رنج و الم سے دُور بلا لیجئے حضور
قربِ دیارِ نُور بلا لیجئے حضور آنکھوں میں خواب طیبہ کے دل میں ہیں حسرتیں کچھ کیجیئے حضور بلا لیجئے حضور گو لائقِ دیار نہیں پھر بھی میرے شاہ اک بار تو ضرور بلا لیجئے حضور میں نے سنا ہے نور کی برسات ہوتی ہے طیبہ میں ہے سُرور بلا لیجئے حضور دنیا کے ظلم […]