اردوئے معلیٰ

آج معروف ادیب، ڈرامہ نویس، براڈ کاسٹر اور تجزیہ نگار بابا جی اشفاق احمد کا یوم وفات ہے ۔

اشفاق احمد
(پیدائش: 22 اگست، 1925ء – وفات: 7 ستمبر، 2004ء)
——
پیدائش
——
معروف دانشور ، ادیب ، ڈرامہ نگار ، تجزیہ نگار ، سفر نامہ نگار اور براڈ کاسٹر جناب اشفاق احمد خان بھارت کے شہر ہوشیار پور کے ایک چھوٹے سے گاؤں خان پور میں ڈاکٹر محمد خان (پٹھان گو) کے گھر 22 اگست 1925 ءکو بروز پیر پیدا ہوئے۔
——
تعلیم
——
اشفاق احمد کی پیدائش کے بعد اُن کے والد ڈاکٹر محمد خان کا تبادلہ خان پور سے فیروز پور ہوگیا ۔ اشفاق احمد نے اپنی تعلیمی زندگی کا آغاز اسی گاؤں فیروز پورسے کیا۔ اور فیروز پور کے ایک قصبہ مکستر سے میٹرک کا امتحان پاس کیا۔ بقول اے حمید:
”اشفاق احمد کا حویلی نما آبائی مکان محلہ ہجراہ واری پتی میں واقع تھا ۔ اس ایک منزلہ مکان کے سامنے ایک باڑہ تھا جس میں گھوڑے بھینس اور دوسرے جانور بندھے رہتے ۔ اسی قصبے مکستر کے اسکول میں اشفاق احمد نے 1943ءمیں میٹرک کا امتحان پاس کیا۔
اشفاق احمد نے ایف ۔ اے کا امتحان بھی اسی قصبہ فیروز پور کے ایک کالج ”رام سکھ داس “ سے پاس کیا ۔ اس کے علاوہ بی ۔اے کا امتحان امتیازی نمبروں کے ساتھ فیروز پور کے ”آر، ایس ،ڈی “RSDکالج سے پاس کیا۔
قیام پاکستان کے بعد اشفاق احمداپنے خاندان کے ہمراہ فیروز پور (بھارت) سےہجرت کرکے پاکستان آ گئے۔ پاکستان آنے کے بعد اشفاق احمد نے گورنمنٹ کالج لاہور کے ”شعبہ اردو “ میں داخلہ لیا۔ جہاں کل چھ طلباءو طالبات زیر تعلیم تھے۔ کالج میں انگریزی کے اساتذہ اردو پڑھایا کرتے تھے۔ کتابیں بھی انگریزی میں تھیں،جبکہ اپنے وقت کے معروف اساتذہ پروفیسر سراج الدین، خواجہ منظور حسین ، آفتاب احمد اور فارسی کے استاد مقبول بیگ بدخشانی گورنمنٹ کالج سے وابستہ تھے ۔اور یہ سب اشفاق احمد کے استاد رہے۔
——
یہ بھی پڑھیں : بانو قدسیہ کا یوم پیدائش
——
اُس زمانے میں بانو قدسیہ (اہلیہ اشفاق احمد ) نے بھی ایم ۔ اے اردو میں داخلہ لیا۔جب بانو نے پہلے سال پہلی پوزیشن حاصل کی تو اشفاق احمد کے لیے مقابلے کا ایک خوشگوار ماحول پیدا ہوا۔ انھوںنے بھی پڑھائی پر توجہ مرکوز کر لی۔ جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ سالِ آخر میں اشفاق احمد اوّل نمبر پر رہے۔ جبکہ بانو قدسیہ نے دوسری پوزیشن حاصل کی
” یہ وہ دور تھا جب اورینٹل کالج پنجاب یونیورسٹی میں اردو کی کلاسیں ابھی شروع نہیں ہوئی تھیں۔“
——
شادی
——
جن دنوں اشفاق احمدگورنمنٹ کالج لاہور میں ایم ۔ اے اردو کے طالب علم تھے۔ بانو قدسیہ ان کی ہم جماعت تھی ۔ ذہنی ہم آہنگی دونوں کو اس قدر قریب لے آئی کہ دونوں نے شادی کا فیصلہ کیا۔
بانو قدسیہ فیروز پور مشرقی پنجاب ( بھارت ) میں28نومبر 1928ء میں پیدا ہوئی ۔ بچپن اور لڑکپن وہیں گزارا ۔ قیام پاکستان کے ہجرت کرکے لاہور میں آکر قیام کیا۔
