اردوئے معلیٰ

Search

معروف اداکار، مزاحیہ و سنجیدہ شاعر، ڈرامہ نویس اطہر شاہ خان جیدی کا یوم وفات ہے

اطہر شاہ خان جیدی (ولادت: یکم جنوری، 1943ء – وفات: 10 مئی 2020ء)
——
اطہر شاہ خان جیدی یکم جنوری 1943ء میں برطانوی ہندوستان کی ریاست رام پور میں پیدا ہوئے۔
خاندانی لحاظ سے اخون خیل پٹھان ہیں۔ چوتھی جماعت میں تھے کہ والدہ کا انتقال ہو گیا۔ والد محکمہ ریلوے میں ملازم تھے۔ کچھ عرصہ بعد ان کا بھی انتقال ہو گیا۔ والدین کے بعد ان کے بڑے بھائی سلیم شاہ خان نے خاندان کی کفالت کی ذمہ داریاں نبھائیں۔ بچپن سے انہیں کتابیں پڑھنے کا شوق تھا۔ تیسری جماعت میں والدہ نے انہیں علامہ اقبال کی کتاب بانگ درا انعام میں دی۔ لاہور سے ابتدائی تعلیم حاصل کرنے کے بعد پشاور سے سیکنڈری تک تعلیم حاصل کی اور پھر کراچی میں اردو سائنس کالج سے گریجویشن کیا۔ بعد ازاں انہوں نے پنجاب یونیورسٹی سے صحافت کے شعبے میں ایم اے کی سند حاصل کی۔ اس کے علاوہ سینٹرل ہومیوپیتھک میڈیکل کالج سے ہومیوپیتھی ڈاکٹر کی سند بھی حاصل کی۔
اطہر شاہ خان جیدی نے ٹیلی وژن اور سٹیج پر بطور ڈراما نگار اپنے تخلیقی کام کا آغاز کیا۔ ان کے تحریر کردہ مزاحیہ ڈراموں نے بے پناہ مقبولیت حاصل کی۔ ایک ٹی وی انٹرویو میں اطہر نے بتایا کہ وہ ایک دفعہ اپنے ہی ایک ڈرامے کے ایک اداکار کے ساتھ موٹر سائیکل پر سفر کر رہے تھے کہ سواری میں کوئی نقص پیدا ہو گیا، جب اسے ٹھیک کرنے کے لیے رکے تو لوگوں نے اداکار کو پہچان لیا لیکن مصنف (یعنی اطہر شاہ خان) کو مکمل طور پر نظرانداز کر دیا۔ بقول اطہر شاہ خان کے اس واقعہ نے انہیں اداکاری پر مائل کیا جس کے نتیجہ میں جیدی کا کردار تخلیق ہوا۔ جیدی کے کردار پر مرکوز پاکستان ٹیلی وژن کا آخری ڈراما "ہائے جیدی” 1997ء میں پیش کیا گیا۔
حکومت پاکستان کی جانب سے 2001ء سے صدارتی اعزار برائے حسن کارکردگی کے اعزاز سے نوزا گیا، جبکہ پاکستان ٹیلی ویژن نے اپنی سلور جوبلی کے موقع پر اطہر شاہ خان جیدی کو گولڈ میڈل عطا کیا۔
آج 10 مئی 2020ء کو 77 سال کی عمر میں کراچی میں وفات پا گئے، ان کو شوگر اور گردوں کا عارضہ لاحق تھا،
انہوں نے سوگواران میں اہلیہ اور 4 بیٹے چھوڑے ہیں۔
——
معروف مزاح نگار، اداکار و شاعر اطہر شاہ، جیدی کیسے بنے؟ از ریاض سہیل
——
‘آپ بہت خوش نصیب ہیں کہ مجھ جیسی شخصیت سے آپ کی ملاقات ہو رہی ہے،’ جیدی جب نوکری لینے ایک اخبار کے دفتر گئے تو یہ بات انھوں نے اخبار کے ایڈیٹر سے کہی تھی۔
وہ تو محض ایک ڈرامے کا سکرپٹ تھا، مگر جیدی جب اطہر علی شاہ کے روپ میں ہوتے تو ان سے ملنے والا ہر شخص خوش قسمت ہی تھا۔
شاعر، مصنف، ڈرامہ نگار، ہدایتکار، اداکار، فنون لطیفہ کے جس جس شعبے کو وہ چھُو سکتے تھے وہاں تک پہنچے، اور صرف چھوا نہیں بلکہ اس میں اپنا لوہا بھی منوایا۔
