ
غم ساتھ ہی بیٹھے ہیں یہاں کان لگائے
——
یہ بھی پڑھیں : اُڑ گئے رنگ مگر خواب کا خاکہ اب تک
——
انسان ہے تو پھر نہ ملے کیوں غمِ حیات
احمد عقیل روبی کوئی دیوتا نہیں
——
لوگ مائل بہ کرم ہیں پھر سے
جانے اب کون سی افتاد پڑے
——
ہو گئے آخر کار رخصت
جانے والوں کو روکتا کب تک
——
نظم : دلِ زار تو نے بہت خواب دیکھے
——
دلِ زار تو نے بہت خواب دیکھے
کبھی تو نے دیکھا
کہ اڑتی ہوئی تتلیوں کے پروں پر
وہ آںکھیں ، وہ لب اور وہ چہرہ سجا ہے
جو تیرے دیچے میں اک شام
وعدے کا اک پھول رکھ کر
ہجومِ جہاں میں کہیں کھو گیا تھا

کبھی تو نے دیکھا
کہ بل کھاتی پگڈنڈیاں جنگلوں کی
تجھے لے گئیں
برف کے ہاتھ پہ رکھے عشرت کدے میں
جہاں ابر دربان تھا
باندیاں بجلیاں تھیں
جہاں دستِ شبنم ترے پاؤں سہلا رہا تھا
جہاں مسندِ کہکشاں پر وہ چہرہ
تیرا منتظر تھا
جو تیرے دریچے میں
وعدے کا اک پھول رکھ کر
ہجومِ جہاں میں کہیں کھو گیا تھا

دلِ زار تو نے بہت خواب دیکھے
کبھی تو نے دیکھا
کہ تو اس زمیں پہ کھڑا ہے
جہاں ذرے ذرے میں سورج اُگے ہیں
جہاں عدل کی گھنٹیاں زنگ آلودہ ہیں
جیل خانوں میں تالے پڑے ہیں
عدالت کے کمروں میں خاموشیاں سو رہی ہیں
جہاں لوگ خیرات لے کے کھڑے ہیں
کوئی لینے والا نہیں ہے

در و بام پر مہر و الفت کی بیلیں اُگی ہیں
جہاں علم و حکمت کی ٹھنڈی ہوا
درِ فکر پر دستکیں دے رہی ہے

دلِ زار تو نے بہت خواب دیکھے
مگر خواب جو میں کھلی آنکھ سے دیکھتا ہوں
وہ تو نے نہ دیکھا

نہ یہ تو نے دیکھا
کہ کیسے خزاں دستِ بے رحم میں
تیکھے ترشول لے کر
نہاں خانۂ لالہ و گل میں
مصروفِ کارِ ستم ہے
در و بام پر
قطرۂ خوں کی کاریگری ہے
عدل کی گھنٹیاں بج رہی ہیں
عدالت میں شورِ قیامت ہے
اور جیل خانوں میں تالے پڑے ہیں
سحر کروٹیں لے کے جب جاگتی ہے
تو ہر کوئی ہاتھوں میں کشکول لے کر
سرِ راہ خیرات کا منتظر ہے
کوئی دینے والا نہیں ہے
علم کی تختیوں پر جہالت کی مٹی جمی ہے
فضیلت کی دستار جاہل کے سر پر سجی ہے
ہر طرف شور ہے ، حشر ہے ، بے کلی ہے

دلِ زار تو نے بہت خواب دیکھے
مگر خواب جو میں کھلی آنکھ سے دیکھتا ہوں
وہ تو نے نہ دیکھا
( کہانی ایک شہر کی ، صفحہ نمبر 36 )
یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