اشفاق احمدایک کھاتے پیتے پٹھان گھرانے میں پیدا ہوئے تھے ۔ آپ کے والد ایک قابل محنتی اور جابر پٹھان تھے۔ جس کی مرضی کے خلاف گھر میں پتا بھی نہیں ہل سکتا تھا۔ گھر کا ماحول روایتی تھا۔ بندشیں ہی بندشیں تھیں ۔ اُن کے والد ایک غیر پٹھان لڑکی کو بہو بنانے کے حق میں نہ تھے لیکن ان دونوں کی شادی کا مقصد صرف حصول محبت نہیں تھا۔ بلکہ قدرت کو علم کے متوالوں کو یکجا کرنا مقصود تھا۔ جو کہ وقت نے ثابت کر بھی کر دیا۔ بقول ممتاز مفتی:
”اس نے جوانی میں روایت توڑ محبت کی اسے اچھی طرح علم تھا کہ گھر والے کسی غیر پٹھان لڑکی کو بہو بنانے کے لیے تیار نہ ہوں گے ۔ اسے یہ بھی علم تھا کہ گھر میں اپنی محبت کا اعلان کرنے کی اس میں کبھی جرات پیدا نہ ہوگی اس کے باوجود ایسے حالات پیدا ہو گئے کہ وہ محبت میں کامیاب ہو گیا۔ اگرچہ شادی کے بعد اُسے مجبوراً گھر چھوڑنا پڑا۔“
——
ملازمتیں
——
اشفاق احمدنے ایم اردو میں داخلہ سے قبل ہی ریڈیو پاکستان میں ”اناونسمنٹ “ شروع کر دی تھی ۔ جہاں انھیں ۸۰ روپے ملتے تھے۔ بقول اے حمید:
” قیام پاکستان کے بعد اشفاق احمد جب لاہور منتقل ہوئے تو مالی حالت دگرگوں تھی ۔ لہٰذا میٹرک کی سند دکھا کر محکمہ ریلوے میں ملازمت حاصل کر لی جہاں صرف ایک دن گزار سکا۔ اس کے بعد مہاجرین کیمپ میں ملازم ہو گیا۔ ایک دن سودی خانہ میں گزارا اور اگلے دن ایک اور شعبہ میں منتقل کر دیا گیا۔ جہاں اس کی ڈیوٹی لاوڈ سپیکر کے ذریعے اناؤنسمنٹ پر لگا دی گئی۔“
اس کے بعد ایم ۔ اے کے دوران ریڈیو آزاد کشمیر سے بھی وابستگی رہی ۔ زمانہ طالب علمی میں ہی انھوں نے ریڈیو میں ۳۰۰ روپے ماہانہ پر کچی نوکری کر لی مگر گھر والوں کے دباؤ پر نوکری چھوڑ کر پڑھائی پر توجہ مرکوز کر لی۔ اس کے بعد جب ایم ۔ اے اردوکا امتحان اعزاز کے ساتھ پاس کرلیا تو انہیں عابد علی عابد نے لیکچرار بھرتی کروا دیا۔یوں وہ دو سال تک ”دیال سنگھ کالج “ میں پڑھاتے رہے۔
”اسی دوران اٹلی میں اردو پڑھانے اور براڈ کاسٹر کی اسامی نکلی تو یہ دونوں صلاحیتیں اُن میں موجود تھیں۔ حصول سیٹ کی تحریک کا امتحان پاس کرنے پر وہ اٹلی چلے گئے۔“
——
یہ بھی پڑھیں : بانو قدسیہ کا یوم وفات
——
اس طرح اشفاق احمد1953ءمیں روم یونیورسٹی اٹلی میں اردو کے پروفیسر مقرر ہوئے اور سابقہ ریڈیو روم سے پروگرام بھی کرنے لگے اور یہاں رہ کر انہوں نے اٹلی کی زبان بھی سیکھ لی۔
پاکستان آنے کے بعد انھوں نے ایک ادبی مجلہ”داستان گو“ کے نام سے جاری کیا۔ جو اردو کے چھپنے والے ابتدائی رسالوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ اور اس کے علاوہ دو سال تک ہفت روزہ ”لیل و نہار“ کی ادارت بھی کی۔ 1972ءمیں مرکزی ارد و بورڈ کے ڈائریکٹر بھی مقرر ہوئے جو بعد ازاں اردو سائنس بورڈ میں تبدیل ہو گیا وہ 1979ءتک اس ادارے سے وابستہ رہے۔
اس کے علاوہ صدر پاکستان جنرل ضیاءالحق کے دور حکومت میں وفاقی وزارت تعلیم کے مشیر بھی رہے۔
——
