مغنی تبسم کا یوم پیدائش

آج ممتاز نقاد ‘ شاعر‘محقق اور استاد مغنی تبسم کا یوم پیدائش ہے۔ (پیدائش: 13 جون، 1930ء- وفات: 15 فروری، 2012ء) —— پروفیسر مغنی تبسم فکر و فن کے درمیاں از صابر علی سیوانی —— بیسویں صدی کے ناقدین میں ایک اہم نام پروفیسر مغنی تبسم کا شمار کیا جاتا ہے ۔ مغنی تبسم نے […]

حفیظ تائب کا یوم وفات

آج معروف نعت گو شاعر حفیظ تائب کا یوم وفات ہے (پیدائش: 14 فروری، 1931ء- وفات: 13 جون، 2004ء) —— ممتاز نعت گو شاعر حفیظ تائب از خواجہ غلام قطب الدین فریدی —— قدموں میں شہنشاہ دو عالم کے پڑا ہوں میں ذرہ ناچیز ہوں یا بخت رسا ہوں اب کون سی نعمت کی طلب […]

سرفراز احمد نعیمی کا یومِ وفات

آج معروف عالمِ دین ڈاکٹر سرفراز احمد نعیمی کا یومِ وفات ہے ۔ (پیدائش: 16 فروری 1948ء- وفات: 12 جون 2009ء) —— ڈاکٹر سرفراز احمد نعیمی شہیدؒ ملک کے ان ممتاز علمائے کرام میں سے تھے جو مشترکہ دینی و قومی مقصد کے لیے ہمیشہ متحرک اور فعال رہے۔ ان کے والد محترم مولانا مفتی […]

ثناء اللہ امرتسری کا یومِ پیدائش

آج معروف عالم دین، مفسرِ قرآن، محدث، مؤرخ، صحافی اور ادیب ثناء اللہ امرتسری کا یومِ پیدائش ہے ۔ (ولادت: 12 جون 1868ء – وفات: 15 مارچ 1948ء) —— ابو الوفاء ثناء اللہ امرتسری معروف عالم دین، مفسرِ قرآن، محدث، مؤرخ، صحافی، ادیب، خطیب و مصنف تھے جو امرتسر میں پیدا ہوئے۔ فاتح قادیان، سردار […]

مائل بہ کرم شاہِ اُمم ہے کہ نہیں ہے؟

کیا ہرکس و ناکس کا بھرم ہے کہ نہیں ہے؟ ہے چشمِ کرم آپ کی اُمت پہ ہمیشہ اس لطف پہ سر اپنا بھی خم ہے کہ نہیں ہے؟ یہ راز کبھی آیۂ ’’میثاق‘‘ سے پوچھو اقرار نبی سب سے اہم ہے کہ نہیں ہے؟ لیتا ہے جو تُو نام محبت سے نبی کا کچھ […]

کہاں کہاں نہیں سرکارِ محترم پہنچے

شبِ عروج خدا تک شہِ اُمم پہنچے سحابِ رحمتِ سرکار کب نہیں برسے ؟ طلب تپش نے بڑھائی تو ایک دم پہنچے مرے حضور ہیں اس درجہ مہربان و شفیق کہ چاہتے نہیں اُمت کو کوئی غم پہنچے نہیں لگائی کبھی دیر دستگیری میں لگائی میں نے صدا جب کرم کرم! پہنچے یہ آرزو ہے […]

بہار آئی دِلوں پر مرے حضور آئے

گلوں کے دل ہیں معطّر مرے حضور آئے خوشی ہے چھائی ہوئی عاشقوں کے چہروں پر دلوں کا آسرا بن کر مرے حضور آئے وہی تو باعث تسکین روحِ عالم ہیں سکونِ قلب کا مصدر مرے حضور آئے انھی کے نور سے روشن جبینِ شمس و قمر جہانِ دہر کے خاور مرے حضور آئے وہ […]

لب پہ نعت شہِ ابرار ہے پیاری پیاری

دھڑکنوں میں بھی یہی ورد ہے جاری جاری لے کے جاتی تھی حلیمہ جو مرے آقا کو کہتی جاتی تھی میں قربان میں واری واری ڈال دیتے ہیں لعاب اپنا جب اس میں آقا پھر نہیں رہتا کنواں کوئی بھی کھاری کھاری دونوں عالم کو محیط آپ کی رحمت شاہا نوری نوری بھی کرم یافتہ […]

رُخِ مصطفیٰ سے ہے روشنی

رُخِ مصطفیٰ سے ہے زندگی قمر فلک میں بھی بالیقیں رُخ مصطفیٰ سے ہے چاندنی گل و عندلیب چمن میں بھی رُخِ مصطفیٰ سے ہے تازگی یہی ’’قَدْ نَرٰی‘‘سے عیاں ہوا رُخِ مصطفیٰ سے ہے بندگی یہ جہان خاک مہک رہا رُخِ مصطفیٰ سے ہے ہر گھڑی شب تیرہ میں بھی تو دیکھیے رُخِ مصطفیٰ […]

نعتِ احمد ہوئی ہم دم مری تنہائی کی

پردۂ غیب سے یوں شہ نے مسیحائی کی خاکِ راہ شہِ والا پہ فدا ہو جاؤ بات بتلائی ہے کیا عشق نے دانائی کی شہرِ طیبہ کے مسافر کو یہ اعزاز ملا خود درِ شاہ کی خوشبو نے پذیرائی کی حُسن دینے لگا اُٹھ اُٹھ کے صدائے تحسین جب چِھڑی بات رُخ یار کی رعنائی […]