اردوئے معلیٰ

آج معروف مصنفہ اور ناول نگار بشریٰ رحمٰن کا یوم پیدائش ہے ۔

بشریٰ رحمٰن(پیدائش:29 اگست 1944ء – وفات:7 فروری 2022ء)
——
ڈاکٹر بشریٰ رحمٰن ایک پاکستانی مصنفہ ہیں۔ انہوں نے کئی کتابیں لکھی ہیں۔ 2007ء میں انہیں صدارتی اعزاز ستارہ امتیاز سے نوازا گیا۔ 17 سے زائد ناول اور سفرنامے ان کے قلم کا شاخسانہ ہیں۔انھوں نے جامعہ پنجاب سے ایم -اے صحافت کی سند حاصل کی ۔ انھوں نے اپنا سیاسی سفر 1983ء میں شروع کیا،بشریٰ رحمٰن 1985ء اور 1988ء میں رکن پنجاب اسمبلی بنیں، 2002ء اور 2008ء میں مسلم لیگ ق کے ٹکٹ پر رکن قومی اسمبلی بنیں۔پی ٹی وی اور پرائیویٹ پروڈکشن کے لئے کئی ڈرامے بھی لکھے، ان کے ناول اور افسانے خواتین میں بہت مقبول تھے ان کے افسانوں کے کئی مجموعے شائع ہو چکے ہیں۔بشری رحمان کے معروف ناولز میں اللہ میاں جی، بہشت، براہ راست، بت شکن چاند سے نہ کھیلو اور چارہ گر شامل ہیں۔روزنامہ جنگ میں چادر چاردیواری اور چاندنی کے نام سے کالم بھی لکھتی رہیں۔ ان کی شادی شادی لاہور کے صنعتکار میاں عبدالرحمٰن سے ہوئی تھی۔2007ء میں انہیں صدارتی اعزاز ستارہ امتیاز سے نوازا گیا۔
——
یہ بھی پڑھیں : معروف شاعرہ اور افسانہ نگار فاطمہ تاج کا یوم وفات
——
تصانیف
——
چپ (افسانے)
خوبصورت (ناول)
مولانا ابو الکلام آزاد، ایک مطالعہ
چاند سے نہ کھیلو
لازوال (حصہ اول)
دانا رسوئی
صندل میں سانسیں چلتی ہیں (شاعری)
بے ساختہ
کس موڑ پر ملے ہو (ناول، 2007ء)
اللہ میاں جی
تیرے سنگ در کی تلاش میں (ناول)
پارسا (ناول)
شرمیلی (ناول)
باؤلی بھکارن (1982ء)
ٹک ٹک دیدم ٹوکیو(1989ء/سفرنامہ)
لگن (ناول)
لازوال (حصہ دوم/،1990ء/ ص390/ناول)
درد دیس (سفرنامہ)
بہشت (افسانے)
عشق عشق (افسانے)
ایک آوارہ کی خاطر (ناولٹ)
لالہ صحرائی (ناولٹ)
پے انگ گیسٹ (ناولٹ)
پشیمان(افسانے)
قلم کہانیاں(،اگست1988ء،/925ص /50 افسانے)
بت شکن (1990ء،\ناولٹ)
پیاسی(ناول)
چارہ گر(ناول)
7 فروری 2022ء کو 77 سال کی عمر میں وفات پائی، ان کا انتقال کرونا کے باعث ہوا، وہ طویل عرصے سے علیل تھیں، ان کی نماز جنازہ چار بجے سہ پہر 8 سی احمد بلاک گارڈن ٹاؤن لاہور میں ادا کی گئی۔
——
مشفق خواجہ از پارسا
——
بشریٰ رحمٰن بظاہر ایک فرد کا نام ہے ، لیکن ان کے کاموں کو دیکھا جائے تو وہ مجموعہ افراد نظر آتی ہیں ۔
وہ کام جو بہت سے لوگ مل کر بھی نہ کر پائیں وہ اکیلی سر انجام دیتی ہیں ۔ ان کی بنیادی حیثیت تو فکشن نگار کی ہے لیکن شاعری ، سفرنامہ نگاری ، کالم نویسی اور خطابت کے میدانوں میں انہوں نے جو کارہائے نمایاں سر انجام دئیے ہیں انہیں ہم اردو ادب کے باثروت ہونے کے اسباب میں شمار کر سکتے ہیں ۔
ایسی ہمہ جہت شخصیات اپنے عہد کی پہچان بن جاتی ہیں ۔
ناول اور افسانے میں بشریٰ رحمن کمالِ فن کی جن بلندیوں تک پہنچی ہیں اس کی مثالیں کم کم ملتی ہیں ۔ انہوں نے زندگی کا گہرا اور وسیع مشاہدہ کیا ہے ۔ انسانی نفسیات کی پیچیدگیوں کا دقتِ نظر سے مطالعہ کیا ہے ، معاشرے کے مختلف طبقوں کے مسائل ، اُن کی امنگوں ، آرزوؤں کو ان کے خوابوں کی اچھی بری تعبیروں کو سمجھنے اور سمجھانے کی مکمل کوشش کی ہے ۔
