اردوئے معلیٰ

عزیز احمد کا یوم پیدائش

آج اردو کے نامور افسانہ نگار، مترجم اور اسلامی تاریخ و ثقافت کے عالمی پروفیسر عزیز احمد کا یوم پیدائش ہے

 پروفیسر عزیز احمد ——
(پیدائش: یکم نومبر 1920ء – وفات: 16 نومبر 1999ء)
——
پروفیسرعزیز احمد 11 نومبر 1914ء کو ضلع بارہ بنکی، اتر پردیش، برطانوی ہندوستان میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد کا نام بشیر احمد تھا۔ وہ ایک اچھے وکیل تھے انہوں نے وکالت کے سلسلے میں ریاست حیدرآباد،دکن کا رُخ کیا تو پھر یہیں کے ہوکر رہ گئے۔ پروفیسرعزیزاحمدنے ابتدائی تعلیم ضلع عثمان آباد،مہاراشٹر میں مکمل کی۔گورنمنٹ کالج اورنگ آباد سے انٹر اور 1928ء میں جامعہ عثمانیہ سے ایف اے کیا۔1934ء میں اعزاز کے ساتھ بی اے (آنرز ) کیا۔ بعد ازاں مولوی عبدالحق کی کوششوں سے عزیز احمد کو اعلی تعلیم کے لیے وظیفہ ملا اوروہ 1935ء میں انگلستان چلے گئے ۔1938ء میں لندن یونیورسٹی سے بی اے (آنرز ) کی ڈگری لی۔ اور کچھ وقت یورپ کی سیروسیاحت میں گزارا۔ اسی عرصہ میں وہ فرانس کے سوربون یونیورسٹی سے بھی منسلک رہے۔ عزیز احمد 1941ء تا 1945ء شہزادی درشہوار کے پرائیوٹ سیکرٹری رہے۔ 1946ء میں وہ ایک بار پھر جامعہ عثمانیہ سے منسلک ہو گئے۔ اور اپنے گذشتہ ہدے پر کام کرنے لگے۔ 1949ء تک درس و تدریس میں مشغول رہے۔ 1949ء میں تقسیم ہند کے بعدء میں وہ استعفے ٰ دے کر پاکستان چلے گئے اور حکومت پاکستان کے فلم و مطبوعات کے محکمے کے ڈائریکٹر مقرر ہوئے۔ اس محکمے سے وہ 1957ء تک وابستہ رہے۔ 1957ء میں وہ لندن یونیورسٹی کے اسکول میں اردو اور ہندی اسلام کے شعبے میں لیکچر مقرر ہوئے۔ جہاں وہ 1962ء تک رہے۔ 1962ء میں وہ ایسوسی ایٹ پروفیسر ہو کر ٹورنٹو یونیورسٹی (کینیڈا ) کے شعبہ اسلامیات سے وابستہ ہو گئے۔ 1965ء میں انہیں پروفیسر بنا دیا گیا اوروہ باقی عمر اسی عہدے پرکام کرتے رہے۔ ان کے کام کی اہمیت اور وقعت کے پیش نظر انہیں رائل سوسائٹی آف کینڈا کا فیلو مقرر کیا گیا۔ 1972ء میں یونیورسٹی آف لندن نے ان کی خدمات کے اعتراف میں ان کو ڈی لٹ کی ڈگری سے نوازا۔ عزیز احمد کئی زبانیں جانتے تھے۔ اردو ،انگریزی فرانسیسی اور زبانوں پر عبور حاصل تھا۔ جبکہ ترکی، اطالوی اور جرمن زبانوں میں گفتگو کر لیتے تھے۔ آخری عمر میں نارویجن زبان سیکھ رہے تھے۔ عزیز احمد کی پہلی تنقیدی تصنیف ’’ترقی پسند ادب ‘‘ہے۔ عمر کے آخری ایامّ کینیڈا میں ہی گزرے،16 دسمبر 1978ء کو وہیں انتقال ہوا۔
——
یہ بھی پڑھیں : جتنا مرے خدا کو ہے میرا نبی عزیز
——
عزیز احمد کی علمی و ادبی زندگی کا آغاز جامعہ عثمانیہ کی تعلیم کے دوران ہی ہوا۔ 1943ء میں ان کی تین اہم منظومات پر مشتمل ایک مجموعہ منظر عام پر آیا جس کا نام "ماہ لقا اور دوسری نظمیں” تھا۔