اشفاق احمد اور ریڈیو کی دنیا
——
تاریخ کے اوراق دہرائے جائیں تو یقینا ریڈیو پاکستان کے حوالے سے اشفاق احمد کا نام الگ اہمیت کا حامل ہے۔ ریڈیو پاکستان کے لیے اشفاق احمد کی خدمات بیش قیمت ہیں انہوں نے 1949ءکے لگ بھگ ریڈیو پاکستان کے لیے لکھنا شروع کیا۔ اور دیکھتے دیکھتے مقبولیت کی بلندیوں پر پہنچ گئے”اپنی تمام تر تخلیقی قوتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے جس محنت ، لگن اور محبت کے ساتھ اس نے افسانے لکھے اسی محنت اور لگن کے ساتھ ریڈیو کے لیے لکھا۔“ )
ریڈیو کی دنیا میں اشفاق احمد کا لازوال شاہکار ”تلقین شاہ“ ہے جو 30 برس بعد بھی اسی طرح مقبول خاص و عام رہا جس طرح پہلے تھا۔ ”تلقین شاہ“ ریڈیو پاکستان کے آسمان پر ستارہ بن کرچمکتا رہا اور اشفاق احمد کے فن کو نکھار بخشتا گیا ۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ فیچر کی کامیابی میں اشفاق احمد کی ادائیگی کا بہت عمل دخل ہے۔
——
اشفاق احمد اور ٹیلی وژن
——
جس وقت لاہور کے ٹیلی وژن نے کام کرنا شروع کیا تو 1964ءکے اواخر کا زمانہ تھا۔ ریڈیو لاہور اپنی نئی عمارت میں منتقل ہو چکا تھا۔ اور اشفاق احمد کافیچر ”تلقین شاہ“ اپنے عروج پرتھا۔ 1965ءمیں بھارت نے پاکستان پر حملہ کر دیا تو اشفاق احمد کے ریڈیو فیچروں اور ڈراموں اور خاص طور پر ”تلقین شاہ“ میں قومی اور حب الوطنی کا جذبہ کھل کر سامنے آیا۔ تلقین شاہ فیچر کے ذریعے اشفاق احمد نے محاذ جنگ پر لڑتے اپنے بہادر جوانوں کے سینوں میں جذبہ ایمانی کا ایک نیاولولہ پیدا کیا اور ا س محاذ پر بھی اُس نے اپنے قومی کردار کا پورا پورا حق ادا کیا۔
1965ءکی جنگ کے بعد اشفاق احمدریڈیو سے دور اور ٹیلی وژن کے زیادہ قریب تر ہوگئے۔ پھر ایک وقت آیا کہ جب وہ پورے کے پورے ٹیلی وژن کے ہو کر رہ گئے۔ اور ریڈیو کے ساتھ ان کا رشتہ تلقین شاہ کی حد تک باقی رہ گیا۔ ٹیلی وژن کے لیے لکھتے ہوئے اشفاق احمد کو محسوس ہوا کہ ان کے بیان کے لیے جو وسعت درکار تھی وہ انہیں مل گئی۔ ریڈیو پر ان کی جن پوشیدہ صلاحیتوں کو آواز کی لہروں نے محدود کر رکھا تھاٹیلی وژن نے انہیں ایک بحر بیکراں سے ہم کنار کر دیا۔
” جس جوش اور جذبے کے ساتھ اشفاق احمد نے قیام پاکستان کے فوراً بعد افسانے لکھنے شروع کیے تھے ۔ اسی جذبے اور جوش کے ساتھ وہ ٹیلی وژن کے لیے لکھنے لگا۔“ (١)
——
یہ بھی پڑھیں : بانو قدسیہ اور اشفاق احمد کی سید فخر الدین بلے خاندان سے رفاقت کی داستان
——
اشفاق احمد نے جب پاکستان ٹیلی وژن کے لیے لکھنا شروع کر دیا تو ان میں خداداد صلاحیتوں کی کمی نہیں تھی ۔ ٹیلی وژن کا دائرہ بہت وسیع تھا۔ اشفاق احمد کے حقیقی جوہر ٹیلی وژن پر آکر کھلے ۔ ٹیلی وژن کے لیے انھوں نے جو فیچر اور ڈرامے لکھے ان کی تعداد پونے چار سو کے لگ بھگ بنتی ہے۔ ان میں مندرجہ ذیل سب سے زیادہ مشہور ہوئے۔
١) توتا کہانی
٢) ایک محبت سو افسانے
٣) اور ڈرامے
