راہِ خیال سے تو بہت قافلے گئے
لیکن سرائے خواب میں کوئی نہیں رہا میرے سوا بھی عشق بہت سوں کو راس تھا یوں مستقل عذاب میں کوئی نہیں رہا کام آ گئے تمام ہی گوشہ نشینِ دل ہستی کے انقلاب میں کوئی نہیں رہا اٹھی تھی ایک پل ترے مجذوب کی نظر سنتے ہیں پھر نقاب میں کوئی نہیں رہا چارہ […]