راہِ خیال سے تو بہت قافلے گئے

لیکن سرائے خواب میں کوئی نہیں رہا میرے سوا بھی عشق بہت سوں کو راس تھا یوں مستقل عذاب میں کوئی نہیں رہا کام آ گئے تمام ہی گوشہ نشینِ دل ہستی کے انقلاب میں کوئی نہیں رہا اٹھی تھی ایک پل ترے مجذوب کی نظر سنتے ہیں پھر نقاب میں کوئی نہیں رہا چارہ […]

بے دلی کا کوئی توڑ ، ائے وحشتو؟

کچھ مداوائے یکسانیت ، شاعری ؟ ترمروں کے سوا کچھ بدلتا نہیں دشتِ بے شکل کی اف یہ کم منظری کچھ رفُو ہے کہیں ؟ چاکِ دل کے لیے کانچ کے خواب کی کوئی شیشہ گری؟ کوئی جنبش نہیں شوقِ پامال میں سانس کا زیر و بم ، نہ کوئی جھرجھری نارساء اب کسی دوش […]

دہر میں کون ہمیں تیرے سوا جانتا ہے

تو بھی افسوس نہیں جانتا کیا جانتا ہے ہم نے وہ بوجھ اٹھائے ہیں کہ اٹھنے کے نہ تھے عمر جس طور سے کاٹی ہے خدا جانتا ہے تیرے بے کس نے سنا ہے جو کہا ہے تو نے اور وہ بھی جو کہا جا نہ سکا جانتا ہے جانتا ہے دلِ کم بخت کہ […]

کس کے جلوے کی جھلک ہے یہ اجالا کیا ہے

ہر طرف دیدۂ حیرت زدہ تکتا کیا ہے مانگ من مانتی منھ مانگی مرادیں لے گا ”نہ یہاں ”نا” ہے نہ منگتا سے یہ کہنا ”کیا ہے پند کڑوی لگے ناصح سے ترش ہواے نفس زہرِ عصیاں میں ستمگر تجھے میٹھا کیا ہے ہم ہیں اُن کے وہ ہیں تیرے تو ہوئے ہم تیرے اس […]

راہ پُر خار ہے کیا ہونا ہے

پاؤں افگار ہے کیا ہونا ہے خشک ہے خون کہ دشمن ظالم سخت خوں خوار ہے کیا ہونا ہے ہم کو بدِ کر وہی کرنا جس سے دوست بیزار ہے کیا ہونا ہے تن کی اب کون خبر لے ہے ہے دل کا آزار ہے کیا ہونا ہے میٹھے شربت دے مسیحا جب بھی ضد […]

کیا مہکتے ہیں مہکنے والے

بو پہ چلتے ہیں بھٹکنے والے جگمگا اٹھی مِری گور کی خاک تیرے قربان چمکنے والے مہِ بے داغ کے صدقے جاؤں یوں دمکتے ہیں دمکنے والے عرش تک پھیلی ہے تابِ عارض کیا جھلکتے ہیں جھلکنے والے گُل طیبہ کی ثنا گاتے ہیں نخل طوبیٰ پہ چہکنے والے عاصیو! تھام لو دامن اُن کا […]

الحذر ، الاماں ، الحذر ، الاماں

شہرِ مدفون کے نوحہ گر ، الاماں تذکرہ ایک تو شدتِ کرب کا اور پھر شاعری کا ہنر ، الاماں زخم ہوں عشق کے، جن کا مرہم نہیں اور پھر زخم بھی اس قدر ، الاماں یہ دلِ خواب گر کاش برباد ہو پھر سے درپیش ہے اک سفر ، الاماں رینگتی جستجو کا بدن […]

کچھ اور نہ بن پائے بھلے شہر بدر سے

دل بیل کی مانند لپٹ جائے گا در سے پہنچا ہوں کسی اور ہی دنیا میں کہیں پر لوٹا ہوں کسی اور زمانے کے سفر سے ناقابلِ تشریح تھی رفتار قضا کی آنکھیں ہی فقط موند سکا موت کے ڈر سے اب ترکِ تمنا کی وہ منزل ہے جہاں پر شکوہ بھی نہیں کوئی دلِ […]

کُھلنے کا اب نہیں ہے یہ دروازہِ جنوں

قیدِ جنون بن گئی خمیازہِ جنوں شاید ترے فقیر کی جھولی الٹ گئی پھیلا ہوا ہے شہر میں شیرازہِ جنوں نازک مزاج ، اپنے تخیل کو مت تھکا تیری بساط میں نہیں اندازہِ جنوں محوِ سفر کے ساتھ تری بازگشت تھی یا دور گونجتا ہوا آوازہِ جنوں جھڑنے لگی ہے جیسے کہولت ترے حضور ائے […]

آنکھیں رو رو کے سُجانے والے

جانے والے نہیں آنے والے کوئی دن میں یہ سرا اوجڑ ہے ارے او چھاؤنی چھانے والے ذبح ہوتے ہیں وطن سے بچھڑے دیس کیوں گاتے ہیں گانے والے ارے بد فال بری ہوتی ہے دیس کا جنگلا سنانے والے سن لیں اَعدا! میں بگڑنے کا نہیں وہ سلامت ہیں بنانے والے آنکھیں کچھ کہتی […]