’’جگاوا‘‘
سبز چادر میں لپٹا ہوا گورا چٹّا وجود ایک دل میں دبی کتنی معصوم سی خواہشوں کو جگا دیتا ہے
معلیٰ
سبز چادر میں لپٹا ہوا گورا چٹّا وجود ایک دل میں دبی کتنی معصوم سی خواہشوں کو جگا دیتا ہے
پہچان نہیں ہے رنگوں کی مجھ کو میں اِس نعمت سے عاری ہوں کیونکہ میں نے اب تک اُس کے چہرے کی قوسِ قزح کے رنگوں سے آگے کوئی رنگ نہیں دیکھا
کہ فرض ٹھہری ہے مجھ پر اُنہی ﷺ کی اُلفت بھی وہ ایک نام کہ جس پر ہے انحصارِ وجود اسی کا عشق مرے پاس ہے امانت بھی! رحیم ایسے کہ رحمت ہیں سب جہانوں کی اُنہی ﷺکے پاس خلوص و وفا کی دولت بھی! اُنہی ﷺ کے ذکر نے جذبے جگا دیئے دل میں […]
دو مسافر جدا راہوں کے اپنی منزل سے وہ بے خبر اجنبی تھے مگر ساتھ چلتے رہے دور کچھ ہی گئے تھے ابھی موڑ اِک آگیا نام جس کا جدائی پڑا
ہستی میں محمد ﷺ کی ہے منزل کا نمونہ ذاتِ شہہِ ﷺ والا سے حرارت ہے لہو کی ٹھہرائیں دو عالم کو اگر دل کا نمونہ حالات کی ہر ڈوبتی کشتی کے لیے ہے کونین کے سرور ﷺ ہی میں ساحل کا نمونہ ذُرِّیَتِ آدم تھی بڑی ظالم و جاہل وہ ذات ﷺ ہوئی جوہرِ […]
تو اپنی ذات میں گُم ہے میں خود سے بے خبر ہوں ایک تنہا سا شجر ہوں بہتی ندّی کے کنارے چلچلاتی دھوپ میں کب سے کھڑا ہوں اپنی ہی ضد پر اڑا ہوں تو کبھی آئے سہی اک بار میرے پاس تیرے دل میں ہو احساس تو سائے بچھا دوں گا سواگت میں تِرے […]
ہم اپنے خواب لکھنے سے ذرا پہلے تمہاری یاد سے ہو کر گذرتے ہیں تو پھر جو کچھ قلم قرطاس پر تصویر کرتا ہے تمہارا عکس ہوتا ہے
سوچ پگڈنڈیوں پر رواں راگنی بے سکونی کے عالم میں اکثر، نمازوں کے بعد اِک تجھے بھولنے کی دعا مانگتا ہوں
نہیں،ناٹ(Not) نیور (Never)، نہ ، نو (No) اِن سبھی کی شروعات اِک حرف یعنی فقط ’’ن‘‘ سے ہوتی ہے اور اِن سب کا مفہوم بھی ایک ہے مجھ کو افسوس ہے صرف اِس بات کا، حرف پہلا ترے نام کا بھی یہی ’’ن‘‘ ہے
عجب ہے حافظہ میرا کہ جو میں یاد رکھنا چاہتا ہوں، بھول جاتا ہوں جسے میں بھولنا چاہوں وہی سب یاد رہتا ہے