عیاں اور بھی ہیں نہاں اور بھی ہیں

مری حسرتوں کے نشاں اور بھی ہیں پُکارو گے کس کس کو اس انجمن میں مرے نام کےمیہماں اور بھی ہیں مرے گھر کے دیوار و در کو نہ دیکھو غریبوں کے کچے مکاں اور بھی ہیں ضیاؔ صاف دامن سہی لاکھ اپنا گلابی گلابی نشاں اور بھی ہیں​

پھول سا کوئی ہم زباں اچھا

پھول اچھے نہ گلستاں اچھا غم نصیبوں کا ایک ہی آنسو بلبل و گل کے درمیاں اچھا کل نئی سوچ کی سحر ہوگی آج وہ ہم سے بدگماں اچھا ریگزاروں میں یا گلستاں میں آپ کہیے کہ میں کہاں اچھا منزلیں تو ہزار ملتی ہیں اک مسافر رواں دواں اچھا

یہ بہاروں میں چمن کی داستاں ہو جائیگا

یہ بہاروں میں چمن کی داستاں ہو جائے گا غنچہ معصوم کانٹوں میں جواں ہو جائے گا خار میری حسرتوں کے آپ کے جلووں کے پھول یہ بہم ہو جائیں تو ,اک گلستاں ہو جائے گا آپ بھی روشن رکھیں اپنی محبت کے چراغ یہ دیئے گل ہو گئے تو پھر دھواں ہو جائے گا […]

نہ تیری آرزو دو دن نہ تیری آرزو برسوں

تجھے پا کر کیا کرتا ہوں اپنی جستجو برسوں مجھے دیر و حرم جانا ضروری تھا مرے ساقی مرے ہونٹوں کو ترسے ہیں ترے جام و سبو برسوں بڑی تاخیر سے تیرا پیامِ بے رخی آیا خزاں کے واسطے ترسی بہار ِ آرزو برسوں خزاں آتے ہوئے ڈرتی ہے ایسے گلستانوں میں جہاں کانٹے پیا […]

سید خورشید علی ضیاء ​کا یومِ پیدائش

آج معروف کلاسیکل شاعر سید خورشید علی ضیاء عزیزی جے پوری ​کا یومِ پیدائش ہے (پیدائش: 1919ء – وفات: 2001ء) —— سید خورشید علی ضیاء عزیزی کے والد کا نام سید محمود علی ابن شمس الدین تھا ۔ آپ 1919ء میں دائرہ کھنڈیلہ میں پیدا ہوئے ۔ آپ اپنے دونوں بھائیوں سید ارشاد الدین اور […]

یوم ِدفاع

ہماری سرزمینِ پاک میں دشمن در آئے تھے اسی شب ہم نے عزمِ خاص کے سورج جگائے تھے قیامت ساز ہنگامے وہ اپنے ساتھ لائے تھے مگر ہم نے مقابل میں نئے محشر اٹھائے تھے جوان و پیر و کمسن سب بھرے گھر سے نکل آئے کماں تھی باپ کے ہاتھوں میں بچے تیر لائے […]

یوم پاکستان تیئیس مارچ انیس سو چالیس

میکدے میخوار پیمانے جدا ہونے لگے بت پرستوں کے صنم خانے جدا ہونے لگے شہر جنگل اور ویرانے جدا ہونے لگے پیڑ پتے باغ گلخانے جدا ہونے لگے مرحبا انیس سو چالیس کی تیئیس مارچ اپنی منزل اپنے کاشانے جدا ہونے لگے تھی ابھی ذہنوں میں پاکستان کی قوس قزح اپنے رنگا رنگ کاشانے جدا […]

میں جاہ طلب ہوں نہ کوئی جاہ حشم ہے

اک بندہ ناچیز طلبگارِ کرم ہے تو احمدِ مختار نویدِ بن مریم ہاں تو ہی دعائے دمِ تعمیر حرم ہے موسیٰ کے لئے برق تھی ،میرے لئے قندیل اب وہ ہی تجلّی سرِ دیوار حرم ہے ہے قرّۃ العینین مدینے کا نظارہ فردوس یہی ہے یہی گلزارِ اِرم ہے تسبیح زباں پر ہے کبھی نام […]

زمین اپنی مہ و خورشید اپنا آسماں اپنا

اگر سالار اپنا ہو تو یہ سب کارواں اپنا ترے قدموں تلے پایا ہے ایسا نور مٹّی نے کہ ذرّے بن گئے جس سے مہ و انجم کے آئینے جلو میں ایسے جلوے لے کے محبوبِ خدا ٓیا کہیں حدِ عدم سے بھی پرے تھا کفر کا سایا کبھی جب آب و گل سے بن […]