٤) کاروان سرائے
٥) حیرت کدہ
٦) من چلے کا سودا
٧) بند گلی
٨) تلقین شاہ
٩) اچے برج لاہور دے
۱۰) ٹاہلی دے تھلے
اس کے علاوہ اشفاق احمد نے ٹیلی وژن کے لیے عام دورانیے اور طویل دورانیے کے ڈرامے بھی لکھے ہیں جو بہت پسند کیے گئے ۔ اپنے آخری دور میں اشفاق احمد کے ڈراموں پر تصوف کے فلسفے کا رنگ بہت گہرا ہوگیاتھا۔ اور اس کے کردار طویل مکالمے بولنے لگتے تھے۔
”ایک محبت سو افسانے“ اشفاق احمد کا پہلا افسانوی مجموعہ ہونے کے ساتھ ساتھ ایک ٹی وی ڈراموں کی سیریز بھی انہوں نے اسی نام سے لکھی ۔اور اس سیریز کے ڈراموں نے بڑی شہرت حاصل کی۔
”لوگ ڈرامہ ٹیلی کاسٹ ہونے سے پانچ دس منٹ قبل ٹی وی سیٹ کے سامنے بیٹھ جاتے تھے۔ جتنی دیر تک ڈرامہ نشر ہوتا کوئی کسی سے بات نہیں کرتا تھا۔“ (٣)
بعد میں یہی ڈرامے نئے اداکاروں پر رنگین فلمبند کرکے ٹیلی وژن پر ایک دفعہ پھر پیش کیے گئے تو اس بار بھی یہ ڈراموں کا ایک مقبول ترین سلسلہ ثابت ہوا۔ اس کے علاوہ ان کی سیریز ”توتا کہانی “ ،”حیرت کدہ“ اور ”کاروان سرائے “ کے ڈراموں میں بھی اشفاق احمد کا فن اور اس کی فنی اور تخلیقی صلاحیتیں اپنے عروج پر نظر آتی ہیں۔ وقت کے ساتھ ساتھ اشفاق احمد کے ٹی وی ڈراموں میں فلسفیانہ خیالات اور تصوف کا اثر نمایاں ہوتا گیا۔ یہ ان کے طبعی رجحان کا تقاضا اور ان کے فن کے فطری عمل کا نتیجہ تھا۔ صوفیانہ اثرات شروع ہی سے ان پر غالب رہے۔ جیسے جیسے ان کی ادبی تخلیقات کی عمر بڑھتی گئی تصوف کا اثر گہرا ہوتا گیا ۔یہاں تک کہ ٹیلی وژن کے ڈراموں میں ان کے بعض کردار جو فلسفیانہ موشگافیاں کرتے وہ عام بلکہ خاص آدمیوں کی سمجھ سے بھی باہر ہوتیں ۔ لیکن اشفاق احمد اپنی روش پر قائم رہے۔ اپنے نظریات کے وفادار رہے۔ اور یہی ایک بڑے ادیب کی شان ہوتی ہے۔بقول اے حمید:
” ایک بار میں نے اس سے کہا تھا کہ تم اپنے ڈراموں میں تصوف کے جس فلسفے کا طویل طویل لیکچروں کے ذریعے اظہار کرتے ہو وہ میری سمجھ سے باہر ہوتا ہے مگر میں تمہیں اس کے اظہار سے کبھی نہیں روکوں گا۔“
اشفاق احمد نے ٹیلی وژن پر ”تلقین شاہ “ کا سلسلہ بھی شروع کیا۔ لیکن وہ کامیاب نہ ہو سکا جس کی سب سے بڑی وجہ اشفاق احمد کی کیمرے کے سامنے جھجک تھی۔ ریڈیو میں بھی اپنے شرمیلے پن کی وجہ سے ریکارڈنگ کے وقت کسی باہر کے آدمی کو سٹوڈیو میں آنے کی اجازت نہیں دیتے تھے۔
اشفاق احمد کا ڈرامہ سیریل ”من چلے کا سودا “ تصوف کے موضوع پر ایک انوکھی کاوش تھی۔ اس ڈرامے نے لوگوں کو بہت متاثر کیا۔ فنی اعتبار سے اشفاق احمد کا یہ ڈرامہ اتنہائی مکمل اور حد کمال تک پہنچا ہوا ہے۔ اشفاق احمد اگر اپنے ڈراموں کو کتابی شکل میں چھاپتے تو پڑھنے والے پر وہ اثر نہ ہوتا جو ڈرامے دیکھنے سے ہوتا ہے۔بقول اے حمید:
——
یہ بھی پڑھیں : نعتیہ مجموعہ کلام
——
