بس گئے باغِ تسلی میں بڑے چین کے ساتھ

جن کو بھی عشق ہوا سرورِ کونین کے ساتھ عذر مطلوب ہے جبریل کو جس جا کے لئے خاک جاتی ہے وہاں آپ کے نعلین کے ساتھ عاجزی کو وہ فرازی ہے درِ اقدس پر سر جو خم ہوتا ہے جا لگتا ہے قوسین کے ساتھ آپ کے ذکر سے ہے اس کی روانی میں […]

آپ حامی ہیں تو منزل آشنا ہے جستجو

روگ رہتے ہیں کہاں رحمت جہاں ہو چارہ جُو عالمِ تعمیل میں ذوقِ ثنائے مصطفےٰ وہ فلک ہے جس پہ ہستی ہے سراپا آبرو نعت خوانی میں ہے وہ شیرینیِ صوت و صدا پاؤں چھونے آ رہے ہیں طائرانِ خوش گلو چاند بھی تو آپ کے طاعت گزاروں میں سے ہے دیکھئے اس کو ادب […]

نعت جاری جب لبوں پر ہوگئی

نعت جاری جب لبوں پر ہو گئی لطف سے دنیا منور ہو گئی گنبدِ خضریٰ نظر میں آگیا آنکھ حسنِ عکسِ منظر ہو گئی حسن کو جلووں نے یکتا کر دیا دلربا شانِ پیمبر  ہو گئی ہے چراغِ عشق کا سارا ہنر لو اٹھی ماہِ منور  ہو گئی زندگی بھر نعت جو کہتا رہا بات […]

بہار بن کر حضورآ ئے تو پھیلی سارے چمن میں خوشبو

بہار بن کر حضور آئے تو پھیلی سارے چمن میں خوشبو اجاڑ رستوں میں پھول مہکے سمائی کوہ و دمن میں خوشبو کرم ہوا تو یہاں کی ٹھنڈی ہوا نے چومے وہ زلف و عارض اسی نوازش سے آج پھیلی ہوئی ہے میرے وطن میں خوشبو وہ میم ہے جس کے نور سے ہر چمن […]

جوطلبگار مدینے میں چلا آتا ہے

جو طلبگار مدینے میں چلا آتا ہے ان کی رحمت کے خزینے میں چلا آتا ہے شب کو جب کھینچتا ہے گنبدِ خضریٰ کا جمال چاند خود سبز نگینے میں چلا آتا ہے اُس کے سائے سے بھی طوفان لرز جاتے ہیں جو محمد کے سفینے میں چلا آتا ہے جب زمیں نعت کی سج […]

فراقِ ہستیِ اقدس کا غم رُلا جاتا

وہ جب گزرتے درختوں کو صبر آ جاتا مرے حضور ہیں رحمت وگرنہ طائف میں پہاڑ شہر کے اوپر اُلٹ دیا جاتا جو تھا وہ ابر کا پارہ وہ کاش میں ہوتا تو چھاؤں چھاؤں ، شتربان دیکھتا جاتا وہ جس مقام پہ نَعلَین آپ کے گئے ہیں مجال کیا کہ وہاں کوئی دوسرا جاتا […]

تصور میں مدینے کی فضا ہے اور میں ہوں

مرا دل ہے سلامِ مجتبےٰ ہے اور میں ہوں نگاہوں میں توقع سے زیادہ روشنی ہے مرے آگے عقیدت کا دِیا ہے اور میں ہوں پرندوں کی طرح مصرعے اترتے جا رہے ہیں تخیل پر کرم کی انتہا ہے اور میں ہوں طلب بیمار کی جز ذِکرِ احمد اور کیا ہو مرے لب پر رکھی […]

ہر گھڑی ہے تمنا یہی یا نبی

میرے لب پر رہے ہر گھڑی یا نبی مرسلیں صالحیں اَن گِنَت ہیں مگر آپ جیسا نہیں کوئی بھی ، یا نبی آپ کا لطف ہو تو لکیروں سے بھی بھاگ جاتی ہے ہر بے بسی ، یا نبی سبز گنبد تصور کی زینت رہے ناز خود پر کرے زندگی ، یا نبی تیری خاطر […]

سرکار کی مدحت کو ہونٹوں پہ سجانا ہے

اور دل کے جزیرے میں اک باغ لگانا ہے اس در سے عقیدت ہی دستارِ فضیلت ہے آقا کے غلاموں کے قدموں میں زمانہ ہے ہوتا ہے عطا سب کو سرکار کی چوکھٹ سے دربارِ محمد تو رحمت کا خزانہ ہے رحمت کی گھٹائیں ہیں انوار کی بارش ہے طیبہ کے مناظر کا ہر رنگ […]

نگارِ گُل نہ سوئے ماہتاب دیکھتے ہیں

جو اُن کے رُخ کی تجلی کے خواب دیکھتے ہیں جو شاہِ گُل کو شہِ مرسلاں سے نسبت دیں تو کس غرور سے خود کو گلاب دیکھتے ہیں امان مِلتی ہے خطرے میں آشیانوں کو جب ایک بار رسالت مآب دیکھتے ہیں دُرودِ پاک کو دانوں پہ کیا شمار کریں جو عشق کرتے ہیں وہ […]