کوئے یثرب کو مسیحا کہہ دیا تو ہو گیا

میرے آقا نے مدینہ کہہ دیا تو ہو گیا حکم سورج کو دیا تو وہ بھی آیا لوٹ کر چاند! دو ٹکڑے تو ہو جا ، کہہ دیا تو ہو گیا مصطفیٰ تو مصطفیٰ ہیں آپکے منگتوں نے بھی گنبد بے در میں رستہ کہہ دیا تو ہو گیا میرے آقا آپ کا فرمان کیا […]

گلزار مدینہ سے جسے پیار نہیں ہے

جنت کی بہاروں کا وہ حقدار نہیں ہے عالم میں کوئی آپ کا ہمسر نہیں آقا اس بات سے دشمن کو بھی انکار نہیں ہے کھل سکتے نہیں اس سے کبھی رمز حقائق میخانۂ طیبہ کا جو میخوار نہیں ہے اعمال کے سکّے نہیں ، کام آئے گی نسبت یہ حشر کا میدان ہے بازار […]

دیوار بھی اچھی لگے ، در اچھا لگے ہے

طیبہ میں جدھر دیکھو ادھر اچھا لگے ہے لا اقسم فرما کے خدا نے یہ بتایا محبوب کے رہنے سے نگر اچھا لگے ہے انوار کی بارش ہے فرشتوں کا ہے میلا سرکار بھی موجود ہیں گھر اچھا لگے ہے پلکوں کے جھپکتے ہی پہونچ جاتا ہوں طیبہ مجھ کو مرا اندازِ سفر اچھا لگے […]

حشر کی دھوپ سے بچنے کی یہ صورت ہو گی

سر پہ عاصی کے تنی چادر رحمت ہو گی جس کے دل میں مرے سرکار کی الفت ہو گی منتظر اس کی دل و جان سے جنت ہو گی رشک آئے گا دو عالم کو مری قسمت پر شہر طیبہ کی میسر جو سکونت ہو گی آپ کے چہرے سے قدرت ہے نمایاں رب کی […]

مجھ کو طیبہ میں بلاؤ تو مری بات بنے

یا مرے خواب میں آؤ تو مری بات بنے میری آنکھو! جو ندامت کے گہر بن جائیں ایسے اشکوں سے نہاؤ تو مری بات بنے اے بہارو! مرے گلزارِ تمنا میں کوئی پھول مدحت کا کھِلاؤ تو مری بات بنے تختِ شاہی کی طلب مجھ کو نہیں ہے آقا اپنے قدموں میں بٹھاؤ تو مری […]

عشقِ محبوبِ خدا جب دل میں پنہاں ہو گیا

ایک اک گوشہ مرے دل کا فروزاں ہو گیا ان کی یادیں ان کی الفت ان کی رحمت پر نظر کچھ تو میرے پاس بھی بخشش کا ساماں ہو گیا عرش کے جلوے نظر آنے لگے ہیں فرش پر جب سے وہ ماہِ نبوّت جلوہ ساماں ہو گیا اے شہِ خوبانِ عالم تیرے جلوؤں کے […]

نکلی نسیم صبح جو ان کے دیار سے

گلشن تمام لگنے لگے مشک بار سے جانے لگیں جو قافلے آقا کے شہر کو پوچھے تو کوئی حال دل بے قرار سے لب پر نبی نبی ہے تو دل میں نبی نبی نکلے یہی نفس کے مرے تار تار سے قبضہ مرے نبی کا ہے کل کائنات پر باہر نہیں ہے ایک بھی شے […]

کتنا بلند پایہ ہے دربارِ مصطفےٰ

’’روح الامیں ہیں غاشیہ بردارِ مصطفےٰ‘‘ دلکش ہیں ، دل پذیر ہیں اطوارِ مصطفےٰ قرآں کا ترجمان ہے کردارِ مصطفےٰ جان قمر ہے تابش رخسارِ مصطفےٰ عنبر فشاں ہیں گیسوئے خمدارِ مصطفےٰ نکلے سفر کو ، تھم گیا کونین کا نظام کیا اہتمام ہے پئے دیدارِ مصطفےٰ مہتاب و آفتاب ، ستاروں کی شکل میں […]

جلوۂ حق سے ہے پُر نور تمہاری چوکھٹ

یوں ہے رشک جبل طور تمہاری چوکھٹ جمع رہتے ہیں یہاں جن و ملائک انساں دونوں عالم میں ہے مشہور تمہاری چوکھٹ کیف آگیں کئے رہتی ہے مشام جاں کو بوئے جنت سے ہے معمور تمہاری چوکھٹ میں کہیں بھی رہوں اے سرور عالم لیکن آنکھ سے ہوتی نہیں دور تمہاری چوکھٹ کوئی دیوانہ کہے […]

دل میں جو الفت محبوب احد رکھتے ہیں

اپنی بخشش کی وہی لوگ سند رکھتے ہیں اپنے آقا کی مدد پر ہے بھروسہ ہم کو کب کسی اور سے امید مدد رکھتے ہیں یہ غلامان شہ دیں ہیں حقارت سے نہ دیکھ تاجداروں سے بلند اپنے یہ قد رکھتے ہیں میرے آقا کی عطاؤں کا نہیں کوئی جواب کب روا اپنے سوالی پہ […]