غمگسار اپنے ہیں سرکار یہ بس دیکھا ہے

غم کے بارے میں نہیں جان سکے ہم کیا ہے آپ کے لطف و کرم سے ہے سلامت ایماں ایک محشر ہے کہ جو چاروں طرف برپا ہے دستگیری اسے کہتے ہیں کسی موڑ پہ بھی امتی کو نہیں اندیشہ کہ وہ تنہا ہے کیوں نہ ہو آپ کی رحمت پہ گنہگار کو ناز اُس […]

تصور مصطفی کا جان سے بڑھ کر بھی پیارا ہے

ستوں قائم ہے جس سے دل کا یہ واحد سہارا ہے بھٹکتی پھر رہی تھی دل کی کشتی اس سمندر میں کنارا دے کے پھر عشقِ محمد نے سنوارا ہے سبھی پاتے ہیں ان سے روشنی قلبِ معطر کی بنا کر نور کا مرکز انھیں رب نے اتارا ہے بیاں کیسے بھلا ہوں عظمتیں پیارے […]

زمیں پر جو جنت کا نقشہ ہے واللّٰہ

مدینہ مدینہ مدینہ ہے واللّٰہ زیارت گہِ قُدسیانِ مُقرّب شہنشاہِ بطحا کا روضہ ہے واللّٰہ زمانے میں اَوج و ترقی کا ضامن نبیِ مکرّم کا اُسوہ ہے واللّٰہ ہوا دُور سنت سے شاہِ رسل کی اسی سے تو مسلم شکستہ ہے واللّٰہ مرے واسطے روضۂ شاہِ والا عقیدت کا قبلہ و کعبہ ہے واللّٰہ مجھے […]

نور پیش ہر کوکب ، مصطفےٰ کا کرتا ہے

وِرد آسماں ہر شب ، مصطفےٰ کا کرتا ہے حوصلہ تدبر بھی، صلح و امن و جرا ت بھی انتخاب ہر مکتب ، مصطفےٰ کا کرتا ہے سنگریزے پڑھتے ہیں کلمہ دینِ کامل کا ذکرِخیر کو دل جب مصطفےٰ کا کرتا ہے بن گیا مدینہ وہ، نور کا نگینہ وہ انتظار جو یثرب مصطفےٰ کا […]

خوشبو سے رَقم کرتا ہے گُل تیرا قصیدہ

تابندہ ستارے سرِ دِہلیز خمیدہ خامہ بنیں اَشجار یا اَبحار سیاہی مرقوم نہ ہو پائیں گے اَوصافِ حمیدہ ہر شخص کہاں فیض تری نعت کا پائے ہر شخص کہاں عشق میں آہُوئے رَمیدہ ہے علم ضَروری وَلے یہ ذِہن میں رَکھنا پڑھ لکھ کے کوئی ہوتا نہیں عرش رَسیدہ یعنی میں مدینہ کی فَضاؤں میں […]

سید ابرار کی الفت بسا کر دیکھ لو

شمع عشق مصطفیٰ دل میں جلا کر دیکھ لو آئیں گیں گھر میں تمھارے برکتیں اور رحمتیں صاحب لولاک کی محفل سجا کر دیکھ لو کامیاب و کامراں دنیا میں ہونا ہے اگر نعل پاک مصطفیٰ سر پر اٹھا کر دیکھ لو چاہتے ہو تم اگر چین و سکوں کی دولتیں سید کون و مکاں […]

نعت ایسی بھی کوئی مجھ پہ اتاری جائے

جس کی تاثیر سے تقدیر سنواری جائے اے خیالِ شہِ کونین اگر تو نہ رہے زندگی کس کے بھروسے پہ گزاری جائے سنگریزوں کی سلامی کہیں عطر افشانی جس طرف سے شہِ طیبہ کی سواری جائے کب سے ملتی نہیں وہ خانۂ باطن میں مجھے ایسی شئے ان کے قدم پر جو نثاری جائے ایک […]

یا رب بٹھا دے گنبدِ خضرا کی چھاؤں میں

مسند یہ مانگتا ہوں ہمیشہ دعاؤں میں اک حاضری سے بڑھ گیا ہے شوقِ حاضری میں بار بار پہنچوں حرم کی فضاؤں میں آؤ چلیں حضور کا دربار دیکھنے خوشبو بسی ہوئی ہے جہاں کی ہواؤں میں شاہوں کو آرزو ہے جہاں پر گدائی کی مجھ کو شمار کر لیں وہاں کے گداؤں میں طیبہ […]

شعورِ نعت کی ترویج کے اجالے سے

ہمارا نام ہے روشن ترے حوالے سے جو تیرے در سے نظر پھیر کر میسر ہو ہمیشہ دور ہی رکھ مجھ کو اس نوالے سے یہ اعتراف ہے اپنا کہ خود کفیل نہیں فقیر لوگ ہیں پلتے ہیں تیرے پالے سے حضور حکم کریں ابنِ بوقحافہ کو پڑے ہوئے ہیں مرے ثورِ جاں میں جالے […]

حُسنِ کونین کی تزئین ہے سیرت اُن کی

ہے ہر اِک سورہ قرآں میں بھی صورت اُن کی میں ہوں انمول ورق مجھ پہ ہے مدحت اُن کی لفظ اُن کے ہیں بیاں اُن کا عبارت اُن کی عہدِ سائنس میں ہے عقل و خرد کی معراج پھر بھی ہر ایک نفس کو ہے ضرورت اُن کی تازگی برگ گل قدس کی اُن […]