اردوئے معلیٰ

حمیرا رحمان کا یوم پیدائش

آج معروف شاعرہ حمیرا رحمان کا یوم پیدائش ہے ۔

حمیرا رحمان——
(پیدائش: 24 نومبر 1957ء )
——
حمیرا رحمان پہلے ریڈیو ملتان،پاکستان سے منسلک تھیں بعد میں بی بی سی میں کام کیا۔ اب نیویارک میں مقیم ہیں، نیویارک یونیورسٹی میں، اردو (بیرونی زبان کے طور پر) پڑھاتی ہیں۔امریکہ کی پاکستانی مہاجر کمیونٹی میں کافی فعال ہیں۔ ان کے دو شعری مجموعے ’انتساب‘ اور ’اندمال‘ شائع ہو کر مقبول عام ہوچکے ہیں
——
حمیرا رحمان کی شاعری
——
حمیرا رحمان کی شاعری پر اپنے مضمون کا آغاز میں آج کی عہد کی بہت اہم افسانہ نگار خالدہ حسین کے جملوں سے کروں گی۔ خالدہ حسین کی علمیت اور دانش ان کی ہر تخلیق میں جھلکتی ہے خواہ وہ افسانہ ہو یا مضامین۔ یہ اقتباس جو میں یہاں پیش کررہی ہوں۔ ان کے مضمون ’’بے سر کی عورتُ ُسے لیا گیا ہے۔
’’ہماری اصل ہم عصر ادیب خواتین آج کے زمانے کی عورت کو سامنے لا رہی ہیں۔ وہ عورت کو ایک انسان، معاشرے کا با خبر فرد جانتے ہوئے اس کے تشخص اور اس نفسی انفرادیت پر ایمان رکھتی ہیں۔ اسے زندگی کے دھارے میں شامل دیکھتی ہیں۔ بات یہ ہے کہ آج کے ادب کی عورت کو اصل حقیقی اور ذہین عورت ہونا ہے۔ اس کے اپنے تجربات اور اپنے مسائل ہیں۔ اس کی اپنی روحانی تنہائیاں اور جذبات کی شکست و ریخت بھی ہے۔ اس کے دامن میں ہتک اور منافقتوں اور ملامتوں کے تجربات ہیں۔‘‘
اسی مضمون میں انہوں نے مرد ہم عصروں کے رویوں پر تنقید کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ’’ان کے نزدیک عورت اب بھی زمانے سے کٹی ہوئی کہیں خلا میں لٹکی ہوئی بے ذہن جنس ہے۔‘‘
آگے وہ لکھتی ہیں کہ’’افسوس کہ خواتین لکھاریوں کا بھی ایک گروہ بے ذہن ستی ساوتری کو آدرش بنا رہا ہے۔‘‘
——
یہ بھی پڑھیں : اردو اور پنجابی کی ممتاز شاعرہ سارا شگفتہ کا یوم پیدائش
——
خالدہ حسین نے ایک اہم عصری سچائی کو بغیر کسی لاگ لپٹ کے موضوع بنایا ہے۔ اردو ادب میں ایسی خواتین لکھنے والیاں ہر عہد میں موجود رہی ہیں جن کی ذہنی و فکری بلندی اور ادبی قدو قامت نقاد اور محققین کی نگاہوں سے اوجھل رہی ہیں۔ بہت ہوا تو ان کے لئے سرپرستانہ انداز میں توصیفی کلمات لکھ دیئے۔
