دنیا سے نبھانے کا سلیقہ بھی ہے مجھ میں
اور پیش نظر رہتا ہے ہر دم مرے گھر بھی
معلیٰ
اور پیش نظر رہتا ہے ہر دم مرے گھر بھی
غزل کے نرم لہجے میں سخن کی بات کی جائے
مگر تھا ناز مجھے اس کی حکمرانی پر
رواں ہوں رشتوں کے دریا عبور کرتے ہوئے
اپنے ہر کرب کو سینے سے لگاتی ہوئی میں جگنو امید کے آنچل میں سرِ شام لیے گھر کی چوکھٹ پہ نئے دیپ جلاتی ہوئی میں
کنیز تحریر ہو گئی ہے ، خوشامدانہ صحافتیں ہیں
اس آئینے میں کہیں پر مرا کمال بھی ہے
کوئی خوشبو مہک گئی ہے کیا خون دل قطرہ قطرہ گرتا ہے چشم پُرنم چھلک گئی ہے کیا
پھول کی پتی پہ شبنم سی اُتر آئی ہے شب کی تنہائی میں یادوں کی ہے سرگوشی سی گھپ اندھیرے میں دبے پاؤں سحر آئی ہے
کسی نے کیسی یہ بد دعا دی کہ شاخِ گل پر ثمر نہ آئے