اردوئے معلیٰ

آج کینیڈا میں مقیم معروف شاعر اشفاق حسین زیدی کا یومِ پیدائش ہے ۔

اشفاق حسین زیدی(پیدائش: یکم جنوری 1951ء )
——
کہا جائے کہ اشفاق حسین زیدی کینیڈا میں اردو کے سفیر ہیں تو غلط نہ ہو گا۔ ادب برائے ادب کی ترکیب کو غلط قرار دیتے ہیں ’’ ادب برائے زندگی ہی اصل ادب ہے، مجھے تو غالب کی شاعری بھی ادب برائے زندگی محسوس ہوتی ہے۔‘‘ اشفاق حسین بہت فعال ہیں، کینیڈا میں آئے روز کوئی نہ کوئی ادبی تقریب بپا کیے رکھتے ہیں۔ فیض پر قابلِ قدر کام کیا ہے۔
اشفاق حسین زیدی کے مضامین کا مجموعہ ’’تھوڑی سی فضا اور سہی‘‘ حال ہی میں شایع ہوا ہے، جس میں اپنے عہد کی اہم شخصیتیں شامل ہیں، اس میں علی سردار جعفری اور احمد ندیم قاسمی سے گفت گو بھی شامل ہے، اردو کے عالم ڈیوڈ میتھیوز اور ممتاز مصور صادقین پر اہم مقالہ بھی اس کا حصہ ہے۔
اشفاق حسین زیدی کے والدین کا تعلق اترپردیش کے شہروں بنارس اورجون پور سے تھا جو تقسیم برصغیر کے بعد کراچی منتقل ہوئے۔ یہاں یکم جنوری 1951 کو اشفاق حسین کی ولادت ہوئی، خاندانی نام اشفاق حسین زیدی ہے۔ طالب علمی کے زمانے میں جب انہوں نے شاعری کی ابتدا کی تو اپنا تخلص شفق زیدی رکھا اور یونی ورسٹی کے ایام تک اسی نام سے لکھتے رہے تاہم 1975 کے آس پاس جب عملی زندگی آغاز کی تو اشفاق حسین کے نام سے لکھنے لگے۔ ان کی پہلی کتاب ’’فیض ایک جائزہ‘‘ 1977 میں شائع ہوئی۔ حکومت ِ پاکستان نے 2010 میں انہیں پرائڈ آف پرفارمنس پیش کیا۔
——
یہ بھی پڑھیں : اشفاق احمد کا یوم پیدائش
——
اشفاق حسین زیدی اپنے پانچ بھائیوں اور تین بہنوں میں دوسرے نمبر پر ہیں۔ شادی 1980 میں نرجس بزمی سے ہوئی۔ بتاتے ہیں ’’مجھے اس مقام تک پہنچانے میں میری بیوی نے بڑا کردار ادا کیا ہے‘‘۔ اس خوش و خرم جوڑے کے دو بچے ہیں، بیٹا ڈاکٹر صفی دانش 1982 میں اور بیٹی عین اقبال 1987 میں پیدا ہوئی‘‘۔
’’میں کراچی کی ایک نواحی بستی کی ایک ’جھگی‘ میں پیدا ہوا۔ ہمارے خاندان میں سال ڈیڑھ سال بعد ایک بچے کا اضافہ ہو جاتا تھا اور اسی طرح ایک نئے مہمان کی آمد کے دوران والدہ چل بسیں، تب میں تیرہ برس کا تھا اور آٹھویں میں پڑھ رہا تھا، ناز نخرے کی گنجائش تھی ہی نہیں، زندہ رہ لیے تو مانیے لاکھوں پائے، ٹھٹھرتی راتوں میں گرم کپڑوں بنا سونے کا یارا کسے۔۔۔۔، باہر بارش تھم بھی چکتی لیکن ہماری چھت تا دیر برستی، لکڑی کی کھڑانویں ٹخنوں کو زخموں کے گل بوٹوں سے رنگین کیے رکھتیں۔ والد محنت مشقت والے، ہم ابھی سو رہے ہوتے اور وہ منہ اندھیرے نکل پڑتے اور رات جب ہمیں گھسیٹ گھساٹ کر نیند کے غار میں دھکیل چکتی تو لوٹتے سو ہفتوں ان کی صورت نہ دیکھ پاتے تھے۔ ماں باپ ہندوستان کے روایتی خاندان سے تھے، جس کے لوگ ادیب عالم اور منشی فاضل ہوا کرتے تھے، جو اچھے شب و روز کے مالک ہوتے، کالجوں اور جامعات کا رخ کرتے، پاکستان بننے کے بعد ان ہی کو تعلیم کے بہتر مواقع میسر آئے۔
جہاں تک میرا تعلق ہے، میں کسی حد تک تنہائی پسند ہوں، غالباً اسی لیے مجھے اپنی تعمیر زیادہ تر خود ہی کرنا پڑی، رات گئے تک جاگتے رہنے کی لت پڑی ہے، علم وادب کے رسیا، رسیلے لوگ میرے آئیڈل رہے ہیں، غالب اور فیض پسندیدہ شاعر ہیں۔ خوش بخت واقع ہوا ہوں کہ بڑے بڑے لوگوں کی رفاقت کے مزے لیے۔ گھر میں سکون کا تسلسل میری بڑی خواہشوں میں سے ایک ہے، کبھی کبھی خیال آتا ہے کہ میں وقت سے قریباً ایک صدی پیچھے ہوں، آگے نکلنے کی کوشش اس لیے نہیں کی کہ اندر سے شرمیلا بلا کا ہوں مگر اس کو چھپانے کے لیے اپنے اوپر خول سا چڑھا رکھا ہے۔
فیصلے کرنے میں اپنی مرضی کا مالک ہوں، یہ فیصلے ہمیشہ وقت کے تقاضوں کے برعکس رہے مگر نصیب کا بانکا ہوں، نتیجہ ہر بار احسن رہا۔ میری بخت آوری میری شاعری ہے، جس نے مجھے زندگی کی ہر نعمت سے بہرہ ور کیا۔ پلٹ کر دیکھتا ہوں تو عقب میں کوئی پچھتاوا ہے نہ ملال۔ والدین چاہتے تھے میٹرک ہی کر لوں، میں نے اپنی تعلیم، جز وقتی ملازمتیں کر کر کے مکمل کی، کراچی یونی ورسٹی سے امتیاز کے ساتھ ایم اے اردو کیا۔‘‘
ہجرت کے بعد ان کے خاندان نے کراچی کی ایک کچی آبادی لیاقت بستی میں گھر کیا، پھر کورنگی اٹھ آئے، چند دن لیاقت آباد میں بیتے، چندے گلشن اقبال میں بسرامے، پھر لمبی اڑان بھری اور کینیڈا مستقر کیے۔ اشفاق کی والدہ محترمہ اللہ کو پیاری ہوئیں تو ماموں نے اپنے ذمے لے لیا۔ والد صاحب کا انتقال 1992 میں ہوا۔
’’گرمیوں کی شامیں خوش گوار ہو جاتیں تو آنگن میں بچھی چارپائیوں پر بڑے بوڑھے مل بیٹھتے اور صلائے عام کے لیے اپنی اپنی دانش کی پٹاریاں کھول لیتے، مذہب، پاکستان اور مسلم لیگ کی باتیں ہوتیں، شعر و ادب کا ترشح بھی رہتا، ایسے میں دنوں کی کٹھنائیوں اور شبوں کی تلخیوں کا احساس جاتا رہتا۔ اب زمانے کے پلوں تلے سے بہت سا پانی بہ چکاہے، اب وہ ’’بات مولوی مدن والی‘‘ کہاں ۔۔۔ پہلے جن باتوں پر لاج سے منہ لال ہوجاتا، اب وہ فخر سے کی جاتی ہیں، ایک وقت تھاکہ اپنی اردو دانی پر اِتراتے تھے، اب بچے فخر سے کہتے ہیں ’اردو نہیں آتی‘۔ ویسے تو ہمارے بزرگ مار دھاڑ سے بھرپور شاہ کار ہوا کرتے تھے، رعب و دبدبہ بہت تھا، کہیں بھنّا جاتے تو دھول دھپا بھی کرگذرتے لیکن ان ہی شعر سن کر یا سنا کر سرشار ہوتے بھی دیکھا، گھر میں بچے بیت بازی کرتے تو دیکھ کر خوش ہوتے۔‘‘
——
یہ بھی پڑھیں : بانو قدسیہ کا یوم پیدائش
——
اشفاق حسین زیدی اپنی یادوں کی انگلی تھامے اپنے اسکول جا نکلے، بلا تکلف بتایا ’’اسکول جانے کی عمر ہوئی تو والدین نے ایک مقامی گورنمنٹ اسکول میں داخل کرا دیا۔ ہمارے زمانے میں گورنمنٹ اسکولوں کا معیار بہت اچھا ہوتا تھا، اساتذہ دل لگا کر پڑھاتے تھے، ٹیوشنوں اور ٹیسٹ پیپروں کا رواج نہیں تھا، استاد طالب اسکول کے بعد بھی پڑھانے کو روک لیا کرتے اور کوئی معاوضہ لیے بغیر شاگردوں کے ساتھ سر کھپاتے۔ ہمارے اسکول میں وہ اساتذہ بھی تھے، جنہوں نے پاکستان سازی کے کار و بار میں تن من دھن کی سرمایہ کاری کر رکھی تھی، یہ لوگ منافع میں ایک ایسی نسل چاہتے تھے جو ان کے ’خواب وطن‘ کو تعبیرے۔
پہلی دوسری اور تیسری جماعت کی باتیں تو مجھے یاد نہیں البتہ پانچویں اور چھٹی کے کچھ دھندلے سے نقوش باقی ہیں۔ ہمارا اسکول گھر سے خاصا دور تھا، آنا جانے کا، آنا آنے کا کرایہ ہوتا، میں کچھ بھگوڑا سا واقع ہوا تھا، سوچتا جب ان دو آنوں کی پھلکیاں، چھولے اور چنے کھائے جاسکتے ہیں تو بس والوں کو کیوں دیے جائیں ؟۔ شروع میں تعلیم حاصل کرنے کا چکر میری سمجھ میں نہیں آتا تھا لیکن یہ ضرور تھا کہ جب پڑھنے بیٹھتا تو دل لگا کر پڑھتا، غبی ہرگز نہیں تھا۔ والدہ کے انتقال کے بعد ہم سب ننھیال اٹھ آئے تھے۔
ماموں نے اسکول میں میرا دل اٹکا دیا تھا، اسی میں کچھ اساتذہ ایسے ملے کہ معلمی کو جزوِ ایمان گردانتے تھے، ان ہی کی برکت سے تعلیم سے آنکھ لڑ گئی۔ اسکول سے فارغ ہوئے تو گورنمنٹ کالج ناظم آباد میں داخلہ لے کر سائنس کے طالب ٹھہرے لیکن جلد ہی اس کی تنگ دامانی نے بدکا دیا، کہاں شعر و ادب کی بے کرانیاں اور کہاں یہ فارمولوں کا جاپ؛ سو آرٹس میں چلے آئے گویا خود میں پلٹ آئے۔ سیکنڈ ایئر نیشنل کالج اور بی اے اسلامیہ کالج کراچی سے 1971 میں کیا۔ پھر کراچی یونی ورسٹی سے 1974 میں ایم اے بہ درجۂ اول کر کے دوسری پوزیشن حاصل کی۔‘‘