——
یہ بھی پڑھیں : اطہر نفیس کا یوم وفات
——
مگر جو نقش ہائے جیدی نے چھوڑا، وہ ان کی ذات کا حصہ بن گیا۔ اور ایسا کم ہی ہوتا ہے کہ کوئی کردار اداکار کے نام کے ساتھ ایسا جڑے کہ وہی پہچان بن جائے۔
پاکستان ٹیلی ویژن سنٹر لاہور میں ڈرامہ ‘مسٹر یس، نو اینڈ واٹ’ کی ریکارڈنگ جاری تھی، قوی خان اس کے مرکزی کردار اور تحریر اطہر شاہ کی تھی۔ قوی خان انھیں روزانہ گھر سے اپنی ویسپا سکوٹر پر پی ٹی وی سنٹر لاتے اور واپسی پر چھوڑ دیتے تھے۔
ایک روز قوی خان کی ویسپا خراب ہوگئی اور سڑک پر انھیں دیکھ کر لوگوں کا مجمع لگ گیا اور مداحوں نے ان کی بڑی پذیرائی کی جبکہ اس دوران اطہر شاہ خان جیدی ایک کونے میں کھڑے رہے۔ قوی خان نے مجمع کی توجہ ان کی جانب کروائی بھی کہ یہ ڈرامہ انھوں نے تحریر کیا ہے وہ تو اس کا محض ایک کردار ہیں لیکن مجمع نے ان کی بات سنی ان سنی کر دی۔
اطہر شاہ کے کالج کے دوست اقبال لطیف ان دنوں پی ٹی وی لاہور سنٹر میں پروڈیوسر تھے، وہ بتاتے ہیں اطہر شاہ ان کے پاس آئے اور کافی ناراض تھے اور مذکورہ واقعہ سنانے کے بعد کہا کہ ‘ڈرامہ میں نے تحریر کیا اور واہ واہ ایکٹر کی ہو رہی مجھے کوئی پہچانتا ہی نہیں اب میں بھی ایکٹنگ کروں گا۔’
اس واقعے کے بعد انھوں نے ڈرامہ ‘انتظار فرمائیے’ تحریر کیا اور بطور جیدی اس میں انٹری لی جو ان کے نام کے ساتھ تاحیات بطور تخلص منسلک ہوگیا۔
وہ بڑا سا پائپ تو بہت سے ناظرین کو یاد ہوگا، جس میں لانگ کوٹ پہنے، چھوٹی سی ٹائی باندھے یہ شخص جلوہ گر ہوتا تھا۔
تاہم روزنامہ ڈان کو دیئے گئے ایک انٹرویو میں انھوں نے کہا تھا کہ سٹیشن مینیجر کے کہنے پر انھوں نے یہ کردار قبول کیا تھا۔ اس سیریل میں ان کے ساتھ معین اختر، شکیل یوسف بھی شامل تھے۔
اطہر شاہ برطانوی مزاحیہ اداکار سر نومن وزڈم اور امریکہ میں کنگ آف کامیڈی کے نام سے مشہور جیری لوئس سے متاثر تھے، یہ دونوں اداکاری کے ساتھ ساتھ لکھاری بھی تھے۔
اقبال لطیف کا کہنا ہے کہ جیدی کے کردار کی تخلیق میں ان دونوں کا مرکزی کردار تھا۔
——
یہ بھی پڑھیں : اکرم و اطہر اسمِ محمد
——
پیشے کے اعتبار سے انھوں نے ہومیوپیتھک کالج سے تعلیم حاصل کی لیکن کوئی مطب نہیں کھولا صرف دوستوں کو ادویات تجویز کیا کرتے تھے، لکھنا ہی ان کے بنیادی ذریعہ معاش تھا جس کی ابتدا انھوں نے زمانہ طالب علمی سے کی تھی۔
اقبال لطیف بتاتے ہیں کہ ‘سنہ 1963 میں میں اردو کالج میں فرسٹ ایئر میں تھا اور اطہر شاہ میرے سینئر تھے، اسی زمانے میں انھوں نے ریڈیو پاکستان کے لیے خاکے لکھنا شروع کردیئے تھے۔ ان دنوں انٹر کالیجیٹ تھیٹر مقابلے ہوتے تھے ان کے لیے وہ خاکے لکھتے اور اداکاری بھی کیا کرتے تھے یوں سمجھیے کہ انھیں لوگوں کو ہنسانے کا شوق تھا۔’
