اردوئے معلیٰ

ظہور نظر کا یوم وفات

آج اردو کے نامور ترقی پسند شاعر اور صحافی ظہور نظر کا یوم وفات ہے۔

ظہور نظر(پیدائش: 27 جولائی، 1923ء – وفات: 7 ستمبر، 1981ء)
——
ظہور نظر 27 جولائی، 1923ء کو منٹگمری (ساہیوال)، صوبہ پنجاب (برطانوی ہند) میں پیدا ہوئے ۔ ان کا اصل نام ملک ظہور احمد تھا۔
انھوں نے الیکٹریشن کے فرائض انجام دیئے، ٹھیکیداری اورکاشتکاری کی، ہوٹل میں نوکری کی، مرغیاں پالیں اور مزدوری کی۔ باقاعدہ تعلیم جاری رکھنا ممکن نہ تھا، مگر انھوں نے اپنے طور پر مطالعہ جاری رکھا۔ ہفت روزہ *’’ستلج‘‘* بہاول پور کے مدیر رہے۔ انجمن ترقی پسند مصنفین کے سکریٹری بھی رہے۔وی شانتا رام کی فلم *’’پڑوسی‘‘* کے مقبول گانے ظہورنظر نے ہی لکھے تھے۔ زندگی کے آخری دنوں میں ریڈیو پاکستان ، ملتان اور ریڈیو پاکستان بہاول پور کے لیے ڈرامے لکھے۔ ظہورنظر کی نظموں کا انگریزی ،روسی، چینی ،ڈچ اور اطالوی زبانوں میں ترجمہ ہوچکا ہے۔
——
یہ بھی پڑھیں : مولانا ظہور الحسن کا یوم پیدائش
——
وہ ہفت روزہ ستلج اور ہفت روزہ عدل کے مدیر رہے۔ وہ انجمن ترقی پسند مصنفین کے پلیٹ فارم سے بھی ادب میں فعال کردار ادا کرتے رہے۔ ان کا شمار اردو کے اہم نظم گو شعرا میں ہوتا ہے۔ ان کے مجموعہ کلام بھیگی پلکیں، ریزہ ریزہ اور زنجیر وفا کے نام سے اشاعت پزیر ہوئے تھے۔ انہوں نے کئی فلموں کے لیے نغمات بھی لکھے جن میں سلمیٰ، صبح کہیں شام کہیں اور پڑوسی کے نام شامل ہیں۔ ان کی نظمیں انگریزی، روسی، چینی، ولندیزی اور اطالوی زبانوں میں ترجمہ ہوچکی ہیں۔
ظہور نظر کی وفات کے بعد ان کی یاد میں ظہور نظر ادبی انعام کا اجرا کیا گیا۔
ظہور نظر 7 ستمبر، 1981ء کو بہاولپور،پاکستان میں وفات پاگئے۔ وہ بہاولپور میں قبرستان بابا شیر شاہ میں آسودۂ خاک ہیں۔
——
ظہور نظر از مظفر اقبال
——
ظہور نظر 22 اگست 1923ء کو بہاولپور میں پیدا ہوئے۔ اصل نام ظہور احمد تھا۔ صحافت سے وابستہ رہے۔ مختلف فلموں کے لئے نغمے لکھے۔ ترقی پسند فکر کا پرچار کیا۔ بہاولپور کا یہ روشن ستارہ 7 ستمبر 1981ء کو بجھ گیا۔ غم کی آگ میں جلنے والے ، ہر دکھ چُپ چُپ سہنے والے، نظمیں غزلیں کہنے والے ، ترقی پسند اور پرُامن شہر بہاولپور سے تعلق رکھنے والے ادیب اور شاعر ظہور نظر 7 ستمبر 1981ء کو پیوند خاک ہوئے۔اقبال ، فیض اور منیر کے بعد وہ ایک ایسے شاعر ہیں، جنہوں نے بیک وقت نظم اور غزل میں مقدار و معیار کے لحاظ سے اُردو ادب میں نمایاں ترین اضافے کیے بالخصوص نظم نگاری کے میدان میں اسلوب اور تکنیک کے اعتبارسے وہ ایک ممتاز ترین مقام کے حامل ہیں۔
’’ریزہ ریزہ‘‘ ان کی نظموں کا مجموعہ ہے، جس میں آزاد اور پابند نظم کا ایک اورمنفرد امتزاج موجود ہے، جس کو کوئی مخصوص نام نہیں دیا جا سکتا۔ بقول احمد ندیم قاسمی ’’ ظہور نظر نے جو نظم کہی وہ تصدق حسین خالد ، میرا جی اور ن م راشد کے برعکس ایک بالکل الگ صنف ہے ۔ اگر ہمارے ہاں آزاد نظم کو زندہ رہنا ہے، تو اسے ظہور نظر کا سلیقہ اختیار کرنا ہوگا‘‘۔ریزہ ریزہ میں شامل سرگوشی، میں نادم ہوں ، محنت کش، آخری ملاقات ، یہ جنگل کون کاٹے گا اور یہ جبر کی کون سی منزل ہے ایسی نظمیں ہیں، جن میں شاعر کا فن بلندیوں کو چُھو رہا ہے۔