تقسیم ہند کے بعد 1949ء میں عزیز احمد پاکستان آ گئے۔ یہاں پر وہ محکمہ فلم اور پبلی کیشنز میں ڈائریکٹر اور حکومت کے دیگر مختلف اعلی عہدوں پرفائز رہے۔ محکمہ مطبوعات کی ملازمت کے دوران کئی اردو، انگریزی رسالے ان کے زیر انتظام پاکستان سے شائع ہوئے جن میں ماہ نو اور ہلال تھے۔ 1958ء میں عزیز احمد لندن چلے گئے اور اسلول آف اورینٹل میں پڑھانے لگے ۔1960ء میں وہ وہاں سے ٹورنٹو یونیورسٹی کے شعبہ اسلامیات سے منسلک ہو گئے اور آخر دن تک وہیں رہے۔ ان کی اہم تصانیف میں مختلف ناول شامل ہیں۔ جن میں گریز، مرمر اور خون، ہوس، آگ، ایسی بلندی ایسی پستی اور شبنم ہیں۔
عزیز احمد 16 دسمبر، 1978ء کوٹورانٹو، کینیڈا میں انتقال کر گئے او وہیں مدفون ہوئے۔
——
عزیز احمد کی ناول نگاری از وسیمہ سلطانہ، ریسرچ اسکالر
——
عزیز احمد اردوناول نگار میں اپنا ایک مخصوص ومنفرد مقام رکھتے ہیں ۔ انہوں نے اپنے متعددناولوں کے ذریعے اردو ناول نگاری کی روایت میں اپنی ایک الگ پہچان بنائی ہے۔ ان کے ناولوں میں ہوس، شبنم، ایسی بلندی ایسی پستی، گریز،آگ، وغیرہ ہے۔ جس پرایک لطیف رومانی احساس کا رفرماہے۔ بعض ناولوں میں جیسے: ہوس، میں یہ رومان جنسی ہےجان کی شکل اختیار کرلیتاہے۔ ان کے ابتدائی ناولوں میں یہ چیزیں دیکھنے کوملتی ہیں لیکن جیسے جیسے لمحات گزرتے ہیں رومان اور جنس کے اشتراک سے سماجی شعور اختیار کرتی چلی جاتی ہیں۔ اس طرح وہ اپنے ناولوں میں کسی نہ کسی سماجی مسئلے کواجاگر کرنے میں کامیاب ہوجاتے ہیں۔
عزیزاحمد کے ناولوں میں سب سے زیادہ شہرت ،گریز،کوحاصل ہے۔ جس میں ایک ایسے نوجوان کی کہانی کو بیان کیاہے جو آئی سی ایس کے لئے منتخب ہوتا ہے ۔وہ اس کے ذریعے انگلستان، یورپ کی سیر کرتاہے۔ ناول میں ۶۳۹۱ءسے لےکر ۲۴۹۱ءتک کے زمانے کو دکھایا گیا ہے۔
——
یہ بھی پڑھیں : عزیز حامد مدنی کا یوم وفات
——
اس ناول میں دوتہذیبوں کا تصادم ہے۔ اس عہدکے نوجوانوں کی طرح نعیم کی ذہنیت بھی یورپ جاکر تبدیل ہوجاتی ہے۔ وہ اپنے اندر زندگی کی عیش پرستی اورلذت کوشی کو سمونے کی کیسی کیسی کوشش کرتا ہے۔ وہ اپنی مرضی سے دیس بدیس گھومتا ہے یہی وجہ ہے کہ یورپ کاماحول اس پرپوری طرح غالب نظر آتاہے۔ ایک دل پھینک نوجوان ہونے کے ناطے عورت محض اس کے لیے کشش جنس کی حیثیت رکھتی ہے۔ اس لئے وہ خوبصورت عورتوں کے ارد گرد منڈلاتارہتا ہے۔ لیکن ان میں سے وہ کسی کو بھی اپنا نہیں پاتا۔ شایداس لئے کہ اسے ایک مکمل اورخاص عورت کی تلاش ہے یہی وجہ ہے کہ اس ناول میں کئی عورتوں کے کردار آتے ہیں۔ جن میں مغرب ممالک کی عورتیں زیادہ ہیں۔ جس کی وجہ سے رومان اورجنس کی شدت نعیم کے فکر پر حاوی نظرآتی ہے۔ اس حدتک کہ ناول کے معاشی اورسیاسی پس منظر میں بھی جنسی حقائق غالب نظر آتے ہیں۔