وہ کہتے ہیں ‘ کالج کے طالب علموں میں مزاح مقبول ہوتا ہے، جبکہ ریڈیو پاکستان پر سنجیدہ لکھنے والے کئی سینئر لکھاری بھی تھے تو اس صورتحال میں اطہر شاہ نے خود کو مزاح کے لیے وقف کر دیا۔’
اقبال لطیف بتاتے ہیں وہ کالج سے دو ڈھائی بجے نکل جاتے تھے جبکہ کالج کا وقت چار پانچ بجے تک ہوتا تھا وہ نالائق قسم کے طالب علم تھے، پہلے ریڈیو پاکستان چلے جاتے جہاں اطہر شاہ خاکے لکھتے اور میں کامنٹری وغیرہ لکھتا ان دنوں اجرت کا چیک اسی روز مل جاتا تھا ہمیں پچیس پچیس روپے ملتے جو ان دنوں میں بہت ہوتے تھے۔
‘ ہم ریڈیو پاکستان سے فریئر ہال آجاتے اور اگلی اسائنمنٹ کی تیاری کرتے تھے وہاں سے پیدل چلتے ہوئے صدر آتے اور سنیما گھروں میں جہاں انگریزی فلم لگی ہوتی تھی وہ دیکھتے تھے خاص طور پر مزاحیہ فلموں کو ترجیح دیتے اور واپسی پر کیفے جارج میں چائے اور پیٹیز پر اس پر بحث مباحثہ کرتے اس طرح ہماری تربیت ہو رہی تھی۔’
سنہ 1960 اور 70 کی دہائی پاکستان میں طلبہ سیاست کے اہم ادوار تصور کیے جاتے ہیں، اطہر شاہ کے دوست اقبال لطیف کالج کی یونین اور ایس این ایف میں بھی سرگرم رہے بقول ان کے اطہر شاہ کا کردار سیاست میں اتنا تھا کہ وہ انھیں متنبہ کرتے رہتے کہ اس سے کچھ فائدہ نہیں ہوگا۔
گول چہرے پر گول چشمہ، لانگ کوٹ کے ساتھ چین سموکنگ ان کی شناخت تھی، انھوں نے پی ٹی وی کے لیے لاکھوں میں ہائی سکالر، باادب باملاحظہ ہوشیار، ہائی جیدی ، برگر فیملی اور پرابلم فیملی تحریر کیا۔
وہ مزاحیہ شاعری بھی کرتے عید کے دنوں میں پی ٹی وی کے مزاحیہ مشاعروں کا وہ مرکزی جز ہوا کرتے تھے، جبکہ اخبارات میں بھی ان کے قطعات شائع ہوتے اس کے علاوہ وہ مختلف اخبارات میں کالم نویسی بھی کرتے رہے۔
اطہر شاہ کی ابتدائی پہچان ریڈیو پاکستان ہی تھی، انھوں نے وہاں ‘رنگ ہی رنگ جیدی کے سنگ’ کے نام سے ایک مزاحیہ پروگرام کیا جس کے پروڈیوسر عظیم سرور تھے یہ پروگرام 17 برس مسلسل چلا جو ریڈیو پاکستان کا ایک ریکارڈ ہے۔
عظیم سرور کا کہنا تھا کہ ‘میں نے اطہر شاہ کو کہا کہ ایک ایسا پروگرام کرنا ہے جس میں آپ نے الٹے سیدھے جوابات دینے ہیں تو انھوں نے کہا کہ یہ پروگرام تو چند ہفتوں میں ختم ہو جائےگا تو میں نے کہا کہ شاہ صاحب انکساری سے کام نہ لیں مجھے معلوم ہے کہ یہ بہت چلے گا آپ کی قابلیت پر مجھ یقین ہے۔’
عظیم سرور کا کہنا ہے کہ یہ ٹی وی سے بلکل الگ یعنی سو فیصد ہی مختلف کردار تھا۔
‘پی ٹی وی کے پروگرام میں تو وہ مزاحیہ سے نظر آتے تھے یہاں بلکل ہی محتلف تھے انھوں نے اس پروگرام میں ایک سو روپ تبدیل کیے، 1973 کو ہم نے یہ پروگرام شروع کیا تھا جو ہر اتوار کو نشر ہوتا پاکستان ریڈیو کے تمام مراکز سے سنا جاتا نہ صرف پاکستان بلکہ انڈیا میں بھی مقبول تھا وہاں سے ہمیں خطوط آتے تھے۔’