ظہور نظر عام اور زبانی قسم کے ترقی پسند شاعر نہیں۔ انہوں نے حمید اختر ، م حسن لطیفی اور ساحر لدھیانوی کی رفاقت میں اس فکر کو نہ صرف اپنا نظریہ فن بنایا بلکہ آخری دم تک اس ترقی پسند فکر کے عملی مبلغ بھی رہے ۔
حمید اختر کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ کرشن چندرکے معروف افسانے ’’ ان داتا‘‘ کو سٹیج کرنے کا خیال سوجھا ،تو ظہور نظر نے اس میں بھر پور اور کلیدی کردار ادا کیا ۔ان کا دوسرا مجموعہ کلام’’ وفا کا سفر ‘‘ کے نام سے 1986ء میں شائع ہوا، جس میں نظموں کے ساتھ ساتھ 78 غزلیات بھی شامل ہیں ۔
اُردوشاعری کو ایسے نادر نمونے یا فن پارے دینے والے شاعر کو زندگی بھر سخت جدوجہد کا سامنا رہا ۔ زندگی کی سختی اور تلخی کو سہنا پڑا ۔
فکری اور عملی طور پر ان کی زندگی کامیاب جدوجہد سے عبارت ہے ۔ انہوں نے ہمیشہ ترقی پسندانہ اور مثبت رویوں کو پروان چڑھانے میں اپنا خون جگر صرف کیا ۔
——
یہ بھی پڑھیں : ہر ایک شے میں الٰہی ظہور تیرا ہے
——
فروغ صبح چمن میں ایک کُل وقتی ترقی پسند شاعر کا کردار ادا کیا ۔اہل ِ شہر کی طر ف سے کم وبیش اسی قسم کی ناقدری ، سفاکی اور بے حسی اس ظہور نظر کے ساتھ برتی گئی ،جو بہاولپور کی پہچان تھے۔
ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ اس روشن فکر شاعر کی اعزاز کے ساتھ تدفین کی جاتی، مگر افسوس صد افسوس کہ نمازِ جنازہ کے وقت اور مقام کا اعلان ہونے سے قبل اُن کے کافر اور ملحد ہونے کے اعلانات کیے گئے اور اہل ِ شہر کو ان کی نمازِ جنازہ ادا کرنے سے روکنے کی مذموم کوشش کی گئی ۔
اُن کے قریبی دوستوں اور عزیزوں کو تدفین سے پہلے ظہور نظر کو ’’مسلمان ‘‘ ثابت کرنا پڑا۔
شہر کے مفتی نے مرحوم کا اسلامی کلام دیکھ کر ظہور نظر کو ’’مسلمان ‘‘ قرار دیا۔
یوں ’’ کفر ٹوٹا خدا خدا کرکے‘‘۔ ظہور نظر کی ادبی برادری نے ان کی وہ پذیرائی نہ کی، جس کے وہ بجا طور پر مستحق تھے ۔
ظہور نظر کے فن اور شخصیت پر تحقیق کرنے والے ڈاکٹر خالق تنویر کے بقول ’’ہمارے ذرائع ابلاغ نے انہیں کوئی اہمیت نہیں دی، وہ ناقدین کی بے اعتنائی اور ظالمانہ بے رُخی کا شکار ہوئے ‘‘ ۔ اپنے اعلیٰ آدمی کے ساتھ اہل شہرکا یہ سلوک اور اہل قلم کا یہ رویہ اگرچہ ہمارے لیے کوئی نئی بات نہیں، مگر ہم کب تک اپنے تخلیق کاروں کو گمنامی کے گڑھوں میں دھکیلتے رہیں گے ؟ کب تک ہر معتبر لکھاری کو گھٹیا اور فضول قسم کے الزامات سے نامعتبر کیا جاتا رہے گا؟ کب تک شاعر اور ادیب کو دوسرے درجے کا شہری سمجھا جاتا رہے گا؟کب تک ہم کسی کی عظمت کا اعتراف کرنے میں بخل اور مصلحت سے کام لیتے رہیں گے؟ کب تک ہم منٹو، شکیب اور اقبال ساجد جیسے بے بدل تخلیق کاروں پر بات کرنے سے کتراتے اور ہچکچاتے رہیں گے؟
——
یہ بھی پڑھیں : مولانا ظہور الحسن کا یوم وفات
——
کب تک ان کے فن اور شخصیت کو شجر ممنوعہ قرار دیتے رہیں گے ؟ کب تک حقائق سے نظریں چُراتے رہیں گے؟ تاریخ شاہد ہے کہ عظیم تخلیق کار روز روز پیدا نہیں ہوتے۔ ظہور نظر جیسے لوگ اپنے شہر کا فخر ہوتے ہیں،ایسے لوگ بہت کمیاب ہیں ۔ ان کی قدردانی اور فن شناسی سماجی اور ریاستی ہر دو سطح پر ضروری ہے ۔
——
منتخب کلام
——
نعتِ رسولِ مقبول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم
——
کائنات بیکراں میں وقت کے ظلمات میں
ہر زمین و آسماں ہر بحر موجودات میں