حمیرا رحمان کی شاعری پر لکھنے سے پہلے مجھے ان جملوں کی ضرورت اس لئے پیش آئی کہ حمیرا ان بے ذہن ستی ساوتریوں میں سے نہیں ہیں جن کے اشعار کو روایتی توصیفی جملوں سے نواز کر اس بات پر اطمینان کا اظہار کرلیا جائے کہ اس شاعرہ نے بنے بنائے سماجی ایجنڈے سے بالکل انحراف نہیں کیا۔ اس سماجی ایجنڈے کی مزید وضاحت ہوجائے گی اگر میں یہاں فہمیدہ ریاض کے الفاظ پیش کردوں۔ وہ اس رویے پر یوں تنقید کرتی ہیں۔
’’اب تک کسی بھی شاعرہ یا ادیبہ کی نگارشات پر ایسی تحریر شاز ہی میری نظر سے گزری ہے جس میں یہ اضافی معلومات موجود نہ ہوں کہ فلاں فلاں شاعرہ اپنی نسوانیت پر احتجاج نہیں کرتیں۔ وہ جرأت مند ضرور ہیں مگر بے شرم نہیں ہیں۔ وہ شاعری ضرور کرتی ہیں مگر تہذیب کے دائرے میں رہ کر۔‘‘ اب ایک اور رویہ بھی رائج ہوگیا ہے۔ ایک مقبولِ عام شاعرہ کے کلام کو سکہ رائج الوقت تسلیم کرلیا گیا ہے۔ کسی بھی دوسری شاعرہ پر لکھتے ہوئے ناپ تول اور مول کا اندازہ اسی سکے کی قیمت سے کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ یہ جانے بغیر کہ دوسری شاعرہ نے اپنے آپ کو اس ایجنڈے کی تخلیق سے کتنی دور رکھا ہے جو روایتی نقادوں کا من پسند ہے۔
حمیرا رحمان کی شاعری کسی پرچھائیں جیسی عورت کی شاعری نہیں بلکہ ایک جیتے جاگتے تجربات سے گزرتے زندگی کی سرد و گرم ہے نبرد آزما مکمل وجود کا ایسا اظہار ہے جس میں فکر بھی ہے اور کیفیت بھی۔ حمیرا کی شاعری سے سرسری نہیں گذرا جاسکتا۔ ان کی شاعری میں خوبصورتی بھی ہے اور تہہ داری بھی۔ اچھی شاعری کا مطالعہ خوبصورت مناظر کی سیر کی طرح ہے۔ اس سیر سے اس وقت ہی لطف اندوز ہوا جاسکتا ہے جب کچھ دیر ٹھہر کر ماحول کے حسن کو محسوس کیا جائے۔ وہ حسین فضا جس میں رنگ بھی ہوتا ہے اور خوشبو بھی ہمیں اپنے حصار میں لے آئے۔ اردگرد کے بکھرے مناظر کی بے ترتیبی میں حسن اس کی ترتیب بن جائے۔ ایسی ہی بے ترتیبی کی ترتیب کسی فنکار کے فن پارے میں نظر آتی ہے۔ حمیرا رحمان نے اس نازک سچائی کو بڑی خوبصورتی سے اپنی ایک نظم کا موضوع بنایا ہے۔ اس نظم پر کوئی عنوان نہیں میں اس نظم میں ہی لکھی ایک خوبصورت ترکیب ’’بے ترتیبیوں کی توانائی ‘‘کو اس کا عنوان بنا رہی ہوں۔ نظم ہے۔
——
یہ میری میز پر رکھے ہوئے دوچار کاغذ
علامت ہیں مری اس شاعری کی
جو ابھی میں نہیں کر پائی
اشارہ ہیں
مرے اُس رنگ کا
جو میرے لفظوں میں دکھائی دے رہا ہے
اور مجھے تسکین دیتا ہے
مگر اظہار کے سارے دریچوں تک نہیں آیا
مگر جب تک یہ کاغذ میز پر ہیں
مجھ میں ہمت ہے
میں کچھ لکھوں نہ لکھوں
اپنی بے ترتیبیوں کی
اس توانائی کے سائے میں بیٹھنا
میری ضرورت ہے!