بطور لکھاری، جیدی کے نام سے کئی فلمیں جڑی ہیں، ان کی پہلی فلم بازی، سپر ہٹ ثابت ہوئی، جس میں فلمسٹار ندیم اور محمد علی پہلی بار آمنے سامنے آئے اور اس میں اداکارہ نشو کو بھی متعارف کرایا گیا۔ جبکہ ان کی دیگر فلموں میں گونج اٹھی شہنائی، ماں بنی دلہن، منجی کتھے ڈھاواں شامل ہیں۔
——
یہ بھی پڑھیں : شیر شاہ سید کا یوم پیدائش
——
ریڈیو پاکستان سے سفر کا آغاز کرنے والے اطہر علی شاہ عرف جیدی نے لگ بھگ بیس برسوں میں سات سو ڈرامے لکھے، 70 اور 80 کی دہائی میں پاکستان میں مزاح نگاری کی دنیا پر ان کا راج تھا۔ پی ٹی وی پر ان کے ڈرامے انتظار فرمائیے، با ادب باملاحظہ ہوشیار، لاکھوں میں تین، پہلے دیکھنے والوں کی زندگی اور پھر یادوں کا حصہ بن گئے۔
اطہر شاہ کی پیدائش رام پور کی تھی قیام پاکستان کے بعد وہ کراچی منتقل ہوئےاس کے بعد کام کاج کے لیے لاہور منتقل ہوگئے اور دوبارہ کراچی کا رخ کیا، جہاں وہ کچھ عرصہ فالج کا مقابلہ کرتے رہے اور جانبر نہ ہو سکے۔
——
منتخب کلام
——
یہ بھی اچھا ہے کہ صحرا میں بنایا ہے مکاں
اب کرائے پہ یہاں سایۂ دیوار چلا
——
ناکام محبت کا ہر اک دکھ سہنا
ہر حال میں انجام سے ڈرتے رہنا
قدرت کا بڑا انتقام ہے جیدیؔ
محبوبہ کی اولاد کا ”ماموں” کہنا
——
ہیں شاعر و ادیب و مفکر عظیم تر
اور پھر بھی انکسار سے ملتے ہیں سب سے وہ
کچھ اور بھی ادب میں بڑھا ان کا مرتبہ
بائیسویں گریڈ میں آئے ہیں جب سے وہ
——
ہم چھوڑ کے گھر اپنا آباد کریں صحرا
جائیں تو کہاں جیدیؔ ایسی ہے پریشانی
بچوں کو سلا دیں تو ہمسایہ نہیں سوتا
فطرت کے مقاصد کی کرتا ہے نگہبانی
——
داخلہ اس نے کالج میں کیا لے لیا
لڑکیوں میں بڑا معتبر ہو گیا
کھڑکیوں سے نظر اس کی ہٹتی نہیں
میرا بیٹا تو بالغ نظر ہو گیا
——
”صاحب زادے کرتے کیا ہیں” لڑکی والوں نے پوچھا
”جب دیکھو فارغ پھرتے ہیں یا پیتے تمباکو ہیں!”
لڑکے کی اماں یہ بولیں کام کرے اس کی جوتی
دو بھائی بھتہ لیتے ہیں ابا خیر سے ڈاکو ہیں
——
یہ تری زلف کا کنڈل تو مجھے مار چلا
جس پہ قانون بھی لاگو ہو وہ ہتھیار چلا
پیٹ ہی پھول گیا اتنے خمیرے کھا کر
تیری حکمت نہ چلی اور ترا بیمار چلا
بیویاں چار ہیں اور پھر بھی حسینوں سے شغف
بھائی تو بیٹھ کے آرام سے گھر بار چلا
اجرت عشق نہیں دیتا نہ دے بھاڑ میں جا
لے ترے دام سے اب تیرا گرفتار چلا
سنسنی خیز اسے اور کوئی شے نہ ملی
میری تصویر سے وہ شام کا اخبار چلا
یہ بھی اچھا ہے کہ صحرا میں بنایا ہے مکاں
اب کرائے پہ یہاں سایۂ دیوار چلا
اک اداکار رکا ہے تو ہوا اتنا ہجوم!!
مڑ کے دیکھا نہ کسی نے جو قلم کار چلا
چھیڑ محبوب سے لے ڈوبے گی کشتی جیدیؔ
آنکھ سے دیکھ اسے ہاتھ سے پتوار چلا
یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