یہی وجہ ہے کہ ان کے کردار کسی الف لیلوی ماحول کی نہیں ، ہماری روزمرہ زندگی کی عکاسی کرتے ہیں ۔
اسی خوبی نے اُن کے فن کو اس آفاقیت سے ہم کنار کیا ہے جو کسی ادبی تخلیق کو کسی محدود مدت کی اسیر نہیں ہونے دیتی ، آنے والے زمانوں میں بھی اس کی ضامن ہوتی ہے ۔
——
منتخب کلام
——
وقت کس جنتِ موہوم کا لالچ دے کر
مجھ کو ماضی کے جزیروں سے اٹھا لایا ہے
ذہن پر جیسے ہوں بیتے ہوئے لمحوں کے نقوش
جیسے بھولی ہوئی یادیں کسی افسانے میں
اس طرح لا کے یہاں چھوڑ گیا ہے کوئی
جیسے بھٹکا ہوا راہی کسی ویرانے میں
——
تیرے ہاتھوں میں پگھل جانے کو جی چاہتا ہے
آتش ِ شوق میں جل جانے کو جی چاہتا ہے
تجھ سے اک راز کی سر گوشی بھی کرنا چاہوں
پھر وہی راز نگل جانے کو جی چاہتا ہے
دل یہ چاہے کہ تِرے دل میں رہوں دل بن کے
پھر اسی دل سے نکلنے کو جی چاہتا ہوں
وحشت آباد مکانوں میں نہیں جی لگتا
شہر سے دور نکل جانے کو چاہتا ہے
ہم سے یہ رسم کی زنجیر بھی کب ٹوٹ سکی
دل کی ضد پر بھی مچل جانے کو جی چاہتا ہے
——
سلگتی چاندنی راتیں ہمیں واپس عطا کر دو
ادھوری وہ ملاقاتیں ہمیں واپس عطا کر دو
خیال و خواب میں پہروں خیالِ یار کی مستی
وفورِ شوق کی باتیں ہمیں واپس عطا کر دو
خفا ہونا، بگڑنا، روٹھنا پھر بھی تڑپ اٹھنا
محبتوں کی وہ سوغاتیں ہمیں واپس عطا کر دو
ہر اک موسم کی چوکھٹ پر تمہاری آہٹیں سننا
وہ جلتے دن وہ نم راتیں ہمیں واپس عطا کر دو
ہمارے شہر کے ہر موڑ پر اک یاد بیٹھی ہے
نظاروں کی یہ برساتیں ہمیں واپس عطا کر دو
اگر کچھ دے نہیں سکتے تہی دامن تہی دل ہو
تو پھر وعدوں کی باراتیں ہمیں واپس عطا کر دو
مِرے سجدوں کی رعنائی محبت میں نہ کام آئی
معطر با وضو راتیں ہمیں واپس عطا کر دو
جنہیں انجام کار افسردہ و بے چین رہتا تھا
وہ وقتِ آرزو راتیں ہمیں واپس عطا کر دو
——
کس موڑ پر ملے ہو؟
وہ خواب کا زمانہ
وہ رُوپ کا خزانہ
سب کچھ لٹا چکے ہم
یہ جسم و جاں جاناں
کس موڑ پر ملے ہو؟
کیا نام ہے تمہارا
کس نام سے پکاروں
کس طرح تجھ کو جیتوں
کس طرح تجھ کو ہاروں
کس موڑ پر ملے ہو؟
دروازہ کیسے کھولوں
دستک نہ دو خدارا
یہ قفلِ قیدِ ہستی
قسمت پر کس کو یارا
کس موڑ پر ملے ہو؟
اب دل کی وادیوں کے
جگنو بھی سو چکے ہیں
خوابوں کے سب جزیرے
ویران ہو چکے ہیں
کس موڑ پر ملے ہو؟
مڑ کر بھی آنا چاہوں
مڑ کر بھی آ نہ پاؤں
دامن بچانا چاہوں
دامن چھُڑا نہ پاؤں
کس موڑ پر ملے ہو؟
——
ہجر نامہ
بدلتے موسم بدل رہے ہیں
ہزار رستے نکل رہے ہیں
تمہاری دستک کی منتظر ہوں
تمہیں سنانے کو گیت کتنے
لبوں پہ میرے مچل رہے ہیں
ندیم میرے
کلام میرے کلیم میرے
چلے بھی آؤ میں تھک گئی ہوں
سجا کہ رکھوں گی یہ گھر گھروندہ
مگر ادھورا ہے سیج سپنا
نہ جانے یہ کیسے ہو رہا ہے
وہ دور مجھ سے، میں دور اس سے
جو ہے جہان بھر میں ایک اپنا
حسین میرے
حریمِ دل میں مکین میرے
چلے بھی آؤ میں تھک گئی ہوں
ہر ایک نعمت کی ایک نعمت
تمہاری چاہت، تمہاری صورت
مگر تمہیں کس طرح بتاؤں
ہے فرشِ دل پہ نظر جمائے
ہماری چاہت، ہماری صورت
سہاگ میرے
حسین ملہار راگ میرے
چلے بھی آؤ میں تھک گئی ہوں
یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے۔۔۔

حالیہ اشاعتیں

اشتہارات

اشتہارات