صدق کے جتنے سفینے بھی خدا کے پاس تھے
علم کے جتنے دفینے بھی خدا کے پاس تھے
عقل کے جتنے قرینے بھی خدا کے پاس تھے
نور کے جتنے نگینے بھی خدا کے پاس تھے
دیں کے جتنے آبگینے بھی خدا کے پاس تھے
الغرض جتنے آبگینے بھی خدا کے پاس تھے
سب کے سب نذر محمد مصطفٰی اس نے کیے

دو جہانوں کی اکائی کے لیے
نوع انساں کی بھلائی کے لیے
جہل و باطل کی بھلائی کے لیے
تا ابد اپنی خدائی کے لیے
جتنے بھی آغاز تھے ، انجام تھے
جتنے بھی انعام تھے اکرام تھے
جتنے بھی فرمان تھے احکام تھے
جتنے بھی پیغام تھے ، الہام تھے
سب رسول پاک پر نازل ہوئے وارد ہوئے

اس کو جہو کہنا تھا سب صلی علٰی سے کہہ دیا
اس نے جو دینا تھا سب صل علٰی کو دے دیا
دینے کہنے کے لیے

اب کچھ نہیں ہے اس کے پاس
اب فقط قرآن ہے
اس کی خدائی کی اساس
جس میں اس نے آگہی کے سب ستارے جڑ دیے

ہو چکی جب اس کے عشق انبیاء کی انتہا
جب کوئی اس کو رسول پاک سے پیارا نہیں
صدق و نور و علم و عقل و دین کے افلاک پر
آ شکارا ہونے والا جب کوئی تارا نہیں
جب کوئی سورت ، کوئی آیت نہیں باقی رہی
تیسویں پارے سے آگے جب کوئی پارا نہیں