(انتساب سے)
——
کسی بھی تخلیقی عمل سے پہلے جو انتشار تخلیق کار کی ذات میں پیدا ہوتا ہے۔ کسی نامعلوم کو معلوم بنانے کی کیفیت سے جب وہ گزرتا ہے۔ جب وہ موہوم خیال کو مرتب کرتا ہے تو بے ترتیبی کی یہی توانائی اس کا ساتھ دیتی ہے۔حمیرا رحمان کو اس توانائی کا استعمال آتا ہے۔ وہ اظہار کی قوت سے آگاہ ہے اور ابلاغ کے مراحل کو بھی جانتی ہے۔
——
یہ بھی پڑھیں : ہمہ والعصر اور والدّھر ہے عظمت محمد کی
——
ابلاغ کے لئے صرف لفظ کافی نہیں بلکہ ضروری بھی نہیں۔ پھر اس کی کیا صورت ہوسکتی ہے۔ حمیرا نے ابلاغ کے ایک لمحے کو گرفت میں لے کر اس کا اظہار کردیا ہے۔
——
کبھی کبھی ایسا بھی ہوا ہے
میری آنکھ میں تیرنے والا
آنسو پہلے
اُس کی آنکھ سے ٹپک گیا ہے
جو کچھ میں نے
اُس سے کہنا چاہا ہے
گویائی سے پہلے اُس کی سماعت تک پہنچا ہے
یہ دنیا اظہار کی دنیا ہے
جس میں ہر کوئی اپنے
جذبوں اور لفظوں کو ظاہر کردے تو پہچانا جائے
گو ہم دونوں نے لفظوں کے کاندھے پر
کم سر رکھا ہے
لیکن بے دھیانی میں چلتے چلتے
دونوں
کتنا آگے نکل گئے ہیں
(بے دھیان مسافتوں کے ہم سفر کیلئے ایک نظم ۔مجموعہ انتساب)
——
حمیرانے اپنے پہلے مجموعہ ’’اندمال‘‘ سے دوسرے مجموعہ ’’انتساب‘‘ تک اور تازہ غزلوں میں بھی تخلیقی سفر بڑی کامیابی سے ایسی راہوں پر طے کیا ہے جہاں ان کے قدموں کے نشان کو پہچانا جاسکتا ہے۔ ان کی غزلوں کا انفرادی رنگ ہے۔ اس انفرادیت کو ان کی لفظیات اور غزلوں کی ردیفوں نے نمایاں کیا ہے۔ ان کی زیادہ تر ردیفین دو ،تین اور کہیں کہیں چار الفاظ پر بھی مشتمل ہوتی ہیں۔ ایک سے زیادہ الفاظ ہونے کی وجہ سے وہ خود اپنے معنی بھی رکھتی ہیں۔ جنہیں قافیہ سے مربوط رکھنا مشکل ہے۔ پھر یہ ردیفیں متحرک بھی ہیں۔مثلاً چھوڑ جاتا ہے۔ ہوا میں ہے۔ کھلے رہے۔ بجھ گئے ہیں۔ کاٹنے پڑتے ہیں وغیرہ۔ یہ ردیفیں کہیں کہیں ان کے تجربے اور جذبات کے بھرپور اظہار میں حائل ہوجاتی ہیں۔ یہ ردیفیں کہیں کہیں ابہام پیدا کردیتی ہیں اور زبان و بیان پر وہ قدرت جو اساتذہ کے کلام میں نظر آتی ہیں اس کی قدرے کمی محسوس ہوتی ہے۔یہ نشان دہی میں اس لئے کررہی ہوں کہ ذرا سی توجہ سے حمیرا غزل کے شعراء میں بہت نمایاں مقام حاصل کرسکتی ہیں۔ ان کے منتخب اشعار سنیے۔
——
اس قدر غور سے اس شخص کو دیکھا نہ کرو
وہ بھرے گھر کا ہے عادی اسے تنہا نہ کرو
——
روز تمہارے زخموں کو میں تازہ کروں
اور پھر اپنی چاہت کا اندازہ کروں
——
کٹ پتلی کا ایک تماشہ مجھ میں رہتا ہے
نیند میں بھی ایک جاگنے والا مجھ میں رہتا ہے
——
میری بیٹی نے مجھ کو دیکھ کر سیکھا ہے برسوں میں
پرانا آئینہ رکھ کر نئی آرائشیں کرنا
——
حمیرا اعتماد کا پہاڑ ڈھیر ہوگیا
اور اب بھی سوچتے ہیں ان سے اختلاف کیا کریں
——
یہ بھی پڑھیں : مرحبا صد مر حبا آمد شہ ذیشان کی
——
جواز ٹوٹ گیا ہے مگر تعلق کا
ایک اہتمام وضعداریوں میں رکھا ہے
یقین عمر کی بوسیدہ ایک دراز میں بند
رفاقتوں کے کئی واہموں میں رکھا ہے
——
منتخب کلام
——
روشندان سے دھوپ کا ٹکڑا آ کر میرے پاس گرا
اور پھر سورج نے کوشش کی مجھ سے آنکھ ملانے کی
