قصر طاغوت میں اک زلزلہ آیا ہو گا

جب علی نے درِ خیبر کو اکھاڑا ہو گا زور باطل تو وہیں ٹوٹ کے بکھرا ہو گا زور حق جس گھڑی حیدر نے دکھایا ہو گا ہے علی کے لیے ارشادِ رسولِ برحق جس کا مولا ہوں میں اس کا علی مولا ہو گا پائی مسجد میں شہادت تو حرم ہے مولد کون اب […]

جس گھڑی جلوہ فگن شاہِ رسولاں ہو گا

ذرہ ذرہ مرے گھر کا مہِ تاباں ہو گا مائل لطف جو میرا مہ کنعاں ہو گا رشک صد مصر مرے دل کا بیاباں ہو گا پیرہن پائے گا خاکِ رہِ سرکار کا جب میری قسمت کا ستارہ بھی درخشاں ہو گا اک جھلک ملنے تو دو کوئے شہ بطحا کی دل ہی رہ جائے […]

کوئے یثرب کو مسیحا کہہ دیا تو ہو گیا

میرے آقا نے مدینہ کہہ دیا تو ہو گیا حکم سورج کو دیا تو وہ بھی آیا لوٹ کر چاند! دو ٹکڑے تو ہو جا ، کہہ دیا تو ہو گیا مصطفیٰ تو مصطفیٰ ہیں آپکے منگتوں نے بھی گنبد بے در میں رستہ کہہ دیا تو ہو گیا میرے آقا آپ کا فرمان کیا […]

گلزار مدینہ سے جسے پیار نہیں ہے

جنت کی بہاروں کا وہ حقدار نہیں ہے عالم میں کوئی آپ کا ہمسر نہیں آقا اس بات سے دشمن کو بھی انکار نہیں ہے کھل سکتے نہیں اس سے کبھی رمز حقائق میخانۂ طیبہ کا جو میخوار نہیں ہے اعمال کے سکّے نہیں ، کام آئے گی نسبت یہ حشر کا میدان ہے بازار […]

دیوار بھی اچھی لگے ، در اچھا لگے ہے

طیبہ میں جدھر دیکھو ادھر اچھا لگے ہے لا اقسم فرما کے خدا نے یہ بتایا محبوب کے رہنے سے نگر اچھا لگے ہے انوار کی بارش ہے فرشتوں کا ہے میلا سرکار بھی موجود ہیں گھر اچھا لگے ہے پلکوں کے جھپکتے ہی پہونچ جاتا ہوں طیبہ مجھ کو مرا اندازِ سفر اچھا لگے […]

حشر کی دھوپ سے بچنے کی یہ صورت ہو گی

سر پہ عاصی کے تنی چادر رحمت ہو گی جس کے دل میں مرے سرکار کی الفت ہو گی منتظر اس کی دل و جان سے جنت ہو گی رشک آئے گا دو عالم کو مری قسمت پر شہر طیبہ کی میسر جو سکونت ہو گی آپ کے چہرے سے قدرت ہے نمایاں رب کی […]

مجھ کو طیبہ میں بلاؤ تو مری بات بنے

یا مرے خواب میں آؤ تو مری بات بنے میری آنکھو! جو ندامت کے گہر بن جائیں ایسے اشکوں سے نہاؤ تو مری بات بنے اے بہارو! مرے گلزارِ تمنا میں کوئی پھول مدحت کا کھِلاؤ تو مری بات بنے تختِ شاہی کی طلب مجھ کو نہیں ہے آقا اپنے قدموں میں بٹھاؤ تو مری […]

عشقِ محبوبِ خدا جب دل میں پنہاں ہو گیا

ایک اک گوشہ مرے دل کا فروزاں ہو گیا ان کی یادیں ان کی الفت ان کی رحمت پر نظر کچھ تو میرے پاس بھی بخشش کا ساماں ہو گیا عرش کے جلوے نظر آنے لگے ہیں فرش پر جب سے وہ ماہِ نبوّت جلوہ ساماں ہو گیا اے شہِ خوبانِ عالم تیرے جلوؤں کے […]

نکلی نسیم صبح جو ان کے دیار سے

گلشن تمام لگنے لگے مشک بار سے جانے لگیں جو قافلے آقا کے شہر کو پوچھے تو کوئی حال دل بے قرار سے لب پر نبی نبی ہے تو دل میں نبی نبی نکلے یہی نفس کے مرے تار تار سے قبضہ مرے نبی کا ہے کل کائنات پر باہر نہیں ہے ایک بھی شے […]