’’جامعہ میں جن اساتذہ سے تعلیم اور تربیت پائی، نام سنیے گا تو جان پایے گا کہ کیا لوگ تھے، پروفیسر مجنوں گورکھپوری، پروفیسر ممتاز حسین، پروفیسر شور علیگ، ڈاکٹر ابواللیث صدیقی، ڈاکٹر سید علی شاہ، ڈاکٹر حنیف فوق، ڈاکٹر اسلم فرخی، ڈاکٹر فرمان فتح پوری، ڈاکٹر ابوالخیر کشفی اور پروفیسر جمیل اختر خان‘‘۔
پروین شاکر، عذرا عباس اور ثروت حسین ان کے سینیئرز اور شاہدہ حسن، فاطمہ حسن، ایوب خاور اور کئی قابل ذکر نام ان کے جونیئرز تھے۔ کالج کے دوران ہی اشفاق حسین نے کورنگی میونسپلٹی کی لائبریری میں بہ طور جزوقتی لائبریریئن کام کیا، نٹ بولٹ بنانے والی فیکٹری میں بھی مشقت جھیلی پھر سندھ کے ہوم ڈیپارٹمنٹ میں ملازمت کیا کیے مگر 1972 میں سب چھوڑ چھاڑ یونی ورسٹی میں داخل ہوگئے۔ ایم اے کے بعد سال بھر عارضی طور پر گورنمنٹ ڈگری سائنس کالج کورنگی میں لیکچراری کی، پھر معلمی چھوڑ سوویت کلچر ڈیپارٹمنٹ میں ملازم ہو گئے، جس کے لوازمات گریڈ 22 کے افسر برابر تھے تاہم سال گذر نہ پایا تھا کہ اس عیش سے جی اوبھ گیا۔ نومبر 1976 میں پروگرام آفیسر کی حیثیت سے آرٹس کونسل میں ملازم ہوگئے اورطبعِ بے قرار کو قرار نہ آیا تو مارچ 1980 میں کینیڈا ہجرت کر گئے۔
——
یہ بھی پڑھیں : بانو قدسیہ اور اشفاق احمد کی سید فخر الدین بلے خاندان سے رفاقت کی داستان
——
پاکستان میں ملازمت کے دوران انہیں مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد سے ملنے کا موقع ملا۔ فیکٹری میں کام کے زمانے میں محنت کش طبقے سے ربط و ضبط بڑھا ’’ میری شاعری میں جو ترقی پسندانہ سوچ نظر آتی ہے، اس کے پیچھے یہ ہی ماحول اور اس سے حاصل ہونے والا تجربہ ہے‘‘۔ اشفاق حسین نے سب سے زیادہ عرصہ آرٹس کونسل کراچی میں گزارا، یہ پاکستان کی ثقافتی تاریخ کا اہم دور تھا، اس دور میں انہیں شعر و ادب کے علاوہ دیگر فنون سے تعلق رکھنے والے لوگوں سے بھی ملنے کا موقع ملا، جن میں صادقین، گل جی، آزر زوبی، علی امام، بشیر مرزا اور دوسرے بہت سے نئے مصور شامل ہیں، خود ان کے ساتھ کام کرنے والوں میں مہر افروز ، قدسیہ نثار، افسر نقوی، مقصود علی اور محمدسردار جیسے مصور تھے۔
آرٹس کونسل کی ملازمت کے دوران موسیقی کے پروگراموں کے ذریعے اقبال بانو، فریدہ خانم، مہدی حسن جیسے اساتذہ کو قریب سے دیکھنے کا موقع ملا۔ دنیا بھر سے ثقافتی طائفے بھی آتے رہتے تھے، جن کے شو کے انتظامات میں یہ بہ حیثیت پروگرام آفیسر شامل رہتے تھے۔