نعیم زندگی کی تلخ حقیقتوں اوریہاں تک کہ وہ محنت اورعشق کی تلخیوں سے بھی گریز کرتا ہے اوربیسویں صدی کے بدلتے ہوئے اہم رجحانات کی آئینہ داری کرتاہے۔ اس کے اندر کسی طرح کی بندش نہیں ہے۔ نہ اخلاقی اورنا ہی مذہبی قدروں کی پاسداری۔ اس کی حالت ایک ایسے نوجوان کی سی ہے جوکشمکش اورتذبذب کاشکارہے۔ اسے خود نہیں معلوم کہ اسے کس چیز کی تلاش ہے۔ وہ سائنسی ایجادات اور نئے علوم وفنون سے واقف ہے۔ لیکن زندگی سے مطمئن نہیں ہے۔ یورپ کی چمک دمک سے بھی زیادہ متاثرنہیںہوپاتا۔ دیگر ملکوں کی طرح ہندوستان بھی سماجی اور تہذیبی تبدیلیوں سے دوچار تھا اورایسے موقع پرنئے علوم وافکار کی آمد تھی۔ یہ تبدیلیاں اپنی طرف جدید ذہنوں کومتاثر کرنے لگیں۔ یہی وجہ ہے کہ ناول کاہیرونعیم دنیائے جدید علوم وفنون سے واقف نظر آتاہے۔
نعیم کاکردار اس عہد کے ایک ایسے پڑھے لکھے نوجوان کا کردار ہے جو سماجی اورتہذیبی اعتبار سے دوراہے پرکھڑا ہے ۔ مغربی تہذیب کی چمک دمک لیکن ساتھ ہی اس کا کھوکھلا پن ظاہرتاًمشرق کی روایت پرستی ہے لیکن اس کے کردار کی مضبوطی بھی عیاں ہے۔ تبدیلی کے اس دوراہے پران دنوں نوجوانوں کے جومسائل تھے۔ نعیم ان کی نمائندگی کرتاہے۔ ناول میں ہرکردار اورہر واقعے کوبڑے اچھے ڈھنگ سے پیش کیا گیا ہے۔
عزیزاحمدنے اپنے ناول میں جنسی پہلووں کو بیان کرنے کے ساتھ ساتھ سماج میں پھیلی ہوئی برائیوں کو بھی بے نقاب کیاہے اوراس کی اصلاح کرنے کی کوشش بھی کی ہے۔ناول نگار نے جنسی میلان کا مواد یورپ سے لیاہے ۔ کیونکہ یہ ماحول مشرق میں بڑی حقارت کی نظروں سے دیکھا جاتاہے جوآزادی یورپ میں ہے وہ ہندوستان میں نہیں تھی۔
——
یہ بھی پڑھیں : عزیز صفی پوری کا یومِ وفات
——
’گریز‘دوعظیم جنگوں کے پرآشوب دورکی کہانی ہے۔
الغرض عزیز احمد نے جدت پسندی کایہ کارنامہ انجام دیاہے۔ انہوں نے ہندوستان اورغیرہندوستانی شہروں کے احوال کو بیان کیا ہے جہاں غیرملکی سیاحوں کی وجہ سے تہذیبی ٹکراوہوتاہے اور نئی تہذیب کی آمد ہوتی ہے۔ ان کے ناول ہراعتبار سی ایک نئے موڑکی نشاندہی کرتے ہیں اورزندگی کو بھرپور طریقے سے پیش کرنے کی قوت رکھتے ہیں۔
گریزکے بارے میں علی عباس حسینی لکھتے ہیں۔کہ
”اس ناول نے پہلی دفعہ ہماری زبان میں یورپ کو اس کے سیاسی اور اقتصادی اورجنسی انداز کو ہندوستانی نقطہ نظرسے پیش کیا ہے۔
——
منتخب کلام
——
سمجھے تھے ہم خموش تھی اپنے قدم کی چاپ
کیا جانے کیوں یہ رہ گزر گونجتی رہی
——
ہم پہ جو گزری سو گزری در حدیثِ دیگراں
داستانِ نوش و عیش و نیش و سَم لکھتے رہے
——
ہے ابھی دیر ، ستاروں کے جلاؤ نہ چراغ
شب ابھی آئی نہیں ، شام ابھی باقی ہے
——
ہم جو سو جائیں گے سارے بحر و بر سو جائیں گے
آگ میں جنّات ، بستی میں بشر سو جائیں گے
موت کے خشقے کو دیکھیں گے جبینِ ماہ پر
چادرِ ابرِ رواں سب اوڑھ کر سو جائیں گے
——
اب اپنی شکل بھی نظر آتی نہیں ہمیں
آئینۂ جہاں کو لگا زنگ دوستو
——
یہ محفل ختم ہے اب لو خدا کا نام اے یارو
یہ ہے پیرِ مغاں کا آخری پیغام اے یارو
نہ یہ شام و سحر ہو گی ، نہ باقی روز و شب ہوں گے
کہ پیچھے چھوڑ دیں گے گردشِ ایام اے یارو
——
اور شہروں میں سنی محفلِ یاراں ہی کی بات
نہ حکایت کبھی ایسی نہ شکایت اتنی
تیرِ مژگاں بھی کبھی اُن کو پہونچنے نہ دیا
گو خود ہی سے ہے آنکھوں کو محبت اتنی
——
جو حال تھا حیات میں وہ ہے ممات میں