——
وہ لمحہ جب مرے بچے نے ماں پکارا مجھے
میں ایک شاخ سے کتنا گھنا درخت ہوئی
——
کتنی ہی یادوں کے حمیراؔ روشن ہیں بے نام چراغ
آج کوئی دیکھے تو رونق میرے آئینہ خانہ کی
——
حوالہ کچھ بھی ہو ، بینائیاں تاریک رہنے کا
دریچہ اب بھی میرا روشنی کے زاویوں پر ہے
——
میں لے آئی ہوں پودے سرد موسم سے بچا کر
مگر دکھ بے زمینی کا انہیں پہچانتا ہے
——
کس سے پوچھیں ہم کو چاہنے والے جا کر کہاں چھپے
بستی کے ہونٹوں پہ چپ ہے اور دروازوں پہ تالہ
——
کڑوے موسم اور زہریلا ورثۂ آب و ہوا
سارے بوجھ اٹھا لیتے ہیں بچے اور گلاب
——
کوئی بھی خواب اب حقیقتوں سے مختلف نہیں
محبتیں بھی خوش گمانیوں کی نذر ہو گئیں
——
کیسے دیکھیں ان حالات میں کسی نئی امید کی لو
بچے ہنسنا بھول چکے ہیں آخری خبریں آنے تک
——
مری الماریوں میں قیمتی سامان کافی تھا
مگر اچھا لگا اس سے نئی فرمائشیں کرنا
——
اوپر موٹی برف جمی ہے نیچے پانی ہے
ہر تصویر کے پس منظر میں یہی کہانی ہے
——
کوئی کھڑا ہے آنکھوں میں پھولوں کے تھال اٹھائے ہوئے
پر میری عادت ہی نہیں ہے سجنے اور سجانے کی
——
ذرا سی بات پر ناراض ہونا رنجشیں کرنا
محبت میں اسے آتا نہیں گنجائشیں کرنا
مری بیٹی نے مجھ کو دیکھ کر سیکھا ہے برسوں میں
پرانا آئینہ رکھ کر نئی آرائشیں کرنا
مری المایوں میں قیمتی سامان کافی تھا
مگر اچھا لگا اس سے کئی فرمائشیں کرنا
مجھے بچوں کی آنکھوں میں وہ سارے رنگ ملتے ہیں
جنہیں چھونے سے آئے زندگی کی خواہشیں کرنا
حمیراؔ دھیان رکھنا ڈوبتے سورج کی آہٹ کا
سدا چڑھتی اترتی دھوپ کی پیمائشیں کرنا
——
طبیعت ان دنوں اوہام کی ان منزلوں پر ہے
دل کم حوصلہ کاغذ کی گیلی کشتیوں پر ہے
گذشتہ موسموں میں بجھ گئے ہیں رنگ پھولوں کے
دریچہ اب بھی میرا روشنی کے زاویوں پر ہے
ہزاروں آبنوسی جنگلوں کا حسن کیا معنی
ہمیں جب سانس لینا کیمیائی تجربوں پر ہے
کڑھا ہے میری اجرک پر بلوچی کام شیشے کا
کسی کے عکس کی قوس قزح سب آئینوں پر ہے
مرے آنگن میں اک ننھی گلہری کا بسیرا ہے
بہت معصوم سا اک نقش میری کیاریوں پر ہے
میں اس پر اپنے اندر کی حمیراؔ وار آتی ہوں
مگر وہ بے یقینی میں ابھی پہلی حدوں پر ہے
——
پتوں کا پیراہن بدلا زرد رتوں کے آنے تک
تم بھی روشن ہم بھی روشن بادل کے چھا جانے تک
خوش رہنے کے سارے منظر آنکھ کے اندر رہتے ہیں
دھڑکن شور کیا کرتی ہے بالآخر رک جانے تک
کیسے دیکھیں ان حالات میں کسی نئی امید کی لو
بچے ہنسنا بھول چکے ہیں آخری خبریں آنے تک
وہ آزاد فضا کا اک پل کتنے معانی رکھتا ہے
پنجرے کے دروازے سے چڑیوں کے پر پھیلانے تک
حاشیہ آرائی میں ہم نے کتنا عرصہ ضائع کیا
اک فرضی دیوار تھی حائل بڑھ کر ہاتھ ملانے تک
اپنے اپنے اندازے سے سب نے آںکھیں کھولی تھیں
شب کی رنگت کالی تھی صبحوں کی سفیدی چھانے تک
ابھی حمیراؔ شاید کچھ دن اور لگیں مرے لوگوں کو
اندے سے اٹھنے والی آواز پہ کان لگانے تک
——
شعری انتخاب از انتساب ، مصنفہ : حمیرا رحمان
شائع شدہ : 2011 ، متفرق صفحات
یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