اشفاق حسین کینیڈا جا کر ’ٹریول‘ کے کار و بار میں آگئے اور ایک کام یاب بزنس مین کی حیثیت سے لگ بھگ 23 سال تک اس سے منسلک رہے۔ ان ہی دنوں ایک مقامی ٹیلی ویژن پر اینکر پرسن کی حیثیت سے خدمات انجام دینے لگے لیکن 2003 میں جب یہ ٹی وی چینل چوبیس گھنٹے کی نشریات پر منتقل ہوا تو اس کے لیے زیادہ وقت نکالنا پڑا چناں چہ کینیڈا کے اس چینل ’’ایشیئن ٹیلی ویژن نیٹ ورک‘‘ سے باقاعدہ فل ٹائم منسلک ہو گئے، یہ سلسلہ جاری ہے۔ اس چینل کے لیے اشفاق حسین نے دلیپ کمار، لتا منگیشکر، جاوید اختر، قدیر خان، غلام علی، ضیا محی الدین، طاہرہ سید، طلعت عزیز، ایم ایف حسین، سدھیر نارائن، فیض احمد فیض، احمد ندیم قاسمی، جمیل الدین عالی، منیر نیازی، احمد فراز، پروفیسر گوپی چند نارنگ، علی سردار جعفری، افتخار عارف اور ڈاکٹرلڈمیلا وسی لیوا جیسی اہم شخصیات کے انٹرویو کیے۔
اشفاق حسین زیدی کا ادبی حوالہ ان کی شاعری ہے؛ بچپن میں، سلام، نوحہ، مرثیہ اور منقبت کی محافل اور مجالس نے ان میں شعر و ادب کا ذوق پروان چڑھایا اور اسی ذوق و شوق نے شاعر بنادیا چناں چہ ان کی ابتدائی شاعری رِثائی ادب کے زیر سایہ پروان چڑھی بعد میں اردو غزل اور نظم نے متاثر کیا، یہ دونوں اصناف ان کی شاعری میں جگہ پاتے ہیں لیکن بنیادی طور پر غزل کے شاعر ہیں۔ اپنے بارے میں کہتے ہیں ’’جب سے لکھ رہا ہوں، آج تک مجھ پر آمد کا سلسلہ بند نہیں ہوا، یاد داشت اچھی ہے اس لیے ایک ہی نشست میں چلتے پھرتے غزل ہوجاتی ہے البتہ نظم کا احوال مختلف ہے، خود کو روایتی شاعری کے قافلے کا مسافر سمجھتا ہوں، نئے اور اچھوتے خیالات پسند ہیں لیکن زبان کے چٹخارے کے لیے شعر نہیں کہتا‘‘۔اشفاق گزشتہ تیس سال سے شمالی امریکا اور خصوصاً کینیڈا میں اردو زبان و ادب کے آب یاری میں مصروف ہیں، اس لیے ان کا نام ایک معتبر حوالے کے طور پر لیا جاتا ہے۔
——
یہ بھی پڑھیں : اشفاق احمد کا یوم وفات
——
اشفاق حسین کو چٹ پٹے کھانے، کینیڈا کی بغیر ہوا کی سردی اور پاکستان کی گرمیاں اچھی لگتی ہیں، نہاری، قورمہ اور پائے پسند ہیں، پاکستان میں شلوار قمیص اور کینیڈا میں پینٹ کوٹ پہننا پسند کرتے ہیں۔ پوری دنیا دیکھ لی، جاپان زیادہ اچھا لگتا ہے، اس لیے کہ اس میں مشرق و مغرب کا امتزاج نظر آیا۔ موسیقی کے رسیا ہیں، جوانی میں استاد امراؤ بندو خان کے باقاعدہ گنڈا بند شاگرد ہوئے، آواز چوں کہ اللہ کی دین ہے سو خوب رہی مگر سُریلے نہ تھے، استاد مکرم نے بڑی بے دردی سے بے سرا قرار دے دیا لہٰذا یہ بیل منڈھے نہ چڑھ پائی البتہ موسیقی کی باریکیوں اور نزاکتوں سے آشنائی ضرور ہوگئی۔ امریکی اور کینیڈی لوگوں، خاص طور پر وہاں کے چھوٹے شہروں کے لوگوں کو، معصوم، مخلص اور اللہ میاں کی گائے قرار دیتے ہیں، بہ قول ان کے ’’یہ لوگ جھوٹ نہیں بولتے، یہ ہی ان کی سب سے بڑی خوبی ہے۔‘‘
اشفاق حسین کا اب تک کا تخلیقی اور تنقیدی کام دس سے زیادہ کتابوں کی صورت میں سما چکا ہے جن میں: ’’فیض ایک جائزہ‘‘فیض حبیبِ عنبر دست‘‘ ’’فیض: تنقید کی میزان پر‘‘ ’’ شیشوں کا مسیحا: فیض‘‘ ’’فیض احمد فیض: شخصیت اور فن‘‘ ’’ فیض کے مغربی حوالے‘‘ Faiz a poet of peace from Pakistan کے علاوہ ’’احمد فرازیادوں کا ایک سنہرا ورق‘‘ تھوڑی سی فضا اور سہی‘‘ شعری مجموعوں میں ’’ہم اجنبی ہیں‘‘ ’’ اعتبار ‘‘ ’’آشیاں گم کردہ‘‘ ’’میں گیا وقت نہیں ہوں‘‘ اور تراجم میں نیندر نال رشتہ، That Day Will Dawn اور The ocean is searching for me شامل ہیں۔
——
منتخب کلام
——
آساں تو نہیں ہے کہ اس کو بھلا سکوں
لیکن اتر بھی جاتے ہیں دریا چڑھے ہوئے
——
ویرانیٔ نگاہ اب اس انتہا پہ ہے
تیری ہنسی بھی جس کا مداوا نہ کر سکے
——
شہریت کھو چکا تیری مگر اے ارضِ وطن
” میں گیا وقت نہیں ہوں کہ پھر آ بھی نہ سکوں ”
——
کیوں میری جڑیں جا کے زمیں سے نہیں ملتیں
گملے کی طرح صحن میں رکھا ہوا کیوں ہوں؟
——
بدن سے لپٹے رہے بے زمینوں کے عذاب
تلاشِ رزق کی خاطر جدھر جدھر بھی گئے
——
کیسے ترسیلِ سخن کی کوئی صورت نکلے
یہ زباں میری نہیں ہے نہ یہ لہجہ میرا
——
ہجرت کی منزلوں میں ہر اک خاندان کی
اک نسل مطمئن ہے مگر اک اداس ہے
——
نرم زمیں اور پانی کے محتاج نہیں ہیں ہم
ہم تو وہ کونپل ہیں جو پتھر سے نکلے ہیں
——
جب دل کی گواہی کا مقام آ ہی گیا تب
کس راہ پہ چلنا ہے یہ سوچا نہیں کرتے
——
گرتی ہے تو گر جائے یہ دیوارِ سکوں بھی
جینے کے لیے چاہیے تھوڑا سا جنوں بھی
——
یہ صبح کی آغوش میں کھلتا ہوا منظر
اک سلسلۂ شب کی گرانی سے ملا ہے
——
کوئی گھر ہی نہیں تو بے گھری کا زخم کیسا
سکونت کے لیے اک استعارہ ڈھونڈتے ہیں
یہ دریا زندگی کا پار کیسے ہو کہ جب ہم
کنارے پر کھڑے ہیں اور کنارا ڈھونڈتے ہیں
——
خواہش دیوار و در ہے اپنا گھر ہوتے ہوئے
بے ثمر ہیں اپنی شاخوں پر ثمر ہوتے ہوئے
لوگ سائے اور شجر سے اس قدر بیزار ہیں