کچھ دوست آ کے ہنس گئے کچھ آ کے رو گئے
——
یاروں کو بزمِ لالہ رخاں ہی میں چھوڑ کر
ہم خاک بن کے کوئے بُتاں سے نکل گئے
——
چھلکی جو مئے تو بن کے شرر گونجتی رہی
مینا سے تابہ ساغر زر گونجتی رہی
بادل کی سی گرج تھی یہ دنیا کہیں جسے
جو درمیانِ شمس و قمر گونجتی رہی
تھی جو دعا وہ ابر کے دامن میں چُھپ گئی
جو بددعا تھی بن کے اثر گونجتی رہی
آئی خزاں طیور تو جتنے تھے اُڑ گئے
نغموں سے پھر بھی شاخِ شجر گونجتی رہی
آغوشِ شب میں پھول تو مرجھا کے گر گئے
صحنِ چمن میں بادِ سحر گونجتی رہی
تھا کوئی اجنبی کہ جو آیا ، چلا گیا
صدیوں تلک اُسی کی خبر گونجتی رہی
فریادِ دل کسی کے دبائے نہ دب سکی
جب کٹ گئی زباں تو نظر گونجتی رہی
سمجھے تھے ہم خموش تھی اپنے قدم کی چاپ
کیا جانے کیوں یہ رہ گزر گونجتی رہی
——
اس کارزارِ زیست میں تنگ آ گئے ہیں ہم
لے کر اجل کی تیغ و خدنگ آ گئے ہیں ہم
یاروں سے کی وفا تو جفا کا ، ملا فریب
سکرات میں بہ عرصہ بنگ آ گئے ہیں ہم
جو آئینہ غبار و کدورت سے پاک تھا
اس پر بھی اب جو لگ گیا زنگ آ گئے ہیں ہم
نقش بر آب تھے تو ترا خوف تھا اجل
اب آ کہ بن کے کتبہ سنگ آ گئے ہیں ہم
آمد حریف کی ہو کہ آمد اجل کی ہو
لے کر رباب و بربط و چنگ آ گئے ہیں ہم
خون دل شکستہ کے گہرے کفن پہ داغ
پہنے ہوئے لباسِ دو رنگ آ گئے ہیں ہم
پھیلا کے دام دوست نے ہم کو طلب کیا
بے وقفہ و دریغ و درنگ آ گئے ہیں ہم
——
جھونکا چلا قضا کا تو چپکے سے سو گئے
آیا جو کاروانِ اجل ساتھ ہو گئے
جس قافلے کے ساتھ ہی چلتا رہے گا وہ
منزل جب اپنی آئی الگ ہو کے کھو گئے
اس بحر میں تلاطم و طغیاں کا زور تھا
ساحل نظر نہ آیا تو کشتی ڈبو گئے
ہم نے وفا میں کوئی کمی کی نہیں مگر
ہم کیا کریں کہ یار بھی اغیار ہو گئے
جو حال تھا حیات میں وہ ہے ممات میں
کچھ دوست آ کے ہنس گئے کچھ آ کے رو گئے
——
ماہ لقا
——
یوں تو دیکھا تھا لڑکپن میں کئی بار اسے
پردۂ غنچۂ نورس میں نہاں گُل جیسے
جس طرح عشرۂ اول میں مہِ نو کا جمال
محوِ کوشش ہو ملے بدرِ منور کا کمال
جس طرح ذہنِ مصور میں نہاں ہو تصویر
اور پھر صفحۂ قرطاس پہ ڈھونڈے تعبیر
جس طرح حجلۂ انگور میں لیلائے شراب
اُس کے بچپن میں نہاں تھا بُتِ طناز شراب
اُس کو دیکھا تو نگہہ تک مری مخمور سی ہے
نفسِ تیز کی حالت دلِ مجبور سی ہے
میں نے پوچھا تری صورت تو ہے پہچانی سی
کیوں تجھے دیکھ کے ہے قلب کو حیرانی سی
کس مصور کی تصاویر میں دیکھا ہے تجھے
کس صحیفے کی تفاسیر میں دیکھا ہے تجھے
کسی صناع کی صنرت کا تماشا تھی تُو
کسی شاعر کے تخیل کی تمنا تھی تو ؟
وہ تو کچھ چیں بہ جبیں ہی سی رہی اور خاموش
حُسنِ کامل کو مگر اس کے ذرا آیا جوش
ساری دنیا میں تو کیا جانیے کیا کہتے ہیں
لوگ مشرق میں مجھے ماہ لقا کہتے ہیں
——
حوالہ جات
——
شعری انتخاب از عزیز احمد فکر و فن اور شخصیت ، تحقیق : احمد راہی
جلد دوم ، شائع شدہ 2011 ، متفرق صفحات
یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