” میرے خیال میں اشفاق احمد نے اپنا آدھے سے زیادہ ادبی ٹیلنٹ ریڈیو ٹی وی کی نذر کر دیا ہے۔ ہماری ایک نسل اس کے ڈراموں کو ضرور یاد رکھے گی۔ اس کے بعد کی نسل اس سے محروم ہو جائے گی ۔ اس کے برعکس اگر اشفاق احمد ”تلقین شاہ“ کے کردار کو ایک ناول کی شکل میں بیان کرتا تو میری رائے میں اس کا درجہ جدید اردو ادب کے ناولوں میں فسانہ عجائب سے کسی طرح کم نہ ہوتا ۔“ (٢)
——
اشفاق احمد اور سفر نامہ نگاری
——
افسانہ نگاری اور ڈرامہ نگاری کے ساتھ ساتھ اشفاق احمد نے صنفِ سفر نامہ نگاری میں بھی طبع آزمائی کی ہے۔ وہ بڑے کامیاب سفر نامے لکھ سکتے تھے لیکن اُس نے اس صنف پر پوری توجہ نہیں دی۔ اشفاق احمد کا ایک بہترین سفر نامہ ”سفردرسفر “ کے نام سے منظر عام پر آچکا ہے اور کتابی شکل میں موجود ہے۔
”سفر درسفر “ اشفاق احمد کا پاکستان کے شمالی پہاڑی علاقوں میں سیاحت کا سفر نامہ ہے۔ اس سفر میں ان کے ساتھ کچھ ادیب اور شاعر دوست بھی ان کے ہمسفر تھے۔ جن میں مسعود قریشی اور ممتاز مفتی کے نام خاص طور پر قابلِ ذکر ہیں۔
اشفاق احمد نے ایک سفر نامہ ایک مضمون کی شکل میں لکھا ہے اور اس میں اُن کے قیام نیویارک کے احوال درج ہیں۔ اس سفر نامے میں نیویارک کے شہر کی سچی اور حقیقی تصویریں دکھائی دیتی ہیں جو کہ اشفاق احمد کے فن کا ثبوت فراہم کرتی ہیں۔
اشفاق احمد کے سفر ناموں میں بھی یہ خوبی ہے کہ وہ اپنے سفر نامے میں اپنی ذات کو بھی شامل کر دیتے ہیں اور پڑھنے والے کی ذات کو بھی ساتھ لے کر چلتے ہیں۔
——
”داستان گو “ کا زمانہ:۔
——
”داستان گو“ وہ رسالہ تھا جسے اشفاق احمد اور بانو قدسیہ نے مل کر نکالا۔ یہ ایک پاکٹ سائز رسالہ تھا ۔ یعنی قمیص کی جیب میں آسانی سے آجاتا تھا۔ اس رسالے پر اشفاق احمد کی چھاپ نظر آتی ہے۔ اس میں فیچر نما مضمون”حیرت کدہ“ کے عنوان سے ہر ماہ چھپتا۔ یہ سچے آسیبی واقعات ہوتے تھے۔ جو کسی نہ کسی کے ساتھ گزرے ہوتے تھے بعد میں اشفاق احمد نے اسی عنوان سے ٹیلی وژن پر ڈراموں کی ایک سیریز بھی لکھی جو بہت پسند کی گئی ۔
”اس رسالے میں ادب کے علاوہ سائنسی معلومات ،شکاریات ، آسیبیات ، نفسیات ، مزاحیات ہر قسم کا مواد چھپتا تھا ۔ مگر کوئی بھی چیز غیر معیاری نہیں ہوتی تھی۔“(١)
اشفاق احمد نے ”داستان گو “ کے معیار کو بہترسے بہتر اور منفرد سے منفرد بنانے کے لیے اتنی ہی محنت کی جتنی اس نے افسانے لکھنے کے لیے اور بعد میں ریڈیو ٹی وی ڈرامے لکھنے کے لیے کی تھی ۔” میر شکاری“ کے قلمی نام سے انہوں نے شکاریات کے جو قصے لکھے وہ ادب کا ایک حصہ بن گئے۔ مگر کتابی صورت میں شائع نہ ہو سکے۔ اس رسالے میں اشفاق احمد کے کچھ مزاحیہ مضامین بھی چھپے ۔ جو خاص ان کے اپنے انداز میں لکھے گئے تھے۔
”داستان گو“ کا ایک کارنامہ اس کاناولٹ نمبر ہے۔ جس میں منٹو ، شوکت تھانوی ، بانو قدسیہ ، ممتاز مفتی ، اے حمید ، اشفاق احمد قراة العین حید ر اور عزیز احمد کے ناولٹ شامل تھے۔ یہ ناولٹ نمبر واقعی ایک یادگار نمبر ہے۔ لیکن داستان گو زیادہ عرصے تک نہ چل سکا۔ اور آخر کار بند ہو گیا۔ اس رسالے میں شائع ہونے والی اشفاق احمد کی تخلیقات کو اگرکتابی صورت میں شائع کیا جاتا تو یہ مرقع بھی اشفاق احمد کے ادب عالیہ میں شمارکیا جاتا ۔