شاخ کو بھی کاٹتے ہیں شاخ پر ہوتے ہوئے
اک عذاب خوف بے سمتی بھی ان آنکھوں میں ہے
اپنی منزل اور اپنی رہ گزر ہوتے ہوئے
جائے گی آخر کہاں ویران لمحوں کی یہ گرد
میرا گھر ہوتے ہوئے یا میرا سر ہوتے ہوئے
بے ستارہ آسماں سے روشنی کیا مانگتے
اک دیا اور ایک جگنو ہاتھ پر ہوتے ہوئے
لوگ خاموشی سے اپنے سامنے دیکھا کیے
معتبر باتوں کو بھی نا معتبر ہوتے ہوئے
——
جب سے اپنے گھر کے بام و در سے نکلے ہیں
کیسے کیسے منظر پس منظر سے نکلے ہیں
نرم زمیں اور پانی کے محتاج نہیں ہیں ہم
ہم تو وہ کونپل ہیں جو پتھر سے نکلے ہیں
کوئی تو اپنے جیسا اپنے اندر ہے موجود
اپنی ذات کے باہر کس کے ڈر سے نکلے ہیں
شور کی چادر کے پیچھے ہے خاموشی کا رقص
سناٹے آوازوں کے پیکر سے نکلے ہیں
کس سے جنگ لڑیں گے کس کو فتح کریں گے ہم
دشمن کے ہتھیار خود اپنے گھر سے نکلے ہیں
نا مانوس فضاؤں کو اشفاقؔ نہ دو الزام
خوف کے جو بھی رستے ہیں اندر سے نکلے ہیں
——
دل اک نئی دنیائے معانی سے ملا ہے
یہ پھل بھی ہمیں نقل مکانی سے ملا ہے
جو نام کبھی نقش تھا دل پر وہ نہیں یاد
اب اس کا پتا یاد دہانی سے ملا ہے
یہ درد کی دہلیز پہ سر پھوڑتی دنیا
اس کا بھی سرا میری کہانی سے ملا ہے
کھوئے ہوئے لوگوں کا سراغ اہل سفر کو
جلتے ہوئے خیموں کی نشانی سے ملا ہے
خاطر میں کسی کو بھی نہ لانے کا یہ انداز
بپھری ہوئی موجوں کی روانی سے ملا ہے
لفظوں میں ہر اک رنج سمونے کا قرینہ
اس آنکھ میں ٹھہرے ہوئے پانی سے ملا ہے
یہ صبح کی آغوش میں کھلتا ہوا منظر
اک سلسلۂ شب کی گرانی سے ملا ہے
——
اس آنکھ نہ اس دل سے نکالے ہوئے ہم ہیں
یوں ہے کہ ذرا خود کو سنبھالے ہوئے ہم ہیں
اس بزم میں اک جشن چراغاں ہے انہی سے
کچھ خواب جو پلکوں پہ اجالے ہوئے ہم ہیں
کچھ اور چمکتا ہے یہ دل جیسا ستارا
کن درد کی لہروں کے حوالے ہوئے ہم ہیں
دل ہے کہ کوئی فیصلہ کر ہی نہیں پاتا
اک موج تذبذب کے اچھالے ہوئے ہم ہیں
وہ ہو نہ سکا اپنا تو ہم ہو گئے اس کے
اس شخص کی مرضی ہی میں ڈھالے ہوئے ہم ہیں
اس مملکت لفظ و بیاں میں بھی تو اشفاقؔ
اک راہ الگ اپنی نکالے ہوئے ہم ہیں
——
حوالہ جات
——
تحریر : غلام محی الدین بحوالہ ایکسپریس نیوز 23 جنوری 2014
شعری انتخاب از میں گیا وقت نہیں ہوں ، مصنف : اشفاق حسین
شائع شدہ 2010 ، متفرق صفحات
یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے۔۔۔

حالیہ اشاعتیں

اشتہارات

اشتہارات