آزردہ و رنجیدہ ہے دلشاد نہیں ہے
جس دل میں بپا محفلِ میلاد نہیں ہے بس ایک سے دو گز کی زمیں شہرِ کرم میں جز اِس کے کوئی بھی مری فریاد نہیں ہے معبود نہیں بندۂ معبود ہیں لیکن سر کیسے جھکا ان کی طرف یاد نہیں ہے بس کاسہ بہ کف پیش کرو مدح نبی کی یہ راہِ سخن عجز […]