بند خود اس نے کیا جب اپنے پیغاموں کا باب
کس کے سر آئے نبوت کس کے گھر اترے کتاب
——
وہ بھی شاید رو پڑے ویران کاغذ دیکھ کر
میں نے اس کو آخری خط میں لکھا کچھ بھی نہیں
——
اپنی صورت بگڑ گئی لیکن
ہم انہیں آئینہ دکھا کے رہے
——
خود کو پانے کی طلب میں آرزو اس کی بھی تھی
میں جو مل جاتا تو اس میں آبرو اس کی بھی تھی
——
بعد ترک الفت بھی یوں تو ہم جئے لیکن
وقت بے طرح بیتا عمر بے سبب گزری
——
تنہائی نہ پوچھ اپنی کہ ساتھ اہل جنوں کے
چلتے ہیں فقط چند قدم راہ کے خم بھی
——
دیپک راگ ہے چاہت اپنی کاہے سنائیں تمہیں
ہم تو سلگتے ہی رہتے ہیں کیوں سلگائیں تمہیں
ترک محبت ترک تمنا کر چکنے کے بعد
ہم پہ یہ مشکل آن پڑی ہے کیسے بھلائیں تمہیں
دل کے زخم کا رنگ تو شاید آنکھوں میں بھر آئے
روح کے زخموں کی گہرائی کیسے دکھائیں تمہیں
درد ہماری محرومی کا تم تب جانو گے
جب کھانے آئے گی چپ کی سائیں سائیں تمہیں
سناٹا جب تنہائی کے زہر میں بجھتا ہے
وہ گھڑیاں کیونکر کٹتی ہیں کیسے بتائیں تمہیں
جن باتوں نے پیار تمہارا نفرت میں بدلا
ڈر لگتا ہے وہ باتیں بھی بھول نہ جائیں تمہیں
رنگ برنگے گیت تمہارے ہجر میں ہاتھ آئے
پھر بھی یہ کیسے چاہیں کہ ساری عمر نہ پائیں تمہیں
اڑتے پنچھی ڈھلتے سائے جاتے پل اور ہم
بیرن شام کا دامن تھام کے روز بلائیں تمہیں
دور گگن پر ہنسنے والے نرمل کومل چاند
بے کل من کہتا ہے آؤ ہاتھ لگائیں تمہیں
پاس ہمارے آکر تم بیگانہ سے کیوں ہو
چاہو تو ہم پھر کچھ دوری پر چھوڑ آئیں تمہیں
انہونی کی چنتا ہونی کا انیائے نظرؔ
دونوں بیری ہیں جیون کے ہم سمجھائیں تمہیں
——
چھوڑ کر دل میں گئی وحشی ہوا کچھ بھی نہیں
کس قدر گنجان جنگل تھا رہا کچھ بھی نہیں
خاک پائے یاد تک گیلی ہوا نے چاٹ لی
عشق کی غرقاب بستی میں بچا کچھ بھی نہیں
حال کے زنداں سے باہر کچھ نہیں جز رود مرگ
اور اس زنداں میں جز زنجیر پا کچھ بھی نہیں
ہجر کے کالے سمندر کا نہیں ساحل کوئی
موجۂ طوفان دہشت سے ورا کچھ بھی نہیں
آبنائے درد کے دونوں طرف ہے دشت خوف
اب تو چارہ جان دینے کے سوا کچھ بھی نہیں
ہاتھ میرا اے مری پرچھائیں تو ہی تھام لے
ایک مدت سے مجھے تو سوجھتا کچھ بھی نہیں
شہر شب میں کون سا گھر تھا نہ دی جس پر صدا
نیند کے اندھے مسافر کو ملا کچھ بھی نہیں
رات بھر اک چاپ سی پھرتی رہی چاروں طرف
جان لیوا خوف تھا لیکن ہوا کچھ بھی نہیں
کاسۂ جاں ہاتھ میں لے کر گئے تھے ہم وہاں
لائے اس در سے بجز خون صدا کچھ بھی نہیں
عمر بھر عمر گریزاں سے نہ میری بن سکی
جو کرے کرتی رہے میں پوچھتا کچھ بھی نہیں
وہ بھی شاید رو پڑے ویران کاغذ دیکھ کر
میں نے اس کو آخری خط میں لکھا کچھ بھی نہیں
دولت تنہائی بھی آنے سے تیرے چھن گئی
اب تو میرے پاس اے جان وفا کچھ بھی نہیں
دل پہ لاکھوں لفظ کندہ کر گئی اس کی نظر
اور کہنے کو ابھی اس نے کہا کچھ بھی نہیں
——
شعری انتخاب از کلیاتِ ظہور نظر ، مصنف : ظہور نظر
شائع شدہ 1987 ، متفرق صفحات
یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