ہر صبح پر فضا مرے شمس الضحٰی سے ہے

اور چاند کی ضیا مرے بدر الدجی سے ہے آیا پلٹ کے مہر، قمر چاک ہو گیا اظہارِ حکم آپ کی ہر ہر ادا سے ہے سارے جہاں کی رونقیں برگ و گل و چمن اے کار گاہِ حسن تری ہی عطا سے ہے اور آمنہ کے گھر کی طرف کعبے کا جھکاؤ اظہارِ عجز […]

یوں اپنے واسطے بخشش کا التزام کیا

کریم ذکر ترا میں نے صبح و شام کیا خدائے پاک نے جا ؤک کہہ کے بندوں کو حضور آپ کی مدحت کا اہتمام کیا کرم کے سارے دریچے ہوئے ہیں وا مجھ پر سخن کا محور و مرکز جب ان کا نام کیا نبی کے نام سے میں نے کیا سخن کو شروع اور […]

ہر سو ہے جس کی جلوہ نمائی وہ آپ ہیں

جس کے لیے ہے ساری خدائی وہ آپ ہیں روشن چمکتے چاند ستاروں کا کیا کہیں خلدِ بریں بھی جس نے سجائی وہ آپ ہیں صبحِ ازل سے شامِ ابد تک مرے حضور! جاری ہے جس کی مدح سرائی وہ آپ ہیں بہرِ اماں ہوں نقشِ کفِ پا کے سائے میں لو دل کی میں […]

تجھے بس دیکھتے رہنا بھی اک کارِ عبادت ہے

تری آنکھوں سے طیبہ دیکھتا ہوں کیا سعادت ہے شہِ کونین کو اے بے خودی تو نے کیے سجدے مدینے کو ترا کعبہ کہوں تو کیا قباحت ہے حطیمِ پاک میں میزابِ رحمت یوں برستا ہے اسے بھی ہر گھڑی حاصل مدینے سے ارادت ہے خدا نے خلد سے اے سنگِ اسود تجھ کو بھیجا […]

بہارِ باغِ عدن ہے آقا تری صباحت کے صدقے واری

تمام حسن و جمال آقا تری وجاہت کے صدقے واری خطیب سارے ادیب سارے ہیں تیرے آگے سخن خمیدہ فصاحتیں اور بلاغتیں سب تری خطابت کے صدقے واری قطار اندر قطار ہیں کہکشائیں ساری مَلَک بھی سارے شبِ ملاقات کل خدائی تری بصارت کے صدقے واری سوا طلب سے بھی بھر گئی تھی ابوہریرہ کی […]

استماعِ ذکرِ حق، مصرف سدا ہو یا نبی

ورد لب شام و سحر صلِ علٰی ہو یا نبی پھر تمنّائے زیارت لے چلے سوئے حرم پھر سے عاشق پر کوئی ایسی عطا ہو یا نبی یامحمد کہتے کہتے دم نکل جائے مرا سر سوئے روضہ دم آخر جھکا ہو یا نبی حشر میں پاؤں لواء الحمدکے نیچے جگہ اور سر پر سایہ زلف […]

ہم گداؤں بے نواؤں کا سہارا آپ ہیں

ظلمتیں مٹتی ہیں جس سے وہ ستارا آپ ہیں احمدِ مرسل سراپا رحمتہ للعٰلمیں مرکزِ جود و سخا حسنِ دلآرا آپ ہیں جب الیٰ غیری پکاریں گے تمامی حشر میں کامل و اکمل سہارا تب ہمارا آپ ہیں والئی کون و مکاں ہیں،فخرِ حسنِ دو جہاں نکہت و نورِ جہاں سارے کا سارا آپ ہیں […]

صاحبِ جود و سخاوت کون ہے تیرے سوا

قاسمِ ہر ایک نعمت کون ہے تیرے سوا کس کے دم سے رتبۂ عالی پہ ہے آدم نژاد رشک گاہِ آدمیت کون ہے تیرے سوا درجۂ ختمِ رسل پر کون ہے جلوہ فگن لائقِ ختمِ نبوت کون ہے تیرے سوا بخشوائے گی گنہگاروں کو جو محشر کے دن کس نے پائی ہے یہ قدرت کون […]

نگاہِ شوق کو دیتی ضیا روضے کی جالی ہے

مدینہ مرکزِ مدحت ہے اس کی شان عالی ہے کھڑا ہے ہاتھ باندھے سرخمیدہ عرضِ دل لے کر کہ شہرِ ہجر سے آیا ہوا یہ اک سوالی ہے مدینہ سے ہی تو منسوب ہے یہ سر زمیں میری اسی کا فیض ہے چاروں طرف پرچم ہلالی ہے ثنا گوئی بفیضِ مصطفی ہم کو میسّر ہے […]

ہر شے کو تبھی جشن منانے کی پڑی ہے

یہ والیٔ کونین کے آنے کی گھڑی ہے آئے ہیں سرِ عرشِ عُلا سیدِ عالَم کُل خلقِ جناں دید بہ کف رہ میں کھڑی ہے طیبہ کی کرم بار گھٹائیں ہیں نظر میں آنکھوں سے رواں حبِ مدینہ کی لڑی ہے ملتا ہے ترے در سے بنا مانگے ہمیشہ رحمت تری اے شاہ اُمم کتنی […]