——
بانو قدسیہ
——
اشفاق احمد گورنمنٹ کالج لاہور میں ایم ۔اے اردو کے طالب علم کی حیثیت سے پڑھ رہے تھے کہ بانو قدسیہ نے بھی وہاں داخلہ لیا۔ اشفاق احمد بانو قدسیہ کی ادبی ذوق سے اس قدر متاثر ہوئے کہ بات شادی تک پہنچ گئی ۔
اشفاق احمد نے گھر والوں کی مرضی کے خلاف بانو قدسیہ سے شادی کی جس کی وجہ سے انھیں اپنے خاندان سے علیحدہ ہونا پڑا۔
بانو قدسیہ کو افسانہ نگاری کا شوق بچپن سے تھا مگر جو کچھ لکھا ضائع کر دیا تاہم شادی کے بعد اشفاق احمد جیسا ساتھی نصیب ہوا تو باقاعدہ چھپنے کا سلسلہ بھی شروع ہو گیا۔
” بانو کا پہلا افسانہ ”درماندگی شوق“ سن 1965ءمیں ادب لطیف لاہور میں شائع ہوا جبکہ اشفاق احمد کا پہلا افسانہ ”توبہ “ 1964ءمیں ”ادبی دنیا “ لاہور میں شائع ہوا تھا۔“(٢)
بانو قدسیہ نے افسانوں ، ڈراموں اور ناول کی صورت میں ادبی سرمائے میں بیش بہا اضافہ کیا۔ حکومت پاکستان نے 1983ءمیں بانو قدسیہ کی ادبی خدمات کو پیش نظر رکھتے ہوئے انہیں ستارہ امتیاز (برائے ادب ) دیا جو کہ حکومت پاکستان کا اعلیٰ ترین سول اعزاز ہے ۔
بانو قدسیہ کے افسانوں کے معروف مجموعوں میں سے ”بازگشت “ ”امر بیل“ ”کچھ اور نہیں “ ”دانت کا دستہ “ اور ”ناقابلِ ذکر “ شامل ہیں۔ جنہیں 1985ءمیں ”توجہ کی طالب “ کے نام سے کلیات کی صورت میں سنگ میل لاہور نے چھاپا۔
——
یہ بھی پڑھیں : اشفاق احمد کا یوم وفات
——
بانو قدسیہ نے ناولٹ اور ناول بھی لکھے ہیں۔ ”ایک دن “”موم کی گلیاں “ وغیر ہ ناولٹ ہیں جبکہ ”شہر بے مثال “” راجہ گدھ“اور ”حاصل گھاٹ“ ان کے ناول ہیں۔ ”راجہ گدھ “ ایک ایسا فکری ناول ہے جس نے بانو کے ادبی قد کاٹھ میں بہت اضافہ کیا۔ اپنے موضوع کے اعتبار سے یہ ناول ایک منفرد اور اچھوتے اسلوب کا حامل ہے جس میں دوسرے ناولوں سے الگ تکنیک استعمال کی گئی ہے۔
بانو قدسیہ نے باقاعدہ لکھنے کا آغاز اشفاق احمد کی رفاقت میں ہی شروع کیا اور اشفاق احمد کو اس کا کریڈیٹ یوں جاتا ہے کہ انہوں نے اپنی ادیب بیوی کو نہ صرف برداشت کیا بلکہ اس کی صلاحیتوں کو فطری طور پر آگے بڑھنے کے مواقع فراہم کیے یہی وجہ ہے کہ آج بانو قدسیہ کا ادب میں ایک الگ مقام ہے۔
——
اشفاق احمد تصوف کی دنیا میں
——
اشفاق احمد کی تحریروں کا تجزیہ کیا جائے تو یہ بات واضح طور پر سامنے آتی ہے۔ کہ اُن کے ابتدائی دور کی تحریروں میں محبت کا رنگ غالب ہے۔ یعنی اُن کے افسانوی مجموعے ”ایک محبت سو افسانے “ پر محبت کارنگ چڑھا ہوا ہے۔ لیکن ان کے آخری دور کی تحریریں اور خصوصاً ڈراموں میں اُن کا رجحان تصوف کی طرف مائل نظر آتا ہے۔
جب تک قدرت اللہ شہاب اور ممتاز مفتی زندہ رہے اشفاق احمد کا تذکرہ اُن کے ساتھ آتا رہا ۔ اور جوں ہی ان تینوں کا ذکر آتا تصوف کے حوالوں سے عجیب و غریب مباحث چھڑ جاتے۔ اشفاق احمدمیں یہ خوبی تھی کہ وہ ایسا فقرہ بول دیتے کہ مقابل چونک پڑتا تھا ۔
