عطا ہوئے ہیں رفیع جذبے

حضور کے ہیں مطیع جذبے نظر جھکائے کھڑے ہوئے ہیں درِ نبی پر جمیع جذبے ملا ہے اعزازِ نعت جب سے ہوئے ہیں تب سے وسیع جذبے قدومِ سرور میں سر خمیدہ عقیدتوں کے وقیع جذبے پہنچ گئے ایک پل میں بطحا محبتوں کے سریع جذبے خدا سے مانگا ہے عشقِ سرور وہ سن رہا […]

چاند تاروں سے سرِ افلاک آرائش ہوئی

شاہ کے اعزاز میں ہر شے کی پیدائش ہوئی بس گئیں دل میں امامِ انبیاء کی الفتیں دور میرے دل سے حبِ زر کی آلائش ہوئی پھول، خوشبو، رنگ، موسم، چاند، تارے، رات، دن تیری خاطر دو جہاں کی خوب زیبائش ہوئی تیرا صدقہ بانٹتا ہے خالقِ ارض و سماء تیرے صدقے میں ہمیں حاصل […]

کہتا ہوں جب بھی نعت مدینے کے شاہ کی

ہوتی ہے مجھ پہ خاص نظر عالی جاہ کی تلووں کا حسن ہوگا بیاں کس مثال سے پیشانیاں خجل ہیں یہاں مہر و ماہ کی جاؤوک کہہ کے بھیجا ہے رب نے مجھے حضور لایا ہوں بخشوانے کو گٹھڑی گناہ کی نعلینِ پائے نور کو چوموں لپٹ لپٹ بن جاؤں دھول کوئے مدینہ میں راہ […]

کہوں گا حالِ دل سرکارِ عالم کملی والے سے

غیر منقوط کہوں گا حالِ دل سرکارِ عالم کملی والے سے ملے گا دل کے ہر گھاؤ کو مرہم کملی والے سے کلی دل کی کھلے گی گل کھلے گا وصلِ سرور کا ہرا ہو گا ہمارے دل کا موسم کملی والے سے سوائے روحِ عالم کے کہاں کوئی ہمارا ہے لگی ہے آس محمودِ […]

اگر العطش لب پہ ہم باندھتے ہیں

وہ دامن سے کتنے ہی یم باندھتے ہیں جبیں باندھتے ہیں درِ مصطفیٰ پر نہ اس سے زیادہ نہ کم باندھتے ہیں انہیں سربلندی ملی دو جہاں کی سروں پر جو دستارِ خم باندھتے ہیں فلک سے اترتے ہیں نعتوں کے مصرعے کہاں ہم بزورِ قلم باندھتے ہیں مدینے میں صبحِ منور کی خاطر شبِ […]

جس کا سر محمد کے در پہ خم نہیں ہوتا

ایسا شخص کچھ بھی ہو، محترم نہیں ہوتا بھیک تجھ سے پاتے ہیں، رنگ و نور کی، ورنہ موسموں کا پھیکا پن ،مختتم نہیں ہوتا جو درود پڑھ کر بھی، قلب و جاں میں رہ پائے ایسا دکھ نہیں ہوتا، ایسا غم نہیں ہوتا اے شہِ امم تیرا، نام کیسے لکھ ڈالوں جب تلک سیاہی […]

سرورِ قلب و جاں کی چشمِ التفات چاہئے

برائے نعت انگبین لفظیات چاہئے میں لکھنا چاہتا ہوں مدحتِ حبیبِ کبریا ختن کے مشک سے بھری ہوئی دوات چاہئے رہے نظر میں بعدِ موت بھی دیارِ مصطفیٰ بقیعِ پاک میں زمین چار ہات چاہئے زباں کو شاہِ انبیاء کا تذکرہ عزیز ہے سماعتوں کو معدنِ کرم کی نعت چاہئے خیال ہر گھڑی ہو دن […]

شان ان کی ملک دیکھتے رہ گئے

دم بخود دیر تک دیکھتے رہ گئے لامکاں کے مسافر کا عزّ و شرف مہر و ماہ و فلک دیکھتے رہ گئے دل نے سجدہ کیا سنگِ دربار پر اشک زیرِ پلک دیکھتے رہ گئے زائروں کی جبینوں پہ لکھی ہوئی ایک نوری دمک دیکھتے رہ گئے جس سے گزرے تھے حاجی بڑی شان سے […]

شاہِ مدینہ! طلعت اختر تورے پیّاں میں

ذوالقوافی شاہِ مدینہ! طلعت اختر تورے پیّاں میں سات فلک کی رفعت ششدر تورے پیّاں میں خالقِ کل نے سارے خزانے سونپ دیئے ہیں رکھ دی ہے سب ثروت یکسر تورے پیّاں میں عزت والے کے گن گانا راس آیا ہے پائی ہے میں نے شہرت بہتر تورے پیّاں میں دونوں جہاں میں ایسی دولت […]

نطق میرا سعدی و جامی سے ہم آہنگ ہو

گفتگو میں مدحتِ خیر الوریٰ کا رنگ ہو الفتِ سرکارِ بطحا ہو رگِ جاں میں رواں مست عشقِ مصطفیٰ میں میرا ہر اک انگ ہو پیروی شاہِ مدینہ کی ہو میرا مشغلہ ہر گھڑی مدِ نظر جانِ جہاں کا ڈھنگ ہو دوستی ہو آپ کے در کے غلاموں سے مری آپ کے گستاخ سے میری […]