” ممتاز مفتی نے خود کئی مافوق الفطرت واقعات لکھ کر اپنے گرد ایک دھند کا دائرہ سا بنا لیاتھا۔ یہی حیلہ اشفاق احمد نے کیا۔“ (١)
اشفاق احمد کے بارے میں بہت سے لوگوں کا خیال تھا کہ ان کے اچانک ظاہر یا پھر غائب ہو جانے والے ”بابے “ فکشن کی ضرورت کے تحت آتے ہیں۔ تاہم اشفاق احمد کا اصرار رہا کہ ان کا وجود ہے اور جوکچھ وہ بیان کرتے ہیں حقیقی زندگی میں روحانی سطح پر ایسا ہی ہو رہا ہے۔ اشفاق احمد نے اسی فکری مواد پر مشتمل کئی ڈرامے بھی لکھے جن کو ٹیلی وژن پر بڑی مہارت سے پیش کیا گیا۔ ”من چلے کا سودا “ ایسے ہی ڈراموں میں سے ایک ہے۔ اچھوتے موضوع اور فکری مواد کی وجہ سے ڈراموں کا یہ سلسلہ بہت مقبول ہوا اور اشفاق احمد لوگوں کو اپنی اس فکری جہت کی طرف متوجہ کرنے میں کامیاب ہو گئے ۔بقول اے حمید:
” اخبارات اور رسائل کے لیے جب اشفاق احمد انٹرویو دیتے یا پھر تقاریب میں گفتگو کرتے تو اس میں حیرت کاعنصر ضرور شامل ہو جاتا ۔ اشفاق کے حوالے سے عجیب و غریب واقعات اخبارات کی زینت بننے لگے ۔اور یوں اس کی ذات لوگوں کی توجہ کا مرکز بن گئی ۔ تاہم یہ اپنی جگہ حقیقت ہے کہ روحانیت اور تصوف سے متعلق لوگوں کی وہ ہمیشہ کھوج میں رہتا ہے۔“ (١)
——
مصروفیات اور اعزازات
——
اشفاق احمد نے اپنی زندگی میں ہر حوالے سے اپنے آپ کو مصروف رکھا اور مسلسل کچھ نہ کچھ کرتے رہے۔ افسانے لکھے اگرچہ کم لکھے لیکن خوب لکھے۔ ٹیلی وژن اور ٹی وی کے لیے ڈرامے لکھے ۔ اور کمال کے لکھے۔خود ریڈیو پر ”تلقین شاہ “ کی حیثیت سے صدا کاری کی اور ایسی کی کہ ہر پروگرام نے مسلسل نشر ہونے کا ریکارڈ قائم کیا۔ اخبارات میں انٹرویو دیے اور نئے نئے سوالات اٹھائے ۔ نہ صرف سنجیدہ ادب لکھا بلکہ طنز و مزاح میں بھی طبع آمائی کی۔بقول اے حمید:
” ہیمنگوے کی ” A Farewell torisms”کا انگریزی سے اشفاق احمد نے ”وداع جنگ“ کے نام سے اردو میں ترجمہ کیا جو دو جلدوں میں شائع ہوا۔ اسی طرح ”ازرتاشی “کے ناول "The Golden Hawks”کا ترجمہ ©”چنگیز خان کے سنہرے شاہین“ اور ہیلن شکیئر کی تراشی صفحات کی کتاب” Getting along with others”کا ترجمہ ”دوسروں سے نباہ “ کے نام سے کیا ۔ شاعری بھی کی ”کھٹیا وٹیا “اس کی آزادپنجابی نظموں کا مجموعہ ہے جسے سنگ میل لاہور نے 1988 ءمیں پہلی مرتبہ شائع کیا ۔“ (٢)
——
یہ بھی پڑھیں :  جو سوئے دار سے نکلے
——
اشفاق احمد کو اعزازات سے بھی خوب نوازا گیا حکومتی سطح پر اشفاق احمد کو ان کی بے مثل اور لازوال خدمات کے اعتراف میں صد ر پاکستان نے ایک دفعہ ”ستارہ حسن کارکردگی “ (پرائڈ آف پرفارمنس ) اور دوسری بار پاکستان کا سب سے بڑے سول اعزازسے نوازا جو حیثیت و اہمیت میں ”نشان حیدر“ کے مقابل سمجھا جاتا ہے۔ لیکن میری ناقص رائے میں اُن کے لیے سب سے بڑا اعزاز آج لاکھوں دعاؤں کا ایک لا متناہی سلسلہ ہے۔
علاوہ ازیں اشفاق احمد کئی سرکاری اور غیر سرکاری تنظیموں کے ممبر رہے جن میں سے چند ایک کی تفصیل مندرجہ ذیل ہے۔
١) ممبر انسٹی ٹیوٹ آف ماڈرن لینگویجیز ، قائداعظم یونیورسٹی اسلام آباد۔
٢) ممبر پاکستان کورسسز کمیٹی بورڈ آف انٹر میڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن لاہور۔
٣) ممبر تعلیم بالغاں سوسائٹی گوجرانوالہ
٤) ممبر بورڈ آف سٹڈیز ( پنجابی)پنجاب یونیورسٹی لاہور ۔
٥) ممبر ( مرکزی باڈی ) اکادمی ادبیات ، پاکستان۔
٦) ممبر ہجرہ کمیٹی اسلام آباد ، پاکستان ۔
٧) ممبر ترقی اردو بورڈ کراچی ۔
٨) ممبر ( مرکزی کمیٹی برائے پاکستان ) برکلے اردو پروگرام برکلے یونیورسٹی ، امریکہ
٩) ممبر نیشنل کونسل آف دی آرٹس ، اسلام آباد ، پاکستان ۔
۱۰) مدیر اعلیٰ ( اعزازی ) ماہنامہ ”سکھی گھر “ لاہور ۔
اشفاق احمد کا سب سے بڑا اعزاز یہ ہے کہ وہ پڑھے لکھے طبقے کے اندر ایک دانشور کی حیثیت سے جانے پہچانے جاتے ہیں۔ اور ان کی بات کو دھیان سے سنا جاتااور اہمیت دی جاتی ہے۔
——
وفات
——
اشفاق احمد کچھ عرصے سے علیل تھے ۔وہ پتے کے کینسر میں مبتلا تھے۔ یہی مرض جان لیوا ثابت ہوا اور وہ 79 برس کی عمر میں 8 ستمبر 2004 ء کو دن 9 بجے بروز سوموار اپنے مالک حقیقی سے جاملے۔
داستان سرائے کا ایک دیا بجھ گیا۔ تلقین شاہ چلا گیا ۔ ہدایت سو گیا اور ہمارا روحانی پیشوا دور اُس پار بہت دور ہم سب کو یتیم کرکے کہیں چھپ گیا۔
ع: ”ایک شخص سارے شہر کو ویران کر گیا “
——
تصانیف
——
اشفاق احمد اردو ادب کی تاریخ میں ایک چمکتے ہوئے ستارے کی حیثیت رکھتے ہیں۔ انھوں نے اپنی تصانیف کی بدولت اردو ادب کے دامن کو مالا مال کر دیا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ اشفاق احمد کی تصانیف اردو ادب کے لیے بے مثال اور لازوال سرمایہ ہےں۔ اردو ادب میں اپنے تصانیف کی بدولت اشفاق کا نام تاحیات زندہ و تابندہ رہے گا۔ اشفاق احمد کو اگر اردو ادب کا نادر سرمایہ قرار دیا جائے تو بے جانہ ہوگا۔ اشفاق احمد کی تصانیف میں افسانے ، ناول ، ٹی وی ڈرامے ، ریڈیائی ڈرامے ، فیچر اور سفرنامے شامل ہیں۔ اشفاق احمد کے لازوال اور شاہکار تصانیف مندرجہ ذیل ہیں۔
اجلے پھول ، ایک محبت سو افسانے ، وداع جنگ ، ایک ہی بولی ، سفر مینا ، صبحانے فسانے ، ایک محبت سو ڈرامے ، توتا کہانی ، بند گلی ، طلسم ہوشرافزا،اور ڈرامے، ننگے پاؤں ، مہان سرائے ، حیرت کدہ ، شالہ کوٹ ، من چلے کا سودا، بابا صاحبا، سفر در سفر ، اچے برج لاہور دے، ٹاہلی تھلے، کھیل تماشا، گلدان ، حسرتِ تعمیر ، جنگ بجنگ ، کھیل کہانی ، زاویہ ، گرما گرم لطیفے وغیرہ۔
——
اقتباسات از ایک محبت سو افسانے ، تنقیدی جائزہ
تحقیقی مقالہ برائے ایم۔اے ادبیاتِ اردو
لالا رخ خان سال 2004/05
یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے۔۔۔

حالیہ اشاعتیں

اشتہارات

اشتہارات